الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا يُرْجَى لِلْمَيِّتِ بِكَثْرَةِ الْمُصَلِّينَ عَلَيْهِ
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی¤(بخشش کی) امید کا بیان
حدیث نمبر: 3143
عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّانِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَمُوتُ فَيُصَلَّى عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ) ) ، قَالَ: فَكَانَ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ يَتَحَرَّى إِذَا قَلَّ أَهْلُ الْجَنَازَةِ أَنْ يَجْعَلَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ
سیّدنا مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مومن فوت ہو جائے اور تین صفوں پر مشتمل مسلمانوں کی ایک جماعت اس کی نماز جنازہ پڑھے تو اسے بخش دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیّدنا مالک بن ھبیرہ رضی اللہ عنہ جب دیکھتے کہ جنازہ میں نمازیوں کی تعداد کم ہے تو ان کی تین صفیں بنا لیتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3143]
تخریج الحدیث: «اس كي سند ميں محمد بن اسحاق راوي مدلس هے، ليكن شيخ الباني نے فوائد ميں مذكور حديث كي بنا پر اس كو قابل حجت قرار ديا هے۔ أخرجه ابن ماجه: 1490، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16844»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِVعَلٰی جَنَازَۃٍ وَمَعَہٗ سَبْعَۃُ نَفَرٍ، فَجَعَلَ ثَـلَاثَۃً صَفًّا، وَاثْنَیْنِ صَفًّا وَاثْنَیْنِ صَفًّا۔ یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات افراد تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کو ایک صف میں، دو کو ایک صف میں اور بقیہ دو کو ایک صف میں کھڑا کیا۔ (معجم کبیر للطبرانی، وفیہ ابن لھیعۃلکنہ مستشھد بحدیث مالک بن ہبیرۃ رضی اللہ عنہ)
الحكم على الحديث:
اس كي سند ميں محمد بن اسحاق راوي مدلس هے
حدیث نمبر: 3144
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيُصَلَّى عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مَائَةً، فَيَشْفَعُونَ لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان فوت ہو جائے اور اس پر ایک سو آدمیوں کی جماعت نمازجنازہ پڑھ کر سفارش کرے تو ان کی سفارش قبول کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3144]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 947، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24038 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24539»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 947
حدیث نمبر: 3145
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3145]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 947، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13840»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 947
حدیث نمبر: 3146
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمْ اللَّهُ فِيهِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان فوت جائے اور اس کے جنازے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرنے والے چالیس آدمی کھڑے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کر لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3146]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 948، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2509»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 948
حدیث نمبر: 3147
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلَّى عَلَيْهِ أُمَّةٌ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ) ) ، قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ: الْأُمَّةُ أَرْبَعُونَ إِلَى مَائَةٍ فَصَاعِدًا
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنے والی ایک امت ہو تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ ابوملیح راوی کہتا ہے: چالیس سے سو اور اس سے زائد تک کے افراد کو امت کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد ضعيف أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ 1060، وابن ابي شيبة: 3/ 321، والبخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 5/ 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27348»
وضاحت: فوائد: … ابو ملیح کی یہ تفسیر مذکورہ بالا احادیث کے مفہوم کے موافق ہے، کیونکہ ایک حدیث میں چالیس افراد کا ذکر ہے اور ایک میں سوکا۔ ان احادیث میں نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے شریک ہونے کی ترغیب دلائی گئی ہے، بہرحال ان کا اہل توحید اور اہل اخلاص ہونا ضروری ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
3. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ الصَّلَاةِ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَعَدَمِ مَشْرُوعِيَّتِهَا عَلَى الشُّهَدَاءِ
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3148
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ (يَعْنِي الْجَوْنِيَّ) عَنْ أَبِي عَسِيبٍ أَوْ أَبِي عَسِيمٍ قَالَ بَهْزٌ: إِنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ: ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا، قَالَ: فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ، الْحَدِيثَ
سیّدنا ابوعسیب (یا ابوعسیم) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جبکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ جنازہ میں حاضر تھے، وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے آپس میں کہا کہ اب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ ایک نے کہا: مختلف گروہوں کی صورت میں داخل ہوتے جاؤ۔ پس وہ ایک دروازہ سے داخل ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھتے اور دوسرے دروازہ سے باہر نکل جاتے، …۔ الحدیث۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3148]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21047»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام نے مختلف گروہوں کی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ ادا کی تھی، ممکن ہے کہ ہر گروہ باجماعت نماز جنازہ ادا کرتا ہو یا علیحدہ علیحدہ، دونوں احتمال موجود ہیں۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس انداز میں نماز جنازہ ادا کرنا، اس کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے باہر نہیں نکالنا چاہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کی روایات (سنن ابن ماجہ:۱۶۲۸) میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اور دلائلِ (بیہقی:۷/ ۲۵۰) میں سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہیں، لیکن وہ ضعیف ہیں، البتہ نماز جنازہ کا قصہ شواہد کی بنا پر درست ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 3149
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي قَتْلَى أُحُدٍ: ( (لَا تُغَسِّلُوهُمْ، فَإِنَّ كُلَّ جُرْحٍ أَوْ كُلَّ دَمٍ يَفُوحُ مِسْكًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: تم انہیں غسل نہ دو، کیونکہ قیامت کے دن ان کے ہر زخم یا خون سے کستوری کی خوشبو پھوٹے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3149]
تخریج الحدیث: «أخرج بنحوه البخاري: 1343، 1345، 1346، 1353، 4079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14238»
الحكم على الحديث:
أخرج بنحوه البخاري: 1343
حدیث نمبر: 3150
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَدَفَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کو نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3150]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه أبوداود: 3136، والترمذي: 1016، ھذا حديث طويل، تقدم برقم:134، ولم يذكر ابوداود لفظة: ’’ولم يصلي عليھم‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12325»
وضاحت: فوائد: … ”شہید کو غسل نہ دینے کا بیان“ کے باب میں یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ شہید کی نماز جنازہ پڑھنا اور نہ پڑھنا دونوں طرح درست ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه أبوداود: 3136
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالسِّقْطِ وَعَدَمِهَا
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3151
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَقَالَ: ( (إِنَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مَنْ يُتِمُّ رَضَاعَهُ، وَهُوَ صِدِّيقٌ) )
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ، جو سولہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے، کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے متعلق یہ بھی فرمایا تھا کہ اس کے لیے جنت میں (خواتین) ہیں جو اس کی رضاعت مکمل کریں گی، (یہ میرا بیٹا) صِدِّیق ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3151]
تخریج الحدیث: «قوله((إِنَّه لَهُ فِي الْجَنَّةِ مَنْ يُتِمُّ رَضَاعَهُ))صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي أخرجه البخاري: 1382، 3255 بلفظ: لما توفي ابراهيم g قال رسول اللهV: ((ان له مرضعا في الجنة۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18497، 18502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18691»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ اٹھارہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے، صحیح روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی، وہ تمام روایات جن میں ان پر نماز جنازہ ادا کرنے کا ذکر ہے، سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں۔ اس مسئلہ کے لیے ملاحظہ ہو: (نصب الرایۃ: ۲/ ۲۷۹،زاد المعاد: ۱/ ۵۱۳)
الحكم على الحديث:
قوله((إِنَّه لَهُ فِي الْجَنَّةِ مَنْ يُتِمُّ رَضَاعَهُ))صحيح
حدیث نمبر: 3152
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (السِّقْطُ (وَفِي رِوَايَةٍ الطِّفْلُ) يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ) )
سیّدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبل از وقت نامکمل پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اس کے والدین کے حق میں مغفرت و رحمت کی دعا کی جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3152]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1031، وابن ماجه: 1507، والنسائي: 4/ 56 بلفظ: ((والطفل يصلي عليه۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18162، 18174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18358»
وضاحت: فوائد: … احادیث صحیحہ کی روشنی میں حمل ٹھہرنے سے چار ماہ کے بعدبچے میں روح پھونک دی جاتی ہے اور وہ ایک (زندہ) جان بن جاتا ہے، اس لیے اگر اس مدت کے بعد حمل ساقط ہو جاتا ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، جس میں اس کے والدین کے لیے دعا کی جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1031