الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ جَوَازِ التَّسْبِيحِ وَالتَّصْفِيقِ وَالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ لِلْحَاجَةِ
نماز میں سبحان اللہ کہنے، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان¤(نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
حدیث نمبر: 1943
عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَبَّحَ لِي، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: إِنَّ إِذْنَ الرَّجُلِ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ يُسَبِّحُ وَإِنَّ إِذْنَ الْمَرْأَةِ أَنْ تُصَفِّقَ
یزید بن کیسان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سالم بن ابو جعد سے اجازت طلب کی جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے مجھے (جواباً)سبحان اللہ کہا، پھر جب سلام پھیرا تو کہا: جب مردنماز پڑھ رہا ہو تو اس کا اجازت دینایہ ہے کہ وہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے اور عورت تالی بجائی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1943]
تخریج الحدیث: «ھذا اثر صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7880»
الحكم على الحديث:
ھذا اثر صحيح
حدیث نمبر: 1944
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَأْذِنُ فَإِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ سَبَّحَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ أَذِنَ لِي
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا کرتا تھا، پس جب میں اجازت مانگتا اور آپ نماز میں ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے اور اگر نماز میں نہ ہوتے تو مجھے اجازت دے دیتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1944]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، تكلموا علي عبيد الله بن زحر، وعلي بن يزيد، و القاسم بن عبد الرحمن الشامي، واذا اجتمع ھؤلاء الثلاثة في سند خبر لم يكن متن ذالك الخبر الا مما عملته ايديھم۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 598»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، لیکن آنے والی دوسری حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1945
عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا أَنْسَانِيَ الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّقِ النِّسَاءُ) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شیطان نماز سے کوئی چیز مجھے بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1945]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، عبد الله بن لھيعة قد توبع۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 341، 342، والبزار: 573، والطبراني في الاوسط: 521، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14654، 14859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14708»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1946
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ) )
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے نماز میں کوئی ضرورت پیش آجائے تو وہ سبحان اللہ کہے، تالی بجانا عورتوں کے لیے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1946]
تخریج الحدیث: «أخرجه مختصرا ومطولا البخاري: 1201، 1218، 1204، ومسلم: 421، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22801، 22807، 22845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23187»
وضاحت: فوائد: … یہ اسلام کی انتہائی باکمال حکمت ہے کہ اگر نماز میں کلام کو حرام قرار دیا گیا ہے تو نمازی کوسبحان اللہ کہہ کر اپنے مطلوب کی طرف اشارہ کرنے کی اجازت دے دی گئی، اس رخصت کا مقصود یہ ہے کہ نمازی کو بے چینی سے محفوظ کر دیا جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مختصرا ومطولا البخاري: 1201
حدیث نمبر: 1947
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1947]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9679»
وضاحت: فوائد: … اِن اور اس موضوع کی دیگر احادیث سے امام کو متنبہ کرنے کے لیے مرد مقتدیوں کو سبحان اللہ کہنے اور عورتوں کو تالی بجانے کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ اگر امام کو سبحان اللہ کہنے یا تالی بجانے کا مقصد سمجھ نہ آ رہا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مقتدیوں کی طرف دیکھے اور مقتدی اشارہ کے ذریعے اس پر اپنے مقصود کی وضاحت کر دیں، جیسا کہ اس باب کے شروع میں اشارہ کے جواز پر جتنے دلائل پیش کیے گئے، ان میں سے دوسری دلیل سے پتہ چلتاہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز میں پیچھے مڑ کر دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی نماز جاری رکھنے کا حکم دیا، لیکن وہ پھر بھی واپس ہٹ آ ئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھ گئے تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 422
15. بَابُ جَوَازِ الْبُكَاءِ فِي الصَّلَاةِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ
اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1948
عَنْ مُطَرِّفِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلِصَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) مِنَ الْبُكَاءِ
سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس حال میں پہنچا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ہنڈیا کے ابلنے کی طرح آواز آ رہی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1948]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 904، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16421»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 904
حدیث نمبر: 1949
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَدِيثِ مَرْضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ) ) قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ، وَإِنَّهُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَكَى، قَالَتْ: مَا قُلْتُ ذَلِكَ إِلَّا كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَأَثَّمَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ( (مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ) ) فَرَاجَعْتُهُ، فَقَالَ: ( (مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بیماری کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر کو حکم کرو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ابو بکرنرم دل آدمی ہیں، اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں پا سکتے، اس لیے جب وہ قرآن پڑھیں گے تو رو پڑیں گے۔ میں نے یہ بات صرف اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہی تھی کہ لوگ گناہ میں پڑ جائیں گے کہ ابو بکر سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام پر کھڑے ہو گئے ہیں۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ میں نے تکرار کرتے ہوئے پھر وہی بات کہی، لیکن اس بار آپ نے فرمایا: ابو بکرکو حکم دوکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں،یقینا تم حضرت یوسف علیہ السلام کی صواحب کی طرح ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1949]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24562»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اس انداز میں نماز کے اندر رونا پسندیدہ چیز ہے۔ یہ فرق کرنا خواہ مخواہ کا تکلف ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ڈر یا جنت و جہنم کییاد کی وجہ سے رونا آجائے تو نماز باطل نہیں ہو گی اور اگر کسی تکلیفیا مصیبت کی وجہ سے رونا آ جائے تو نماز باطل ہو جائے گی۔ یہ فرق کسی شرعی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بجائے کسی اور صحابی کا تعین کر دیں، بلکہ وہ اپنے باپ کے حق میں مزید تاکید چاہتی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر ابو بکر کا ہی نام لیں گے۔
صاحب فوائد فاضلn نے اس بات کا کوئی حوالہ نہیں دیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مزید تاکید چاہتی تھیں۔ جبکہ زیر مطالعہ حدیث جو کہ صحیح مسلم میں بھی ہے اور اس سے پتا چلتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پیشِ نظر لوگوں کا گناہ میں پڑ جانے کا خطرہ تھا۔ صحیح بخاری (۴۴۴۵) میں بھی صاف آ رہا ہے کہ عائشہ کا خیال تھا کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پہلے والی برکت باقی نہ رہنے کی وجہ سے) آپ کی جگہ آنے والے پہلے شخص کے ساتھ لوگ نحوست محسوس کریں گے اور عائشہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس صورتِ حال سے الگ کرنا چاہتی تھیں۔بہرحال اصل اعتبار تو بخاری و مسلم کے حوالہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے اپنے بیان کا ہے، نہ کہ دلیل کے بغیر صرف ظن اور رائے کا۔
حضرتیوسف علیہ السلام کی صاحبات سے مراد زلیخا ہے، جس نے مختلف خواتین کو بلایا تو دعوت کے لیے تھا، لیکن اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ یوسف کا حسن کا اندازہ کر لیں اور اسے یوسف کی محبت میں معذور سمجھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بھی کہہ تو کچھ اور رہی تھیں، لیکن ان مقصد کچھ اور تھا۔ حدیث میں لفظ تو جمع استعمال کیے گئے ہیں، لیکن ان مراد ایک ایک خاتون ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور زلیخا۔
اس جگہ صواحب یوسف سے مراد صرف زلیخا نہیں بلکہ دیگر عورتیں بھی ہیں۔
وہ کوئی چال چل رہی تھیں درج ذیل قرآنی عبارات سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے۔
۱۔ یوسف علیہ السلام کی بات: {رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْ اِلَیْہِ} اے میرے رب! قید مجھے اس سے زیادہ پسند ہے، جس کی طرف یہ (عورتیں) مجھے بلا رہی ہیں۔
۲۔ یوسف علیہ السلام کی بات: {اِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِہِنَّ عَلِیْمٌ} یقینا میرا رب ان کی چال کو خوب جانتا ہے۔
۳۔ عزیز مصر کا عورتوں سے سوال: {مَا خَطْبُکُنَّ اِذْ رَاوَتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِہٖ} تمہاراکیا معاملہ ہے جب تم نے یوسف کو اس کے نفس کے بارے بہکایا۔
اس بات کی تفصیل مذکورہ آیات کے تحت تفسیر القرآن الکریم از حافظ عبدالسلام بن محمدn میں دیکھیں۔
((اِنَّکُنَّ لَاَنْتُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ)) سے مراد صرف عائشہ رضی اللہ عنہا نہیں۔ (صحیح بخاری: ۶۲۹) میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے پر حفصصہ رضی اللہ عنہا نے بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بجائے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کرانے کے حوالہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی تھی۔
صاحب فوائد فاضلn نے اس بات کا کوئی حوالہ نہیں دیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مزید تاکید چاہتی تھیں۔ جبکہ زیر مطالعہ حدیث جو کہ صحیح مسلم میں بھی ہے اور اس سے پتا چلتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پیشِ نظر لوگوں کا گناہ میں پڑ جانے کا خطرہ تھا۔ صحیح بخاری (۴۴۴۵) میں بھی صاف آ رہا ہے کہ عائشہ کا خیال تھا کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پہلے والی برکت باقی نہ رہنے کی وجہ سے) آپ کی جگہ آنے والے پہلے شخص کے ساتھ لوگ نحوست محسوس کریں گے اور عائشہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس صورتِ حال سے الگ کرنا چاہتی تھیں۔بہرحال اصل اعتبار تو بخاری و مسلم کے حوالہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے اپنے بیان کا ہے، نہ کہ دلیل کے بغیر صرف ظن اور رائے کا۔
حضرتیوسف علیہ السلام کی صاحبات سے مراد زلیخا ہے، جس نے مختلف خواتین کو بلایا تو دعوت کے لیے تھا، لیکن اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ یوسف کا حسن کا اندازہ کر لیں اور اسے یوسف کی محبت میں معذور سمجھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بھی کہہ تو کچھ اور رہی تھیں، لیکن ان مقصد کچھ اور تھا۔ حدیث میں لفظ تو جمع استعمال کیے گئے ہیں، لیکن ان مراد ایک ایک خاتون ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور زلیخا۔
اس جگہ صواحب یوسف سے مراد صرف زلیخا نہیں بلکہ دیگر عورتیں بھی ہیں۔
وہ کوئی چال چل رہی تھیں درج ذیل قرآنی عبارات سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے۔
۱۔ یوسف علیہ السلام کی بات: {رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْ اِلَیْہِ} اے میرے رب! قید مجھے اس سے زیادہ پسند ہے، جس کی طرف یہ (عورتیں) مجھے بلا رہی ہیں۔
۲۔ یوسف علیہ السلام کی بات: {اِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِہِنَّ عَلِیْمٌ} یقینا میرا رب ان کی چال کو خوب جانتا ہے۔
۳۔ عزیز مصر کا عورتوں سے سوال: {مَا خَطْبُکُنَّ اِذْ رَاوَتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِہٖ} تمہاراکیا معاملہ ہے جب تم نے یوسف کو اس کے نفس کے بارے بہکایا۔
اس بات کی تفصیل مذکورہ آیات کے تحت تفسیر القرآن الکریم از حافظ عبدالسلام بن محمدn میں دیکھیں۔
((اِنَّکُنَّ لَاَنْتُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ)) سے مراد صرف عائشہ رضی اللہ عنہا نہیں۔ (صحیح بخاری: ۶۲۹) میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے پر حفصصہ رضی اللہ عنہا نے بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بجائے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کرانے کے حوالہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی تھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 418
16. بَابُ جَوَازِ قَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَالْمَشْيِ الْيَسِيرِ وَالِالْتِفَاتِ فِيهَا لِحَاجَةٍ
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1950
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ، الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سیاہ چیزوں یعنی بچھو اور اور سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1950]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 921، والترمذي: 390، وابن ماجه: 1245، والنسائي: 3/ 10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7379، 10116، 10154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7373»
وضاحت: فوائد: … اس ضمن میں تھوڑا یا زیادہ چلنے کا یا قبلہ رخ رہنے یا نہ رہنے کا فرق کرنا، یہ سب امور بلادلیل ہیں۔ اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کو چاہیے کہ وہ ان دو جانوروں کو قتل کرے۔ لامحالہ طور پر وہ کچھ کرنا پڑے گا، جس سے ان جانوروں کو قتل کرنا پڑتاہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 921
حدیث نمبر: 1951
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَقَامِهِ، وَوَصَفَتْ أَنَّ الْبَابَ فِي الْقِبْلَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، پھر جب میں آتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آگے) چلتے اور میرے لیے دروازہ کھول کر اپنے مقام پر واپس آ جاتے تھے۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ وہ دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1951]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 922، والترمذي: 601، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24528»
وضاحت: فوائد: … اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز میں ہر قسم کی زائد حرکت منع ہے،کیونکہ اس سے نماز کا خشوع و خضوع متاثر ہوتا ہے، باب نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان میں اس قسم کے بعض امور کا ذکر ہو چکا ہے، لیکن بعض دفعہ کسی اشد ضرورت کی بنا پر نماز کے اندر کوئی خارجی کام یا حرکت کرنے کی نوبت آجاتی ہے، سب سے پہلے ہم شریعت میں ثابت ہونے والی ایسی مثالوں کا ذکر کرتے ہیں۔
(۱) ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا} یعنی: جب تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہییا سوار ہی سہی۔ (سورۂ بقرہ: ۲۳۸) اس آیت میں خوف کے وقت پیدل چلتے ہوئے یا سواری پربیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔
(۲) سانپ اور بچھو کو قتل کرنا۔ اِس اور اگلے دو امور کا ذکر اسی باب میں ہے۔
(۳) قبلہ کی سمت میں واقع دروازہ کھولنا۔
(۴) سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کا سواری کی لگام پکڑ کر نماز پڑھنا اور اس کے ساتھ پیچھے ہٹ جانا، پھر اس فعل کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں سے استدلال کرنا۔
(۵) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچی کو اٹھا کر نماز پڑھنا اور رکوع کرتے وقت اس کو زمین پر بٹھا دینا اور پھر اگلی رکعت میں اٹھا لینا۔ (اس کا ذکراگلے باب میں آ رہا ہے)۔
(۶) نماز کسوف میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنت کے انگور کا خوشہ پکڑنے کے لیے آگے بڑھنا اور جہنم کو دیکھ کر پیچھے ہٹنا۔ (بخاری: ۱۲۱۲)
(۷) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سرپر ہاتھ رکھا اور ان کے کان کو مروڑا اور گھما کر دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ (بخاری: ۱۸۳، ۹۹۲، ۱۱۹۸، مسلم: ۱۸۲)
(۸) سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ صلح کرانے کے لیے بنو عمرو کی طرف گئے، مسجد نبوی میں نماز کا وقت ہو گیا، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امامت کے فرائض ادا کرنا شروع کیے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور صف میں کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے ابو بکر صدیق کو متنبہ کرنے کے لیے تالیاں بجائیں، چونکہ وہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس لیے لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجانا شروع کر دیں، بالآخر انھوں نے پیچھے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صف میں کھڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنے مقام پر ٹھہرے رہو اور(نماز کی امامت جاری رکھو)۔ لیکن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو نماز جاری رکھنے کے بارے حکم دینے پر اللہ کی حمد بیان کی اور پھر پیچھے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے بڑھ کر امامت سنبھال لی۔ (بخاری: ۶۸۴، مسلم: ۱۰۳)
(۹) صحابہ کرام کو تعلیم دینے کی خاطر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر نماز پڑھائی اور سجدے کرنے کے لئے نیچے اتر آئے اور پھر منبر پر چڑھ گئے۔ (بخاری، مسلم)
(۱۰) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک صحابی نے سخت گرمی کی وجہ سے کچھ کنکریاں ہاتھ میں پکڑ لیں، تاکہ وہ ٹھنڈی رہیں، جب بھی وہ سجدہ کرتے تو زمین کی حرارت سے بچنے کے لئے ان کو زمین پر بچھا دیتے۔ (ابوداود)
(۱۱) نمازی کا اپنے آگے سے گزرنے والے کو روکنا، وگرنہ اس سے لڑائی کرنا۔ ان احادیث اور اس موضوع سے متعلقہ دوسری احادیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت اس قسم کی حرکات و سکنات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہ شریعت ِ اسلامیہ کی کمال حکمت ہے کہ جہاں اس نے دورانِ نماز عجزو انکساری اور خشوع و خضوع کو اپنانے اور فضول حرکتوں سے گریز کرنے کا حکم دیا، وہاں انسانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور نماز کے سکون کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے بعض گنجائشوں کو بھی برداشت کر لیا۔ مثال کے طور پر ایک دفعہ ہم گھر کے سارے افراد گھر میں باجماعت نماز پڑھ رہے تھے، دوران نماز ایک چھوٹی سی بچی ہاتھ اٹھا کر سٹینڈ والے پنکھے کی طرف بڑھی، ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ اگر وہ اسی انداز میں پنکھے تک پہنچ گئی تو انگلیوں کو شدید نقصان ہو سکتا ہے، یہ صورتحال دیکھ کر ایک نمازی آگے بڑھا اور بچی کو اٹھا کر واپس اپنی جگہ پر آکر نماز کو جاری رکھا۔ اس نمازی کا یہ فعل روحِ شریعت کے عین مطابق ہے۔ قارئین کرام! اگر وہ آدمی آگے بڑھ کر بچی کو نہ اٹھاتا تو سارے افراد نماز کے بقیہ حصے کو کس کشمکش میں ادا کرتے اور یہ کیسی عبادت ہوتی کہ ایک بچی کی انگلیاں کٹ رہی ہوں اور کسی کو اس کو بچانے کی اجازت نہ ہو۔ ہمارے ہاں سب سے بڑی مصیبتیہ ہے کہ جتنی لوگوں کے علم اور مطالعہ میں سستی اور کمی ہے، اتنی ہی فتوی بازی میں تیزی اور کثرت ہے، ہم لوگ صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں، عبادت کا مقصد کیا ہے، اس کی روح کیا اور شریعت میں دی گئی رخصتوں کی تفصیل کیا ہے، ان امور سے ہمارا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہماری عوام کا عملی نظریہیہ ہے کہ اگر کوئی آدمی نماز کا ایک کلمہ بھی سوچے سمجھے بغیر اور انتہائی بے توجہی کے عالَم میں نماز ادا کر لے تو اس کی نماز میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر کوئی آدمی نماز کے ایک ایک جملے کو سمجھتا ہے، لیکن دورانِ نماز کسی ضرورت کی وجہ سے بچہ اٹھا لیتا ہے تو فتوی باز عوام اور جاہلوں کے نزدیک اس کی نماز بڑی حد تک متأثر ہو گییا پھر باطل ہو جائے گی۔ ضروری تنبیہیہ ہے کہ اگر نمازی، نماز کے کلمات کو سمجھ کر ادا کر رہا ہو تو ایسی حرکات سے نماز میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں سب سے بڑی مصیبتیہ ہے کہ لوگوں نے بغیر کسی غور و فکر کے نماز، ذکر اور قرآن کے الفاظ رٹے ہوتے ہیں، جب بیچ میں کوئی معمولی سی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو ان کی نماز ان پر خلط ملط ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ سلام پھیرنے کے بعد دوسروں پر برس پڑتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو علم ہونا چاہیے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں خشوع و خضوع اور عجز و انکساری اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہییہ رخصتیں عطا کی ہیں، جو آدمی ان رخصتوں کو قبول کرنے سے کتراتا ہے، دوسرے الفاظ میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے بڑھنے کی مذموم کوشش کرتا ہے۔
(۱) ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا} یعنی: جب تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہییا سوار ہی سہی۔ (سورۂ بقرہ: ۲۳۸) اس آیت میں خوف کے وقت پیدل چلتے ہوئے یا سواری پربیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔
(۲) سانپ اور بچھو کو قتل کرنا۔ اِس اور اگلے دو امور کا ذکر اسی باب میں ہے۔
(۳) قبلہ کی سمت میں واقع دروازہ کھولنا۔
(۴) سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کا سواری کی لگام پکڑ کر نماز پڑھنا اور اس کے ساتھ پیچھے ہٹ جانا، پھر اس فعل کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں سے استدلال کرنا۔
(۵) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچی کو اٹھا کر نماز پڑھنا اور رکوع کرتے وقت اس کو زمین پر بٹھا دینا اور پھر اگلی رکعت میں اٹھا لینا۔ (اس کا ذکراگلے باب میں آ رہا ہے)۔
(۶) نماز کسوف میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنت کے انگور کا خوشہ پکڑنے کے لیے آگے بڑھنا اور جہنم کو دیکھ کر پیچھے ہٹنا۔ (بخاری: ۱۲۱۲)
(۷) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سرپر ہاتھ رکھا اور ان کے کان کو مروڑا اور گھما کر دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ (بخاری: ۱۸۳، ۹۹۲، ۱۱۹۸، مسلم: ۱۸۲)
(۸) سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ صلح کرانے کے لیے بنو عمرو کی طرف گئے، مسجد نبوی میں نماز کا وقت ہو گیا، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امامت کے فرائض ادا کرنا شروع کیے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور صف میں کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے ابو بکر صدیق کو متنبہ کرنے کے لیے تالیاں بجائیں، چونکہ وہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس لیے لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجانا شروع کر دیں، بالآخر انھوں نے پیچھے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صف میں کھڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنے مقام پر ٹھہرے رہو اور(نماز کی امامت جاری رکھو)۔ لیکن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو نماز جاری رکھنے کے بارے حکم دینے پر اللہ کی حمد بیان کی اور پھر پیچھے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے بڑھ کر امامت سنبھال لی۔ (بخاری: ۶۸۴، مسلم: ۱۰۳)
(۹) صحابہ کرام کو تعلیم دینے کی خاطر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر نماز پڑھائی اور سجدے کرنے کے لئے نیچے اتر آئے اور پھر منبر پر چڑھ گئے۔ (بخاری، مسلم)
(۱۰) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک صحابی نے سخت گرمی کی وجہ سے کچھ کنکریاں ہاتھ میں پکڑ لیں، تاکہ وہ ٹھنڈی رہیں، جب بھی وہ سجدہ کرتے تو زمین کی حرارت سے بچنے کے لئے ان کو زمین پر بچھا دیتے۔ (ابوداود)
(۱۱) نمازی کا اپنے آگے سے گزرنے والے کو روکنا، وگرنہ اس سے لڑائی کرنا۔ ان احادیث اور اس موضوع سے متعلقہ دوسری احادیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت اس قسم کی حرکات و سکنات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہ شریعت ِ اسلامیہ کی کمال حکمت ہے کہ جہاں اس نے دورانِ نماز عجزو انکساری اور خشوع و خضوع کو اپنانے اور فضول حرکتوں سے گریز کرنے کا حکم دیا، وہاں انسانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور نماز کے سکون کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے بعض گنجائشوں کو بھی برداشت کر لیا۔ مثال کے طور پر ایک دفعہ ہم گھر کے سارے افراد گھر میں باجماعت نماز پڑھ رہے تھے، دوران نماز ایک چھوٹی سی بچی ہاتھ اٹھا کر سٹینڈ والے پنکھے کی طرف بڑھی، ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ اگر وہ اسی انداز میں پنکھے تک پہنچ گئی تو انگلیوں کو شدید نقصان ہو سکتا ہے، یہ صورتحال دیکھ کر ایک نمازی آگے بڑھا اور بچی کو اٹھا کر واپس اپنی جگہ پر آکر نماز کو جاری رکھا۔ اس نمازی کا یہ فعل روحِ شریعت کے عین مطابق ہے۔ قارئین کرام! اگر وہ آدمی آگے بڑھ کر بچی کو نہ اٹھاتا تو سارے افراد نماز کے بقیہ حصے کو کس کشمکش میں ادا کرتے اور یہ کیسی عبادت ہوتی کہ ایک بچی کی انگلیاں کٹ رہی ہوں اور کسی کو اس کو بچانے کی اجازت نہ ہو۔ ہمارے ہاں سب سے بڑی مصیبتیہ ہے کہ جتنی لوگوں کے علم اور مطالعہ میں سستی اور کمی ہے، اتنی ہی فتوی بازی میں تیزی اور کثرت ہے، ہم لوگ صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں، عبادت کا مقصد کیا ہے، اس کی روح کیا اور شریعت میں دی گئی رخصتوں کی تفصیل کیا ہے، ان امور سے ہمارا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہماری عوام کا عملی نظریہیہ ہے کہ اگر کوئی آدمی نماز کا ایک کلمہ بھی سوچے سمجھے بغیر اور انتہائی بے توجہی کے عالَم میں نماز ادا کر لے تو اس کی نماز میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر کوئی آدمی نماز کے ایک ایک جملے کو سمجھتا ہے، لیکن دورانِ نماز کسی ضرورت کی وجہ سے بچہ اٹھا لیتا ہے تو فتوی باز عوام اور جاہلوں کے نزدیک اس کی نماز بڑی حد تک متأثر ہو گییا پھر باطل ہو جائے گی۔ ضروری تنبیہیہ ہے کہ اگر نمازی، نماز کے کلمات کو سمجھ کر ادا کر رہا ہو تو ایسی حرکات سے نماز میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں سب سے بڑی مصیبتیہ ہے کہ لوگوں نے بغیر کسی غور و فکر کے نماز، ذکر اور قرآن کے الفاظ رٹے ہوتے ہیں، جب بیچ میں کوئی معمولی سی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو ان کی نماز ان پر خلط ملط ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ سلام پھیرنے کے بعد دوسروں پر برس پڑتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو علم ہونا چاہیے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں خشوع و خضوع اور عجز و انکساری اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہییہ رخصتیں عطا کی ہیں، جو آدمی ان رخصتوں کو قبول کرنے سے کتراتا ہے، دوسرے الفاظ میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے بڑھنے کی مذموم کوشش کرتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 922
حدیث نمبر: 1952
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَمَشَى فِي الْقِبْلَةِ إِمَّا عَنْ يَمِينِهِ وَإِمَّا عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: میں نے دروازے پر دستک دی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، پس آپ دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے قبلہ کی طرف چلے، یہاں تک کہ میرے لیے دروازہ کھول دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی جائے نماز پر لوٹ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26499»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول