الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ بِنَارٍ أَوْ صِيَاحٍ أَوْ نِسَاءٍ
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
حدیث نمبر: 3213
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تُتْبَعُ الْجَنَازَةُ بِنَارٍ وَلَا صَوْتٍ) )
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کے ساتھ آگ اور آواز نہیں ہونی چاہیے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3213]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9515، 10831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9511»
وضاحت: فوائد: … آواز سے مراد نوحہ، چیخ و پکار اور بلند آواز سے مخصوص ذکر جیسے ناپسندیدہ اور بدعتی امور ہیں، ہمارے ہاں بعض لوگ چارپائی کو کندھا دیتے وقت ”کلمۂ شہادت“ کا لفظ دوہراتے ہیں، یہ لفظ غیر مسنون بھی ہے اور بے معنی بھی۔ قیس بن عباد کہتے ہیں: کَانَ اَصْحَابُ النَّبِیِّV یَکْرَھُوْنَ رَفْعَ الصَّوْتِ عِنْدَ الْجَنَائِزِ۔ یعنی: صحابہ کرامe جنازوں کے پاس بلندآواز کو ناپسند کرتے تھے۔ (سنن بیہقی: ۴/۷۴)
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3171
حدیث نمبر: 3214
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نُهِيَ عَنْ اِتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں جنازوں کے پیچھے سے چلنے سے منع کیا گیا، لیکن ہم پر اتنی سختی نہیں کی گئی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3214]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1278، ومسلم: 938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27303 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27846»
وضاحت: فوائد: … منع کرنے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جیسا کہ دوسری روایات میں وضاحت کی گئی ہے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا حرام نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1278
حدیث نمبر: 3215
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لَا نَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا، فَلَمَّا تَوَجَّهْنَا إِلَى الطَّرِيقِ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ: ( (مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ؟) ) ، قَالَتْ: أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ فَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ وَعَزَّيْتُهُمْ، فَقَالَ: ( (لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى؟) ) ، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ! أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا مَعَهُمْ وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ، قَالَ: ( (لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ) )
سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ ایک خاتون پر پڑی، ہمارا یہ خیال نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہچان لیا ہو گا، جب ہم راستہ کی طرف مڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے، یہاں تک کہ وہ خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: فاطمہ! تم کس غرض سے گھر سے باہر آئی ہو؟ انہوں نے کہا: میں فلاں گھر والوں کے پاس گئی تھی، ان کے میت کے حق میں رحمت کے کلمات کہے اور (ان کے فوت ہونے والے آدمی کی وجہ سے) ان کے ساتھ تعزیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ تو ان کے ہمراہ کدیٰ (قبرستان) پہنچ گئی ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں ان کے ساتھ کدی مقام تک پہنچتی، جبکہ میں اس بارے میں آپ کے (وعید والے) کلمات سن چکی ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ اس مقام تک پہنچ جاتی تو اس وقت تک جنت کو نہ دیکھ سکتیں، جب تک تیرا باپ نہ دیکھ لیتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3215]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ربيعة بن سيف المعافري، قال البخاري: عنده مناكير، وضعفه الازدي والنسائي، وقال النسائي ايضا: لا بأس به، وقال الدارقطني: صالح، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘: 6/ 301 وقال: كان يخطيء كثيرا أخرجه ابوداود: 3123، والنسائي: 4/ 27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6574»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے کو سخت وعید پر محمول کیا جائے گا، بہرحال یہ حدیث ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
16. بَابُ مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةً فَلَا يَجْلِسُ حَتَّى تُوضَعَ وَمَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ إِذَا مَرَّتْ
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3216
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا، فَمَنِ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوَضَعَ) )
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جایا کرو اور جو کوئی جنازے کے ساتھ جائے، وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اسے (زمین پر) رکھ نہ دیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3216]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1310، ومسلم: 959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11386»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1310
حدیث نمبر: 3217
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَمْ يَمْشِ مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تَغِيبَ عَنْهُ، وَمَنْ مَشَى مَعَهَا فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوَضَعَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نمازِ جنازہ پڑھے اور تدفین کے لیے میت کے ساتھ نہ جائے تو وہ اس وقت تک کھڑا رہے، جب تک وہ اس سے غائب نہ ہو جائے، اور جو آدمی اس کے ساتھ جائے، وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اسے زمین پر نہ رکھ دیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3217]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7583»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3218
عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى جَنَازَةً فَقَامَ إِلَيْهَا وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى جَنَازَةً فَقَامَ لَهَا
سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ بھی ایک جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3218]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 185، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 426»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 185
حدیث نمبر: 3219
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ وَلَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَهُ أَوْ تُوَضَعَ) )
سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی جنازہ دیکھے، جبکہ وہ اس کے ساتھ جانے والا نہ ہو تو وہ اس وقت تک کھڑا رہے، جب تک وہ اس سے تجاوز نہ کر جائے یا اسے رکھ نہ دیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3219]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1308، ومسلم: 958، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15763»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1308
حدیث نمبر: 3220
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ أَوْ قَالَ قِفْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ) )
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب توجنازہ دیکھے تو اس وقت تک کھڑا رہ جب تک وہ تجھ سے آگے نہ گزر جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3220]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15762»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15762
حدیث نمبر: 3221
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي عَامِرٌ قَالَ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَرْوَانُ جَالِسَيْنِ فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ مَرْوَانُ: اجْلِسْ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَقَامَ مَرْوَانُ، وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ
عامر کہتے ہیں: سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور مروان بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، مروان نے ان سے کہا: بیٹھے رہو، انھوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (جنازے کے لیے) کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا تھا، یہ سن کر مروان بھی کھڑا ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3221]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 4/ 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11526»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 4/ 45
حدیث نمبر: 3222
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذَئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ مَرْوَانَ، فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ فَمَرَّ بِهِ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ: قُمْ أَيُّهَا الْأَمِيرُ! فَقَدْ عَلِمَ هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى تُوَضَعَ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک جنازہ گزرا، سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی وہاں سے گزرے اور انھوں نے کہا: اے امیر! کھڑے ہو جاؤ، یہ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازہ کے ساتھ جاتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے،جب تک اس کو زمین پر نہ رکھ دیا جاتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3222]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11949»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے دوسرے طرق سے پتہ چلتا ہے کہ سیّدنا ابوہریرہ اور سیّدنا ابو سعیدdاور مروان سب نے اس میت کی نماز جنازہ ادا کی تھی، بلکہ مروان نے توا مامت کروائی تھی، جنازے کے بعد جب مروان بیٹھا تو اس کے ساتھ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی بیٹھ گئے، ممکن ہے کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا س کھڑے ہونے کو واجب نہ سمجھتے ہوں یا پھر انھوں نے مصلحت سے کام لیا ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1309