الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِهَا
اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 2450
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جَزْءًا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے اکیلے کی نماز سے پچیس حصے زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2450]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 649، وانظر الحديث: 1289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10310»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 649
حدیث نمبر: 2451
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وَضُوءَهُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا أَعْطَاهُ اللَّهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا أَوْ حَضَرَهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح مکمل وضو کیا، پھر وہ مسجد گیا، لیکن اس نے دیکھا کہ لوگ تو نماز پڑھ چکے ہیں، اللہ اس کو اتنا اجر عطا کرے گا، جتنا کہ ان لوگوں کو دیا جو اس نماز میں حاضر ہوئے، جبکہ ان کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2451]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8934»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 564
2. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي حُضُورِ الْجَمَاعَةِ فِي الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ
فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 2452
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَهُوَ كَمَنْ قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَهُوَ كَمَنْ قَامَ اللَّيْلَ كُلَّهُ) )
سیّدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی، پس وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز باجماعت پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے، جس نے ساری رات قیام کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2452]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 408، 409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 409»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 656
حدیث نمبر: 2453
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَوْ أَنَّ النَّاسَ يَعْلَمُونَ مَا فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں کتنا (اجر و ثواب) ہے، تو وہ ان کو ادا کرنے کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2453]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 796، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 386، وابن ابي شيبة: 1/ 332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25011»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 796
حدیث نمبر: 2454
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَالَ: ( (شَاهِدٌ فُلَانٌ؟) ) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ( (شَاهِدٌ فُلَانٌ؟) ) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ( (شَاهِدٌ فُلَانٌ؟) ) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ( (إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَالصَّفُّ الْمُقَدَّمُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ رَجُلٍ، وَمَا كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى) )
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: فلاں آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ دو (عشا اور فجر کی) نمازیں منافقین پر بڑی بوجھل ہیں، اگر وہ جان لیں ان دونوں کا اجر کیاہے تو وہ ان کی ادائیگی کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے اور اگر تم اس کی فضیلت کو جان لو تو تم ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو اور آدمی کی دو افراد کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ (یعنی زیادہ ثواب والی) ہے، اسی طرح جتنے آدمی زیادہ ہوں گے، وہ نماز اتنی زیادہ اللہ کو محبوب ہو گی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2454]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 554، والنسائي: 2/ 104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21587»
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 554
حدیث نمبر: 2455
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ( (شَاهِدٌ فُلَانٌ؟) ) فَسَكَتَ الْقَوْمُ، قَالُوا نَعَمْ، وَلَمْ يَحْضُرْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ (فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) إِنَّ صَلَاتَكَ مَعَ رَجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ مَعَ رَجُلٍ، وَصَلَاتُكَ مَعَ رَجُلٍ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ وَحْدَكَ، وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى) )
(دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: فلاں شخص موجود ہے؟ لوگ خاموش رہے، پھر بعض نے کہا: جی ہاں، وہ حاضر نہیں ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر فجر اور عشاء سب سے بھاری نمازیں ہیں، (پھر سابقہ روایت کی طرح باتیں ذکر کیں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تیری دو آدمیوں کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ ادا کی ہوئی نمازسے زیادہ پاکیزہ ہے اور تیری ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلی ادا کی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور جتنے لوگ زیادہ ہوں گے، تو وہ اتنا ہی اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2455]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21588»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21588
حدیث نمبر: 2456
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ رَأَى مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ قِلَّةً، فَقَالَ: ( (شَاهِدٌ فُلَانٌ؟) ) قُلْنَا: نَعَمْ، حَتَّى عَدَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ، فَقَالَ: ( (إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ صَلَاةٍ أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَمِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ) ) ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
(تیسری سند)انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ نمازیوں میں کچھ کمی ہے، پھر پوچھا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین آدمیوں کے متعلق پوچھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر عشاء اور فجر کی نماز سے کوئی نماز زیادہ بھاری نہیں ہے۔ (پھر اوپر والی پوری حدیث ذکر کی)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2456]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21595»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21595
حدیث نمبر: 2457
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَوْ يَعْلَمُ الْمُتَخَلِّفُونَ عَنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الْغَدَاةِ مَا لَهُمْ فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا) )
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر فجر اور عشاء کی نمازوں سے پیچھے رہنے والے جان لیں کہ ان کے لیے ان دونوں میں کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ مسجد میں ضرور آئیں اگر چہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2457]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12561»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12561
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْكِيدِهَا وَالْحَثِّ عَلَيْهَا
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
حدیث نمبر: 2458
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْزِلِي شَاسِعٌ وَأَنَا مَكْفُوفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ، قَالَ: ( (فَإِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا:اے اللہ کے رسول! میرا گھر مسجد سے دور ہے، جبکہ میں نابینا بھی ہوں اور اذان بھی سنتاہوں (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اذان سنتا ہے تو اس کا جواب دیا کر، اگرچہ تجھے سرین کے بل گھسٹ کر یا کولہوں کے بل سرک کر آنا پڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2458]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عيسي بن جارية، قال ابن معين: ليس بذاك عنده مناكير، وقال ابوداود: منكر الحديث أخرجه عبد بن حميد: 1148، وابويعلي: 1803، وابن حبان: 2063، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3738۔ وقد روي ھذا الحديث عن ابن ام مكتوم نفسه، سيأتي برقم: 1302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15011»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2459
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنْتُ ضَرِيرًا شَاسِعَ الدَّارِ وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي فَهَلْ تَجِدُ لِي رُخْصَةً أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: ( (أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ؟) ) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ( (مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً) )
سیّدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نابینا ہوں اور میرا گھر بھی مسجد سے دور ہے اور میرا ایک قائد تو ہے لیکن وہ میری موافقت نہیں کرتا تو کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تب میں تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2459]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد منقطع، ابو رزين مسعود بن مالك لم يسمع من ابن ام مكتوم أخرجه ابوداود: 552، وابن ماجه: 792، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15571»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره