الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ تَخْفِيفِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَمَا يَقْرَأُ فِيهِمَا
فجر سے پہلے والی دو رکعتوں کی تخفیف اور ان میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 2100
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز فجر کی سنتوں میں قیام سورۂ فاتحہ پڑھنے کے برابر ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2100]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن سيرين لم يسمع من عائشة۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 243، واسحاق بن راھويه: 1342، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26344»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 2101
عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بِـ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} (وَفِي رِوَايَةٍ:) وَكَانَ يُسِرُّ بِهِمَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو سنتوں میں آہستہ آواز کے ساتھ سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2101]
تخریج الحدیث: «منقطع، محمد بن سيرين لم يسمع من عائشة۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 242، واسحاق بن راھويه: 1339، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26025»
الحكم على الحديث:
منقطع
حدیث نمبر: 2102
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ( (نِعْمَ السُّورَتَانِ هُمَا يُقْرَأُ بِهِمَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سورتیں بہترین ہیں، جن کی نمازِ فجر سے پہلے والی سنتوں میں تلاوت کی جاتی ہیں،یعنی سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2102]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26550»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1150
حدیث نمبر: 2103
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے غور سے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتوں میں سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2103]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 417، وابن ماجه: 1149، والنسائي: 2/ 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4763، 5691، 5742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5742»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک ماہ تک غور سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر سے پہلے والی دو سنتوں میں سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔ (مسند احمد: ۵۶۹۱)
فوائد: … ہمارے ہاں خواص و عوام کییہ فطرت بن چکی ہے کہ وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد بغیر سوچے سمجھے سورۂ اخلاص کی تلاوت شروع کر دیتے ہیں۔ ذہن نشین کر لیں کہ جب تک آدمی احادیث کے مطابق نماز میں مختلف سورتوں کی تلاوت یا اذکار کی پابندی نہیںکرتا، شاید وہ دورانِ نماز خشوع و خضوع سے بھی محروم رہتا ہو، کاش اسے اس چیز کا احساس ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن مختصر سورتوں کی تعیین کے ساتھ بعض نمازوں کی بعض رکعتوں میں
تلاوت کی، ہمیں بھی ان کا اہتمام کرنا چاہیے، ویسے بھی جب تک سورۂ فاتحہ کے بعد تلاوت کے سلسلے میں تنوع پیدا نہ کیا جائے، اس وقت تک نمازی نماز کے حقیقی لطف سے محروم رہتا ہے۔
فوائد: … ہمارے ہاں خواص و عوام کییہ فطرت بن چکی ہے کہ وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد بغیر سوچے سمجھے سورۂ اخلاص کی تلاوت شروع کر دیتے ہیں۔ ذہن نشین کر لیں کہ جب تک آدمی احادیث کے مطابق نماز میں مختلف سورتوں کی تلاوت یا اذکار کی پابندی نہیںکرتا، شاید وہ دورانِ نماز خشوع و خضوع سے بھی محروم رہتا ہو، کاش اسے اس چیز کا احساس ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن مختصر سورتوں کی تعیین کے ساتھ بعض نمازوں کی بعض رکعتوں میں
تلاوت کی، ہمیں بھی ان کا اہتمام کرنا چاہیے، ویسے بھی جب تک سورۂ فاتحہ کے بعد تلاوت کے سلسلے میں تنوع پیدا نہ کیا جائے، اس وقت تک نمازی نماز کے حقیقی لطف سے محروم رہتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 417
49. بَابُ تَعْجِيلِهِمَا أَوَّلَ الْوَقْتِ وَالضَّجْعَةِ بَعْدَهَا
ان دو سنتوں کو اول وقت میں جلدی جلدی ادا کرنے اور ان کے بعد لیٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 2104
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، كَأَنَّ الْأَذَانَ فِي أُذُنَيْهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں (اتنی جلدی سے) ادا کر لیتے کہ یوں لگتا کہ اذان ابھی تک آپ کے کانوں میں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2104]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا البخاري: 995، ومسلم: 749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6090»
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا البخاري: 995
حدیث نمبر: 2105
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ عِنْدَ الإِقَامَةِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر کی دوسنتیں اقامت کے وقت پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2105]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف الحارث بن عبد الله الاعور۔ أخرجه ابن ماجه: 1147، والبزار: 856، وعبد الرزاق: 4772، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 569، 659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 569»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف الحارث بن عبد الله الاعور۔ أخرجه ابن ماجه: 1147
حدیث نمبر: 2106
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2106]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 619، ومسلم: 724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24517، 24262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25022»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اذان فجر کے فوراً بعد اور تخفیف کے ساتھ فجر کی سنتیں ادا کر لینی چاہئیں، بہرحال یہ سنتیں اذان اور اقامت کے درمیان کسی وقت بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 619
حدیث نمبر: 2107
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتیں پڑھے تو وہ اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2107]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1261، والترمذي: 420، وابن ماجه: 1199، والنسائي: 1456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9357»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1261
حدیث نمبر: 2108
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تو اپنی دائیں جانب پر لیٹ جاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2108]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1160، ومسلم: 736، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26699»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1160
حدیث نمبر: 2109
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى رُبَّمَا اضْطَجَعَ
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب یہ نماز پڑھتے تو بسا اوقات لیٹ جاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2109]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26699»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26699