🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
عصر کے بعد دو رکعتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2070
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ زَعَمَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْأَلُهَا هَلْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: أَمَّا عِنْدِي فَلَا، وَلَٰكِنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ فَأَرْسِلْ إِلَيْهَا فَاسْأَلْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، دَخَلَ عَلَيَّ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أُنْزِلَ عَلَيْكَ فِي هَٰاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ؟ قَالَ: ( (لَا وَلَٰكِنْ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَشُغِلْتُ فَاسْتَدْرَكْتُهَا بَعْدَ الْعَصْرِ) )
عبید اللہ بن عبد اللہ نے کہا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد کوئی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: میرے پاس تو ایسے نہیں ہوا، البتہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھی تھیں، لہٰذا تم ان کی طرف پیغام بھیج کر ان سے پوچھ لو، پس انھوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کے بعد میرے پاس آئے اور یہ دو رکعتیں پڑھیں، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ان دو رکعتوں کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بات یہ ہے کہ میں ظہر کی نماز پڑھ کر مصروف ہو گیاتھا، اس لیے اب عصر کے بعد ان کو ادا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2070]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 282، وابن ابي شيبة: 2/ 353۔ وأخرجه مطوّلا البخاري: 1233، 4370، ومسلم: 834، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26515، 26614، 26633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27168»
وضاحت: فوائد: … پچھلے باب کی احادیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بیان کرچکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تسلسل کے ساتھ عصر کے بعد دو رکعت نماز ادا کیا کرتے تھے، لیکن اس حدیث میں انھوں نے اس نماز کی نفی کر دی ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان کی نفی سے مراد سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیان کردہ واقعہ کی نفی ہے، نہ کہ صرف دو رکعتوں کی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 282
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عُبَيْدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: يَا ابْنَ عَبَّاسِ! لَقَدْ ذَكَرْتَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ أُنَاسًا يُصَلُّونَهَا، وَلَمْ نَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا وَلَا أَمَرَ بِهِمَا؟ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَٰكَ مَا يَقْضِي النَّاسَ بِهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: مَا رَكْعَتَانِ تَقْضِي بِهِمَا النَّاسَ؟ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ رَجُلَيْنِ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ، وَيَقُولُ: مَا رَكْعَتَانِ زَعَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّكِ أَمَرْتِيهِ بِهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ؟ قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: ذَٰكَ مَا أَخْبَرَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَأَخْبَرْنَاهَا مَا قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُهَا اللَّهُ، أَوَلَمْ أُخْبِرْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهُمَا
یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن حارث سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: میں اور سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انھوں نے کہا: ابن عباس! تو نے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کا ذکر کیا ہے اور مجھے یہ خبر ملی ہے کہ لوگ ان کو ادا کرتے ہیں، حالانکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا ہے کہ آپ نے یہ نماز پڑھی ہو اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کا کوئی حکم دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ وہ چیز ہے کہ جس کے متعلق سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ لوگوں سے بات کرتے ہیں یعنی وہ ان کو پڑھنے کا فتویٰ دیتے ہیں، پس سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ان دو رکعتوں کی کیا حقیقت ہے کہ جن کے بارے میں آپ لوگوں سے بات کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: مجھے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی ہے، یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دو آدمیوں کو یہ پیغام دے کر بھیجا: امیر المومنین آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ ان دو رکعتوں کی حقیقت کیا ہے جن کے بارے میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: یہ وہ چیز ہے، جس کی مجھے تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی تھی، چنانچہ ہم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات بتلائی، آگے سے انہوں نے کہا: اللہ عائشہ پر رحم کرے، کیا میں نے انہیں یہ خبر نہیں دے دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2071]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف لضعف يزيد بن ابي زيا۔ أخرجه ابن ماجه: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27121»

الحكم على الحديث:
ھذا اسناد ضعيف لضعف يزيد بن ابي زيا۔ أخرجه ابن ماجه: 1159
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2072
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا قَالَتْ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ قَطُّ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، جَاءَهُ نَاسٌ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَشَغَلُوهُ فِي شَيْءٍ فَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، قَالَتْ: فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد کبھی نماز پڑھی ہو، البتہ ایک مرتبہ ایسے ہوا تھا کہ لوگ ظہر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی کام میں مصروف کردیا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد کوئی نماز نہ پڑھ سکے، یہاں تک کہ عصر کی نماز ادا کی، پھر جب آپ میرے گھر تشریف لائے تو وہ دو رکعتیں پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2072]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 281، وعبد الرزاق: 3970، والطبراني في الكبير: 23/ 534، وھذا حديث قد اختلف فيه علي أبي سلمة، وانظر: 956، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27181»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ظہر کی بعد والی سنتیں رہ جائیں تو ان کو عصر کی نماز کے بعد ادا کیا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 281
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2073
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَشُغِلَ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَكَعَهُمَا فِي بَيْتِي، فَمَا تَرَكَهُمَا حَتَّى مَاتَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ: فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْهُ، قَالَ قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ ثُمَّ تَرَكْنَاهُ
عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، ایک دن آپ مشغول ہو گئے اور یہ دو رکعتیں ادا نہ کر سکے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھ لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو کرمیر ے گھر میں آئے تو ان کو ادا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وفات پانے تک تر ک نہیں کیا۔ عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم یہ نماز پڑھتے تو تھے، لیکن بعد میں اس کو ترک کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2073]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه۔ أخرجه اسحاق: 1668، 1669، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26062»
وضاحت: فوائد: … یعنی جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کو وہ احادیث موصول ہوئیں، جن میں نماز عصر کے بعد نماز سے مطلق طور پر منع کیا گیا ہے تو انھوں نے ان دو رکعتوں کو ترک کر دیا تھا، بہرحال اثبات کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2074
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَتْ فَجَاءَتْهُ عِنْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَشُغِلَ فِي قِسْمَتِهِ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّاهَا
عبد اللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو صدقہ وصول کرکے لیے بھیجا تھا، وہ آپ کے پاس ظہر کے وقت واپس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اور تقسیم میں مصروف ہوگئے، حتیٰ کہ آپ نے عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ دو رکعتیں ادا کیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2074]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4/ 211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25458»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4/ 211
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2075
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: صَلَّى مَعَانَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَالْتَفَتَ فَإِذَا أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَدَخَلَ وَدَخَلَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا مَعَهُ فَأَوْسَعَ لَهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَلَسَ مَعَهُ، قَالَ: مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي رَأَيْتُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا وَلَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا؟ قَالَ: ذَٰكَ مَا يُفْتِيهِمُ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَسَلَّمَ فَجَلَسَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ! مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تَأْمُرُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا؟ لَمْ نَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا عِنْدَهَا فِي بَيْتِهَا، قَالَ: فَأَمَرَنِي مُعَاوِيَةُ وَرَجُلًا آخَرَ أَنْ نَأْتِيَ عَائِشَةَ فَنَسْأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا أَخْبَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَنْهَا، فَقَالَتْ: لَمْ يَحْفَظِ ابْنُ الزُّبَيْرِ، إِنَّمَا حَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى هَٰتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي، فَسَأَلْتُهُ، قُلْتُ: إِنَّكَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ: ( (إِنَّهُ كَانَ أَتَانِي شَيْءٌ فَشُغِلْتُ فِي قِسْمَتِهِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَأَتَانِي بِلَالٌ فَنَادَانِي بِالصَّلَاةِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَحْبِسَ النَّاسَ فَصَلَّيْتُهُمَا) ) ، قَالَ فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا؟ فَلَا أَدَعُهُمَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: لَا تَزَالُ مُخَالِفًا أَبَدًا (وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّكَ لَمُخَالِفٌ، لَا تَزَالُ تُحِبُّ الْخِلَافَ مَا بَقِيتَ)
عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، جب مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ عصر کے بعد نماز پڑھ رہے تھے، وہ گھر چلے گئے اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس چلے گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے چار پائی پر جگہ بنائی اور وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے، انھوں نے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے، جومیں نے لوگوں کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، حالانکہ نہ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی حکم دیا؟ انہوں نے کہا: لوگوں کو اس کا فتوی دینے والے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر ان کو بلایا گیا اور وہ آ گئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن زبیر! اس نماز کی کیا حقیقت ہے، جس کے پڑھنے کا آپ لوگوں کو حکم دیتے ہیں؟ ہم نے تو نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا کوئی حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے گھر میں ان کے پاس یہ نماز پڑھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اور ایک اور آدمی کو حکم دیا کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاکر ان سے اس کے بارے میں دریافت کریں، پس میں سیدہ کے پاس پہنچا اور ان سے اس کے بارے میں پوچھا اور ان کے حوالے جو بات سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے، وہ ان کو بتادی،، وہ کہنے لگیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے یاد نہیں رکھا، میں نے تو انہیں یہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد میرے پاس دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ آج آپ نے یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، پہلے تو نہیں پڑھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس کوئی مال لایا گیا تھا اور میں اسے تقسیم کرنے کی وجہ سے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے مشغول ہو گیا،اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ میرے پاس آ گئے اور انہوں نے نماز عصر کے لئے مجھے بلالیا، اس وقت میں نے ناپسند سمجھا کہ ان دو رکعتوں کیوجہ سے لوگوں کو روک لوں، اس لیے اب میں نے وہ دو رکعتیں ادا کی ہیں۔ میں نے واپس آکر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ساری بات بتائی، لیکن سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، لہٰذا میں تو ان کو نہیں چھوڑوں گا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے: آپ ہمیشہ مخالف ہی رہتے ہیں، جب تک آپ زندہ ہیں، آپ مخالفت کو ہی پسند کرتے رہیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2075]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي، ولضعف شيخه حنظلة السدوسي، وقد اختلف فيه۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26021»

الحكم على الحديث:
ھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2076
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاتَتْهُ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْعَصْرِ فَصَلَّاهُمَا بَعْدُ
زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عصر سے پہلے والے دو رکعتیں رہ گئیں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عصر کے بعد پڑھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2076]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وتقدم ھذا الحديث بالفاظ مختلفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27369»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2077
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَيْمُونَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) ثُمَّ أَتْبَعَهُ رَجُلًا آخَرَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُجَهِّزُ بَعْثًا وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ظَهْرٌ، فَجَاءَ ظَهْرٌ مِنَ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَ يُقَسِّمُهُ بَيْنَهُمْ، فَحَبَسُوهُ حَتَّى أَرْهَقَ الْعَصْرَ وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى مَا كَانَ يُصَلِّي قَبْلَهَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَوْ فَعَلَ شَيْئًا يُحِبُّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ
عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی اور زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف (ایک آدمی) بھیجا اورپھر اس کے پیچھے ایک اور آدمی بھی بھیج دیا،میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لشکر تیار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سواریاں نہیں تھیں، لیکن اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقے کی سواریاں لائی گئیں، آپ انہیں صحابہ میں تقسیم کرنے لگے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک دیا، حتیٰ کہ عصر کا وقت ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر سے پہلے دو یا اس سے زائد رکعتیں، جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتیں، پڑھتے تھے، (اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رکعتیں ادا نہ کر سکے تھے) اس لیے جب عصر پڑھ کر واپس آئے تو وہ پہلے والی نماز ادا کی، اصل بات یہ تھی کہ جب آپ کوئی نماز پڑھتے یا کوئی کام کرتے تو اس پر ہمیشگی کرنا پسند فرماتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2077]
تخریج الحدیث: «صلاته صلي الله عليه وآله وسلم ركعتين بعد العصر: صحيح، وقولھا: وكان اذا صلي صلاة، او فعل شيئا،يحب ان يداوم عليه: صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف حنظلة السدوسي۔ أخرجه ابويعلي: 7085، 7111، والطبراني في الكبير: 24/ 69، وفي الاوسط: 931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27376»
وضاحت: فوائد: … دوسرے شواہد کی بنا پر اس حدیث میں سے دو امور قابل حجت ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کرنا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی نماز پڑھتے یا کوئی اور کام شروع کرتے تو اس پر دوام کرنا پسند فرماتے تھے۔ کچھ صفحات پہلے اِس عنوان نفل نماز کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ یہ فرض نماز میں ہو جانے والی کمی پوری کرتی ہے مین یہ بات گزر چکی ہے کہ امام شوکانی کی جمع و تطبیق کے مطابق عصر سے پہلے والی دو سنتیں بھی سننِ رواتب میں داخل ہیں، اس لیے جیسے فجر اور ظہر سے پہلے والی سنتیں رہ جائیں اور بعد میں ان کو ادا کیا جاتا ہے، اسی طرح عصر کا مسئلہ ہو گا۔

الحكم على الحديث:
صلاته صلي الله عليه وآله وسلم ركعتين بعد العصر: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَاتِبَةِ الْمَغْرِبِ
مغرب کی سننِ رواتب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2078
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2078]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 1165، 1180، ومسلم:882، وابوداود: 1128، والترمذي: 425، 432، والنسائي: 3/ 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4506، 4757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4757»

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 1165
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2079
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَصَلَّى بِهِمُ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ( (ارْكَعُوا هَٰتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ) ) ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قُلْتُ لِأَبِي: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ تُجْزِهِ إِلَّا أَنْ يُصَلِّيهُمَا فِي بَيْتِهِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (هَٰذِهِ مِنْ صَلَاةِ الْبُيُوتِ) ) ، قَالَ: مَنْ هَٰذَا؟ قُلْتُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: مَا أَحْسَنَ مَا قَالَ أَوْ مَا أَحْسَنَ مَا انْتَزَعَ (وَفِي رِوَايَةٍ) مَا أَحْسَنَ مَا نَقَلَ
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو عبدالاشہل کے پاس آئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مغرب کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: یہ دو رکعتیں گھروں میں پڑھا کرو۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے اپنے باپ سے کہا کہ ایک آدمی کا یہ خیال ہے کہ جس نے مغرب کے بعد دو رکعتیں مسجد میں پڑھیں، تو یہ اسے کفایت نہیں کریں گی، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کو اپنے گھر میں ادا کرے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گھروں کی نماز میں سے ہیں۔ میرے باپ نے پوچھا: یہ کون آدمی ہے؟ میں نے کہا: محمد بن عبد الرحمن ہے، انہوں نے کہا: کتنی اچھی بات اس نے کہی ہے یا کتنی اچھی روایت اس نے بیان کی ہے یا کتنی اچھی روایت اس نے نقل کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2079]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23624، 23628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24028»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ کہنا کہ اگر مغرب کی سنتیں مسجد میں ادا کی جائیں تو وہ کفایت ہی نہیں کرتیں،یہ بات انتہائی قابل نظر ہے۔ ہاں یہ بات واضح ہے کہ نفلی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1165
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں