الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. 2 - بَابُ هَيْئَةِ الْجُلُوسِ لِلتَّشَهُّدِ وَالْإِشَارَةِ بِالسَّبَّابَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
حدیث نمبر: 1807
عَنْ بُرَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: ( (قُولُوا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) )
سیدنا بریدہ خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: یا رسول اللہ! بلاشبہ ہم نے جان لیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، اب ہم آپ پر درود کیسے پڑھا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح پڑھا کرو: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا جَعَلْتَہَا عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔)) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1807]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدّا، ابوداود نفيع بن الحارث الاعمي متروك الحديث، وكذبه ابن معين۔ أخرجه أحمد بن منيع في مسنده كما في أِتحاف الخيرة: 8446، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد: 8/ 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23376»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدّا
حدیث نمبر: 1808
عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: ( (قُلْ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) )
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر درود کیسے بھیجا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مَحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1808]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/ 48، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1396»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/ 48
حدیث نمبر: 1809
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَارِجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَفْسِي كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: ( (صَلُّوا وَاجْتَهِدُوا، ثُمَّ قُولُوا: اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) )
سیدنا زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر درود کیسے بھیجا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مجھ پر) درود پڑھو اورکوشش کرو، پھرکہو: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مَحُمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1809]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 3/ 48، والبخاري في التاريخ الكبير: 3/ 383، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1714»
وضاحت: فوائد: … سنن نسائی (۱۲۹۲)میں اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: صَلُّوْا عَلَیَّ وَاجْتَھِدُوْا فِیْ الدُّعَائِ، وقولوا: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ۔ یعنی: مجھ پر درود بھیجو اور دعا میں کوشش کرو اور کہو: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ۔ دونوں روایات کو جمع کر کے درود کو مکمل کیا جائے، یعنی درود والے الفاظ نسائی کی روایت سے اور برکت والے الفاظ مسند احمد کی روایت سے لیے جائیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّط ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ احزاب: ۵۶)
یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔ اگرچہ جمہور اہل علم نماز میں درود کے وجوب کے قائل نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں درود و سلام کا حکم دیاہے، جس کا کم از کم مصداق نماز ہے، جیسا کہ صحابہ کرام کے سوال سے بھی پتہ چلتا ہے، اس لیے محتاط بات یہ ہے کہ نماز میں درود پڑھنا واجب ہے، جبکہ اس حقیقت پر علمائے امت کا اجماع ہے کہ نماز کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دورد بھیجنا واجب نہیں ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّط ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ احزاب: ۵۶)
یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔ اگرچہ جمہور اہل علم نماز میں درود کے وجوب کے قائل نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں درود و سلام کا حکم دیاہے، جس کا کم از کم مصداق نماز ہے، جیسا کہ صحابہ کرام کے سوال سے بھی پتہ چلتا ہے، اس لیے محتاط بات یہ ہے کہ نماز میں درود پڑھنا واجب ہے، جبکہ اس حقیقت پر علمائے امت کا اجماع ہے کہ نماز کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دورد بھیجنا واجب نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 3/ 48
حدیث نمبر: 1810
عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) ) قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: وَكَانَ أَبِي يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ
ایک صحابی رسول سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی أَھْلِ بَیْتِہِ وَعَلٰی أَزْوَاجِہِ وَذُرِّیِّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی أَھْلِ بَیْتِہِ وَعَلٰی أَزَوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں: میرا باپ بھی اسی طرح کہا کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1810]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق في مصنفه: 3103، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23560»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق في مصنفه : 3103
حدیث نمبر: 1811
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) )
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3369، 6360، ومسلم: 407، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23998»
وضاحت: فوائد: … درود کے الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل سے مراد کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں درج ذیل تین اقوال پیش کیے جاتے ہیں:
(۱)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری امت (۲) بنو ہاشم اور بنو مطلب
(۳)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت اور اولاد
جس نے جس معنی کو راجح سمجھا، اس نے اس کے حق میں مختلف دلائل تو پیش کیے، لیکن ہمارا نظریہیہ ہے کہ لفظ آل کا پہلا اطلاق تیسرے معنی پر ہی ہوتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جن روایات میں وَآلِہٍ کی بجائے بخاری اور مسلم میں وَأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کے الفاظ ہیں، ان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کے افراد کی وضاحت ہو رہی ہے، تیسری بات یہ ہے کہ اسی معنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کی خاصیت اور امتیاز ہے۔
(۱)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری امت (۲) بنو ہاشم اور بنو مطلب
(۳)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت اور اولاد
جس نے جس معنی کو راجح سمجھا، اس نے اس کے حق میں مختلف دلائل تو پیش کیے، لیکن ہمارا نظریہیہ ہے کہ لفظ آل کا پہلا اطلاق تیسرے معنی پر ہی ہوتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جن روایات میں وَآلِہٍ کی بجائے بخاری اور مسلم میں وَأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کے الفاظ ہیں، ان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کے افراد کی وضاحت ہو رہی ہے، تیسری بات یہ ہے کہ اسی معنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کی خاصیت اور امتیاز ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3369
48. بَابُ التَّعَوُّذِ وَالدُّعَاءِ بَعْدَ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
حدیث نمبر: 1812
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تووہ ان چار چیزوں سے پناہ مانگا کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے اورمسیح دجال کے شر سے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1812]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 588، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7237 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7236»
وضاحت: فوائد: … مَسِیْح کے مختلف معانییہ ہیں:(۱)اس سے مراد مَمْسْوْحُ الْعَیْن ہے، یعنی جس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہو گی۔ (۲) یہ فعیل بمعنی فاعل ہے، یعنی زمین کا سروے کرنے والا۔ (۳) اس سے مراد بھینگا ہے۔ دَجَّال کا مادہ دجل ہے، جس کے معانی ڈھانپنے کے ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ دجال اپنے باطل کے ذریعے حق پر پردہ ڈال دے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 588
حدیث نمبر: 1813
عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ كَلِمَاتٍ كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ جِدًّا، يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، قَالَ: كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ وَيَذْكُرُهُنَّ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
جناب طاؤوس نمازِ عشاء میں آخری تشہد کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے اور ان کو بہت عظیم سمجھتے تھے: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَ الْمَمَاتِ۔ (میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں زندگی و موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔) وہ ان کو عظیم سمجھتے تھے اور ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1813]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، ليكن عشاء كي نماز كي قيد لگانا صحيح نهيں هے۔ لم يسمع ابن جريج من ابن طاووس الا حديثا في محرم اصاب ذرات۔ أخرجه عبد الرزاق: 3086، وابن خزيمة: 722، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26167»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 1814
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ: ( (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ) ) قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: ( (إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ) )
سیدنا عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتَ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ اور قرض سے)۔ کسی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے لیکن جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے لیکن اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1814]
تخریج الحدیث: «أخرجه بتمامه و مختصرا البخاري: 832، 2397، ومسلم: 589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25085»
الحكم على الحديث:
أخرجه بتمامه و مختصرا البخاري: 832
حدیث نمبر: 1815
عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: ( (كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟) ) قَالَ: أَتَشَهَّدُ ثُمَّ أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (حَوْلَهُمَا دَنْدَنُ) )
ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: تو نماز میں کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا: میں پہلے تشہد پڑھتا ہوں پھر اس طرح دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مجھ سے آپ اور معاذ کے گنگنانے کی طرح نہیں گنگنایا جا سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 792، وابن ماجه: 910، 3847، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15993»
وضاحت: فوائد: … دَنْدَنَہ (گنگنانا) ایسے کلام کو کہتے ہیں، جس کو سمجھا نہ جا سکے، اس صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی دعاؤںکو دندنہ اس بنا پر کہا کہ وہ یا تو بدو ہونے کی وجہ سے ان کو نہ سمجھ سکا یا پھرنہ سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ سرّی آواز میں ان کو پڑھا جاتا تھا، معلوم ایسے ہوتا تھا کہ یہ صحابی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے مقتدیوںمیں سے تھا، تبھی تو ان کا بطورِ خاص ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہماری دعاؤں کا لب لباب بھییہی ہوتا ہے کہ اچھی چیز کی طلب کا اور بری چیز سے بچنے کا سوال کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 792
حدیث نمبر: 1816
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، قَالَ: فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَدْ غُفِرَ لَهُ، قَدْ غُفِرَ لَهُ، قَدْ غُفِرَ لَهُ) ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر کے تشہد میں یہ دعا کر رہا ہے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْیَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! جو یکتا و یگانہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے، یہ کہ تو میرے لیے میرے گناہ بخش دے، بیشک تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے، بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ یعنی تین مرتبہ فرمایا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود 985، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18974 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19183»
وضاحت: فوائد: … آخری دو احادیث سے معلوم ہوا کہ تشہد میں کوئی بھی پسندیدہ دعا کی جا سکتی ہے، سابقہ ابواب میں بھی اس مسئلہ کی توضیح موجود ہے، مزید دعاؤں کا ذکر آنے والے دوسرے باب میں آئے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود 985