🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. بَابُ اسْتِلَامِ الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ وَالْيَمَانِيِّ وَعَدَمِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرِينَ
حجراسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے اور دوسرے دو کونوں کا استلام نہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4347
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے صرف دو یمنی کونوں (یعنی رکن یمانی اور حجراسود) کا استلام کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4347]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1609، ومسلم: 1267، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6017»
وضاحت: فوائد: … رکن یمانی اور حجر اسود کو تغلیباً دو یمنی کونے کہہ دیا جاتا ہے، جیسے ”اَبٌ“ اور ”اُمٌّ“ کو ”اَبَوَان“ اور شمس و قمر کو ”قَمَرَان“ کہہ دیتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1609
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4348
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّ وَالْأَسْوَدَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف دو کونوں یعنی رکن یمانی اور حجراسود کا استلام کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4348]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3533»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1269
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4349
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الرُّكْنِ الَّذِي يَلِي الْبَابَ مِمَّا يَلِي الْحَجَرَ، أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ، فَقَالَ: أَمَا طُفْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَهَلْ رَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُهُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَانْفُذْ عِنْدَكَ، فَإِنَّ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةً حَسَنَةً
۔ سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا،جب میں بیت اللہ کے دروازے سے حطیم والے کونے کے پاس پہنچا تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام لیا تاکہ وہ اس کو نے کا بھی استلام کرلیں، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، کیا ہے۔ انھوں نے کہا: توکیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کونوں کا استلام کیا ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں۔تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر اس کو چھوڑو اور آگے بڑھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہی بہترین نمونہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4349]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابويعلي: 182، وعبد الرزاق: 8945، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 253»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابويعلي: 182
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4350
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، قَالَ يَعْلَى فَكُنْتُ مِمَّا يَلِي الْبَيْتَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ جَرَرْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقُلْتُ: أَلَا تَسْتَلِمُ؟ قَالَ: أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: أَفَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْغَرْبِيَّيْنِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: أَفَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَانْفُذْ عَنْكَ
۔ (دوسری سند)سیدنایعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا،انھوں نے حجراسود کا استلام کیا، میں بیت اللہ کے قریب تھا، جب میں حجراسود سے اگلے مغربی کونے کے پاس پہنچا تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ وہ اس کونے کا بھی استلام کرلیں لیکن انھوں نے آگے سے کہا: کیابات ہے؟ میں نے کہا: کیا آپ اس کونے کا استلام نہیں کریں گے؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ طواف نہیں کیا؟ میں نے عرض کیا:جی کیا ہے۔انھوں نے کہا: تو کیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان مغربی کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر کیا تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا: جی کیوں نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اس کو چھوڑو اور آگے کو بڑھو۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4350]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 313»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 313
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. فَصْلٌ مِنْهُ فِي اسْتِلَامِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ ذَلِكَ وَمَا يُفْعَلُ مِنْ زُوحِمَ
حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4351
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْحَجَرِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ
۔ زبیر بن عربی کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حجراسود کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے حجراسود کا بوسہ لے کر اس کا استلام کیا، اس آدمی نے کہا: اگر ہجوم ہوتو؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس اگر مگر کو یمن میں رکھو، میں کہہ رہا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کااستلام کرتے ہوئے اور بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4351]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1611، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6396»
وضاحت: فوائد: … بہرحال حجر اسود کے استلام کے چار طریقے ہیں، حدیث نمبر (۴۳۳۸) میں گزر چکے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1611
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4352
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ فَلَا أَدَعُ اسْتِلَامَهُ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجراسود کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے، اب ہجوم ہویا نہ ہو، میں اس کا استلام نہیں چھوڑوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4352]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1606، ومسلم: 1268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4463»
وضاحت: فوائد: … یہاں استلام سے مراد بوسہ لینا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1606
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4353
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَكَبَّ عَلَى الرُّكْنِ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْ لَمْ أَرَ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ وَاسْتَلَمَكَ، مَا اسْتَلَمْتُكَ وَلَا قَبَّلْتُكَ، {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حجراسود کے اوپرجھکے اور کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے اور تیرا استلام کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی نہ تیرا استلام کرتا اور نہ تجھے بوسہ دیتا۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4353]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه البزار: 191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 131»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اِنِّیْ اَعْلَمُ اَنَّکَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا اَنِّیْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُقَبِّلُکَ مَا قَبَّلْتُکَ۔))سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس مناسبت سے یہ وضاحت کی تھی کہ لوگوں نے کچھ عرصہ پہلے ہی بتوں کی پوجاپات چھوڑی تھی، اس لیے ممکن تھا کہ حجر اسود کے استلام سے ان کو یہ شبہ ہونے لگ جاتا کہ اسلام میں بھی پتھروں کی تعظیم کی جاتی ہے، جیسا کہ دورِ جاہلیت میںعرب لوگ کرتے تھے، سو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واضح کر دیا کہ اس پتھر کا نفع و نقصان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی جا رہی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کا مفہوم یہ ہے کہ امورِ دین میں شارع علیہ السلام کی پیروی کی جائے، اگرچہ ان امور کی حکمتوں اور معنوں کو ہم نہ سمجھ سکیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي ۔ أخرجه البزار: 191
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4354
عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَظَرَ إِلَى الْحَجَرِ فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ، ثُمَّ قَبَّلَهُ
۔ عابس بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حجراسود کی طرف دیکھا اور اس سے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا، پھر انہوں نے اس کو بوسہ دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4354]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1597، ومسلم: 1270، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 99 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 99»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1597
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4355
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: ( (يَا عُمَرُ إِنَّكَ رَجُلٌ قَوِيٌّ لَا تُزَاحِمْ عَلَى الْحَجَرِ فَتُؤْذِيَ الضَّعِيفَ، إِنْ وَجَدْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْهُ وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْهُ فَهَلِّلْ وَكَبِّرْ) )
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: عمر! تم قوی آدمی ہو، اس لیے تم حجراسود پر ہجوم کرکے کمزوروں کو تکلیف نہ پہنچانا،اگر جگہ مل جائے تو استلام کرلینا، وگرنہ اس کی طرف رخ کرکے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ لینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4355]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه البيھقي: 5/ 80، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 190»
وضاحت: فوائد: … یہ اسلام کا ایک سنہری اصول ہے کہ کسی مستحبّ اور افضل چیز پر عمل کرنے کے لیے کسی مسلمان کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے، حجرِ اسود کو بوسہ دینا کتنا عظیم عمل ہے، لیکن اس عظمت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ بیسیوں مسلمانوں کی تکلیف کا باعث بنا جائے۔ آج کل لوگ یہ بوسہ دینے اور ملتزم تک پہنچنے کے لیے غیر محرم عورتوں کے تقدس کو بھی بھول جاتے ہیں اور کوئی لوگوں کو دھکے دیتے ہوئے، کئیوں کے پاؤں کو مسلتے ہوئے اور کئی عورتوں کے جسموں کے ساتھ رگڑ کھاتے ہوئے یہ فضیلت حاصل کرنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه البيھقي: 5/ 80
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ اسْتِلَامِ الْأَرْكَانِ كُلِّهَا
بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4356
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ طَافَ مَعَ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْبَيْتِ، فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: لِمَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْبَيْتِ مَهْجُورًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: صَدَقْتَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا، ہوا یوں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کیا،یہ دیکھ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: آپ بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کیوں کرتے ہیں، جبکہ اللہ کے رسول نے تو ان سب کا استلام نہیں کیا؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیت اللہ کے کسی حصے کو بھی نہیں چھوڑا جا سکتا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (البتہ تحقیق تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے)۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4356]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 858، وأخرجه مسلم: 1269 ولم يذكر قصة معاوية، وعلقه البخاري: 1608 بصيغة الجزم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1877 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1877»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 858
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں