🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالسِّقْطِ وَعَدَمِهَا
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3153
عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ لَوْ عَاشَ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا
اسمٰعیل سدی کہتے ہیں میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فرزند ابراہیمؓ کی نماز جنازہ پڑھی تھی؟ انہوں کہا، مجھے معلوم نہیں۔ ابراہیم رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، وہ اگر زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3153]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن سعد: 1/ 140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14030»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع کی موقوف روایات کو بھی مرفوع کا حکم دیا جائے گا، کیونکہ ان کا رائے اور اجتہاد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا: وہ چھوٹی عمر میں ہی فوت گئے تھے، اگر یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن سعد: 1/ 140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ تَرْكِ الْإِمَامِ الصَّلَاةَ عَلَى الْغَالِّ وَقَاتِلِ نَفْسِهِ وَنَحْوِهَا
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3154
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ اٹھارہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3154]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 3187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26836»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچے کی نماز جنازہ نہ پڑھنا بھی درست ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه ابوداود: 3187
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3155
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّي بِخَيْبَرَ، وَأَنَّهُ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ) ) ، قَالَ: فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ قَالَ: ( (إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ) ) ، فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ
سیّدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان خیبر میں فوت ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خود ہی اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ یہ سن کر صحابہ کے چہرے متغیر ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کی پریشانی دیکھی تو فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں (مالِ غنیمت میں سے) خیانت کی ہے۔ پھر ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہودیوں کے موتیوں میں سے کچھ موتی ملے، جو دو درہموں کے برابر تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3155]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 2710، والنسائي: 4/ن 64، وابن ماجه: 2848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17031، 21675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17156»
وضاحت: فوائد: … بلاشک و شبہ مسلمانوں کو خائن کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نماز ادا نہ کرنا، اس سے مقصود لوگوں کو زجرو توبیخ کرنا تھا، تاکہ دوسرے لوگ ایسے جرم کا ارتکاب کرنے سے باز رہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس سنت پر عمل کرنے کی صورت یہ ہو گی کہ شہر کے مشہور و معروف علمائے دین ایسے مجرموںکے جنازے میں شرکت کرنے سے گریز کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے خائن لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو درہموں

الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه ابوداود: 2710
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3156
عَنْ سِمَاكَ (ابْنِ حَرْبٍ) أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَاتَ فُلَانٌ، قَالَ: ( (لَمْ يَمُتْ) ) ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كَيْفَ مَاتَ؟) ) ، قَالَ: نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ، قَالَ: فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ) قَالَ: ( (إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ) )
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی فوت ہو گیا، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی فوت ہو گیا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فوت نہیں ہوا۔ اس نے دوبارہ اور پھر سہ بارہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہی بات بتلائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے موت کس طرح آئی ہے؟ اس نے کہا کہ اس نے ایک چوڑے تیر کے ذریعے اپنے آپ کو ذبح کر ڈالا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھرمیں تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3156]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 978، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20816، 20848 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21101»
وضاحت: فوائد: … سنن ابن ماجہ (۱۵۲۶) اور مسند احمد (۲۰۸۸۳) کی دوسری روایت کے آخر میں راویٔ حدیث کے یہ الفاظ بھی مروی ہیں: کُلُّ ذَالِکَ أَدَبٌ مِنْہُ۔ یعنی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کا نماز جنازہ نہ پڑھنا ایک تادیبی کاروائی تھی، تاکہ دوسرے عبرت حاصل کریں اور ایسا اقدام کرنے سے باز رہیں۔ خودکشی کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، بہرحال عام مسلمانوں کو اس کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 978
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3157
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ لِجَنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ قَامَ فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا غَيْرُ ذَلِكَ، قَالَ لِأَهْلِهَا: ( (شَأْنُكُمْ بِهَا) ) ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا
سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز جنازہ کے لیے بلایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں پوچھتے تھے،اگراس کے حق میں بھلائی کی باتیں کی جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے، لیکن اگر اس کے برعکس باتیں کی جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: تم خود اس کا کچھ کر لو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3157]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن حبان: 3057، وعبد بن حميد: 196، والحاكم:1/ 364، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22922»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے اور خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ ادا نہیں کی اورشروع شروع میں مقروض کی نماز جنازہ بھی ادا نہیں کرتے تھے۔ اس حدیث میں برعکس باتوں سے مراد کون سے نقائص ہیں،

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن حبان: 3057
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ هَلْ يُصَلِّي الْإِمَامُ عَلَى مَنْ قُتِلَ فِي حَدٍّ أَمْ لَا
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3158
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِزِنًا، وَقَالَتْ: أَنَا حُبْلَى، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا، فَقَالَ: ( (أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِي) ) ، فَفَعَلَ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَجَمْتَهَا، ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا؟ فَقَالَ: ( (لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسَعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَّ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؟) )
سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جہینہ قبیلے کی ایک خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اقرار کیا اور بتلایا کہ وہ اس وقت حاملہ بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور اس سے فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، جب یہ بچہ جنم دے تو مجھے بتلانا۔ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کے متعلق حکم دیا، سو اس پر اس کا لباس اچھی طرح باندھ دیا گیا اور پھر اسے رجم کرنے کا حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ لیکن سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے پہلے تو اسے رجم کیا اور اب اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اس کو تمام اہل مدینہ میں تقسیم کیا جائے تو وہ سب کو کفایت کر جائے گی۔ بھلا کیا تم نے اس سے افضل چیز بھی پائی ہے کہ اس نے خود کو اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3158]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19861، 19903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20101»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جو فرد شرعی حد کی وجہ سے وفات پا جائے، اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1696
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3159
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَبِيكَ جُنُونٌ؟) ) قَالَ: لَا، قَالَ: ( (أَحْصَنْتَ؟) ) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو اسلم کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا، اس نے پھر اعتراف کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اعراض کیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے اوپر چار گواہیاں دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو پاگل ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے عیدگاہ یا جنازہ گاہ میں لے جا کر رجم کیا گیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا،لیکن پھر اسے پا لیا گیا اور اسے مزید پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں اچھے کلمات کہے، لیکن اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3159]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6820، ومسلم: 1691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14516»
وضاحت: فوائد: … لیکن صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں خیر والی باتیں کہیں اور اس پر نماز جنازہ ادا کی۔ ان دونوں روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کے فوراً بعد نماز نہیں پڑھی، بلکہ بعد میں ادا کی تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6820
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3160
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَخَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ أَصْحَابَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس روز نجاشی کا انتقال ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی دن ہمیں اس کی وفات کی اطلاع دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کی صف بندی کی اور اس پر چار تکبیرات کہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3160]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1245، ومسلم:951، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9644»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ حبشہ میں ہونے والی وفات کا اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چل گیا تھا، حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی ہوتا تھا۔ حافظ ابن حجرkنے کہا: ظاہر بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف اس لیے گئے تاکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد جمع ہو جائے اور یہ بات بھی مشہور ہو جائے کہ اس نے اسلام پر وفات پائی ہے، کیونکہ بعض لوگوں کو اس کے مسلمان ہونے کا علم ہی نہ تھا۔ ابن ابی حاتم نے تفسیر میں

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1245
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3161
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَاتَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ الْحَبَشَةِ، هَلُمَّ فَصُفُّوا) ) ، فَصَفَّفْنَا، قَالَ: فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج حبشہ کا ایک نیک آدمی فوت ہو گیا ہے، اس لیے آؤ اور صفیں بناؤ۔ پس ہم نے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہم نے نماز جنازہ پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3161]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1320، 3877، ومسلم: 952، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14150، 14433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14197»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1320
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3162
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدُ اللَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ) ) ، فَقَامَ فَأَمَّنَا فَصَلَّى عَلَيْهِ
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج اللہ کا ایک نیک بندہ اصحمہ فوت ہو گیا ہے، پس تم کھڑے ہو اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہماری امامت کرائی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3162]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14486»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14486
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں