🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ الْإِذْنِ لَهُنَّ بِالْخُرُوجِ لِذَلِكَ
عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2489
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو او ر عورتوں کو چاہیے کہ وہ خوشبو استعمال کیے بغیر مسجد میں جایا کریں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2489]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10149»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 565
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2490
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیّدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2490]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 2211، والبزار في ’’مسنده‘‘: 2772، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 5239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21674 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22014»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 2211
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2491
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَذِنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ تَفِلَاتٍ) ) ، لَيْثٌ الَّذِي ذَكَرَ: ( (تَفِلَاتٍ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کو رات کے وقت (مسجد میں جانے کی) اجازت دے دیا کرو، اس حال میں کہ انھوں نے خوشبو استعمال نہ کی ہوئی ہو۔ صرف لیث راوی نے تَفِلَات کے الفاظ کا ذکر کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2491]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 1892، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 13565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5725»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 1892
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2492
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلٌ أَهْلَهُ أَنْ يَّأْتُوا الْمَسَاجِدَ) ) ، فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: فَإِنَّا نَمْنَعُهُنَّ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَٰذَا، فَمَا كَلَّمَهُ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى مَاتَ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے گھر والوں کو مسجدوں میں آنے سے ہر گز نہ روکے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے نے کہا: ہم تو ان کو روکیں گے۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو (ان کو منع کرنے کی) بات کرتاہے۔ اس کے بعد سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات تک اُس بیٹے سے کلام نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2492]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ انظر الحديث: 1327، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4933»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ انظر الحديث: 1327
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2493
(وَعَنْ مُجَاهِدٍ أَيْضًا) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمْ الْمَسَاجِدَ بِاللَّيْلِ) ) ، فَقَالَ سَالِمٌ أَوْ بَعْضُ بَنِيهِ: وَاللَّهِ! لَا نَدَعُهُنَّ يَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا، قَالَ: فَلَطَمَ صَدْرَهُ وَقَالَ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَٰذَا
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں میں جانے سے نہ روکا کرو۔ سالم یا کسی اور بیٹے نے آگے سے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان کو نہیں جانے دیں گے، کیونکہ یہ تو اس کو دھوکے کا ذریعہ بنا لیں گی۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر تھپڑ مارا اور کہا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو یہ کہتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2493]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1331، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5021»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 1331
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2494
عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمْ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ) ) ، قَالَ: فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: بَلَى وَاللَّهِ! لَنَمْنَعُهُنَّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَسْمَعُنِي أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ مَا تَقُولُ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے نہ روکا کرو، بہرحال ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمرکے کسی بیٹے نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم! ہم ان کو ضرور روکیں گے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: تو سن رہا ہے کہ میں رسول اللہ کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو یہ بول بولتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2494]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا سند ضعيف، انظر الحديث السابق: 1332، أما قوله: ((وبيوتھن خير لھن)) له شاھد من حديث ابن مسعود أخرجه ابوداود: 570، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5468 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5468»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2495
عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ) ) ، فَقَالَ بِلَالٌ: وَاللَّهِ! لَنَمْنَعُهُنَّ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ: لَنَمْنَعُهُنَّ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورتیں تم سے اجازت مانگیں تو ان کے حق کو مساجد سے نہ روکو۔ بلال بن عبد اللہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم تو ان کو ضرور روکیں گے۔ سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کہہ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح فرمایاہے اور تو یہ بات کہتا ہے کہ ہم ان کو روکیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2495]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم انظر الحديث السابق: 1333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5640»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم انظر الحديث السابق: 1333
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2496
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ) قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلًا غَيُّورًا، فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّبَعَتْهُ عَاتِكَةُ بِنْتُ زَيْدٍ فَكَانَ يَكْرَهُ خُرُوجَهَا وَيَكْرَهُ مَنْعَهَا، وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا اسْتَأْذَنَتْكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا تَمْنَعُوهُنَّ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ بڑے غیرت مند آدمی تھے، جب وہ نماز کے لیے نکلتے تو (ان کی بیوی) سیدہ عاتکہ بنت زید رضی اللہ عنہا بھی ان کے پیچھے چلی جاتیں، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کے نکلنے کو نا پسند بھی کرتے، لیکن اس کو روکنا بھی ان کو گوارا نہ تھا، پھر وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہاری عورتیں تم سے مسجد میں جانے کے لیے اجازت مانگیں تو ان کو نہ روکا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2496]
تخریج الحدیث: «صحيح، الا ان سالم بن عبد الله لم يدرك جده ولم يسمع منه، لكن في الباب احاديث صحيحة ثابتة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 283»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2497
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمْ امْرَأَتُهُ أَنْ تَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَلَا يَمْنَعْهَا) ) ، قَالَ: وَكَانَتْ امْرَأَةُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهَا: إِنَّكِ لَتَعْلَمِينَ مَا أُحِبُّ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ! لَا أَنْتَهِي حَتَّى تَنْهَانِي، قَالَ: فَطُعِنَ عُمَرُ وَإِنَّهَا لَفِي الْمَسْجِدِ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی اس سے مسجد میں جانے کے لیے اجازت مانگے، تو وہ اس کو نہ روکے۔ سیّدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی بھی مسجد میں نماز پڑھتی تھی، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا: تو جانتی تو ہے کہ میں کیا پسند کرتا ہوں۔ لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گی، جب تک آپ مجھے منع نہیں کر دیتے۔ پھر جب سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خنجر مارا گیا تو ان کی بیوی مسجد میں ہی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2497]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه البخاري: 873 دون قصة امرأة عمر، وأخرج بنحوه مسلم: 442، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4522»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه البخاري: 873 دون قصة امرأة عمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَنْعِهِنَّ مِنَ الْخُرُوجِ إِذَا خَشِيَ مِنْهُ الْفِتَنَ وَفَضْلِ صَلَاتِهِنَّ فِي بُيُوتِهِنَّ
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان¤اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2498
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ حُمَيْدٍ امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ، قَالَ: ( (قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تُحِبِّينَ الصَّلَاةَ مَعِي، وَصَلَاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي حُجْرَتِكَ، وَصَلَاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي دَارِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِي) ) ، قَالَ: فَأَمَرَتْ، فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ بَيْتِهَا وَأَظْلَمِهِ فَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
سیّدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ ام حمید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول!بے شک میں آپ کے ساتھ نمازپڑھنا پسند کرتی ہوں۔ آپ نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تو میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہے، لیکن تیرا (اپنی مخصوص) اقامت گاہ میں نماز پڑھنا (عام) کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (عام) کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور گھر کے صحن میں نماز پڑھنا اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا میری اس مسجد ِ (نبوی) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ پھر اس عورت نے حکم دیا اور گھر کے ایک دور والے کونے اور اندھیرے والی جگہ میں ایک مسجد بنائی گئی، وہ اسی میں نماز پڑھتی تھی، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2498]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن حبان: 2217، وابن خزيمة: 1689، وابن ابي شيبة: 2/ 384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27630»

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابن حبان: 2217
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں