الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ افْتِرَاضِ صَلَاةِ السَّفَرِ وَحُكْمِهَا
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2355
عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ ان سے سفری نماز کے بارے میں پوچھتے تھے،وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو واپس لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2355]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 2737، وعبد بن حميد: 969، والطحاوي: 1/ 417، والطبراني: 12711، والبيھقي: 3/ 153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2159»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 2356
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ عُمَرَ فَكَانَا لَا يَزِيدَانِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ وَكُنَّا ضُلَّالًا فَهَدَانَا اللَّهُ بِهِ فَبِهِ نَقْتَدِي
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیے، میں نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے دو رکعتوں سے زیادہ نماز پڑھی ہو اور ہم تو گمراہ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے ہمیں ہدایت دی،سو ہم تو ان ہی کی پیروی کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2356]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5698، 5757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5757»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
11. بَابُ مَسَافَةِ الْقَصْرِ وَحُكْمِ مَنْ نَزَلَ بِبَلَدٍ فَنَوَى الْإِقَامَةَ فِيهِ وَإِتْمَامِ الْمُسَافِرِ إِذَا
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان¤وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ¤مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا¤وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ¤کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
حدیث نمبر: 2357
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي السِّمْطِ أَنَّهُ أَتَى أَرْضًا يُقَالُ لَهَا دَوْمِينُ، مِنْ حِمْصَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
جبیر بن نفیر کہتے ہیں: جناب ابو سمط دو مین نامی جگہ پر آئے، جو حمص سے اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے کہا: کیا تو دو رکعت نماز پڑھ رہا ہے؟اس نے کہا: میں نے تو سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذی الحلیفہ دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پھر جب میں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا: میں تو اسی طرح کروں گا جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2357]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 692، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 198»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 692
حدیث نمبر: 2358
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ مِنَ الْمَدِينَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ) لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا (اور ایک روایت میں ہے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں مکہ اور مدینہ کے درمیان کا سفر کیا) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر تھا، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آنے تک دو دو رکعت نماز ادا کرتے رہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2358]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 547، والنسائي: 3/ 117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1852»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 547
حدیث نمبر: 2359
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِمِنَى أَكْثَرَ مَا كَانَ النَّاسُ وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِ
سیّدناحارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں ظہر وعصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، حالانکہ اس وقت لوگوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ تھی اور امن بھی بہت تھا۔ ان احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ قصر کا تعلق دشمن کے خوف یا صرف جہادی سفر سے نہیں ہے، بلکہ ہر سفر میں قصر نماز پڑھی جائے گی، اس میں امن ہو یا خوف۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2359]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1083، 1656، ومسلم: 696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18727، 18731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18934»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1083
حدیث نمبر: 2360
عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں:ہم مکہ میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، میں نے کہا: جب ہم تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور جب اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹتے ہیں تو دو رکعت(قصر نماز) پڑھتے ہیں، سیّدنا عبد اللہ نے کہا: یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2360]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 688، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1862، 1996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1862»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 688
حدیث نمبر: 2361
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا لَمْ تُدْرِكِ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ كَمْ تُصَلِّي فِي الْبَطْحَاءِ قَالَ رَكْعَتَيْنِ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
(دوسری سند) میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: جب تم مسجد میں نماز (باجماعت) نہیں پاتے توبطحاء میں کتنی رکعتیں پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھتا ہوں اور یہی ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2361]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1996»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1996
حدیث نمبر: 2362
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنِّي أَكُونُ بِمَكَّةَ فَكَيْفَ أُصَلِّي؟ فَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
(تیسری سند)میں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے ہوئے کہا:جب میں مکہ میں ہوتا ہوں تو وہاں کیسے نماز پڑھوں؟ انھوں نے جواب دیا: دو رکعتیں اور یہی ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2362]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2632»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2632
حدیث نمبر: 2363
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ أَمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور سیّدناعثمان کے ساتھ چھ سال تک منی میں نماز پڑھی، وہ مسافر والی نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2363]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 694، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4858 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4858»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 694
حدیث نمبر: 2364
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي مَسْجِدِهِ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ آمِنًا لَا يَخَافُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
سیّدنا انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مدینہ میں مسجد نبوی میں ظہر کی نماز کی چار رکعت پڑھائی، اور ذو الحلیفہ کے مقام پر عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی، یہ حجۃ الوداع کا (سفر تھا)،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امن کی حالت میں تھے اور کسی سے نہیں ڈر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2364]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 418، وابن حبان: 2746، وابويعلي: 3634، وأخرجه مسلم مختصرا: 690، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12079، 13488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13522»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 418