🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. مِنْ أَيْنَ يُدْخَلُ الْمَيِّتُ قَبْرَهُ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ ذَالِكَ وَمَنْ يُدْخِلُهُ، وَمَا جَاءَ فِي الْحَشْيِ فِي الْقَبْرِ وَانْتِظَارِ الْفَرَاغِ مِنَ الدَّفْنِ
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3262
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَحَمَلَ مِنْ عُلُوِّهَا، وَحَثَا فِي قَبْرِهَا، وَقَعَدْ حَتَّى يُؤْذَنَ لَهُ أَوْ بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کی چارپائی اٹھانے کے وقت سے اس کے ساتھ رہتاہے اور قبر میں مٹی بھی ڈالتا ہے اور اس وقت تک ساتھ رہتا ہے کہ دفن کے بعد اسے واپسی کی اجازت دے دی جاتی ہے تو وہ اجر کے دو قیراط لے کر واپس ہوتا ہے اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد الله بن ھرمز، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10887»
وضاحت: فوائد: … ”مِنْ عُلُوِّھَا“ کا مرادی معنی ”مِنْ اِبْتِدَائِھَا“ ہے، یعنی شروع سے اس کے ساتھ رہتا ہے، ویسے اس لفظ میں میت کی چارپائی کندھوں پر اٹھانے کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّفْنِ لَيْلًا وَبَيَانِ الْأَوْقَاتِ الْمَنْهِيِّ عَنِ الدَّفْنِ فِيهَا
میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3263
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تُوُفِّي رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ فَقُبِرَ لَيْلًا، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ لَيْلًا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَضْطَرُّوا إِلَى ذَلِكَ
سیّدنا جابربن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بنو عذرہ خاندان کا ایک آدمی رات کو فوت ہوا اور اسے رات کو ہی دفن کر دیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو دفن کرنے سے منع فرما دیا، جب تک اس کی نماز جنازہ ادا نہ کر لی جائے، الا یہ کہ لوگ (رات کو دفن) کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14145، 15287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15361»
وضاحت: فوائد: … سیّدناجابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کا ذکر کیا، وہ فوت ہو گیا تھا، اسے ردی سا کفن دے کر رات کو دفن کر دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ڈانٹ دیا کہ بندے کو رات کو دفن کیا جائے، جب تک اس کی نماز جنازہ ادا نہ کر لی جائے، الا یہ کہ کوئی آدمی ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے۔ (صحیح مسلم)

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 943
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3264
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْتُ صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبَعَاءِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْمَسَاحِي الْمَرُورُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن ہو جانے کا اس وقت علم ہوا کہ جب ہم نے بدھ والی رات کے آخری حصے میں بیلچوں وغیرہ کی آوازیں سنیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: اَلْمَسَاحِیْ کا معنی بیلچہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24837»
وضاحت: فوائد: … لفظ ”اَلْمَسَاحِیْ“ کے یہ دو معنی بیان کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ ابن اسحاق کی مراد بیلچوں وغیرہ کی آواز ہو، بہرحال مفہوم ایک ہی بنتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 347
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3265
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ يَنْهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهَا أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَايَفَتْ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ
سیّدناعقبہ بن عامر جھنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ان تین اوقات میں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا: (۱) جب سورج طلوع ہو رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، (۲) جب دوپہر کے وقت کھڑا ہو جانے والا کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور (۳) جب سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ وہ غروب ہو جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17512»
وضاحت: فوائد: … دوسری صورت سے مراد زوال کا وقت ہے، جب سورج کے وسطِ آسمان میں پہنچ جانے کی وجہ سے بظاہر کسی چیز کا سایہ مغرب اور مشرق کی طرف نظر نہیں آ رہا ہوتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز فجر اور نماز عصر کے بعد نماز جنازہ جیسی سببی نماز پڑھنا درست ہے۔ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ طلوع آفتاب کی تکمیل کے بعد کراہت کا وقت ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ بعض احادیث میں عمومی طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے، اس مسئلے میں درج ذیل تفصیل کو سامنے رکھا جائے: سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی درج بالا حدیث، جس میں سورج کے بلند ہو جانے کا ذکر ہے۔ سیّدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 831
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ تَسْوِيَةِ الْقُبُورِ وَرَشِّ الْمَاءِ عَلَيْهَا وَتَسْمِيَتِهَا لِتُعْرَفَ
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3266
عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنِ الْهُذَلِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَقَالَ: ( (أَيُّكُمْ يَنْطَلِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَا يَدَعُ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَخَهَا؟) ) ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَانْطَلَقَ فَحَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَنْطَلِقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: فَانْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَمْ أَدَعْ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرْتُهُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَخْتُهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ عَادَ لِصَنْعَةِ شَيْءٍ مِنْ هَذَا فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمُ الْمَسْبُوقُونَ بِالْعَمَلِ) )
ابومحمد ہذلی، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ کون ہے جو مدینہ جائے اور وہاں جا کر ہر بت کو توڑ دے، ہر قبر کو برابر کر دے اور ہر تصویر کو مسخ کر دے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں یہ کام کروں گا، پھر وہ چلا تو گیا، لیکن مدینہ والوں سے ڈر کر واپس آگیا۔ سیّدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کام کے لیے جاتا ہوں، پھر وہ چلے گئے اور واپس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر بت کو توڑ ڈالا، ہر قبر کو برابر کر دیا اور ہر تصویر کو مسخ کر دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوبارہ اس قسم کا کوئی کام کیا تو اس نے اس دین کا انکار کر دیا جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا۔، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم فتنہ باز اور متکبر نہ بننا اور تاجر بھی نہ بننا، الا یہ کہ خیر کا تاجر ہو، کیونکہ یہ لوگ (اچھے) عمل میں پیچھے رہ جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3266]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو محمد الھذلي لايعرف أخرجه الطيالسي: 96، وابويعلي: 506، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 657»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3267
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ يَلْطَخَ كُلَّ صَنَمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَدْخُلَ بُيُوتَ قَوْمِي، قَالَ: فَأَرْسَلَنِي، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَ: ( (يَا عَلِيُّ! لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا، وَلَا مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ فَإِنَّ أُولَئِكَ مُسَوِّفُونَ أَوْ مَسْبُوقُونَ فِي الْعَمَلِ) )
سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو توڑ ڈالنے کے لیے ایک انصاری کو بھیجا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کے گھروں کے اندر داخل ہونے کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا، جب میں آ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی! تم فتنہ باز اورمتکبر نہ بننا اور نہ ہی تاجر بننا، الایہ کہ خیر کا تاجر ہو، یہ لوگ عمل میں ٹال مٹول کرنے والے ہیں یا دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3267]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1176»
وضاحت: فوائد: … یعنی آج کرتے ہیں، کل کر لیں گے، بس کر ہی لیں گے۔ وہ یہی باتیں کرتے کرتے وقت گزار دیتے ہیں، ان کو کام کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔ یہ بڑا خطرناک انداز ہے، جس کا نتیجہ محرومی ہی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس انداز سے بچائے۔ (آمین) نیکی کے کام جلد اور اول فرصت میں کرنے کی عادت بنانی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1176
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3268
عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَأَبِيهِ: لَأَبْعَثَنَّكَ فِيمَا بَعَثَنِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ أَطْمِسَ كُلَّ صَنَمٍ
جنابِ حیان کہتے ہیں: سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک ایسے کام کے لیے بھیجوں گا کہ جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، اور وہ یہ تھا کہ میں ہر قبر کو برابر کر دوں اور ہر بت کو توڑ ڈالوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3268]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، يونس بن خباب كذبه يحيي بن سعيد، وقال ابن معين: رجل سوء ضعيف، وقال البخاري: منكر الحديث۔ أخرجه البزار: 911، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 683، 889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 889»
وضاحت: فوائد: … اس سلسلے میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل روایت صحیح ہے: ابو ہیاج اسدی کہتے ہیں:

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3269
عَنْ ثُمَامَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَرْضِ الرُّومِ، وَكَانَ عَامِلًا لِمُعَاوِيَةَ عَلَى الدَّرْبِ، فَأُصِيبَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا، فَصَلَّى عَلَيْهِ فَضَالَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَامَ عَلَى حُفْرَتِهِ، حَتَّى وَارَاهُ فَلَمَّا سَوَّيْنَا عَلَيْهِ حُفْرَتَهُ، قَالَ: أَخِفُّوا عَنْهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِتَسْوِيَةِ القُبُورِ
ثمامہ ہمدانی کہتے ہیں: ہم سیّدنافضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روم کی طرف نکلے، وہ وہاں سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے درب کے حاکم تھے، ہوا یوں کہ ہمارا ایک چچا زاد بھائی فوت ہو گیا، سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس وقت تک اس کی قبر پر کھڑے رہے یہاں تک کے اس کو دفن کر دیا، جب ہم نے (مٹی ڈال کر) اس کا گڑھا برابر کرنے لگے تو انھوں نے کہا: ذرا مٹی کم ڈالو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں قبر کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3269]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24431»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 968
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3270
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: غَزَوْنَا أَرْضَ الرُّومِ وَعَلَى ذَلِكَ الْجَيْشِ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ فَضَالَةُ: خَفِّفُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَةِ القُبُورِ
(دوسری سند) ثمامہ کہتے ہیں: ہم نے روم کے علاقے والوں سے جہاد کیا، اس لشکر کے امیر سیّدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ تھے، … سارا واقعہ بیان کیا …، سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مٹی تھوڑی ڈالو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حکم دیتے ہوئے سنا تھا کہ قبروں کو زمین کے برابر کر دیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3270]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24433»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24433
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3271
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَسُوِّيَتْ بِأَرْضِ الرُّومِ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَوُّوا قُبُورَكُمْ بِالْأَرْضِ
(تیسری سند) ابو علی ثمامہ ہمدانی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیّدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دینے کا حکم دیتے تھے، چنانچہ روم کے علاقے میں مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا گیا۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ تم اپنی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3271]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، عبد الله بن لھيعة سييء الحفظ، وانظر الحديث بالطريق الاول أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ 810، وفي ’’الاوسط‘‘: 3188، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24459»
وضاحت: فوائد: … اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قبر کو زمین سے بلند کر کے بنایا جائے گا اور اسے زمین کے بالکل برابر نہیں کیا جائے گا، تاکہ اس کی حفاظت ہوتی رہے اور اس کی توہین نہ ہونے پائے۔ تو پھر سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ اس حدیث اور اس سے ان کے کیے ہوئے استدلال کا کیا بنے گا؟ اس کے مختلف جوابات ہیں: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق غیر شرعی اونچی قبروں سے تھا، جیسا کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں گزر چکا ہے، لیکن سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کو عام سمجھ لیا اور (۲) یہ بھی ممکن ہے کہ قبروں کو زمین کے برابر کر دینے کا معنی یہ ہو کہ ان کو کم بلند رکھا جائے۔ قبر کے بارے میں مزید احادیث:

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں