الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. 2 - بَابُ هَيْئَةِ الْجُلُوسِ لِلتَّشَهُّدِ وَالْإِشَارَةِ بِالسَّبَّابَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
حدیث نمبر: 1797
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ، قُلْتُ: حَتَّى يَقُومَ، قَالَ: حَتَّى يَقُومَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتوں(کے تشہد میں اس طرح ہوتے کہ) گویا کہ آپ گرم پتھر پر ہیں، میں نے کہا: یہاں تک کہ کھڑے ہو جاتے؟ انھوں نے کہا: حتی کہ آپ کھڑے ہوجاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1797]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود۔ أخرجه ابوداود: 995، والترمذي: 366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3656»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 1798
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَأَنَّمَا كَانَ جُلُوسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ عَلَى الرَّضْفِ
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا:گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دو رکعتوں میں بیٹھنا گرم پتھر پر ہوتاتھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1798]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4074»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، گزشتہ احادیث مین یہ تفصیل گزر چکی ہے کہ درمیانے تشہد میں عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہٗ پراکتفاکرنابھی درست ہے اور اس کے پسندیدہ دعائیں اور درود ملانا بھی درست ہے۔
تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ:
درمیانے تشہد میں دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں۔ جن احادیث ِ مبارکہ میں تشہد
میں اس طریقہ سے بیٹھنے کا عام ذکر ہے، ان کو پہلے تشہد پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ تورک والی احادیث مقید ہیں۔ آخری تشہد میں تورک کریں۔
تورک کا بیان
تورک کی دو صورتیں ہیں: مسنون اور جائز صورت:نمازی کا آخری تشہد میں سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ دائیناں پائوں کھڑا ہو اور اس کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو، اور بائیں پیر کو پھیلا کردائیں پنڈلی کے نیچے سے دائیں طرف نکالنا۔ تورّک کی ناجائز صورت: نماز میںکھڑے ہو کر دونوں ہاتھوںکو دونوں کولھوں کے برابر رکھنا، یہ ممنوع ہے۔ پہلی صورت مسنون ہے، اس کے دلائل درج ذیل ہیں:
(۱)محمد بن عطاء کہتے ہیں: سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دس صحابہ میں موجود تھے، ان میں ایک سیدنا ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ لیکن انھوں نے کہا:تم نہ تو ہماری بہ نسبت قدیم صحبت والے ہو اور نہ ہم سے زیادہ آپ کے پیروی کرنے والے ہو۔ توانہوں نے کہا: کیوں نہیں، (یہ تمہاری بات تو ٹھیک ہے)۔ بہرحال ان لوگوں نے کہہ دیا کہ اچھا بیان کرو۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے … … جب وہ آخری رکعت ہوتی جس میں نماز کا اختتام ہوتا تو اپنا بائیاں پاؤں (نیچے سے دائیں طرف) نکالتے اور اپنی سرین پر تورک کی حالت میں بیٹھ جاتے پھر سلام پھیرتے۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸ابوداود: ۷۳۰، ۹۶۳، وابن ماجہ: ۸۶۲، والترمذی: ۳۰۴، والنسائی: ۲/ ۱۸۷) یہ حدیث أَبْوَابُ صِفَۃِ الصَّلاَۃِ (نماز کے طریقہ کے آداب) کے پہلے باب کے آخر میں گزر چکی ہے۔
(۲)سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو بائیں پاؤں کو ران اور پنڈلی کے درمیان میں کر لیتے اور داہنا پاؤں بچھا لیتے۔ (صحیح مسلم: ۵۷۹)
(۳) بَابُ مَاجَائَ فِیْ الصَّلاَۃِ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَقِبَ التَّشَہُّدِ الْاَخِیْرِ وَکَذَا آلِہٖ
آخری تشہد کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیجنے کا بیان
تنبیہ: قارئین سے گزارش ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درود کے مختلف الفاظ اور صیغے منقول ہیں، چونکہ عام آدمی کے لیے ان سب کا یاد کرنا مشکل ہے، اس لیے مختصر الفاظ والا کوئی ایک طریقہ بھییاد ہونا چاہیے، تاکہ جلدی کی صورت میں اس کا سہارا لے لیا جائے۔
تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ:
درمیانے تشہد میں دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں۔ جن احادیث ِ مبارکہ میں تشہد
میں اس طریقہ سے بیٹھنے کا عام ذکر ہے، ان کو پہلے تشہد پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ تورک والی احادیث مقید ہیں۔ آخری تشہد میں تورک کریں۔
تورک کا بیان
تورک کی دو صورتیں ہیں: مسنون اور جائز صورت:نمازی کا آخری تشہد میں سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ دائیناں پائوں کھڑا ہو اور اس کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو، اور بائیں پیر کو پھیلا کردائیں پنڈلی کے نیچے سے دائیں طرف نکالنا۔ تورّک کی ناجائز صورت: نماز میںکھڑے ہو کر دونوں ہاتھوںکو دونوں کولھوں کے برابر رکھنا، یہ ممنوع ہے۔ پہلی صورت مسنون ہے، اس کے دلائل درج ذیل ہیں:
(۱)محمد بن عطاء کہتے ہیں: سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دس صحابہ میں موجود تھے، ان میں ایک سیدنا ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ لیکن انھوں نے کہا:تم نہ تو ہماری بہ نسبت قدیم صحبت والے ہو اور نہ ہم سے زیادہ آپ کے پیروی کرنے والے ہو۔ توانہوں نے کہا: کیوں نہیں، (یہ تمہاری بات تو ٹھیک ہے)۔ بہرحال ان لوگوں نے کہہ دیا کہ اچھا بیان کرو۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے … … جب وہ آخری رکعت ہوتی جس میں نماز کا اختتام ہوتا تو اپنا بائیاں پاؤں (نیچے سے دائیں طرف) نکالتے اور اپنی سرین پر تورک کی حالت میں بیٹھ جاتے پھر سلام پھیرتے۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸ابوداود: ۷۳۰، ۹۶۳، وابن ماجہ: ۸۶۲، والترمذی: ۳۰۴، والنسائی: ۲/ ۱۸۷) یہ حدیث أَبْوَابُ صِفَۃِ الصَّلاَۃِ (نماز کے طریقہ کے آداب) کے پہلے باب کے آخر میں گزر چکی ہے۔
(۲)سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو بائیں پاؤں کو ران اور پنڈلی کے درمیان میں کر لیتے اور داہنا پاؤں بچھا لیتے۔ (صحیح مسلم: ۵۷۹)
(۳) بَابُ مَاجَائَ فِیْ الصَّلاَۃِ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَقِبَ التَّشَہُّدِ الْاَخِیْرِ وَکَذَا آلِہٖ
آخری تشہد کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیجنے کا بیان
تنبیہ: قارئین سے گزارش ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درود کے مختلف الفاظ اور صیغے منقول ہیں، چونکہ عام آدمی کے لیے ان سب کا یاد کرنا مشکل ہے، اس لیے مختصر الفاظ والا کوئی ایک طریقہ بھییاد ہونا چاہیے، تاکہ جلدی کی صورت میں اس کا سہارا لے لیا جائے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 1799
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلَاتِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ قَالَ: ( (إِذَا أَنْتُمْ صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) )
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، جبکہ ہم بھی آپ کے پاس موجود تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو ہم پہچان چکے کہ آپ پر سلام کیسے بھیجنا ہے، (اب سوال یہ ہے کہ) جب ہم نماز ادا کریں تو آپ پر درود پڑھنے کا کیا طریقہ ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت نازل فرمائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً خاموش ہو گئے (اور اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ چاہنے لگے کہ کاش اس آدمی نے سوال نہ کیا ہوتا، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود بھیجو تو اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّ وَعَلیَ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَآلِ إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّکَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔ ترجمہ: اے اللہ! تو اُمّی نبی محمد پر رحمت کر اور محمد کی آل پر، جیسے تو نے رحمت کی ابراہیم پر اور ابراہیم کی آل پر اور برکت نازل فرما اُمّی نبی محمد پر، جیسے تو نے برکت نازل کی ابراہیم پر اور ابراہیم کی آل پر، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1799]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 981، والنسائي: 3/ 47، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17200»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 981
حدیث نمبر: 1800
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: ( (قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) )
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: آپ سے پوچھا گیا کہ ا ے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا باَرَکْتَ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1800]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17194»
وضاحت: فوائد: … اُمِّی سے مراد وہ شخص ہے جس نے کسی انسان سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا،یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ اعلی درجے کا دانا، حکیم، فیصل، فصیح، بلیغ بلکہ رسول ہو، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا دین و دنیا کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہو۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 1801
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ: ( (قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ) )
۔ (دوسری سند)سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سعد بن عبادہ کی مجلس میں تشریف لائے، سیدنا بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درودبھیجیں، پس ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے حتی کہ ہم یہ تمنا کرنے لگے کہ کاش اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال نہ کیا ہوتا، اتنے میں آپ نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ فِی الْعَاَلَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ اور سلام کے بارے میں تو تم جان چکے ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22709»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کا درود کا حکم دینا، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ط ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ احزاب: ۵۶)
یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔ اس درود سے پہلے صحابہ کرام کو تشہد میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ … کے الفاظ سے سلام بھیجنے کا طریقہ سکھایا جا چکا تھا۔
یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔ اس درود سے پہلے صحابہ کرام کو تشہد میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ … کے الفاظ سے سلام بھیجنے کا طریقہ سکھایا جا چکا تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 405
حدیث نمبر: 1802
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجُنْبِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (عَجَّلَ هَٰذَا) ) ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ وَلِغَيْرِهِ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ وَثَنَاءٍ عَلَيْهِ ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لِيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ) )
صحابی رسول سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا، جبکہ اس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا، اور فرمایا: اس بندے نے جلدی کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے اور دوسرے لوگوں سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے ساتھ ابتدا کرے، پھر نبی پر درود بھیجے، پھر جو چاہے دعا کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1481، والترمذي: 3477، والنسائي: 3/ 44، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24434»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1481
حدیث نمبر: 1803
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ عَلِمْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: ( (قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) )
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ معرفت تو ہم حاصل کر چکے ہیں کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب سوال یہ ہے کہ درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1803]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3370، ومسلم: 406، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18283»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3370
حدیث نمبر: 1804
عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: لَقِينِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: قَالَ: أَلَا أَهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ عَلِمْنَا أَوْ عَرَفْنَا كَيْفَ السَّلَامُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: ( (قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) )
ابن ابی لیلی کہتے ہیں: مجھے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہا: کیا میں تجھے ایک ہدیہ نہ دوں؟ (اور وہ یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ہم نے یہ تو پہچان لیا ہے کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب درود پڑھنے کا کیاطریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1804]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6357، ومسلم: 406، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18285»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6357
حدیث نمبر: 1805
عَنْ يَزِيدِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ} قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) ) قَالَ وَنَحْنُ نَقُولُ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ، قَالَ يَزِيدُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ زَادَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ، أَوْ شَيْءٌ رَوَاهُ كَعْبٌ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:: جب یہ آیت {إِنَّ اللَّہَ وَمَلاَئِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ} نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا:اے اللہ کے نبی! ہم آپ کیسے درود بھیجا کریں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ وہ کہتے ہیں: ہم یہ درود پڑھتے وقت یہ الفاظ بھی کہہ دیتے تھے: وَعَلَیْنَا مَعَھْمْ (اور ہم پر بھی ہو)۔ یزید راوی کہتا ہے: میں اس چیز کو نہ سمجھ سکا کہ یہ آخری الفاظ ابن ابی لیلی نے اپنی طرف سے زیادہ کیے ہیں یا سیدنا کعب نے ان کو باقاعدہ روایت کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1805]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث: 729، 730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18313»
وضاحت: فوائد: … دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وَعَلَیْنَا مَعَھْمْ کے الفاظ ابن ابی لیلی کی طرف سے کہے گئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث: 729
حدیث نمبر: 1806
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَٰذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَلِمْنَاهُ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: ( (قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم یہ تو جانتے ہیں کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب آپ پر درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مَحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَآلِ أَبْرَاھِیْمَ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1806]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4798، 6358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11453»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4798