الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ رَاتِبَةِ الظُّهْرِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا
ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2060
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ عَلَى حَالٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی حالت میں بھی ظہر سے پہلے چار اور فجر سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2060]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24844»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1182
42. بَابُ رَاتِبَةِ الْعَصْرِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا
عصر کی سنن رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2061
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے، جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2061]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1271، والترمذي: 430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5980»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1271
حدیث نمبر: 2062
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعت پڑھتے اور ان میں سے ہر دو رکعتوں کے درمیان مقرب فرشتوں، نبیوں اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں اور مومنوں پر سلامتی کی دعا کرنے کے ساتھ فرق کرتے۔ یعنی ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2062]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1161، والترمذي: 424، 429، 599، والنسائي: 2/ 120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 650، 1375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1375»
وضاحت: فوائد: … عصر سے پہلے دو رکعتیں ادا کرنا بھی سنت ہے، اس کے کئی دلائل موجود ہیں، بعض کا تذکرہ اگلے ابواب میں بھی آئے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1161
43. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
عصر کے بعد دو رکعتوں کا بیان
حدیث نمبر: 2063
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ عصرکے بعددو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2063]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 7130، والبخاري في تاريخه الكبير: 1/ 44، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19970»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الاوسط : 7130
حدیث نمبر: 2064
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ حَبِيبَةُ حَبِيبِ اللَّهِ الْمُبْرَأَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَلَمْ أُكَذِّبْهَا
جناب مسروق کہتے ہیں: مجھے صدیقہ بنت صدیق، اللہ کے محبوب کی محبوبہ،بہتان سے بری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے،میں نے ان کی تکذیب نہیں کی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2064]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 591، ومسلم: 835، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24235، 26044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26572»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 591
حدیث نمبر: 2065
عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ: يَا ابْنَ أُخْتِي! مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّجْدَتَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: رَكْعَتَيْنِ) بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ
ہشام نے کہا: مجھے میرے باپ نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد میرے پاس کبھی بھی دو رکعتیں نہیں چھوڑیں تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2065]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 591، ومسلم: 835، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24739»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 591
حدیث نمبر: 2066
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَمَسْرُوقًا يَقُولَانِ: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فِي يَوْمٍ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
اسود بن یزید اور مسروق دونوں نے کہا: ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر شہادت دیتے ہیں کہ انہوں نے یہ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی میرے پاس ہوتے تو عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2066]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 593، ومسلم: 835، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24235، 25027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25541»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 593
حدیث نمبر: 2067
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: صَلِّ، إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَوْمَكَ أَهْلَ الْيَمَنِ عَنِ الصَّلَاةِ إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ
شریح کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: نماز پڑھ لیاکر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو تیری قوم اہل یمن کو اس وقت نماز پڑھنے سے منع کیا تھا، جب سورج طلوع ہورہا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2067]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن حبان: 1568، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25639»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن حبان: 1568
حدیث نمبر: 2068
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَاتَانِ لَمْ يَتْرُكْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دو نمازیں ایسی ہیں کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خفیہ طور پرچھوڑا نہ ظاہری طور پر، یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2068]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 592، ومسلم: 835، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25776»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ عصر کے بعد نماز پڑھنا درست ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ سب سے پہلے اس ضمن مین یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ جب تک سورج بلند نظر آ رہا ہو،اس وقت تک عصر کے بعد نفلی نماز پڑھی جا سکتی ہے، جن احادیثِ مبارکہ میں عصر کے بعد مطلق طور پر نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے، درج ذیل حدیث کی روشنی میں ان کی تخصیص کی جائے گی: سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلاَّ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ۔ (ابوداود: ۱/۲۰۰، نسائی: ۱/۹۷، صحیحۃ:۲۰۰) یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، الایہ کہ سورج بلندہو۔
اب ہم اس باب میں مذکورہ مسئلے پر بحث کرتے ہیں:
نماز عصر کے بعد نفلی نماز پڑھنا اس وقت تک درست ہے، جب تک سورج بلند اور صاف نظر آ رہا ہو۔شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: امام ابن ابی شیبہ نے سلف کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ وہ عصر کے بعد دو رکعات پڑھتے تھے، ان میں سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ، ابو الشعثائ، عمرو بن میمون، اسود بن یزید اور ابووائل شامل ہیں۔ نیز محمد بن منتشر اور مسروق بھییہ نماز ادا کرتے تھے۔ رہا مسئلہ یہ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس نماز کی ادائیگی پر کیوں مارا کرتے تھے؟ تو یہ ان کا ذاتی اجتہاد تھا، جس کا تعلق باب سدّ الذریعۃ سے ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۲/ ۶۵) میںدرج ذیل دو روایات بیان کر کے اس کی وضاحت کی ہے۔
(أ) زید بن خالد کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عصر کے بعد دو رکعتوں کی ادائیگی پر سزا دی … … پس سیدنا عمر نے کہا: یَا زَیْدُ! لَوْلَا اَنِّیْ اَخْشٰی اَنْ یَّتَّخِذَھُمَا النَّاسُ سُلَّمًا اِلَی الصَّلَاۃِ حَتّٰی اللَّیْلِ لَمْ اَضْرِبْ فِیْھِمَا۔ … اے زید!اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ ان دو رکعتوں کو ذریعہ بنا کر رات تک نماز ادا کرتے رہیں گے، تو میں نے ان کی وجہ سے سزا نہیں دینی تھی۔ (مسند احمد: ۴/ ۱۵۵، مصنف عبد الرزاق: ۲/ ۴۳۱، ۴۳۲) اسی قسم کی روایت سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ کے ساتھ جواب دیا تھا: وَلٰکِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یَاْتِیَ بَعْدَکُمْ قَوْمٌ یُصَلُّوْنَ مَا بَیْنَ الْعَصْرِ اِلَی الْمَغْرِبِ حَتّٰییَمُرُّوْا بِالسَّاعَۃِ الَّتِیْ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ یُصَلِّیَ فِیْھَا۔ … میں ڈرتا ہوں کہ تمھارے بعد جو لوگ آئیں گے وہ اس نماز کو عصر سے مغرب تک پڑھیں گے اور (بالآخر اس نماز کو) اس گھڑی میں لے جائیں گے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ (مسند احمد: ۴/ ۱۰۲) شریح کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز اور اس کے بعد دو رکعت سنت ادا کرتے، پھر عصر کی نماز اور اس کے بعد دو رکعت نفل پڑھتے۔ میں نے کہا: سیدناعمر رضی اللہ عنہ تو عصر کے بعد والی دو رکعتوں کی وجہ سے منع کرتے اور پڑھنے والے کو سزاد یتے تھے، اس کی کیا وجہ ہے؟ انھوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود بھییہ دو رکعتیں پڑھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھی ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ تیری قوم کے لوگ کم سمجھ اور انجان ہیں،یہ نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد عصر تک نفلی نماز ادا کرتے رہتے ہیں، پھر اسی طرح نمازِ عصر اد اکر کے (ان دو رکعتوں کی رخصت سے گنجائش نکالتے ہوئے) مغرب تک نماز پڑھتے رہتے ہیں، اس لیے عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو سزا دی اور بالکل درست کیا۔ (مسند السراج: ق ۱۳۲/ ۱) میں (البانی) کہتا ہوں: اس کی سند صحیح ہے، یہ سابقہ دو آثار کا قوی شاہد ہے، انتہائی صراحت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دو رکعتوں سے منع کرنے کیوجہ دو رکعتیں نہیں تھی، جیسا کہ اکثر لوگوں کو یہ وہم ہوا ہے۔ سیدنا عمر کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اس نماز کی ادائیگی میں اتنی تاخیر کر دیں کہ سورج زرد ہو جائے اورپھر اس کو کراہت کے وقت میں ادا کریں۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ عصر کے بعد دو رکعتیںادا کرنا مسنون ہے، بشرطیکہ سورج کے زرد ہونے سے پہلے ادا کی جائیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سزا دینا ان کا اجتہادی مسئلہ تھا، بعض صحابہ نے ان کی موافقت کی تھی اور بعض نے مخالفت، یعنییہ نماز ادا کرنی چاہیےیا نہیں؟ اس کے بارے میں صحابہ کرام میں بھی دو فریق پائے جاتے تھے، ایسی صورت میں سنت کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی نمازِ عصر کے بعد کی دو رکعتوں کا ثبوت ملتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں بھی اپنے ساتھیوں کی طرح نماز پڑھتا ہوں، کسی کو دن یا رات کی کسی گھڑی میں نماز پڑھنے سے نہیں روکتا، ہاں اتنا کہوں گا کہ طلوع آفتاب اور غروب ِ آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھی جائے۔ (بخاری: ۵۸۹) سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا بھییہی مسلک تھا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے قبل نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، لیکن جب آپ خلیفہ بنے تو انھوں نے یہ نماز ترک کر دی، جب سیدناعمر فوت ہو گئے تو انھوں نے ان دو رکعتوں کی ادائیگی شروع کر دی۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انھوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان دو رکعات کی وجہ سے لوگوں کو سزا دیتے تھے، اس لیے میں نے ان کو چھوڑ دیا تھا۔ ابن طاوس کہتے ہیں: میرے باپ طاوس تابعی بھی ان دو رکعتوں کو نہیں چھوڑتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲/ ۴۳۳، اس اثر کی سند صحیح ہے) اب ہم یہ کہنا مناسب سمجھتے ہیں کہ جو اہل سنت سنتوں کو زندہ کرنے اور بدعتوں کا قلع قمع کرنے کے حریص ہیں، ان کو نماز عصر کے بعد ان دو رکعتوں کی ادائیگی کا التزام کرنا چاہیے، بشرطیکہ جب نماز عصر کو اس کے اول وقت میں ادا کیا جائے، (یایوں کہیے کہ جب تک سورج زرد نہ ہو۔) وباللہ التوفیق۔ (صحیحہ: ۲۹۲۰)
اب ہم اس باب میں مذکورہ مسئلے پر بحث کرتے ہیں:
نماز عصر کے بعد نفلی نماز پڑھنا اس وقت تک درست ہے، جب تک سورج بلند اور صاف نظر آ رہا ہو۔شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: امام ابن ابی شیبہ نے سلف کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ وہ عصر کے بعد دو رکعات پڑھتے تھے، ان میں سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ، ابو الشعثائ، عمرو بن میمون، اسود بن یزید اور ابووائل شامل ہیں۔ نیز محمد بن منتشر اور مسروق بھییہ نماز ادا کرتے تھے۔ رہا مسئلہ یہ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس نماز کی ادائیگی پر کیوں مارا کرتے تھے؟ تو یہ ان کا ذاتی اجتہاد تھا، جس کا تعلق باب سدّ الذریعۃ سے ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۲/ ۶۵) میںدرج ذیل دو روایات بیان کر کے اس کی وضاحت کی ہے۔
(أ) زید بن خالد کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عصر کے بعد دو رکعتوں کی ادائیگی پر سزا دی … … پس سیدنا عمر نے کہا: یَا زَیْدُ! لَوْلَا اَنِّیْ اَخْشٰی اَنْ یَّتَّخِذَھُمَا النَّاسُ سُلَّمًا اِلَی الصَّلَاۃِ حَتّٰی اللَّیْلِ لَمْ اَضْرِبْ فِیْھِمَا۔ … اے زید!اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ ان دو رکعتوں کو ذریعہ بنا کر رات تک نماز ادا کرتے رہیں گے، تو میں نے ان کی وجہ سے سزا نہیں دینی تھی۔ (مسند احمد: ۴/ ۱۵۵، مصنف عبد الرزاق: ۲/ ۴۳۱، ۴۳۲) اسی قسم کی روایت سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ کے ساتھ جواب دیا تھا: وَلٰکِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یَاْتِیَ بَعْدَکُمْ قَوْمٌ یُصَلُّوْنَ مَا بَیْنَ الْعَصْرِ اِلَی الْمَغْرِبِ حَتّٰییَمُرُّوْا بِالسَّاعَۃِ الَّتِیْ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ یُصَلِّیَ فِیْھَا۔ … میں ڈرتا ہوں کہ تمھارے بعد جو لوگ آئیں گے وہ اس نماز کو عصر سے مغرب تک پڑھیں گے اور (بالآخر اس نماز کو) اس گھڑی میں لے جائیں گے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ (مسند احمد: ۴/ ۱۰۲) شریح کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز اور اس کے بعد دو رکعت سنت ادا کرتے، پھر عصر کی نماز اور اس کے بعد دو رکعت نفل پڑھتے۔ میں نے کہا: سیدناعمر رضی اللہ عنہ تو عصر کے بعد والی دو رکعتوں کی وجہ سے منع کرتے اور پڑھنے والے کو سزاد یتے تھے، اس کی کیا وجہ ہے؟ انھوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود بھییہ دو رکعتیں پڑھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھی ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ تیری قوم کے لوگ کم سمجھ اور انجان ہیں،یہ نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد عصر تک نفلی نماز ادا کرتے رہتے ہیں، پھر اسی طرح نمازِ عصر اد اکر کے (ان دو رکعتوں کی رخصت سے گنجائش نکالتے ہوئے) مغرب تک نماز پڑھتے رہتے ہیں، اس لیے عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو سزا دی اور بالکل درست کیا۔ (مسند السراج: ق ۱۳۲/ ۱) میں (البانی) کہتا ہوں: اس کی سند صحیح ہے، یہ سابقہ دو آثار کا قوی شاہد ہے، انتہائی صراحت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دو رکعتوں سے منع کرنے کیوجہ دو رکعتیں نہیں تھی، جیسا کہ اکثر لوگوں کو یہ وہم ہوا ہے۔ سیدنا عمر کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اس نماز کی ادائیگی میں اتنی تاخیر کر دیں کہ سورج زرد ہو جائے اورپھر اس کو کراہت کے وقت میں ادا کریں۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ عصر کے بعد دو رکعتیںادا کرنا مسنون ہے، بشرطیکہ سورج کے زرد ہونے سے پہلے ادا کی جائیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سزا دینا ان کا اجتہادی مسئلہ تھا، بعض صحابہ نے ان کی موافقت کی تھی اور بعض نے مخالفت، یعنییہ نماز ادا کرنی چاہیےیا نہیں؟ اس کے بارے میں صحابہ کرام میں بھی دو فریق پائے جاتے تھے، ایسی صورت میں سنت کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی نمازِ عصر کے بعد کی دو رکعتوں کا ثبوت ملتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں بھی اپنے ساتھیوں کی طرح نماز پڑھتا ہوں، کسی کو دن یا رات کی کسی گھڑی میں نماز پڑھنے سے نہیں روکتا، ہاں اتنا کہوں گا کہ طلوع آفتاب اور غروب ِ آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھی جائے۔ (بخاری: ۵۸۹) سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا بھییہی مسلک تھا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے قبل نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، لیکن جب آپ خلیفہ بنے تو انھوں نے یہ نماز ترک کر دی، جب سیدناعمر فوت ہو گئے تو انھوں نے ان دو رکعتوں کی ادائیگی شروع کر دی۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انھوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان دو رکعات کی وجہ سے لوگوں کو سزا دیتے تھے، اس لیے میں نے ان کو چھوڑ دیا تھا۔ ابن طاوس کہتے ہیں: میرے باپ طاوس تابعی بھی ان دو رکعتوں کو نہیں چھوڑتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲/ ۴۳۳، اس اثر کی سند صحیح ہے) اب ہم یہ کہنا مناسب سمجھتے ہیں کہ جو اہل سنت سنتوں کو زندہ کرنے اور بدعتوں کا قلع قمع کرنے کے حریص ہیں، ان کو نماز عصر کے بعد ان دو رکعتوں کی ادائیگی کا التزام کرنا چاہیے، بشرطیکہ جب نماز عصر کو اس کے اول وقت میں ادا کیا جائے، (یایوں کہیے کہ جب تک سورج زرد نہ ہو۔) وباللہ التوفیق۔ (صحیحہ: ۲۹۲۰)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 592
حدیث نمبر: 2069
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: أَجْمَعَ أَبِي عَلَى الْعُمْرَةِ، فَلَمَّا حَضَرَ خُرُوجُهُ، قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! لَوْ دَخَلْنَا عَلَى الْأَمِيرِ فَوَدَّعْنَاهُ، قُلْتُ: مَا شِئْتَ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرُوا الرَّكْعَتَيْنِ الَّتِي يُصَلِّيهِمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: مِمَّنْ أَخَذْتَهُمَا يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي بِهِمَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ، فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى عَائِشَةَ: مَا رَكْعَتَانِ يَذْكُرُهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ عَنْكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ: مَا رَكْعَتَانِ زَعَمَتْ عَائِشَةُ أَنَّكِ أَخْبَرْتِيهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ، لَقَدْ وَضَعَتْ أَمْرِي عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهِ، صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَقَدْ أُتِيَ بِمَالٍ، فَقَعَدَ يَقْسِمُهُ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرِ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ وَكَانَ يَوْمِي، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، فَقُلْنَا: مَا هَٰاتَانِ الرَّكْعَتَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أُمِرْتَ بِهِمَا؟ قَالَ: ( (لَا، وَلَٰكِنَّهُمَا رَكْعَتَانِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَشَغَلَنِي قَسْمُ هَٰذَا الْمَالِ حَتَّى جَاءَنِي الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَدَعَهُمَا) ) ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً؟ وَاللَّهِ! لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا، وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهُمَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میرے باپ نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا، جب ان کے سفر کے لئے نکلنے کا وقت آیا تو انھوں نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اگر ہم امیر (مروان بن حکم) کے پاس جائیں اور اس سے الوداع ہوں(تواچھا ہو گا)، میں نے کہا: جیسے آپ چاہیں، پھر ہم مروان کے پا س گئے اور اس وقت اس کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ان میں سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے ان دو رکعتوں کا تذکرہ کیا، جنہیں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ عصر کے بعد پڑھتے تھے، مروان نے ان سے کہا: اے ابن زبیر! آپ نے دو رکعتیں کس سے لی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے، مروان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ ان دو رکعتیں کی حقیقت کیا ہے، جو سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وساطت سے آپ کی طرف منسوب کر رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کے بعد ان کو ادا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواباً یہ پیغام بھیجا کہ مجھے تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا تھا، یہ سن کر مروان نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ ان دو رکعتوں کی کیا حقیقت ہے، جن کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خیال کیا ہے کہ آپ نے انہیں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، انہوں نے کہا: اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو معاف فرمائے، انھوں نے میری خبر کو اس کے غیرمحل پر رکھ دیا ہے، بہرحال معاملہ اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، اسی وقت آپ کے پاس کچھ مال لایا گیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے تقسیم کرنے بیٹھ گئے، حتیٰ کہ مؤذن عصر کا پیغام لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر پڑھی اور پھر میری طرف آئے، کیونکہ یہ میری باری کا دن تھا، اس وقت آپ نے ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ دو رکعتیں کیسی ہیں؟ آپ کو اِن کے متعلق کوئی نیا حکم دیاگیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بات یہ ہے کہ میں ظہر کے بعد جو دو رکعتیں پڑھا کرتا تھا، مال کی تقسیم نے مجھے ان سے مشغول کردیا، حتیٰ کہ مؤذن عصر کا پیغام لے کر میرے پاس آگیا، اب میں نے ان کو چھوڑنا ناپسند کیا۔ یہ سن کر سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ اکبر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ تو یہ رکعتیں پڑھی ہیں، لہٰذا اللہ کی قسم ہے کہ میں تو ان کو نہیں چھوڑوں گا، لیکن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انھوں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے اس واقعہ سے پہلے یہ دو رکعتیں پڑھی ہوں یا بعد میں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2069]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف علي قلب، فيه عبيد الله بن عبد الرحمن ابن عبد الله بن موھب ضعيف، وعمه عبيد الله بن عبد الله مجھول، وأبو أحمد الزبيري انما يروي عن عبيد الله بن عبد الرحمن بن موھب، عن عمه عبيد الله بن عبد الله بن موھب، كما في مصادر الرجال، وھذا القلب قديم، وقد بيض له الحافظ في أطراف المسند: 9/ 423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27095»
الحكم على الحديث:
ھذا اسناد ضعيف علي قلب