🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. بَابُ فِي مَوْقِفِ الِاثْنَيْنِ مِنَ الْإِمَامِ
امام کے ساتھ دو آدمیوں کے کھڑا ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2626
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ حَرَامٍ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے گھر میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2626]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13019، 13118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13149»
وضاحت: فوائد: … اِن روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ دو مقتدی امام کے پیچھے کھڑے ہو ں گے، البتہ عورت اکیلی صف میں کھڑی ہو گی وہ مردوں کی صف میں ساتھ برابر نہیں کھڑی ہو سکتی خواہ صف میں چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 660
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ مَوْقِفِ الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کے کھڑے ہونے کے مقام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2627
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنَمٍ قَالَ: قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِقَوْمِهِ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ الرِّجَالَ ثُمَّ صَفَّ الْوِلْدَانَ ثُمَّ صَفَّ النِّسَاءَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ
سیّدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انھوں نے مردوں کی صف بنائی، اس کے بعد بچوں کی اور بچوں کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2627]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22896 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23284»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3436
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2628
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ كَانَ عِنْدَنَا فِي الْبَيْتِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فِي بَيْتِنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِهِمْ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور یتیم، جو ہمارے گھر میں رہتا تھا، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر آئے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2628]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 727، ومسلم: 658، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:12081، 12340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12105»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 727
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2629
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَكُمْ) ) ، قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا، قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری دادی سیدہ ملیکہ رضی اللہ عنہا نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے لیے گھر میں بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھانے کے بعد فرمایا: اٹھو، میں تم کو نماز پڑھا تا ہوں۔ میں ایک چٹائی لانے کے لیے اٹھا، جو لمبے عرصہ تک استعمال کیے جانے کی وجہ سے سیاہ ہو گئی تھی، اس لیے میں نے اس پر پانی کے چھینٹے مارے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں اور یتیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2629]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1446 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12535»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 1446 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12535
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2630
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا، قَالَ: فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا قَالَ ثَابِتٌ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْنَا عَلَى بِسَاطٍ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نفلی نماز پڑھائی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، ہم نے ایک چٹائی پر نماز پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2630]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12626، 13019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12653»
وضاحت: فوائد: … صف بندی کے معاملے میں یہ تو واضح ہے کہ امام کے ساتھ پہلی صفوں میں مرد حضرات کھڑے ہوں اور ان میں عقلمند اور سمجھدار لوگ امام کے قریب کھڑے ہوں اور عورتیں پچھلی صفوں میں کھڑی ہوں۔ بچوں کا محل کیا ہے؟ کسی صحیح حدیث میں اس کا تعین نہیں کیا گیا، ظاہر تو یہی ہے کہ جو بچے سن تمیز تک پہنچ چکے ہوں تو اس معاملے میں ان کو مردوں کا ہی حکم دیا جائے گا، بلکہ ان میں سے قرآن کا زیادہ حصہ یاد کرنے والوں کو مردوں کا امام بھی بنایا جائے گا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بچہ ہوتا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام مرد کی طرح اپنی دائیں جانب کھڑا کرتے تھے اور بچوں

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 660
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ وَقُوفِ الْإِمَامِ أَعْلَامِنَ الْمَأْمُومِ وَبِالْعَكْسِ
امام کا مقتدیوں سے اونچا کھڑا ہونے اور اس کے برعکس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2631
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَوَّلَ يَوْمٍ وَضِعَ فَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهِ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا فَعَلْتُ هَٰذَا لِتُؤْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي) ) ، فَقِيلَ لِسَهْلٍ: هَلْ كَانَ مِنْ شَأْنِ الْجِذْعِ مَا يَقُولُ النَّاسُ؟ قَالَ: قَدْ كَانَ مِنْهُ الَّذِي كَانَ
سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جس دن منبر بنایا گیا تھا، اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کہا، پھر رکوع کیا، پھر الٹے پاؤں نیچے اتر آئے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے، پھر نیچے لوٹ آئے، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو گئے اور فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے تا کہ تم میری اقتداء کرواور میری نماز کا طریقہ سیکھ لو۔ کسی نے سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: وہ تنے کا کیا معاملہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں بعض باتیں کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی، اس کے بارے میں جو بیان کیا جاتا، وہ واقعی ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2631]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 448، 2094، ومسلم: 544، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23259»
وضاحت: فوائد: … ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں لوگوں کو نماز پڑھائی، جبکہ وہ ایک دکان پر کھڑے تھے، سیّدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کی قمیص سے پکڑ کر (نیچے) کھینچا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انھوں نے کہا: کیا تو جانتا نہیں ہے کہ لوگوں کو ایسی صورت سے منع کیا جاتا تھا؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، جب آپ نے مجھے کھینچا تھا تو مجھے یہ چیز یاد آ گئی تھی۔ (ابوداود: ۵۹۷)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 448
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ وُقُوفِ أُولِي الْأَحْلَامِ وَالنَّهْيِ قَرِيبًا مِنَ الْإِمَامِ
عقلمند اور سمجھدار لوگوں کا امام کے قریب کھڑے ہونے کی مشروعیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2632
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لِيَلِينِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَإِيَّاكُمْ وَهَوْشَاتِ الْأَسْوَاقِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضرور ضرور میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو (عقل و فہم میں) اُن کے قریب ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو (دوسرے مرتبے کے) لوگوں کے قریب ہوں، اور(صفیں بنانے میں) ایک دوسرے سے اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے مخالف ہوجائیں گے، اوربازاروں کے اختلاط اور فتنوں سے بچا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2632]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 432، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4373 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4373»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 432
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2633
عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: ( (اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، لِيَلِينِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ) ) ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: فَأَنْتُمْ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا
سیّدنا ابومسعودانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے (صف بناتے وقت) ہمارے کندھوں کوچھوتے اور فرماتے: برابر ہو جاؤ اور مختلف ہو کر کھڑے نہ ہو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے سے مختلف ہوجائیں گے، تم میں سے عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضرور ضرور میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو (عقل و فہم میں) اُن کے قریب ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو (دوسرے مرتبے کے) لوگوں کے قریب ہوں۔ سیّدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: (لوگو!) آج تم اسی وجہ سے بہت زیادہ اختلاف کا شکار ہوگئے ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2633]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 432، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17231»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 432
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2634
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيهِ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ لِيَأْخُذُوا عَنْهُ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ مہاجر اور انصار نماز میں آپ کے قریب کھڑے ہوں تاکہ وہ آپ سے (علم و عمل) حاصل کر سکیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2634]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن ماجه: 977،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11963، 13064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13095»
وضاحت: فوائد: … مہاجرین و انصار بقیہ صحابہ کی بہ نسبت قدیم الاسلام اور قوی الایمان تھے اور ان صفات کی بنا پر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف احوال کو زیادہ یاد کرنے والے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن ماجه: 977
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2635
عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِلِقَاءِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَلْقَاهُ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أُبَيٍّ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَخَرَجَ عُمَرُ مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَنَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَعَرَفَهُمْ غَيْرِي فَنَحَّانِي وَقَامَ فِي مَكَانِي، فَمَا عَقَلْتُ صَلَاتِي، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: يَا بُنَيَّ! لَا يَسُوءُكَ اللَّهُ، فَإِنِّي لَمْ آتِكَ الَّذِي أَتَيْتُكَ بِجَهَالَةٍ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: ( (كُونُوا فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِينِي) ) ، وَإِنِّي نَظَرْتُ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَعَرَفْتُهُمْ غَيْرَكَ، ثُمَّ حَدَّثَ فَمَا رَأَيْتُ الرِّجَالَ مَتَحَتُّوا أَعْنَاقَهُمْ إِلَى شَيْءٍ مُتَوَحِّشَةً إِلَيْهِ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: هَلَكَ أَهْلُ الْعُقْدَةِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ! أَلَا لَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ يَهْلِكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِذَا هُوَ أُبَيٌّ، وَالْحَدِيثُ عَلَى لَفْظِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ
قیس بن عباد کہتے ہیں: میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو ملنے کے لیے مدینہ آیا، میں جن آدمیوں کو ملنا چاہتا تھا، ان میں مجھے سب سے زیادہ محبوب سیّدنا اُبی رضی اللہ عنہ تھے۔ نماز کے لیے اقامت کہی گئی اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ دوسرے صحابہ کے ساتھ باہر تشریف لائے۔ میں پہلی صف میں کھڑا تھا، ایک آدمی آیا، اس نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈالی اور میرے علاوہ سب کو پہچان لیا، اس نے مجھے پیچھے ہٹا دیا اور خود میری جگہ پر کھڑا ہوگیا، میں(غصے کی وجہ سے) اپنی نماز کو نہ سمجھ سکا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو اس نے مجھے کہا: میرے پیارے بیٹے! اللہ تجھے برا نہ کرے۔ میں نے تیرے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ جہالت کی وجہ سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا: ا س صف میں کھڑے ہوا کرو جو میرے قریب ہے۔ میں نے لوگوں کے چہرے دیکھے، میں تیرے علاوہ ان سب کو پہچانتا تھا، (اس لیے تجھے پیچھے کر دیا)۔ پھر وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے لگے، میں نے لوگوں کو جس انداز میں ان کی بات کی طرف گردنیں لمبی کرتے ہوئے دیکھا، پہلے یہ انداز نہیں دیکھا تھا، انھوں نے اپنے وعظ میں یہ بھی کہا تھا: ربّ ِ کعبہ کی قسم! بیعت لینے والے (امراء) ہلاک ہو گئے ہیں، خبردار! میں ان پر افسوس نہیں کر رہا، مجھے افسوس ان مسلمانوں پر ہے، جو (اُن کی وجہ سے) ہلاک ہوں گے۔“ (اچانک مجھے پتا چلا کہ) یہ سیّدنا اُبی رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ یہ حدیث سلیمان بن داود کے الفاظ کے مطابق بیان کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2635]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 88، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21585»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ سمجھدار اور عقلمند لوگ امام کے قریب کھڑے ہوں، تاکہ ضرورت کے وقت دورانِ نماز اس کے نائب بنیں، امام کے بھول جانے کی صورت میں اسے لقمہ دیں، اچھے انداز میں امام کی اقتداء کریں اور اس کی نماز کی کیفیت کو ضبط کر کے لوگوں کو اس کی تعلیم دیں۔ عصر حاضر میں اس حکم نبوی کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا اور لوگ ایک روایتی روٹین کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 88
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں