🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ مَنْ قَالَ بِنَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3233
وَعَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: شَهِدْتُّ جَنَازَةً فِي بَنِي سَلْمَةَ، فَقُمْتُ فَقَالَ لِي نَافِعُ بْنُ جَبِيرٍ: اجْلِسْ فَإِنِّي سَأُخْبِرُكَ فِي هَذَا بِثَبَتٍ، حَدَّثَنِي مَسْعُودُ بْنُ الْحَكَمِ الزُّرْقِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَحْبَةِ الْكُوفَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِالْقِيَامِ فِي الْجَنَازَةِ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا بِالْجُلُوسِ
واقد بن عمرو کہتے ہیں: میں بنو سلمہ کے ایک جنازہ میں حاضر ہوا اور (جنازہ کو دیکھ کر) میں کھڑا ہو گیا۔ نافع بن جبیر نے مجھ سے کہا: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں اس مسئلہ کے بارے میں ایک ثقہ آدمی کی حدیث بیان کرتا ہوں،مسعود بن حکم زرقی نے مجھے بیان کیا کہ انہوں نے مسجد ِ کوفہ کے صحن میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونے کا ہمیں حکم تو دیا تھا، لیکن اس کے بعد آپ بیٹھے رہتے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3233]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 962، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 623»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 962
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3234
عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي بْنَ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَامَ الْحَسَنُ وَقَعَدَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لابْنِ عَبَّاسٍ: أَلَمْ تَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلَى وَقَدْ جَلَسَ، فَلَمْ يُنْكِرِ الْحَسَنُ مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
محمد بن سیرین کہتے ہیں: مجھے یہ بتلایا گیا کہ سیّدناحسن بن علی رضی اللہ عنہ اور سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، لیکن سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے، سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا نہیں تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے تھے۔یہ سن کر سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان کی بات پر کوئی انکار نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3234]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه النسائي: 4/ 46، 47، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1726»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه النسائي: 4/ 46
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3235
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ مَرَّ بِهِمْ جَنَازَةٌ فَقَامَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَقُمْ، فَقَالَ الْحَسَنُ: مَا صَنَعْتُمْ؟ إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَأْذِّيًا بِرِيحِ الْيَهُودِيِّ
سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر لوگ کھڑے ہو گئے، لیکن وہ بیٹھے رہے، پھر سیّدناحسن رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ تم نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صرف یہودی میت کی بدبو کی تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3235]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحجاج بن ارطاة مدلس، ومحمد بن علي بن الحسين لم يدرك الحسن بن علي عم ابيه۔ أخرج بنحوه النسائي: 4/ 47، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1722»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3236
عَنْ حُسَيْنٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ جَنَازَةِ يَهُودِيٍّ مُرَّ بِهَا عَلَيْهِ فَقَالَ: ( (آذَانِي رِيحُهَا) )
سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ اور سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں سے یا ان میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: مجھے اس کی بدبو نے تکلیف دی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3236]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان محمد بن علي بن الحسين لم يدرك الحسن بن علي وابن عباس أخرج بنحوه النسائي: 4/ 47، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1722، 1733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1733»
وضاحت: فوائد: … جنازے کے لیے کھڑے ہونے کی وجوہات پچھلے باب میں گزر چکی ہیں۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث اور درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے لیے کھڑا ہونا منسوخ ہو چکا ہے، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے۔ سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، یہاں تک کہ اسے لحد میں رکھ دیا جاتا تھا، ایک دن ایک یہودی عالم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور کہا: ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی بیٹھ گئے اور یہ بھی فرمایا: ((اِجْلِسُوْا خَالِفُوْھمُ۔ْ)) یعنی: ”بیٹھ جاؤ اور ان کی مخالفت کرو۔“ (ابوداود: ۳۱۷۶)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ ثَنَاءِ النَّاسِ عَلَى الْمَيِّتِ وَشَهَادَتِهِمْ
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3237
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ) ) ، وَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ) ) ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقُلْتُ: ( (وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ) ) ، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقُلْتَ: ( (وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ) ) ، فَقَالَ: ( (مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کے حق میں کلمۂ خیر کہا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ اور لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے اور لوگوں نے اس کے حق میں برا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، جب ایک جنازہ گزارا گیا اور اس کے حق میں تعریفی کلمات کہے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ اور جب دوسرا جنازہ گزارا گیا اور اس کے حق میں برا تذکرہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا: جس کے حق میں تم لوگوں نے اچھے کلمات کہے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کے حق میں تم نے برے کلمات کہے، اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی۔ دراصل تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3237]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2642، ومسلم: 949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12969»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2642
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3238
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ، وَفِيهِ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فِي مَنَاقِبِ الْخَيْرِ، (وَقَالَ فِي الْأُخْرَى) فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فِي مَنَاقِبِ الشَّرِّ، فَقَالَ: ( (وَجَبَتْ) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِنَّكُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: لوگوں نے اس کے خیر والے اوصاف بیان کیے، (اور دوسرے جنازے کے) برے اوصاف بیان کیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ہے۔ پھر فرمایا: بیشک تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3238]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2333، والنسائي: 4/ 50، وابن ماجه: 1492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7552، 10013، 10471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10476»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2333
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3239
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: جَلَسَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَجْلِسًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُهُ، تَمُرُّ عَلَيْهِ الْجَنَازَةُ، قَالَ: فَمَرُّوا فَأَثْنَوْا خَيْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَقَالُوا خَيْرًا فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَقَالُوا: هَذَا كَانَ أَكْذَبَ النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ أَكْذَبُهُمْ عَلَى اللَّهِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ مَنْ كَذَبَ عَلَى رُوحِهِ فِي جَسَدِهِ، قَالَ: قَالُوا: أَرَأَيْتَ إِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، قَالُوا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، قَالُوا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، وَلَأَنْ أَكُونَ قُلْتُ وَاحِدًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، قَالَ: فَقِيلَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ أَمْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ ایسی جگہ بیٹھے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھا کرتے تھے اور لوگ وہاں سے جنازے لے کر گزرتے تھے، (اس بار بھی) لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے اور لوگوں نے اس کے حق میں تعریفی کلمات کہے، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہوگئی۔ اس کے بعد لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے، اس کے حق میں بھی لوگوں نے کلمۂ خیر کہا، انہوں نے کہا: واجب ہو گئی، اس کے بعد لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے، اس کی بھی مدح سرائی کی گئی، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ اس کے بعد لوگ پھر ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے کہا: یہ سب سے جھوٹا آدمی تھا، یہ سن کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:جو آدمی لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا ہو گا، وہ اللہ پر بھی سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والا ہوتا ہے، اس سے کم درجہ جھوٹا وہ ہوتا ہے، جو اپنے جسم میں روح پر جھوٹ بولتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر چار آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: واجب ہو جائے گی، لوگوں نے کہا: اگر تین آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: تب بھی واجب ہو جائے گی، لوگوں نے کہا: اگر دو آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: پھر بھی واجب ہو جائے گی۔اور اگر میں نے ایک آدمی کی گواہی کے بارے میں بھی پوچھ لیا ہوتا تو یہ بات مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی۔ کسی نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ سارا کچھ آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، میں نے یہ ساری باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3239]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 389 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 389»
وضاحت: فوائد: … ”جو اپنے جسم میں روح پر جھوٹ بولتا ہے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی اپنے آپ کو ایسی صفت سے موصوف ٹھہرانا چاہتا ہے، جو حقیقت میں اس میں نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3240
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَافَيْتُهَا وَقَدْ وَقَعَ فِيهَا مَرَضٌ فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ: مَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! قَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ) ) ، قَالَ: فَقُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: فَقَالَ: ( (وَثَلَاثَةٌ) ) ، قَالَ: قُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: ( (وَاثْنَانِ) ) ، قَالَ: ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ
ابوالاسود کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا،ان دنوں وہاں ایک وبا پھیلی ہوئی تھی اور لوگ بڑی تیزی سے مر رہے تھے۔ میں سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک جنازہ گزرا، اس کے حق میں دوسرے لوگوں کی طرف سے کلمۂ خیر کہا گیا، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ اس کے بعد ایک اور جنازہ گزرا، اس کے حق میں بھی تعریفی کلمات کہے گئے، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی، اس کے بعد ایک تیسرا جنازہ گزرا، اس کی مذمت کی گئی، لیکن تب بھی انہوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ابوالاسود نے کہا: امیر المومنین! کیا چیز واجب ہو گئی؟ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو اسی طرح بات کی، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی کہ جس مسلمان کے حق میں چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں، اللہ اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے۔ ہم نے پوچھا: تین آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین بھی۔ ہم نے پوچھا: اور دو آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو بھی۔ پھر ہم ایک آدمی کی گواہی کے بارے میں سوال نہ کر سکے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3240]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2643، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 139»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2643
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3241
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ بِالنَّبَاءِ أَوِ النَّبَوَةِ، شَكَّ نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، مِنَ الطَّائِفِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّكُمْ تُوشِكُونَ أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَوْ قَالَ: خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ) ) ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: بِمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (بِالثَّنَاءِ السَّيِّئِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ) )
سیّدنا ابوزہیر ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو طائف کے قریب نَبَاءَ ۃ یا نَبَاوَۃ مقام پر یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! تم جہنمیوں میں سے جنتیوں یا بروں میں سے نیکوں کو پہنچان سکتے ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بری یا اچھی تعریف کے ساتھ، دراصل تم لوگ زمین میں ایک دوسرے کے حق میں اللہ کے گواہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3241]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 4221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15518»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 4221
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3242
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: ( (مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنِ بِخَيْرٍ إِلَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلَى مَا عَلِمُوا وَغَفَرْتُ لَهُ مَا أَعْلَمُ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جو مسلمان آدمی فوت ہو جائے اور اس کے قریبی ہمسایوں میں سے تین گھر والے لوگ اس کے حق میں خیر کی گواہی دے دیں تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میرے بندوں نے اپنے علم کے مطابق جو گواہی دی ہے، میں نے اسے قبول کر لیا ہے اور وہ (گناہ) معاف کر دیئے ہیں، جو میں جانتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3242]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الشيخ البصري، لكن له شواهد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8977»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الشيخ البصري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں