الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَسَافَةِ الْقَصْرِ وَحُكْمِ مَنْ نَزَلَ بِبَلَدٍ فَنَوَى الْإِقَامَةَ فِيهِ وَإِتْمَامِ الْمُسَافِرِ إِذَا
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان¤وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ¤مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا¤وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ¤کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
حدیث نمبر: 2365
عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، قَالَ كُنْتُ أَخْرُجُ إِلَى الْكُوفَةِ فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَرْجِعَ، وَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمِيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ شُعْبَةُ الشَّاكُّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
یحی بن یزید ہنائی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ میں کوفہ کی طرف جاتا ہوں اور واپس لوٹنے تک دو دو رکعت نماز پڑھتا ہوں۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت تک نکلتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے، امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2365]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12338»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 691
حدیث نمبر: 2366
عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أُنْطَلِقَ بِنَا إِلَى الشَّامِ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ لِيَفْرِضَ لَنَا، فَلَمَّا رَجَعَ وَكُنَّا بِفَجِّ النَّاقَةِ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ سَلَّمَ وَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ وَقَامَ الْقَوْمُ يُضِيفُونَ إِلَى رَكْعَتَيْهِ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ الْوُجُوهَ، فَوَاللَّهِ مَا أَصَابَتِ السُّنَّةَ وَلَا قَبِلَتِ الرُّخْصَةَ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ أَقْوَامًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ يَمْرُقُونَ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم چالیس انصاری لوگوں کو شام میں عبد الملک کے پاس بھیجا گیا، تاکہ وہ ہمارے لیے کچھ مقرر کرے۔ جب وہ (انس رضی اللہ عنہ) لوٹے اور ہم فَجُّ النَّاقَۃِ مقام تک پہنچے، تو انھوں نے ہمیں عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیرکر اپنے خیمے میں چلے گئے۔لیکن ہوا یوں کہ وہ (مقتدی) کھڑے ہو گئے اور ان دو رکعتوں کے ساتھ مزید دو رکعتیں پڑھنے لگے، اس پر سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ان چہروں کا برا کرے، اللہ کی قسم! انہوں نے سنت کو نہیں پایا اور نہ رخصت کو قبول کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک کچھ قومیں دین میں مبالغہ اور تشدد کی حد تک گھسیں گی، لیکن پھر دین سے یوں نکل جائیں گی، جیسے شکار سے تیر نکل جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2366]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه سعيد بن منصور في ’’سننه‘‘: 2905، والضيائ: 1894 وابن عساكر في ’’تاريخ دمشق‘‘: 5/ ورقة 180، وأخرج القسم المر فوع منه البزار: 1853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12642»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه سعيد بن منصور في ’’سننه‘‘: 2905
حدیث نمبر: 2367
عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا، فَسَأَلْتُهُ: هَلْ أَقَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرًا
یحی بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹنے تک ہمیں دو دو رکعت نماز پڑھاتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں قیام بھی کیا تھا؟انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں دس دن قیام کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2367]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2049، 2293، 3781، ومسلم: 1427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13006»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2049
حدیث نمبر: 2368
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ أَمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّ
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے منی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے ابتدائی دور میں دو دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہاں سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ پوری پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2368]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1082، ومسلم: 694، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5178»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1082
حدیث نمبر: 2369
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ (وَفِي لَفْظٍ) الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ
سیّدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابطح مقام پر عصر کی یا ظہر وعصر دونوں کی دو دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2369]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 495، 499، ومسلم: 503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18743، 18747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18954»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 495
حدیث نمبر: 2370
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي (بْنَ أَبِي سُفْيَانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَاجًّا قَدِمْنَا مَعَهُ مَكَّةَ، قَالَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى دَارِ النَّدْوَةِ، قَالَ: وَكَانَ عُثْمَانُ حِينَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا، فَإِذَا خَرَجَ إِلَى مِنَى وَعَرَفَاتٍ قَصَرَ الصَّلَاةَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَجِّ وَأَقَامَ بِمِنَى أَتَمَّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ مَكَّةَ، فَلَمَّا صَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ (يَعْنِي مُعَاوِيَةَ) نَهَضَ إِلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَقَالَا لَهُ: مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّكَ بِأَقْبَحِ مَا عِبْتَهُ بِهِ، فَقَالَ لَهُمَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَا: فَقَالَا لَهُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُمَا: وَيْحَكُمَا، وَهَلْ كَانَ غَيْرَ مَا صَنَعْتُ؟ قَدْ صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَا: فَإِنَّ ابْنَ عَمِّكَ قَدْ كَانَ أَتَمَّهَا، وَإِنَّ خِلَافَكَ إِيَّاهُ لَهُ عَيْبٌ، قَالَ فَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْعَصْرِ فَصَلَّاهَا بِنَا أَرْبَعًا
عباد کہتے ہیں: سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لیے آئے تو ہم بھی ان کے ساتھ مکہ میں آئے، انھوں نے ہمیں نماز ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر دار الندوہ میں چلے گئے۔ جب سیّدناعثمان رضی اللہ عنہ مکہ میں آتے تو ظہر، عصر اور عشاء کی چار چار رکعتیں پڑھاتے تھے، لیکن جب وہ منی اور عرفات میں جاتے تو قصر نماز پڑھتے، پھر جب حج سے فارغ ہو جاتے اور منی میں اقامت اختیار کرتے تو پوری نماز پڑھتے تھے، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے چلے جاتے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو رکعت نماز ظہر پڑھائی تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان ان کے پاس گئے اور کہا: تو نے اپنے چچا زاد (سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ) پر قبیح ترین عیب لگایا ہے۔ انھوں نے پوچھا: وہ کیا؟ ان دونوں نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ وہ مکہ میں پوری نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، جو عمل میں نے کیا ہے، کیا اس کی کوئی اور صورت بھی ہے؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہا کے ساتھ یہی نماز پڑھی ہے۔ لیکن ان دونوں نے پھر کہا: تیرے چچا زاد نے تو پوری پڑھی ہے اور یہ ان پر عیب ہے کہ تو ان کی مخالفت کرے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عصر کے لیے آئے تو چار رکعتیں پڑھائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2370]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16857 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16982»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 765
12. بَابُ مُدَّةِ الْقَصْرِ وَمَتَى يُتِمُّ الْمُسَافِرُ وَحُكْمِ مَنْ لَمْ يَجْمَعْ إِقَامَةً
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا¤اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
حدیث نمبر: 2371
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ تِسْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَ عَشْرَةَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سفر کیا اور (اس کے دوران مکہ میں) انیس دن قیام کیا، اور دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی سفر میں انیس دن ٹھہرتے ہیں تو دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، لیکن جب اس سے زیادہ دنوں تک ٹھہرتے ہیں تو چار چار رکعتیں ادا کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2371]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4298، 4299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1958»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4298
حدیث نمبر: 2372
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَمَّا فَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أَقَامَ فِيهَا سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو وہاں سترہ دن قیام کیا اور دو دو رکعت نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2372]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، شريك بن عبد الله النخعي وانظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2758»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2373
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام کیا اور اس دوران قصر نماز پڑھتے رہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2373]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14186»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1235
حدیث نمبر: 2374
عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: مَا صَلَاةُ الْمُسَافِرِ؟ فَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كُنَّا بِذِي الْمَجَازِ؟ قَالَ: وَمَا ذُو الْمَجَازِ؟ قُلْتُ: مَكَانٌ نَجْتَمِعُ فِيهِ وَنَبِيعُ فِيهِ وَنَمْكُثُ عِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، قَالَ: يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ كُنْتُ بِأَذْرَبِيجَانَ، لَا أَدْرِي قَالَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ، فَرَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُصْبَ عَيْنَيَّ يُصَلِّيها رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَزَعَ هَٰذِهِ الْآيَةَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ
ثمامہ بن شراحیل کہتے ہیں:میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا:مسافر کی نماز کا کیا مسئلہ ہے؟ انھوں نے کہا: دو دو رکعتیں ہے، سوائے نماز مغرب کے، وہ تین رکعت ہے۔ میں نے کہا:آپ کا کیا خیال ہے، اگر ہم ذی المجاز میں ہوں تو؟ انھوں نے کہا: ذوالمجاز کیا ہے؟ میں نے کہا:وہ ایک جگہ کا نام ہے، ہم اس میں جمع ہوتے ہیں اورخرید و فروخت کرتے ہیں اور وہاں پندرہ یا بیس راتیں ٹھہرتے ہیں۔ انہوں نے کہا:ارے!، میں آذربیجان میں چار یا دو ماہ تک ٹھہرا رہا، میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ وہاں دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ پھر سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} تلاوت کی یعنی: یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے۔ حتیٰ کہ آیت سے فارغ ہوگئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2374]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5552»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن