🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ مَا يُقَالُ مِنَ الْأَدْعِيَةِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3183
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیّدناابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3183]
تخریج الحدیث: «رجال اسناد ثقات رجال الشيخين، لكن اختلف فيه علي يحيي بن ابي كثير أخرجه الطبراني في ’’الدعائ‘‘: 1171، والنسائي في ’’عمل اليوم والليلة‘‘: 1086، والبيھقي: 4/ 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17688»

الحكم على الحديث:
رجال اسناد ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3184
وَعَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ابوابراہیم انصاری نے بھی اپنے باپ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، ابوابراهيم وابوه لا يعرفان، وقد اختلف فيه علي يحيي بن ابي كثير أخرجه الترمذي: 1024، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:17543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17684»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3185
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ، أَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ) )
سیّدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (ایک جنازے میں) یہ دعا کرتے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِی ذِمَّتِکَ وَحَبْلِ جِوَارِکَ، فَقِہِ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ، أَنْتَ أَہْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، اَللّٰہُمَّ فَاغْفِرْلَہُ وَارْحَمْہُ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! فلاں بن فلاں تیری حفاظت اور عہد و امان میں ہے، پس اسے قبر کے فتنے اور آگ کے عذاب سے بچا،تو وفا والا اور حق والا ہے، اے اللہ! پس اس کو بخش دے ور اس پر رحم فرما، پس بیشک تو بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3185]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3202، وابن ماجه: 1499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16114»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد کی روایت میں ”اَللّٰھُمَّ“ کی جگہ پر ”اَلَا“ کے الفاظ ہیں، اس سے مراد میت کے لیے دعا کرنا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3202
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3186
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ (الْأَشْجَعِيِّ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فَفَهِمْتُ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَيْهِ: ( (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَنَجِّهِ مِنَ النَّارِ وَقِهِ عَذَابَ الْقَبْرِ) )
سیّدنا عوف بن مالک اشجعی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک میت کی نماز جنازہ پڑھتے دیکھا، میں نے سمجھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ وَارْحَمْہُ وَعَافِہِ واعْفُ عَنْہُ وَأَکْرِمْ نُزُلَہُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَہُ وَاغْسِلْہُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّہِ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الْثَوْبَ الْأَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا مِنْ دَارِہِ وَأَہْلًا خَیْرًا مِنْ أَہْلِہِ وَزَوْجًا خَیْرًا مِنْ زَوْجِہِ وَأَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَنَجِّہِ مِنَ النَّارِ وَقِہِ عَذَابَ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! اس کو بخش دے، اس پر رحم کر، اسے عافیت دے، اس کو معاف کر دے،اس کی قیام گاہ کو عزت والا بنا، اس کے داخل ہونے کی جگہ کو وسیع کر دے، اس کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اس کو گناہوں سے یوں پاک کر دے، جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا، تو اس کے گھر کی بہ نسبت اچھا گھر، اہل کی بہ نسبت اچھے اہل اور بیوی کی بہ نسبت اچھی بیوی عطا فرما، اس کو جنت میں داخل کر دے اور اس کو آگ سے نجات عطا فرما اور قبر کے عذاب سے بچا لے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3186]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 963، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24475»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 963
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَوْقِفِ الْمُصَلَّى مِنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ إِمَامًا أَوْ مُنْفَرِدًا وَكَيْفَ يَفْعَلُ إِذَا اجْتَمَعَتْ أَنْوَاعٌ مِنَ الْجَنَائِزِ
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو¤اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3187
عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أُتِيَ بِجَنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِيرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةِ امْرَأَةٍ، فَقَامَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ حِذَاءَ السَّرِيرِ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ! أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ نَحْوًا مِمَّا رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ فَقَالَ: احْفَظُوا
ابو غالب کہتے ہیں کہ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مرد کا جنازہ لایا گیا، پس وہ چارپائی (یعنی میت) کے سر کے پاس کھڑے ہوئے، پھر جب عورت کا جنازہ لایا گیا تو وہ اس سے نیچے چارپائی کے برابر کھڑے ہوئے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو علاء بن زیاد نے ان سے کہا: اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مرد اور عورت کے جنازہ میں اسی طرح کھڑے ہوا کرتے تھے، جس طرح میں نے آپ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر علاء بن زیاد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: یہ مسئلہ یاد کر لو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3187]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3194، وابن ماجه: 1494، والترمذي: 1034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12204»
وضاحت: فوائد: … ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِہٖ۔ (اس کے سر کے برابر کھڑے ہوئے) ”وہ اس سے نیچے چارپائی کے برابر کھڑے ہوئے۔“اس کی وضاحت بھی ابوداود کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے: فَقَامَ عِنْدَ عَجِیْزَتِھَا۔ (پس وہ اس کے سرین کے پاس کھڑے ہوئے)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3194
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3188
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أُمِّ فُلَانٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: أُمِّ كَعْبٍ) مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسْطَهَا
سیّدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام فلاں(یعنی سیدہ ام کعب رضی اللہ عنہا)، جو نفاس کی حالت میں فوت ہوئی تھیں، کی نماز جنازہ پڑھی اور اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3188]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:332، 1331، ومسلم: 964، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20424»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ امام کو مرد میت کے سر کے سامنے اور عورت میت کے سرین کے سامنے کھڑے ہونا چاہیے،امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے، لیکن امام ابوحنیفہ کے ایک قول کے مطابق امام ہر میت کے سینے کے برابر کھڑا ہو گا، وہ مرد ہو یا عورت، لیکن ان روایات کی روشنی میں پہلا مسلک قوی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري:332
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3189
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ كَأَنَّهُمْ عُرْفُ دِيكٍ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی،سیّدناابوطلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا، ان کے پیچھے کھڑی ہوگئیں، وہ مرغ کی کلغی کی طرح لگ رہے تھے، سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث: «اسناده ضيعف لجھالة أم يحيي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13303»
وضاحت: فوائد: … مرغ کی کلغی سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے تھے، جیسے مرغ کی کلغی پر ابھرے ہوئے لگاتار نشان ہوتے ہیں۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث شواہد کی بنا پر صحیح ہے، دیکھیں باب: ”نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان“

الحكم على الحديث:
اسناده ضيعف لجھالة أم يحيي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ
مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3190
عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأُتِيَ بِجَنَازَتِهِ أَمَرَتْ بِهِ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنْ يُمَرَّ بِهِ عَلَيْهَا فَشُقَّ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى الْقَوْلِ، مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سیّدناسعد بنی ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور ان کی میت کو (قبرستان کی طرف) لے جایا جا رہا تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کی میت کو ان کے پاس سے گزارا جائے، پس اس میت کو مسجد کے وسط میں رکھا گیا اور انھوں نے اس کے لیے دعا کی، لیکن جب لوگوں نے اس طرح کرنے پر انکار کیا تو سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگ عیب نکالنے میں کس قدر جلدی کرتے ہیں، حقیقت ِ حال تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیضاء کے بیٹے کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3190]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مسلم: 973، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24498 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25003»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه مسلم: 973
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3191
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَرْسَلَتْ هِيَ وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يُمَرُّوا بِهِ عَلَيْنَا فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى عَلَيْهِ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنَ النَّاسِ حِينَ يُنْكِرُونَ هَذَا؟ فَوَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَهْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ
(دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری بیویوں نے سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لواحقین کی طرف طرف پیغام بھیجا کہ وہ اس میت کو ہمارے ہاں مسجد میں لے کر آئیں، پس امہات المومنین نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، لوگوں نے اس صورت پر انکار کیا،جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: کیا تم کو ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اس صورت پر انکار کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا سہل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3191]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25871»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَاللّٰہِ! لَقَدْ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِVعَلَی ابْنَیْ بَیْضَائَ فِیْ الْمَسْجِدِ۔ یعنی: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تھی۔ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ مسجد میں میت رکھنا اور اس کی نماز جنازہ ادا کرنا درست ہے، امام شافعی اور امام احمد کا یہی مسلک ہے، لیکن امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنا مکروہ ہے، کیونکہ ان کے نزدیک میت نجس اور پلید ہوتی ہے، لیکن مذکورہ بالا حدیث سے اس رائے کا ردّ ہوتا ہے، اسی طرح میت کو پلید قرار دینے کی رائے بھی درست نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25871
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3192
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ) )
لیکن یہ روایت صحیح ہے، کیونکہ اس صالح سے ابن ابی ذئب کا سماع اس کے اختلاط سے پہلے کا تھا، جیسا کہ شیخ البانی نے وضاحت کی ہے، ملاحظہ ہو: (صحیحہ: ۲۳۵۱۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۹۱، وابن ماجہ: ۱۵۱۷(انظر: ۹۷۳۰)۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3192]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، صالح مولي التوأمة كان قد اختلط ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9728»
وضاحت: فوائد: … اگر اس روایت کے لفظ ”لَہٗ“ میں ”لام“ کو ”عَلٰی“ کے معنی میں لیا جائے تو اس روایت کا معنی یہ ہو گا: ”جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ جبکہ سنن ابوداود کے الفاظ بھی ”فَـلَا شَیْئَ عَلَیْہِ“ کے ہیں اور قرآن و حدیث نصوص میں ”لام“ کو ”عَلٰی“ کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ اَسَأْتُمْ فَلَھَا} یعنی ”فَعَلَیْھَا“ اگر اس حدیث کا یہ معنی کیا جائے تو اس کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سابقہ روایات سے کوئی تعارض نہیں رہے گا، لیکن اس کا معنی ”اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہے“ ہی کیا جائے تو پھر تعارض پیدا ہو جائے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں