🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. بَابُ مَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ قَتْلُ مِنَ الدَّوَابِّ فِي الْحَرَمِ وَغَيْرِهِ
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4309
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَلَّ مِنْ قَتْلِ الدَّوَابِّ وَالرَّجُلُ مُحْرِمٌ أَنْ يَقْتُلَ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْغُرَابَ الْأَبْقَعَ وَالْحُدَيَّا وَالْفَأْرَةَ، وَلَدَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَقْرَبٌ فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ
۔ (چوتھی سند) حسن سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کو اِن پانچ قسم کے جانوروں کو مارنے کی اجازت دی ہے: سانپ، بچھو، باؤلا کتا، کوا، چیل اور چوہا، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے کہ ایک بچھو نے آپ کو ڈس لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مارنے کا حکم دے دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4309]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قولھا: ’’ولدغ رسول الله عقرب“وھذا اسناد فيه الحسن البصري مدلس، وقد عنعن، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26661»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قولھا: ’’ولدغ رسول الله عقرب ‘‘وھذا اسناد فيه الحسن البصري مدلس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4310
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (خَمْسٌ، كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ، يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْفَأُرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْحَيَّةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانور ہیں، وہ موذی ہیں، محرم بھی ان کو قتل کر سکتا ہے اور حدودِ حرم میں بھی ان کو قتل کیا جا سکتا ہے: چوہا، بچھو، سانپ، کلب ِ عقور اور کوا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4310]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 1097، وابويعلي: 2428، 2693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2330»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 1097
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4311
عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْأَفْعَى، وَالْعَقْرَبَ وَالْحِدَأَةَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْفُوَيْسِقَةَ) ) قُلْتُ: مَا الْفُوَيْسِقَةُ؟ قَالَ: ( (الْفَأْرَةُ) ) قُلْتُ: وَمَا شَأْنُ الْفَأْرَةِ؟ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ وَقَدْ أَخَذَتِ الْفَتِيلَةَ فَصَعِدَتْ بِهَا إِلَى السَّقْفِ لِتُحْرِقَ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محرم ازدہا، بچھو، چیل، باؤلا کتے اور چوہے کو قتل کر سکتا ہے۔ میں نے کہا: فُوَیْسِقَۃ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چوہا۔ میں نے پوچھا: چوہے کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے؟ انھوں نے کہا: ایک دفعہ یوں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور دیکھا کہ چوہا چراغ کی جلتی لو لے کر چھت کی طرف جا رہا تھا تاکہ چھت کو آگ لگا دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4311]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 3089 وفيه ذكر السبع العادي بدل الحدأة وسنده ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11777»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 3089 وفيه ذكر السبع العادي بدل الحدأة وسنده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4312
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ؟ قَالَ: ( (الْحَيَّةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْفُوَيْسِقَةَ، وَيَرْمِي الْغُرَابَ وَلَا يَقْتُلُهُ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْحِدَأَةَ وَالسَّبُعَ الْعَادِيَ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےیہ سوال کیا گیا کہ محرم کون کون سے جانوروں کو قتل کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سانپ، بچھو، چوہے، باؤلے کتے، چیل اور خون خوار درندے کو قتل کرے اور کوے کو ڈرا کر اڑا دے اور اسے قتل نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4312]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي۔ أخرجه ابوداود: 1848، والترمذي: 838، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11003»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي۔ أخرجه ابوداود: 1848
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4313
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ، قَالَ: ( (يَقْتُلُ الْعَقْرَبَ وَالْفُوَيْسِقَةَ وَالْحِدَأَةَ وَالْغُرَابَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون کون سے جانور قتل کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچھو، چوہے، چیل، کوے اور کلب ِ عقورکو قتل کر سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4313]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1827، ومسلم: 1199، 1200، بزيادة لفظة ’’في الصلاة‘‘ في احدي روايات مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4461»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1827
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4314
عَنْ وَبَرَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الذِّئْبِ لِلْمُحْرِمِ يَعْنِي وَالْفَأْرَةَ وَالْغُرَابِ وَالْحِدَاءِ) ) فَقِيلَ لَهُ: فَالْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ يُقَالُ ذَاكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کو حکم دیا کہ وہ بھیڑیئے، چوہے، کوے اور چیل کو مار قتل کرے۔ ان سے کہا گیا: سانپ اور بچھو کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا ہاں: روایات میں ان کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4314]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الدارقطني: 2/ 232، والبيھقي: 5/ 210، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4737»

الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه الدارقطني: 2/ 232
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4315
عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي إِحْدَى النِّسْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يُقْتَلُ الْحُدَيَّا وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ) )
۔ زید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا کہ محرم کون کون سے جانوروں کو قتل کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے ایک خاتون نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چیل، کوے، باؤلے کتے، چوہے اور بچھو کو مارا جا سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4315]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1827، 1828، ومسلم: 1200، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26971»
وضاحت: فوائد: … ”اَلْکَلْبُ الْعَقُوْرُ“:حقیقت میں اس لفظ کا اطلاق ہر زخمی کرنے والے اور چیر پھاڑ کرنے والے درندے پر بھی ہوتا ہے، جیسے شیر، چیتا، بھیڑیا۔ درندگی میں اشتراکیت کی وجہ سے ان کو بھی ”کَلْب“ کہتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی) ہڑکائے ہوئے اور باؤلے کتے کا بھییہی حکم ہو گا۔
امام مالک نے ”المؤطا“ میںکہا: ہر وہ جانور جو لوگوں کوکاٹے، ان پر حملہ کرے اوران کو ڈرائے، مثلا: شیر، چیتا، فہد، بھیڑیا، وہ عَقُور ہے۔ (فہد،چیتے کی طرح کا ایک درندہ ہوتا ہے)ابو عبیدہ نے سفیان سے یہی قول نقل کیا ہے اور یہی جمہور اہل علم کی رائے ہے۔ ان جانوروں کے لیے لفظ ”فَاسِق“ استعمال ہوا، اس کا لفظی معنی ہے نکلنے والا، یہاں اس سے مراد وہ جانور ہیں کہ تکلیف پہنچانے اور افساد انگیزی کی وجہ سے جن کا حکم دوسرے جانوروں کے حکم سے خارج ہو گیا ہے۔
اس باب کی احادیث صحیحہ میں درج ذیل کل سات جانوروں کا ذکر ہوا ہے: بچھو، کوا، چیل، چوہا، کلب عقور، سانپ، بھیڑیا۔ کیا ان کے علاوہ کسی جانور کو قتل نہیں کیا جا سکتا؟ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: روایات کے مطابق پانچ جانوروں کو مقید کرنا، اگرچہ اس کے مفہوم میں خصوصیت پائی جاتی ہے، لیکنیہ مفہوم العدد ہے، جو اکثر اہل علم کے نزدیک حجت نہیں ہے، اگر اس کی حجیت تسلیم کر لیں تو اس کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ شروع شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ جانوروں کے بارے میں ہی حکم دیا، بعد میں ان میں اضافہ کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بعض طرق میں ”چار“ کا اور بعض میں ”چھ“ کا لفظ روایت کیا گیا ہے، ”چار“ کی روایت صحیح مسلم میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر نہیں ہے اور ”چھ“ کی روایت مستخرج ابو عوانہ میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر موجود ہے اور سانپ کا اضافہ کیا گیا ہے، صحیح مسلم کی شیبان کیروایت اس روایت کا شاہد ہے، اگرچہ اس میں کسی عدد کا ذکر نہیں ہے، …۔ (فتح الباری: ۴/ ۴۴)
جن روایات میں خون خوار درندے اور چیتے وغیرہ کے الفاظ ہیں، ان پر نقد کیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ بالا جن جانوروں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے یہ جانور انسان کے لیے ضرر، نقصان، تکلیف، خوف اور فساد کا سبب بن سکتے ہیں، بلکہ اِن کی وجہ سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے، اس لیے جس جانور میں یہ وصف پایا جائے، محرِم و غیر محرِم کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اس کو حرم اور غیر حرم میں قتل کر دے، جبکہ کلب ِ عقور کا مفہوم بھییہی بنتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1827
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. باب
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: Q4316]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي الْغُسْلِ لِدُخُولِ مَكَّةَ
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4316
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا دَخَلَ أَدْنَى الْحَرَمِ أَمْسَكَ عَنِ التَّلْبِيَةِ، فَإِذَا انْتَهَى إِلَى ذِي طُوًى بَاتَ فِيهِ حَتَّى يُصْبِحَ، ثُمَّ يُصَلِّي الْغَدَاةَ وَيَغْتَسِلُ، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ ضُحًى فَيَأْتِي الْبَيْتَ ضُحًى فَيَأْتِي الْبَيْتَ فَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَرْمُلُ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ، يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، فَإِذَا أَتَى عَلَى الْحَجَرِ اسْتَلَمَهُ وَكَبَّرَ، أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ مَشْيًا ثُمَّ يَأْتِي الْمَقَامَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْحَجَرِ فَيَسْتَلِمُهُ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّفَا مِنَ الْبَابِ الْأَعْظَمِ فَيَقُومُ عَلَيْهِ فَيُكَبِّرُ سَبْعَ مِرَارٍ، ثَلَاثًا يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب حرم کے قریب پہنچتے تو تلبیہ پکار نا بند کردیتے اور جب ذی طوی میں پہنچتے تو رات وہاں بسر کرتے، جب صبح ہوجاتی تو نمازِ فجر کے بعد غسل کرتے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے، اس کے بعد چاشت کے وقت مکہ میں داخلہ ہوتے، بیت اللہ میں جاکر حجر اسود کو استلام کرتے اور کہتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، پھر طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتا ر سے چلتے، جب حجر اسود کے قریب آتے تو اس کا استلام کرتے اور اَاللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔ باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلتے، بعد ازاں مقامِ ابراہیم کے پاس آکر دو رکعت اداکرتے، اس کے بعد پھر حجر اسود کے پاس آکر اس کا استلام کرتے، پھر بڑے دروازے کے راستہ سے صفا کی طرف جاتے، اس کے اوپر کھڑے ہوکر سات دفعہ تکبیر کہتے، ان میں سے تین بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور یہ دعا پڑھتے: لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیرٌ۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4316]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1573، 1274،، ومسلم: 1259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4628»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ حج کے موقع پر جب حرمِ مکی میں داخل ہوتے تو اس وقت سے لے کر سعی سے فارغ ہونے تک تلبیہ بند کر دیتے، لیکن جمہور اہل علم کی رائے اس سے مختلف ہے، جس کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے۔ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، اگر کوئی آدمی ذو طوی کے راستے سے آرہا ہو تو وہ اس مقام پر غسل کرے اور اگر وہ کسی اور راستے سے آ رہا ہے تو اتنی مسافت پہلے غسل کرنا لینا چاہیے۔
ذو طوی: مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
رمل: چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے اور کندھے ہلاتے ہوئے ہلکی ہلکی دوڑ لگانا ”رمل“ کہلاتا ہے۔ صرف طوافِ عمرہ یا طوافِ قدوم کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا جاتا ہے۔
”سات دفعہ تکبیر کہتے“ ان الفاظ کا مفہوم ایک تو وہ ہو سکتا ہے جو ترجمہ سے واضح ہے اور ایکیہ ہے کہ صفا اور مروہ کے سات چکروں میں سے ہر ایک چکر میں اللہ کی بڑھائی بیان کرتے اور پھر آگے ہر چکر میں کن الفاظ کے ساتھ یہ بڑھائی بیان کی جائے، اس کی وضاحت ہے۔ یعنی تین دفعہ اللہ اکبر اور بعد میں وہ پورے الفاظ جو حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ مفصل روایات میں یہ دوسری کیفیت میں تکبیرات اور توحید کا اظہار کرنے کا ذکر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1573
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4317
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَبِيتُ بِذِي طُوًى فَإِذَا أَصْبَحَ اغْتَسَلَ وَأَمَرَ مَنْ مَعَهُ أَنْ يَغْتَسِلُوا وَيَدْخُلُ مِنَ الْعُلْيَا، فَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ السُّفْلَى، وَيَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ذی طویٰ میں رات بسر کرتے، صبح ہوتی تو غسل کرتے اور جو لوگ ان کے ساتھ ہوتے انہیں بھی غسل کرنے کا حکم دیتے اور ثنیۂ علیا کی جانب سے مکہ میں داخل ہوتے، لیکن جب مکہ سے باہر جانا ہوتا تو ثنیۂ سفلٰی کے راستہ سے جاتے، پھر وہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4317]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1575، 1576، ومسلم: 1258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6462»
وضاحت: فوائد: … ثنیۂ علیا سے مراد بالائی گھاٹی ہے، جس سے آدمی اہل مکہ کے قبرستان ”المُعَلّٰی“ کے دروازے پر جا نکلتا تھا، اس کو حجون بھی کہتے تھے، یہ انتہائی دشوار گزار گھاٹی تھی، بالترتیب سیدنا معاویہ، عبد الملک اور مہدی نے اس کو کچھ ہموار بنا کر آسان کیا، پھر۸۱۱ھ میں اس کو کچھ اور ہموار کیا گیا، بعد ازاں۸۲۰ ھـ ملک مؤید نے اس ساری گھاٹی کو ہموار کر دیا تھا۔ ثنیۂ سفلٰی،یہ گھاٹی باب شبکہ کے پاس ہے، جو شعب ِ شامیین اور شعب ِ ابن الزبیر کے قریب ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1575
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں