الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. بَاب حَذْفِ السَّلَامِ وَكَرَاهَةِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ معه
سلام کی تخفیف کا اور اس کے ساتھ ہاتھ کے اشارے کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 1836
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا نَقُولُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمْنَا: السَّلَامَ عَلَيْكُمْ يُشِيرُ أَحَدُنَا بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا بَالُ الَّذِينَ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ، أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ) )
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں جب سلام پھیرتے تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے اور ہم میں سے ہر کوئی اپنے ہاتھ سے دائیں اور بائیں اشارہ بھی کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں سے یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیاتم میں سے ایک فرد کو اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور پھردائیں بائیں سلام پھیر دے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1836]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21281»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم واضح ہے اور ہمارے ہاں اسی سنت کے مطابق سلام پھیرا جاتا ہے۔ ایک تنبیہ ضروری ہے کہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی اس موضوع سے متعلقہ مختصر روایت سے احناف نے یہ استدلال کشید کرنے کی کوشش کی ہے کہ رکوع والے رفع الیدین سے منع کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ان کا یہ استدلال انتہائی کمزور ہے، کیونکہ تفصیلی روایت میں سلام کے وقت اشارہ کرنے کی وضاحت موجود ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
53. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَوْنِ السَّلَامِ فَرَيْضَةً وَالْاجْتِزَاءِ بِتَسْلِيمَةِ وَاحِدَةٍ
سلام کے فرض ہونے اور ایک سلام کے کافی ہونے کے متعلق بیان
حدیث نمبر: 1837
عَنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کی چابی وضو ہے اور اس کی تحریم اللہ اکبر ہی ہے اور اس کی تحلیل سلام ہی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1837]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن00000 أخرجه ابوداود: 61، 618، والترمذي: 3، وابن ماجه: 275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1006، 1072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1072»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن00000 أخرجه ابوداود: 61
حدیث نمبر: 1838
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَالَتْ: ثُمَّ يَجْلِسُ فَيَتَشَهَّدُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ يُوقِظُنَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز بیان کرتی ہوئی کہتی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر تشہد پڑھتے اور دعا کرتے اور پھر اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہہ کر ایک سلام پھیرتے اور آواز کو اتنا بلند کرتے کہ ہمیں جگا دیتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1838]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1346، 1347، وأخرجه مختصرا: 56، 1349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25987، 25988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26515»
وضاحت: فوائد: … ان دونوں مسائل پر گزشتہ سے پیوستہ باب میں بحث کی جا چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1346
54. بَابُ مِقْدَارِ مَكْثِ الْإِمَامِ عَقَبَ الصَّلَاةِ وَجَوَازِ اِنْحَرَافِهِ عَنِ الْيَمِيْنِ أَوِ الشِّمَالِ
نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1839
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَعْدَ صَلَاتِهِ إِلَّا قَدْرَ مَا يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز کے بعد یہ دعا پڑھنے کے بقدر ٹھہرتے تھے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلَالِ وَالإِْکْرَامِ۔ (اے اللہ! تو السلام ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے، اے جلال و اکرام والے تو بڑا ہی بابرکت ہے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1839]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24338، 25979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26506»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے دو مفہوم ممکن ہیں: (۱) بیٹھنے سے مراد قبلہ رخ ہو کر بیٹھنا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ رخ ہی رہ کر یہ دعا پڑھتے، پھر دائیں، بائیںیا لوگوں کی طرف پھر جاتے اور دوسرے اذکار کرتے اور (۲) یہ معنی بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسااوقات نماز کے بعد اتنی دیر ہی بیٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہوں۔ بہرحال فرضی نماز کے بعد مسنون اذکار کا اہتمام انتہائی اہم عمل ہے، اگرچہ ان کے لیے اسی مقام پر بیٹھارہنا شرط نہیں ہے، بلکہ کھڑے ہو کر سنتوں یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہو جانا بھی درست ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 592
حدیث نمبر: 1840
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخْعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَنِ انْصِرَافِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ عَنْ يَمِينِهِ كَانَ يَنْصَرِفُ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ حَيْثُ أَرَادَ، كَانَ أَكْثَرُ انْصِرَافِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ إِلَى حُجْرَتِهِ (وَفِي لَفْظٍ) كَانَ عَامَّةَ مَا يَنْصَرِفُ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى يَسَارِهِ إِلَى الْحُجُرَاتِ
اسود نخعی کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنی نماز سے پھرنے کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا کہ آپ دائیں طرف پھرتے تھے یا بائیں طرف؟ انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جدھر چاہتے پھرجاتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکثر پھرنا اپنی بائیں طرف اپنے حجرے کی طرف ہوتا تھا۔ ایک روایت میں ہے: عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز سے پھرنا بائیں طرف حجروں کی طرف ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1840]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 1999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3872) وانظر الحديث بالطريق الثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4383»
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 1999
حدیث نمبر: 1841
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ لَعَلَى يَسَارِهِ
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کوئی آدمی شیطان کے لئے اپنے نفس میں سے کوئی حصہ نہ بنائے کہ وہ یہ خیال کرنے لگے کہ اس پر حق ہے کہ وہ نماز سے صرف دائیں جانب پھرے گا، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکثر پھرنا بائیں جانب ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1841]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3631»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے پتہ چل رہا ہے کہ اگر کسی مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سے زیادہ طریقے منقول ہوں تو کسی شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی ایک کو اپنے اوپر لازم کر دے اور دوسرے کو چھوڑ دے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 707
حدیث نمبر: 1842
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا وَحَافِيًا وَمُنْتَعِلًا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَيَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَيَسَارِهِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر، بیٹھ کر، ننگے پاؤں اور جوتا پہن کرتمام طریقوں سے نماز پڑھتے تھے، ایک روایت میں ہے:اور نماز کے بعد دائیں بائیں دونوں طرف پھرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الحميدي: 997، والبيھقي: 2/ 295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7378»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھنا اس صورت کو نفلی نماز پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر نفلی نماز ادا کرنے پر بھی پورا ثواب ملتا تھا۔ اگر فرضی نماز کو اس حدیث کا مصداق بنائیں تو بیٹھنا عذر کی بنا پر ہو گا، جیسا کہ دوسری احادیث میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عذر کی بنا پر فرضی نماز بھی بیٹھ کر پڑھی ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الحميدي: 997
حدیث نمبر: 1843
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا، وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں اور بائیں دونوں طرف پھرتے تھے، اور میں نے دیکھا کہ آپ جوتے پہن کر بھی اور ننگے پاؤں بھی نماز پڑھتے تھے، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پانی پیتے ہوئے دیکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1843]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ ھذا الحديث ھو ثلاثة احاديث: أما الحديث الاول وھو: رايت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يصليينفتل عن يمينه وعن شماله۔ فأخرجه ابن ماجه: 931۔ والحديث الثاني وھو قوله: روايتهيصلي حافيا ومنتعلا۔ فأخرجه ابوداود: 653، وابن ماجه: 1038۔ والحديث الثالث وھو: رايتهيشرب قائما وقاعدا۔ فأخرجه الترمذي: 1883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6627، 7021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6627»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ ھذا الحديث ھو ثلاثة احاديث: أما الحديث الاول وھو: رايت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يصليينفتل عن يمينه وعن شماله۔ فأخرجه ابن ماجه: 931۔ والحديث الثاني وھو قوله: روايتهيصلي حافيا ومنتعلا۔ فأخرجه ابوداود: 653
حدیث نمبر: 1844
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ عَنْ يَمِينِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے اپنی دائیں طرف پھرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1844]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 708، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12384»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سدی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد کس سمت کی طرف پھروں۔ انھوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر دائیں جانب پھرتے تھے۔ جبکہ اوپر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزرا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر بائیں جانب پھرتے تھے۔ جمع و تطبیق کییہ صورت ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی دائیں جانب پھرتے اور کبھی بائیں جانب، ہر ایک راوی نے اپنے مشاہدے کے مطابق جس عمل کو زیادہ پایا، اسے بیان کر دیا، ان میں سرے سے کوئی تضاد نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 708
55. باب استقبال الإمام الناس بوجهه عقب السلام وتبرك الصحابة بالنبي صلى الله عليه وسلم
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے برکت حاصل کرنا
حدیث نمبر: 1845
عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ أَوِ الْفَجْرِ، قَالَ: ثُمَّ انْحَرَفَ جَالِسًا وَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ فَذَكَرَ قِصَّتَهُمَا قَالَ وَنَهَضَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَهَضْتُ مَعَهُمْ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَشَبُّ الرِّجَالِ وَأَجَلَدُهُمْ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَزْحَمُ النَّاسَ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا إِمَّا عَلَى وَجْهِي أَوْ صَدْرِي، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُّ شَيْئًا أَطْيَبَ وَلَا أَبْرَدَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ
سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع والا حج ادا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے ہی پھرے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں کے پیچھے دو ایسے آدمی ہیں، جنھوں نے نماز نہیں پڑھی، راوی نے ان کا سارا قصہ بیان کیا، لوگ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آنے لگے، میں بھی ان کے ساتھ اٹھ پڑا، جبکہ میں اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ جوان اور طاقتور تھا، اس لیے میں لوگوں میں گھستا چلا گیا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے چہرے یا سینے پر رکھ لیا، میں نے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو سب سے زیادہ عمدگی اور ٹھنڈک والی ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کی بہ نسبت، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد خیف میں تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1845]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 575، 576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17476، 17477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17615»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 575