🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ مُدَّةِ الْقَصْرِ وَمَتَى يُتِمُّ الْمُسَافِرُ وَحُكْمِ مَنْ لَمْ يَجْمَعْ إِقَامَةً
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا¤اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2375
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَجَلَسْنَا فَقَامَ إِلَيْهِ فَتَى مِنَ الْقَوْمِ فَسَأَلَهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَجَاءَ فَوَقَفَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: إِنَّ هَٰذَا سَأَلَنِي عَنْ أَمْرٍ فَأَرَدْتُّ أَنْ تَسْمَعُوهُ أَوْ كَمَا قَالَ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانَ عَشْرَةَ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، وَيَقُولُ لِأَهْلِ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا سَفَرٌ، وَاعْتَمَرْتُ مَعَهُ ثَلَاثَ عُمَرٍ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَجَّاتٍ فَلَمْ يُصَلِّيَا إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَا إِلَى الْمَدِينَةِ
ابونضرۃ کہتے ہیں: سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ گزر رہے تھے، پس ہم بیٹھ گئے اور جماعت سے ایک نوجوان ان کے پاس گیا اور ان سے غزوے، حج اور عمرے کے سفروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور کہا:اس نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم سارے اس کا جواب سن لو۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا، (اس سفر میں بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا اور دو رکعتیں ہی پڑھیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہر والوں کو کہتے تھے: تم لوگ چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تین عمرے کیے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، اس کے بعد میں نے سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ ساتھ کئی حج کئے، وہ دونوں مدینہ لوٹنے تک دو رکعت ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2375]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل علي بن زيد بن جدعان، ولبعض الحديث شواھد، ابن ابي شيبة: 2/ 450، وابن خزيمة: 1643، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ (515)، وأخرجه مختصرا ابوداود:1229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19865، 19871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20112»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف من اجل علي بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2376
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) مَا سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَإِنَّهُ أَقَامَ بِمَكَّةَ زَمَانَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ أَبِي وَحَدَّثَنَاهُ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِيهِ إِلَّا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَقُولُ: ( (يَا أَهْلَ مَكَّةَ قُومُوا فَصَلُّوا رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ فَإِنَّا سَفَرٌ) ) ، ثُمَّ غَزَا حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى جِعْرَانَةَ فَاعْتَمَرَ مِنْهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ، ثُمَّ غَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَجَجْتُ وَاعْتَمَرْتُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ يُونُسُ إِلَّا الْمَغْرِبَ، وَمَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَدْرَ إِمَارَتِهِ، قَالَ يُونُسُ: رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ أَرْبَعًا
(دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوسفر بھی کیا، اس میں واپس آنے تک دو دو رکعت ہی نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں اٹھارہ راتیں قیام کیا اور لوگوں کو دو دو رکعت ہی پڑھائیں، ما سوائے مغرب کے۔ پھر آپ (مقیم لوگوں کو) فرماتے تھے: اے اہل مکہ! کھڑے ہو جاؤ اور مزید دو رکعتیں بھی پڑھو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف میں دو دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ کی طرف لوٹے، وہاں سے ذو القعدہ کے مہینے میں عمرہ بھی کیا، (ان سفروں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قصر نماز ہی پڑھتے رہے) پھر میں نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد، حج اور عمرہ ادا کیا، وہ بھی نماز مغرب کے علاوہ دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، (اس کے بعد میں یہی کام) سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کیے، وہ بھی دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، پھر سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے شروع میں تو اسی طرح (قصر نماز) پڑھتے تھے، لیکن پھر انہوں نے اس کے بعد چار رکعتیں پڑھنا شروع کر دی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2376]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20105»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20105
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ مَنِ اجْتَازَ بِبَلَدٍ فَتَزَوَّجَ فِيهِ أَوْ كَانَ لَدَيْهِ زَوْجَةٌ فَلْيُتِمَّ
اس شخص کا بیان جو کسی شہر میںآتا ہے اور وہاں پر شادی کرلیتا ہے یا اس کی بیوی اس شہر کی رہنے والی ہے توجب وہ وہاں آئے تونماز پوری پڑھے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2377
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى بِمِنَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَأَنْكَرَهُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَأَهَّلْتُ بِمَكَّةَ مُنْذُ قَدِمْتُ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَأَهَّلَ فِي بَلَدٍ فَلْيُصَلِّ صَلَاةَ الْمُقِيمِ) )
عبد الرحمن بن ابی ذباب کہتے ہیں کہ سیّدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعت نماز پڑھائی، جب لوگوں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا تو انھوں نے کہا: لوگوں میں نے مکہ آتے ہی شادی کر لی تھی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو کسی شہر میں شادی کرلے تو وہ وہاں مقیم والی نماز پڑھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2377]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عكرمة بن ابراهيم الباھلي، قال أبوزرعة العراقي: لا أعرف حاله، وعبد الرحمن بن أبي ذباب لايعرف أخرجه الحميدي: 36، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 443»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. (أبواب الجمع بين الصلاتين)
دونمازوں کو جمع کرنا
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: Q2378]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ الْقَصْرِ فِي السَّفَرِ
سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی مشروعیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2378
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ، الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالظُّهْرِ وَالْعَصْرِ
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں دو نمازوں کو جمع کرلیا کرتے تھے، یعنی مغرب و عشاء کو اور ظہر وعصرکو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2378]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق: 4404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1874»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق: 4404
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2379
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَدَتِ النُّجُومُ وَعَلِقَ النَّاسُ يُنَادُونَهُ: الصَّلَاةَ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَجَعَلَ يَقُولُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَغَضِبَ، قَالَ: أَتُعَلِّمُونِي بِالسُّنَّةِ؟ شَهِدْتُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَوَجَدْتُّ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ فَوَافَقَهُ
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں:ایک دن سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ہمیں عصر کے بعد خطبہ دیا، حتی کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے ظاہر ہونے لگے۔ لوگوں نے یہ آواز لگانا شروع کی کہ نماز پڑھو۔لوگوں میں بنی تمیم کا ایک آدمی بھی موجود تھا، اس نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا کہ نماز، نماز۔سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے اور کہنے لگے: کیا تو مجھے سنت کی تعلیم دے رہا ہے؟ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں اپنے دل میں (شک اور تعجب) محسوس کرنے لگا، اس لیے میں سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملااور ان سے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کیا، انھوں نے بھی اِن کی موافقت کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2379]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2269»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 705
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2380
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں ظہرو عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرلیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2380]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري معلقا: 1108، ووصله من طريق حرب بن شداد: 1110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12435»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري معلقا: 1108
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2381
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ثَنَا مُعَاذُ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا وَذَلِكَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، قُلْتُ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ
سیّدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں نکلے، یہ غزوۂ تبوک کا واقعہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔ راوی کہتا ہے: میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ آپ اپنی امت پر تنگی نہ کریں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2381]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 706، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22347»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 706
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب
سفر میں دو نمازوں کو کسی ایک کے وقت میں جمع کرنے کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: Q2382]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ تَقْدِيمًا وَتَأْخِيرًا
فصل اول:ظہر وعصر اور مغرب و عشاء کو تقدیم و تاخیر کے ساتھ جمع کر کے ادا کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2382
عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، قَالَ: قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: كَانَ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ وَإِذَا لَمْ تَزِغْ لَهُ فِي مَنْزِلِهِ سَارَ حَتَّى إِذَا حَانَتِ الْعَصْرُ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَ الْظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا حَانَتِ الْمَغْرِبُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا لَمْ تَحِنْ فِي مَنْزِلِهِ رَكِبَ حَتَّى إِذَا حَانَتِ الْعِشَاءُ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفر والی نماز کے بارے میں بیان نہ کروں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں پڑاؤ ڈالتے) اگر وہیں سورج ڈھل جاتا تو سوار ہونے سے پہلے ظہر و عصر کو جمع کر لیتے، اگر سورج کے ڈھلنے سے پہلے وہاں سے چل پڑتے تو سفر جاری رکھتے، حتی کہ عصر کا وقت ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترتے اور ظہر و عصر کو اکٹھا ادا کرتے۔ اسی طرح جب مغرب کا وقت (پڑاؤ والے) مقام میں ہی ہو جاتا تو مغرب و عشاء کو جمع کرلیتے اور اگر اس مقام پر مغرب کا وقت نہ ہوتا تو سوار ہو جاتے (اور چلتے رہتے) حتی کہ عشاء کا وقت ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترتے اور دونمازیں جمع کر کے ادا کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2382]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف حسين بن عبد الله أخرجه الترمذي كما في ’’تحفة الاشراف‘‘: 5/ 120، والطبراني: 11522، والبيھقي: 3/ 164، والدارقطني: 1/ 388، وعبد الرزاق: 4405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3480»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں