🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. بَابُ اسْتِلَامِ الْأَرْكَانِ كُلِّهَا
بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4357
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَطَافَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَاسْتَلَمَ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِنَّمَا اسْتَلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ، قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ: النَّاسُ يَخْتَلِفُونَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، يَقُولُونَ: مُعَاوِيَةُ هُوَ الَّذِي قَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبَيْتِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ وَلَكِنَّهُ حَفِظَهُ مِنْ قَتَادَةَ هَكَذَا
۔ ابوطفیل کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں مکہ مکرمہ آئے، سیدنا ا بن عباس رضی اللہ عنہ نے طواف کیا اور انہوں نے بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف یمنی کونوں کا استلام کیا ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بیت اللہ کا کوئی بھی حصہ چھوڑا ہوا نہیں ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: راویوں نے اس حدیث کو مختلف اندازوں میں بیان کیا ہے،وہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی تھی کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی چھوڑا نہیں جا سکتا، لیکن انھوں نے قتادہ سے یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4357]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، علي قلب في متنه، فالمحفوظ ان القائل: ’’ليس من البيت شيء مھجور‘‘ ھو معاوية۔ انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16983»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذاتی رہے تھی کہ چاروںکونوںکا استلام کیا جائے، لیکن جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل بیان کیا تو انھوں نے اسی عمل کا اعتراف کیا اور یہی مؤمن کی شان ہے کہ حق کے واضح ہو جانے کے بعد وہ اپنی رائے کو ترک کر کے حق کی پیروی کرتا ہے، جبکہ حق کی طرف رجوع کرنے میں فضیلت و عظمت ہے۔
قارئین سے گزارش ہے کہ وہ یہ نقطہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ بسا اوقات ہمارے فہم کے تقاضے اور ہوتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے تقاضے اور ہوتے ہیں، کعبۃ اللہ کے چار کونے ہیں، ایک کونے میں حجر اسود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے چار طریقوں سے اس کا استلام کرنے کو مشروع قرار دیا، جبکہ رکن یمانی کو حسب ِ امکان صرف مسّ کرنے کا حکم دیا اور باقی دو کونوں کو بالکل چھوڑ دیا، اب اگر کوئی آدمی رکن یمانی کو بوسہ دینا شروع کر دے یا دوسرے دو کونوں کا استلام بھی شروع کر دے تو اسے وہی بات کہی جائے گی، جو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہی تھی اور انھوں نے جواباً ان کی تصدیق کی تھی۔ اب بھی دورانِ طواف کئی لوگ درج ذیل امور کی پابندی کرتے ہیں، جبکہ یہ تمام امور خلافِ شرع ہیں: حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے ہاتھوں کو چومنا، رکن یمانیکو چومنا یا اس رکن کی طرف اشارہ کرنا، دورانِ طواف بآواز بلند اجتماعی ذکر کرنا، ہر چکر کے لیے مخصوص اذکار کا اہتمام کرنا، رکن یمانی کو چھونے اور حجر اسود کو بوسہ دینے اور ملتزم تک پہنچنے کے لیے خوب دھکم پیل کرنا، لوگوں کے پاؤں مسلنا اور غیرمحرم عورتوں کے جسموں سے رگڑ کھا کر جانا۔

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرِهِ وَغَيْرِهِ وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِحَاجَةٍ)
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ¤کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4358
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدِ اشْتَكَى، فَطَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ وَمَعَهُ مِحْجَنٌ، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ اسْتَلَمَهُ بِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَنَاخَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے، ان دنوں آپ کچھ بیمار تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پر سوارہوکر طواف کیاتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک لاٹھی تھی،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجراسود کے پاس سے گزرتے تو اس کے ساتھ حجراسود کا استلام کرتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو آپ نے اونٹ کو بٹھادیا اور دورکعت نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4358]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 1881، وأخرجه البخاري: 1607، ومسلم: 1272 بلفظ: عن ابن عباس ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم طاف بالبيت علي راحلته يستلم الركن بمحجن۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2773»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4359
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ:) وَأَتَى السِّقَايَةَ فَقَالَ: ( (اسْقُونِي) ) فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: ( (لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ) )
۔ (دوسری سند) یہ حدیث دوسری سندسے بھی اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف کے بعد وہاں تشریف لائے، جہاں زمزم کا پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی پلاؤ۔ انہوں نے کہا: اس پانی کو تو لوگ متأثر کرتے رہتے ہیں، ہم آپ کے لیے گھر سے (صاف) پانی لے آتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیں ہے، جہاں سے لوگ پی رہے ہیں، وہیں سے مجھے بھی پلا دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4359]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول۔ أخرجه البخاري: 1635 بلفظ: عن ابن عباس: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم جاء الي السقاية فاستسقي،فقال العباس: يا فضل! اذھب الي امك فأت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم بشراب من عندھا، فقال: ((اسقني۔)) قال: يا رسول الله! انھم يجعلون ايديھم فيه، قال: ((اسقني۔)) فشرب منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1841»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع، عدم تکلف، سادگی اور حسن اخلاق کا ایک انداز تھا کہ جو چیز عام لوگ استعمال کر رہے ہیں، اسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کیلئے ترجیح دی، جبکہ صاف پانی مہیا کرنے والے لوگ موجود تھے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول۔ أخرجه البخاري: 1635 بلفظ: عن ابن عباس: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم جاء الي السقاية فاستسقي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4360
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَدِمَتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ) ) قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ، قَالَ أَبِي: وَقَرَأْتُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي بِجَنْبِ الْبَيْتِ، وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ آئیں تو وہ ان دنوں بیمار تھیں، انہوں نے اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم سوار ہوکر لوگوں سے پرے ہٹ کر طواف کرلو۔ وہ کہتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے پاس تھے اور سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔امام احمد کہتے ہیں: میں نے عبد الرحمن پر یہ روایت پڑھی: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پس میں نے طواف کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا کر رہے تھے اور اس میں سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4360]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 464، 1619، 1626، ومسلم: 1276، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27250»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 464
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4361
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى نَاقَةٍ (وَفِي لَفْظٍ عَلَى رَاحِلَتِهِ) يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی لاٹھی کے ساتھ حجراسود کا استلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفاومروہ کی سعی بھی سواری پر کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4361]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1607، ومسلم: 1272، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2118»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1607
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4362
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ فَكُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ وَكَبَّرَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجر اسود کے سامنے آتے تو اس کی طرف اشارہ کرکے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4362]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2378»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6299
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4363
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ
۔ سیدناابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کررہے تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کااستلام کررہے تھے، جبکہ میں اس وقت جوان تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4363]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23798 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24208»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں یہ زیادتی ہے: وَیُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ۔ … اور لاٹھی کو بوسہ دیتے تھے۔
سیدنا قدامہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ اونٹنی پر سوار تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کا استلام کررہے تھے۔
فوائد: … سواری پر طواف اور سعی کرنے کی مزید روایات اور اس کی وجوہات:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ((طَافَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْکَعْبَۃِ عَلٰی بَعِیْرِہٖیَسْتَلِمُ الرُّکْنَ کَرَاھِیَۃَ اَنْ یُضْرَبَ عَنْہُ النَّاسُ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر کعبہ کے ارد گرد اپنے اونٹ پر طواف کیا، وہیں سے حجر اسود کا استلام کر لیتے، (سوار ہونے کی وجہ یہ تھی کہ) آپ ناپسند کرتے تھے کہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کرنے کے لیے مارا جائے۔ (صحیح مسلم)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((طَافَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ عَلٰی رَاحِلَتِہٖبِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِیَرَاہُ النَّاسُ وَلِیُشْرِفَ وَلِیَسْأَلُوْہُ فَاِنَّ النَّاسَ غَشُوْہُ)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی سواری پر اس لیے کی تھی تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ سکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو اوپر سے دیکھ سکیں اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر سکیں، بات یہ تھی کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہجوم کیا ہوا تھا۔ (ابوداود، نسائی)
ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی عذر کی وجہ سے سواری پر طواف اور سعی کی جا سکتی ہے، نیز جو امام لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہو یا لوگ جس کی اقتدا کر رہے ہوں یا اس کو اپنی طرف لوگوں کے ہجوم کا خطرہ ہو تو ایسا امام طواف اور سعی کے دوران سوار ہو سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1275
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. بَابُ الطَّائِفِ يَخْرُجُ فِي طَوَافِهِ عَنِ الْحِجْرِ لِيَكُونَ طَائِفًا بِالْبَيْتِ كُلِّهِ مِنْ وَرَاءِ
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی¤بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4364
عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ
سیدنا قدامہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ اونٹنی پر سوار تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کا استلام کررہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4364]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابو يعلي: 928، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 80، وفي ’’الاوسط‘‘: 8024، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15414/1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15491»
وضاحت: فوائد: … حطیم، کعبہ کا حصہ ہے، اس لیے طواف کے دوران حطیم کے باہر سے چکر لگانا چاہیے۔ اب اس حصے پر چار پانچ فٹ اونچی اور تین چار فٹ چوڑی دیوار موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حطیم کی جانب والے بیت اللہ کے دو کونوں کا استلام نہ کرنا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اس کی جو وجہ بیانکی ہے، یہ ان کا ذاتی فہم اور فقہ ہے، وگرنہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تعمیرِ کعبہ کے بارے میں ہدایات دی تھیں، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دوکونوں کے استلام کے مسئلے کی وضاحت بھی کر دینی تھی۔ اخراجات کی کمی کی وجہ سے قریشی پوری عمارت تعمیر نہ کر سکے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابو يعلي: 928
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4365
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْمِكِ حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ، اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام؟) ) قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ لَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ) ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِرَادَةً أَنْ تَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ كُلِّهِ مِنْ وَرَاءِ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا:”کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ جب تمہاری قوم قریش نے بیت اللہ کی تعمیر کی تو وہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر اس کی تعمیر کرنے سے عاجز رہ گئے تھے؟ میں نے عرض کیا: تو کیا آپ اسے ابراہیمی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر نہیں کر دیتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر کو چھوڑ کر نہ آئی ہوتی تو ایسا کر دینا تھا۔“ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ چونکہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر نہیں ہوا تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حطیم کی جانب بیت اللہ کے دو کونوں کا استلام نہیں کیا، اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ ہو گا کہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے وقت ابراہیمی بنیادوں والے مکمل بیت اللہ کا چکر پورا کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4365]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1584، ومسلم: 1333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25338»
وضاحت: فوائد: … ہر چیز میں اللہ تعالی کی کوئی نہ کوئی حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ حطیم، کعبۃ اللہ کا حصہ ہے، جو آدمی کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کا خواہش مند ہو، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا، تو وہ حطیم میں پڑھ لے، کعبہ کی موجودہ عمارت میں داخل ہونے کا اعزاز تو صرف حکمران طبقے کے لیے مخصوص ہو گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1584
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4366
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدِي فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ لِي: ( (صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دَخُولَ الْبَيْتِ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ، فَأَخْرَجُوهُ مِنَ الْبَيْتِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں چاہتی تھی کہ بیت اللہ کے اندر داخل ہوکر نماز پڑھوں، لیکن ہوا یوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اورمجھے حطیم کے اندر داخل کر کے مجھ سے فرمایا: اگر تم بیت اللہ کے اندر جانا چاہتی ہو تو یہاں نماز پڑھ لو، کیونکہ یہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے، لیکن چونکہ تمہاری قوم قریش کعبہ کی تعمیر کے وقت ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر کرنے سے قاصر رہی، اس لیے انہوں نے اتنا حصہ بیت اللہ سے نکال دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4366]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2028، والترمذي: 876، والنسائي: 5/219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25123»
وضاحت: فوائد: … اصولِ فقہ کا ایک قانون ہے، جس کو دو طرح سے تعبیر کیا گیا ہے: ”یُدْفَعُ اَشَدُّ الضَّرَرَیْنِ بِتَحَمُّلِ اَخَفِّھِمَا“ (چھوٹے ضرر کو اختیار کر کے بڑے ضرر سے بچا جائے گا)”دَفْعُ اَعْظَمِ الْمَفْسَدَتَیْنِ بِاحْتِمَالِ اَدْنَاھُمَا“ (چھوٹی مفسدت کو اختیار کر کے بڑی مفسدت سے بچا جائے گا)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث ِ مبارکہ سے بھییہی قانون ثابت ہے کہ ایک طرف قریب الاسلام لوگوں کے متنفر ہو جانے کی متوقع مفسدت ہے اور دوسری طرف کعبہ کو نامکمل حالت میں باقی چھوڑنے کی مفسدت ہے، بڑی مفسدت لوگوں کا متنفر ہونا ہے، اس لیے اس سے بچنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کی عمارت کو جوں کا توں رہنے دیا۔ اس کو مصلحت اور حکمت کہتے ہیں، لیکن قارئین کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ عام آدمی اس مصلحت و مفسدت کا فیصلہ نہیں کرسکتا، یہ فیصلہ کرنے کے لیے علم شریعت میں رسوخ پیدا کرنے کے بعد اس کے مقاصد کو جاننا ضروری ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 2028
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں