الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَاتِبَةِ الْمَغْرِبِ
مغرب کی سننِ رواتب کا بیان
حدیث نمبر: 2080
عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصَلَاةٍ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ قَالَ نَعَمْ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ
مولائے رسول سیدنا عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جبکہ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرض نماز کے بعد کسی نماز کا حکم دیا کرتے تھے، انہوں نے کہا: جی ہاں، مغرب اور عشاء کے درمیان۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2080]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن عبيد۔ أخرجه البخاري في تاريخه: 5/ 440، والبيھقي: 3/ 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23652، 23654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24052»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن عبيد۔ أخرجه البخاري في تاريخه : 5/ 440
45. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ
مغرب سے پہلے دو رکعتوںکا بیان
حدیث نمبر: 2081
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ إِذَا قَامَ الْمُؤَذِّنُ فَأَذَّنَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ قَامَ مَنْ شَاءَ فَصَلَّى حَتَّى تُقَامَ الصَّلَاةُ وَمَنْ شَاءَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَعَدَ، وَذَلِكَ بَعْيْنَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مؤذن اٹھتا اور مدینہ منورہ کی مسجد میں مغرب کی اذان کہتا تو جو چاہتا اٹھ کر نماز پڑھتا رہتا، حتیٰ کہ نماز کھڑی ہوجاتی اور جو چاہتا، دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ جاتا اور یہ سارا کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے ہوتاتھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2081]
تخریج الحدیث: «ھذا الحديثيحتمل التحسين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13089»
وضاحت: فوائد: … ایک دوسری روایت میں اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ابوفزارہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مغرب سے پہلے والی دو رکعتوںکے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے جواباً کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے مین یہ دو رکعتیں ادا کرنے کے لیے لپکتے تھے۔ (مسند احمد: ۱۲۳۱۰، ابوداود طیالسی: ۲۱۴۴، سندہ صحیح علی شرط مسلم) یہ حدیث مسلم: ۸۳۶ میں بھی ہے، لیکن اس کے الفاظ اس سے ذرا مختلف ہیں۔
الحكم على الحديث:
ھذا الحديثيحتمل التحسين
حدیث نمبر: 2082
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِي حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالإِقَامَةِ إِلَّا قَرِيبٌ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب مؤذن مغرب کی اذان کہتا توصحابہ کرام مغرب سے پہلے دو رکعتیں ادا کرنے کے لیے ستونوں کی طرف لپکتے، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو وہ اسی حالت میں ہوتے تھے، اور اذان اور اقامت کے درمیان تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2082]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13983 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14028»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ کرام مسجد میں بھی سترے کا اہتمام کرتے تھے۔ ایک روایت میں اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: کَانَ الْمُؤَذِّنُ یُؤَذِّنُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ لِصَلَاۃِ الْمَغْرِبِ، فَیَبْتَدِرُ لُبَابُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم السَّوَارِیَ،یُصَلُّوْنَ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، حَتّٰییَخْرُجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ فَیَجِیْئُ الْغَرِیْبُ فَیَحْسَبُ أَنَّ الصَّلَاۃَ قَدْ صُلِّیَتْ مِنْ کَثْرَۃِ مَنْ یُّصَلِّیْھَا، وَکَانَ بَیْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَۃِیَسِیْرٌ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں جب مؤذن نمازِ مغرب کی اذان سے فارغ ہوتا تو برگزیدہ صحابۂ کرام ستونوں کی طرف لپکتے اور (انھیں سترہ بنا کر) مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تووہ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ لوگ اتنی کثرت سے یہ دو رکعتیں پڑھتے کہ اجنبی آدمی کو محسوس ہوتا کہ نماز پڑھی جا چکی ہے (اور لوگ بعد والی سنتیں ادا کر رہے ہیں)۔ اور اذان اور اقامت کے درمیان تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا۔ (صحیح بخاری:۲/۸۵، صحیح مسلم: ۲/ ۲۱۲)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 625
حدیث نمبر: 2083
عَنْ أَبِي الْخَيْرِ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَسْمَعُ أَذَانَ الْمَغْرِبِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَغْمِصَهُ، قَالَ عُقْبَةُ: أَمَا إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا يَمْنَعُكَ الْآنَ؟ قَالَ: الشُّغْلُ
ابو الخیر کہتے ہیں: میں نے ابو تمیم عبد اللہ بن مالک جیشانی کو مغرب کی اذان سنتے ہی دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا،یہ دیکھ کر میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اوران سے کہا: کیا میں آپ کو ابو تمیم جیشانی کی بات سنا کر تعجب میں نہ ڈالوں، وہ تو مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میں ان پر عیب لگاؤں، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خبر دار! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھاکرتے تھے، میں نے کہا: تو پھر اب آپ کو کونسی چیز منع کرتی ہے؟ انہوں نے کہا: مصروفیت۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2083]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1184، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17552»
وضاحت: فوائد: … آج کل بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو نماز مغرب سے پہلے دو رکعت ادا کرنے سے مکمل اجتناب کرتے ہیں اور ایسا کرنے والوں پر اس وجہ سے عیب لگاتے ہیں، اِن لوگوں کو سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا جواب یاد رکھنا چاہیے۔ یہ صحابۂ کرام کی انصاف پسندی ہے کہ وہ حدیث ِ رسول پر آنچ نہیں آنے دیتے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1184
حدیث نمبر: 2084
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ) ) ، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ: ( (لِمَنْ شَاءَ) ) ، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً
سیدنا عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرو۔ پھر فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرو۔ جب تیسری دفعہ یہ فرمایا تو یہ اضافہ کیا: جو چاہے، وہ پڑھ لے۔ یہ آخری بات اس لیے کہی کہ کہیں ایسانہ ہو کہ لوگ اسے ضروری طریقہ سمجھ لیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2084]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1183، 7368، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20826»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1183
حدیث نمبر: 2085
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لِمَنْ شَاءَ) )
سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، اُس کے لئے جو چاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 838، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20818»
وضاحت: فوائد: … نماز مغرب سے پہلے والی دو رکعت نماز پر دلالت کرنے والے مزید دلائل بھی موجود ہیں،یہاں ان کا احاطہ مقصود نہیں ہے، البتہ ایک فعلی حدیث ذکر کر دیتے ہیں، تاکہ مسئلہ زیادہ واضح ہو جائے۔ سیدنا عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَلّٰی قَبْلَ الْمَغْرِبِ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ (صحیح ابن حبان: ۱۵۸۶) علامہ سندھی حنفی نے کہا: ظاہر تو یہی ہے کہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں جائز بلکہ مندوب ہیں، میں منع کرنے والوں کے پاس کوئی شافی جواب نہ پا سکا۔ (حاشیۃ السندھی علی النسائی: ۱/ ۲۸۳،۲/ ۲۸) معلوم نہیں کہ بعض لوگ اس موضوع پر صحیح اور صریح روایات ہونے کے باوجود ان دو رکعتوں کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے تحت لکھا: اس حدیث ِ مبارکہ سے نمازِ مغرب سے قبل دو رکعت پڑھنے کی واضح مشروعیت ثابت ہوتی ہے، کیونکہکبار صحابہ نے ان کا اہتمام کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو برقرار رکھا، دوسری عام احادیث سے بھی اس نماز کا ثبوت ملتا ہے، مثلا سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَامِنْ صَلَاۃٍ مَفْرُوْضَۃٍ إِلَّا وَبَیْنَیَدَیْھَا رَکْعَتَانِ۔)) (صحیح ابن حبان: ۶۱۵، صحیحۃ: ۲۳۲) … نہیں ہے کوئی فرضی نماز، مگر اس سے پہلے (کم از کم) دو رکعت (نفلی نماز) ہے۔ امام احمد، امام اسحق اور محدثین کا یہی مذہب ہے، لیکن بعض مقلد مغرب سے پہلے دو رکعت نفل پر دلالت کرنے والی ان صریح احادیث کو ردّ کر دیتے ہیں۔ (صحیحہ: ۲۳۴)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 838
46. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَاتِبَةِ الْعِشَاءِ
عشا کی سننِ رواتب کا بیان
حدیث نمبر: 2086
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِسَجْدَةٍ ثُمَّ نَامَ حَتَّى يُصَلِّيَ بَعْدُ صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ
سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو چار رکعتیں ادا کرتے اور ایک رکعت وتر بھی پڑھ لیتے اور پھر سوجاتے، بعد میں رات کو اپنی نماز ادا کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث: «ضعيف منقطع، نافع بن ثابت من رجال ((التعجيل)) لم يدرك جده عبد الله۔ أخرجه البزار: 732، والطبراني في الكبير: 250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16208»
الحكم على الحديث:
ضعيف منقطع
حدیث نمبر: 2087
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عشاء کے بعد آپ کے گھر میں دو رکعتیں پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 937، 1165، 1180، ومسلم:882، وابوداود: 1128، والترمذي: 425، 432، والنسائي: 3/ 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4506، 5296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5296»
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 937
حدیث نمبر: 2088
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھا کر میرے گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات کو نمازِ وتر سمیت (۹) رکعتیں ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث: «أخرجه بتمامه ومختصرا مسلم: 730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24520»
الحكم على الحديث:
أخرجه بتمامه ومختصرا مسلم: 730
حدیث نمبر: 2089
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمْ تَكُنْ صَلَاةٌ أَحْرَى أَنْ يُؤَخَّرَهَا إِذَا كَانَ عَلَى حَدِيثٍ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَمَا صَلَّاهَا قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعًا أَوْ سِتًّا وَمَا رَأَيْتُهُ يَتَقِي عَلَى الْأَرْضِ بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنِّي أَذْكُرُ أَنَّ يَوْمَ مَطَرٍ أَلْقَيْنَا تَحْتَهُ بَتًّا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى خَرْقٍ فِيهِ يَنْبُعُ مِنْهُ الْمَاءُ
شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: جب آپ گفتگو میں مصروف ہوتے تو عشاء کی نماز سے زیادہ مناسب کوئی ایسی نماز نہ ہوتی کہ جسے آپ مؤخر کریں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نماز پڑھ کر میرے پاس آتے تو اس کے بعد چار یا چھ رکعتیں ادا کرتے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ کوئی چیز بچھا کر زمین سے بچتے ہوں، ہاں یہ مجھے یاد آ رہا ہے کہ ایک بارش والے دن ہم نے آپ کے نیچے ایک چٹائی ڈالی تھی،لیکن گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہی ہوں کہ اس کی پھٹی ہوئی جگہ سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة مقاتل بن بشير العجلي۔ أخرجه ابوداود: 1303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24809»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة مقاتل بن بشير العجلي۔ أخرجه ابوداود: 1303