الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ ثَنَاءِ النَّاسِ عَلَى الْمَيِّتِ وَشَهَادَتِهِمْ
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
حدیث نمبر: 3243
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةُ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنِ إِلَّا قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قَدْ قَبِلْتُ فِيهِ عِلْمَكُمْ وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی فوت ہو جائے اور اس کے حق میں قریبی ہمسایوں میں سے چار گھر والے اس کے حق میں گواہی دیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:میں اس کے حق میں تمہارے علم کو قبول کرتا ہوں اور اس کے جن (گناہوں) کا تمہیں علم نہیں ہے، ان کو معاف کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3243]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مؤمل بن اسماعيل سييء الحفظ، لكن يشهد له الحديث المتقدم أخرجه ابويعلي: 3481، وابن حبان: 3026، والحاكم: 1/ 378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13541 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13575»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3244
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ قَالَ: ( (مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ) ) ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ قَالَ: ( (الْمُؤْمِنُ اسْتَرَاحَ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالْفَاجِرُ اسْتَرَاحَ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ) )
سیّدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ راحت پا گیا ہے یا دوسروں نے اس سے راحت پائی ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کیا مطلب ہے کہ یہ راحت پا گیا ہے یا دوسروں نے اس سے راحت پائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن دنیا کے مصائب اور تکلیفوں سے راحت پا کر اللہ کی رحمت میں چلا جاتا ہے اور فاجر آدمی سے دوسرے انسان، شہر، درخت اور چوپائے راحت پا جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6513، ومسلم: 950، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2256 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22904»
وضاحت: فوائد: … کوئی مانے یا نہ مانے، یہ ایک حقیقت ہے کہ اس گواہی سے مراد قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ تکلف کے ساتھ میت کے مرثیے پڑھے جائیں اور نظم و نثر کی صورت میں مختلف مجلسوں میں اس کے اوصاف بیان کیے جائے اور اس ضمن میں بعض گویّا نما اور قوّال لوگوں کی خدمات حاصل کی جائیں، جن کا مقصود لواحقین کی خوشامد اور چاپلوسی کرنا ہوتا ہے۔ان احادیث میں ایسی شہادت کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں الہام کرتا ہے اور وہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بول پڑتے ہیں اور یہ گواہی دینے والے ثقہ، بااعتماد اور شریعت کا فہم رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی طبیعت اور معاشرے سے متاثر ہوئے بغیر میت کی اچھائیوں یا برائیوں کو سامنے رکھ میت کا اچھا یا برا تذکرہ کر بیٹھتے ہیں، جبکہ برے تذکرے سے ان کا مقصود مردوں کو برا بھلا کہنا بھی نہیں ہوتا ہے، جس سے اگلی احادیث میں منع کیا جا رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6513
20. بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ وَذِكْرِ مَسَاوِئِهِمْ
مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3245
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مردوں کو برا بھلا نہ کہا کرو کیونکہ وہ اپنے کیے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3245]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1393، 6516، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25984»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1393
حدیث نمبر: 3246
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو گالی دینے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3246]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 1982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18208، 18209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18395»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 1982
حدیث نمبر: 3247
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مردوں کو برا بھلا نہ کہا کرو، اس طرح سے زندگان کو تکلیف دو گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3247]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18397»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18397
حدیث نمبر: 3248
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا) )
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے مردوں کو برا بھلا نہ کہا کرو، اس طرح ہمیں تکلیف پہنچاؤ گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3248]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي ضعفه احمد و ابوزرعة وابوحاتم والنسائي وابن معين وغيرھم أخرجه النسائي: 8/ 33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2734»
وضاحت: فوائد: … لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3249
عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ
قطبہ بن مالک کہتے ہیں کہ جب سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیّدناعلیؓ کے بارے میں کچھ نازیبا کلمات کہے تو سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع کیا کرتے تھے، لہٰذا تم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کیوں کہتے ہو، جبکہ وہ وفات پا چکے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3249]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حجاج مولي بني ثعلبة أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4975، والحاكم: 1/ 384، وابن ابي شيبة: 3/ 366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19503»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی اور اس موضوع کی دیگر کئی احادیث میں مردوں کو برا بھلا کہنے سے روکا گیا ہے، جبکہ گزشتہ باب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بعض مردوں کو برا بھلا کہا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، امام نووی نے اس ظاہری تناقض میں جمع و تطبیق کی یہ صورت پیش کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مردوں کو گالیاں دینے سے منع فرمایا ہے، ان سے مراد وہ لوگ ہیں، جو منافق، کافر اور فسق یا بدعت کا اظہارکرنے والے نہ ہوں، وگرنہ ایسے بروں کا برا تذکرہ کرنا تو جائز ہے، تاکہ دوسرے لوگ ان کی اقتداء کرنے سے باز رہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح
21. باب
دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: Q3250]
22. اخْتِيَارُ اللَّحْدِ عَلَى الشَّقِّ وَتَعْمِيقِ الْقَبْرِ وَتَوْسِيعِهِ وَدَفْنِ الْاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ إِذَا اقْتَضَى الْحَالُ ذَالِكَ
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق¤دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
حدیث نمبر: 3250
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ فَوَقَصَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا، قَالَهَا حَمَّادٌ، ثَلَاثًا، اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا) )
سیّدنا جریر بن عبداللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے آکر اسلام قبول کیا، ایک سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اسلام کی تعلیم دیتے رہے، چلتے چلتے اس کے اونٹ کا پاؤں ایک قسم کے چھوٹے چوہے کے بل پر جا پڑا، جس کہ وجہ سے وہ اونٹ سے گر کر فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی میت کے پاس آئے اور فرمایاـ: اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن ثواب بہت زیادہ پا لیا۔)) حماد راوی نے یہ جملہ تین دفعہ دہرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3250]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه أخرجه ابن ماجه:1555، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19158، 19159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19371»
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه أخرجه ابن ماجه:1555
حدیث نمبر: 3251
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، قَالَ: فَقَالَ: ( (الْحَدُوا، وَلَا تَشُقُّوا، فَإِنَّ اللَّحْدَ لَنَا وَالشَّقَّ لِغَيْرِنَا) )
(دوسری سند) اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور فرمایا: بغلی قبر بناؤ، شق نہ بناؤ، کیونکہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3251]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19390»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19390