🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّهَا رَكْعَتَانِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ أَرْبَعُ رُكُوعَاتٍ
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ نمازِ کسوف دورکعت ہے اور ہر رکعت میں چار رکوع ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2915
عَنْ رَجُلٍ يُدْعَى حَنَشًا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ فَقَرَأَ يَسٓ أَوْ نَحْوَهَا، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ السُّورَةِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ أَيْضًا، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ أَيْضًا قَدْرَ السُّورَةِ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا حَتَّى صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيُرَغِّبُ حَتَّى انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ فَعَلَ
حنش نامی آدمی کہتا ہے: سورج کو گرہن لگ گیا، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے سورۂ یس یا اس جیسی کسی اور سورت کی تلاوت کی، پھراس سورت کے بقدر رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا،: پھر ایک سورت کی مقدار جتنا قیام کیا اور مزید دعا کی اور اللہ کی بڑائی بیان کی، پھر قراءت کی مقدار کے برابر رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا اور پھر ایک سورت کے بقدر قیام کیا، اور پھر اسی مقدار کے مطابق رکوع کیا، بہرحال چار رکوع پورے کیے، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا،اس کے بعد سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح اس کو ادا کیا، (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) بیٹھ گئے اور دعا کرنے لگے، اور (لوگوں کو) رغبت دلانے لگے، حتیٰ کہ سورج صاف ہوگیا، پھر لوگوں کو بیان کیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2915]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حنش بن المعتمر، الأكثرون علي تضعيفه أخرجه البيھقي: 3/ 330، وابن خزيمة: 1388، 1394، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1216»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2916
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج کے گرہن کے وقت آٹھ رکوع اور چار سجدے کیے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2916]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 908۔ وقد روي غير واحد عن ابن عباسC ٔنھا أربع ركعات وأربع سجدات۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1975»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 908۔ وقد روي غير واحد عن ابن عباسC ٔنھا أربع ركعات وأربع سجدات۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّهَا رَكْعَتَانِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ خَمْسَةُ رُكُوعَاتٍ
اس شخص کا بیان جو یہ روایت بیان کرتا ہے کہ یہ نماز دو رکعت ہے اور ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2917
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنَ الطُّوَلِ ثُمَّ رَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنَ الطُّوَلِ ثُمَّ رَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى انْجَلَى كُسُوفُهَا
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور طُوَل سورتوں میں سے ایک سورت کی تلاوت اور (پہلی رکعت میں) پانچ رکوع اور دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور طُوَل سورتوں میں سے ہی ایک سورت پڑھی، پھر پانچ رکوع کیے اور دو سجدے کیے، پھر قبلہ رخ ہو کر ہی بیٹھ کر دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ اس کا گرہن صاف ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2917]
تخریج الحدیث: «حديث منكر كما قال الذھبي، وھذا اسناد ضعيف، أبو جعفر عيسي بن عبد الله بن ماھان الرازي سييء الحفظ أخرجه ابوداود: 1182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21545»

الحكم على الحديث:
حديث منكر كما قال الذھبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي طُولِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ وَحُضُورِ النِّسَاءِ جَمَاعَتِهَا بِالْمَسْجِدِ
نماز کسوف کی طوالت اور اس نماز کے لیے عورتوں کی مسجد میں جماعت کے لیے حاضری کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2918
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: فَزِعَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا، يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَلَوْ جَاءَ إِنْسَانٌ بَعْدَ مَا رَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُ رَكَعَ، مَا حَدَّثَ نَفْسَهُ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَكْبَرُ مِنِّي، وَإِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي قَائِمَةً وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلَى طُولِ الْقِيَامِ مِنْهَا
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جس دن سورج کو گرہن لگا، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرا گئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جلدی میں کسی بیوی کی) قمیص پکڑ لی (اور مسجد کی طرف نکل پڑے، پیچھے سے)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی چادر پہنچا دی گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو لمبا قیام کروایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، اگر کوئی انسان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رکوع کرنے کے بعد آجاتا تو وہ یہ نہ جان سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کرلیا ہے، لمبے قیام کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو اس بات کا قائل نہ کر سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کر لیا ہے۔ سیدہ اسماء کہتی ہیں: پس میں اس عورت کی طرف دیکھتی جو مجھ سے بڑی تھی، پھر اس عورت کی طرف دیکھتی جو مجھ سے کمزور تھی، پھر میں اپنے آپ سے کہتی کہ میں زیادہ حقدار ہوں کہ لمبے قیام پر صبر کروں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2918]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 86، 1235، 1373، مسلم: 905، 906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26925، 26954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27508»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 86
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ فِي الْخُطْبَةِ بَعْدَ صَلَاةِ كُسُوفِ الشَّمْسِ
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2919
عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَةً إِلَى جَنْبِي، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ( (أَمَّا بَعْدُ، مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَٰذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ إِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ قَرِيبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ"لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ" يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَٰذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ، هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنْ كُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِهِ فَنَمْ صَالِحًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ مَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ) )
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، پس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر داخل ہوئی(وہ بھی اسی نماز میں شریک تھیں)، میں نے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ انھوں نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: یہ کوئی (عذاب کی) نشانی ہے؟ انہوں نے (اشارے سے)کہا:ہاں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت لمبا قیام کیا، حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، اس لیے میں نے اپنے پہلو میں پڑا ہوا ایک مشکیزہ پکڑ لیا اور اپنے سر پر پانی بہانے لگی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: حمد و ثناء کے بعد! کوئی چیزنہیں، جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی، مگر وہ اس مقام میں دیکھ لی ہے، میں نے جنت اور آگ کو بھی دیکھا ہے۔ بے شک میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ تم کو عنقریب قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی طرح آزمایا جائے گا، تم میں سے ہر ایک کے پاس (قبر میں) آیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا: تو اس آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ پس ایمان یا یقین رکھنے والا کہے گا: وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے پاس روشن دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے، پس ہم نے قبول کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی، تین مرتبہ یہ بات کہے گا۔ پس اس کو کہا جائے گا: تحقیق ہم جانتے تھے کہ بے شک تو ان کے ساتھ ایمان رکھتا ہے، پس تو اچھی حالت میں سو جا۔ رہا مسئلہ نفاق یا شک والے آدمی کا تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں سے کچھ کہتے ہوئے سناتھا، بس میں نے بھی وہ کہہ دیا تھا، (لیکن اب تو میں کچھ نہیں جانتا)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2919]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 86، 1235، 1373، مسلم: 905، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27464»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 86
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2920
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سورج کو گرہن لگا، اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: أَمَّا بَعْدُ (حمد و ثناء کے بعد)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2920]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لجھالة ثعلبة بن عباد أخرجه النسائي: 3/ 152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20442»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2921
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُ رَجَّةَ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ آيَةً (فَذَكَرَتْ نَحْوَا الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِيهِ) فَصَلَّيْتُ مَعَهُمْ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَغَ مِنْ سَجْدَتِهِ الْأُولَى قَالَتْ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِيَامًا طَوِيلًا حَتَّى رَأَيْتُ بَعْضَ مَنْ يُصَلِّي يَنْتَضِحُ بِالْمَاءِ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ قَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: ( (أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ وَإِلَى الصَّدَقَةِ وَإِلَى ذِكْرِ اللَّهِ، أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ شَيْءٌ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَٰذَا، وَقَدْ أُرِيتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ، يُسْأَلُ أَحَدُكُمْ مَا كُنْتَ تَقُولُ وَمَا كُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَإِنْ قَالَ: لَا أَدْرِي، رَأَيْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ وَيَصْنَعُونَ شَيْئًا فَصَنَعْتُهُ، قِيلَ لَهُ أَجَلْ، عَلَى الشَّكِّ عِشْتَ وَعَلَيْهِ مُتَّ هَٰذَا مَقْعَدُكَ مِنَ النَّارِ، وَإِنْ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قِيلَ: عَلَى الْيَقِينِ عِشْتَ وَعَلَيْهِ مُتَّ، هَٰذَا مَقْعَدُكَ مِنَ الْجَنَّةِ، وَقَدْ رَأَيْتُ خَمْسِينَ أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي مِثْلِ سُورَةِ القَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ) ) ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَنْزِلَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ) ) ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي؟ قَالَ: ( (أَبُوكَ فُلَانٌ) ) الَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا، میں نے لوگوں کی ملی جلی آوازیں سنیں، وہ کہہ رہے تھے: نشانی، نشانی۔(پھر گزشتہ حدیث کی طرح اس نے حدیث بیان کی۔ اس میں مزید امور یہ بھی ہیں:) میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، (جب میں پہنچی تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی رکعت سے فارغ ہو چکے تھے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قیام کیا، حتیٰ کہ میں نے بعض نماز پڑھنے والے لوگوں کو دیکھا کہ وہ پانی کے چھینٹے مار رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور قیام شروع کر دیا اور سجدہ نہ کیا، یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا، البتہ وہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو سورج صاف ہوچکا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتیں، جب تم ان کواس طرح دیکھو تو نماز پڑھنے، صدقہ کرنے اور اللہ کا ذکر کرنے کی طرف لپکو۔ اے لوگو! کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو میں نے نہیں دیکھی تھی، مگراس مقام میں دیکھ لی اور میں نے تم کو بھی دیکھا کہ تم قبروں میں آزمائے جا رہے ہو، تم میں سے ہر ایک سے سوال کیا جا رہا ہے کہ توکیا کہتا تھا؟ تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ اگر کوئی جواباً یہ کہے گا: میں تو نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو جو کچھ کہتے ہوئے سنا، خود بھی وہی کہہ دیا، ان کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا، خود بھی وہی کچھ کر دیا۔ اس جواب پر اسے کہا جائے گا: اچھا، ٹھیک ہے، تو نے شک پر زندگی گزار دی اور اسی پر تو مرا، یہ آگ تیرا ٹھکانا ہے۔ اور اگر کوئی یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو اسے کہا جائے گا: تو نے یقین پر زندگی بسر کی اور تو اسی پر مرا، یہ جنت کا تیرا ٹھکانہ ہے۔ یقینا میں نے پچاس یا ستر ہزار لوگوں کو دیکھا کہ وہ چودہویں رات کے چاند جیسا چہرہ لے کر جنت میں داخل ہو رہے تھے۔)) ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: (اے اللہ کے رسول!) اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ان میں داخل کردے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو ان میں داخل کردے۔ لوگو! میرے اترنے سے پہلے تم جس چیز کا بھی سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب دے دوں گا۔ پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا باپ فلاں شخص ہے۔ (یعنی اسی آدمی کا نام لیا) جس کی طرف اس کو منسوب کیا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2921]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، انفرد به فليح بن سليمان الخزاعي، وھو ممن لايحتمل تفرّده، ولم يذكروا لمحمد بن عباد بن عبد الله سماعا من أسماء بنت أبي بكر۔ ولبعضه شواھد أخرجه ابن خزيمة: 1399، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27532»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2922
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: وَلَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلَاةِ كُسُوفِ الشَّمْسِ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سورج گرہن کی نماز میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2922]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1054، 2519، 2520، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27463»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1054
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2923
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ) إِنْ كُنَّا لَنُؤْمَرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ
(دوسری سند) ہمیں نمازِ کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2923]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27462»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27462
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2924
)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ کسوف کی طوالت ِ قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہر رکعت میں دو رکوع تھے، (جیسا کہ سابقہ احادیث میں گزر چکا ہے، مزید وہ کہتی ہیں): جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، پس جب تم ان دونوں کو اس طرح دیکھو تو اللہ کی بڑھائی بیان کیا کرو، اس سے دعا کیاکرو، نماز پڑھا کرو اور صدقہ کیا کرو۔ اے امت ِ محمد! کوئی بھی نہیں جو اس معاملے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند ہو کہ اس کا بندہ یا باندی زنا کرے۔اے امت ِ محمد! اللہ کی قسم! اگر تم وہ کچھ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے، خبر دار! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے؟! [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2924]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1044، 5221، ومسلم: 901، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25826»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1044
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں