🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. الْفَصْلُ الثَّانِي مِنْ أَيْنَ يُدْخَلُ مَكَّةَ وَفِي أَيِّ وَقْتٍ
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4318
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى
۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں ثنیٔہ علیا کے راستے سے داخل ہوتے تھے اور ثنیۂ سفلٰی کے راستہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4318]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4625»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4625
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4319
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ، وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ کی بالائی جہت کَدَاء کے راستے سے اس شہر میں داخل ہوئے اور عمرہ کے موقع پر کُدی کے راستے سے داخل ہوئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4319]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1577، 4291، ومسلم: 1258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24815»
وضاحت: فوائد: … ”کَدَائ“ سے مراد ”ثنیۂ علیا“ اور ”کُدی“سے مراد ”ثنیۂ سفلی“ ہے، جن کا ذکر پچھلی دو احادیث میں گزر چکا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1577
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4320
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقِ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْإِذْخِرِ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر اذخر گھاس والی گھاٹی کی طرف سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4320]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن ابي زياد القداح۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26768»
وضاحت: فوائد: … اذخر گھاس والی گھاٹی سے مراد ”ثنیۂ علیا“ ہی ہے۔ امام نووی نے کہا: صحیح اور پسندیدہ مذہب یہ ہے کہ ہر محرِم کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت ثنیۂ علیا والی جہت سے آئے، اگر یہ گھاٹی اس کے راستے میں نہیں پڑتی تو پھر بھی اسے اُدھر سے ہی آنا چاہیے، ہمارے محققین کییہی رائے ہے۔ (شرح المہذب) بلکہ شیخ محمد جوینی نے کہا: یہ گھاٹی مدینہ سے مکہ کے راستے پر نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جان بوجھ کر اصل راستے کو چھوڑ کر یہ جہت اختیار کی، اس لیے ہر آدمی کے اِس گھاٹی کی طرف سے آنا مستحبّ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت بالائی جہت والا راستہ کیوں اختیار کیا اور پھر واپسی پر راستہ بدلنے میں کیا حکمت ہے؟ اس کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: راستہ بدلنے کی وجہ تو یہ ہے کہ دونوں راستوں
والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تبرّک حاصل کریں گے، جیسا عیدین کے لیے آنے جانے کا مسئلہ تھا، اور تشریف آوری کے وقت بالائی جہت سے آنے میں حکمت یہ ہے کہ اس طرح سے آنے میں جگہ کی تعظیم ہوتی ہے اور نچلی جانب کی جہت سے نکل جانے میں اس جگہ سے جدا ہونے کی طرف اشارہ ہوتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اس بالائی جہت سے داخل ہوئے تھے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کے موقع پر اس شہر سے چھپ کر نکلے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار چاہا کہ شہر کی بالائی جانب سے اور کھلم کھلا اور اعلانیہ طور پر داخل ہوا جائے، ایک قول یہ ہے کہ اس طرف سے آمد کی وجہ آدمی کا بیت اللہ کے سامنے رہنا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر اس جہت سے داخل ہوئے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی عمل کو برقرار رکھنا چاہا ہو اور اس کا سبب ابو سفیان کا یہ قول ہے، جو انھوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: میں اس وقت تک مسلمان نہیں ہوں گا، جب تک گھوڑوں کو کداء سے آتا ہوا نہیں دیکھ لوں گا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیسی بات ہوئی؟ انھوں نے کہا: بس میرے دل میں یہ خیال آ گیا ہے اور اللہ تعالی اِدھر سے کبھی بھی گھوڑوں کو نہیں لائے گا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے تو میں نے ابو سفیان کو ان کی بات یاد کرائی، جبکہ سنن بیہقی کی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”حسان نے کیسے کہا تھا؟“ انھوں نے جواباً یہ شعر پڑھا:
عُدِمَتْ بِنْیَتِیْ اِنْ لَّمْ تَرَوْھَا
تُثِیْرُ النَّقْعَ مَطْلَعُھَا کَدَائٗ
یہ سن کر آپ مسکرائے اور فرمایا: ((اُدْخُلُوْھَا مِنْ حَیْثُ قَالَ حَسَّانُ۔)) … ”وہاں سے داخل ہو، جہاں سے حسان نے کہا تھا۔“ (فتح الباری: ۳/ ۵۵۹)
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ بالائی جہت سے آنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد اچھی فال تھا کہ جس مقصد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا وہ غالب آ گیا، اب اس خطۂ زمین میں دشمنان اسلام اور ان کا نظام پست ہو گیا ہے اور اوپر سے آنے اور نیچے کو نکل جانے میں یہ اشارہ ہے کہ اس خطے کی ہر طرف یہ نظام مصطفی چھا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن ابي زياد القداح۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4286
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4321
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ نَهَارًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4321]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه: 2941، والترمذي: 854، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5230»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف عمرۂ جعرانہ کے موقع پر رات کو داخل ہوئے تھے اور رات کو ہی عمرہ کر کے واپس چلے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دن کو تشریف لانااس اعتبار سے انتہائی مناسب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال کی اقتداء کرنا آسان ہو جائے گی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ لوگ مناسک ِ حج کی تعلیم حاصل کر لیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ مَكَّةَ
مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4322
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ قَالَ: ( (اَللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَايَانَا بِهَا، حَتَّى تُخْرِجَنَا مِنْهَا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَایَانَا بِہَا، حَتّٰی تُخْرِجَنَا مِنْہَا۔ (یااللہ! ہماری موتیں مکہ میں نہ بنا، یہاں تک کہ تو ہم کو یہاں سے باہر لے جا۔) [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4322]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البيھقي: 9/ 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4778»
وضاحت: فوائد: … یہ دعا صرف وہ لوگ کر سکتے تھے، جنھوں نے اللہ تعالی کے لیے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات سمیت مہاجرین کے گروہ کو مراد لے رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییا کسی مہاجر کی وفات مکہ میں ہو، تاکہ ہجرت کا شرف باقی رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بنا پر سیدنا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر اظہارِ غم کرتے تھے کہ مکہ مکرمہ میں انتقال کر گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ اَمْضِ لِاَصْحَابِیْ ھِجْرَتَھُمْ، وَلَا تَرُدَّھُمْ عَلٰی اَعْقَابِھِمْ، لٰکِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ۔)) … ”اے اللہ!میرے صحابہ کے لیے ان کی ہجرت کو نافذ کر دے اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹا دے، لیکن بے چارہ سعد بن خولہ۔“ (صحیح بخاری: ۳۹۳۶، مسلم: ۱۶۲۸)
خانہ کعبہ کو دیکھ کر جو مخصوص دعائیں پڑھی جاتی ہیں، ان کی سندیں ضعیف ہیں، مثلا: مکحول کہتے ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے اور بیت اللہ کو دیکھتے تو ہاتھ اٹھاتے اور اللہ اکبر کہتے اور پھریہ دعا پڑھتے: ((اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ، اَللّٰھُمَّ زِدْ ھٰذَا الْبَیْتَ تَشْرِیْفًا وَ تَعْظِیْمًا وَمَھَابَۃً وَزِدْ مَنْ حَجَّہٗاَوِاعْتَمَرَہٗتَکْرِیْمًا وَ تَشْرِیْفًا وَتَعْظِیْمًا وَبِرًّا)) (سنن بیقہی، اس کی سند مرسل معضل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے)سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بیت اللہ کی طرف دیکھا تو فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ زِدْ بَیْتَکَ ھٰذَا تَشْرِیْفًا وَتَکْرِیْمًا وَ بِرًّا وَمَھَابَۃً۔)) (معجم کبیر، معجم اوسط، اس میں عاصم بن سلیمان کوزی راوی متروک ہے۔)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((تُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ الدُّعَائِ لِاِسْتِقْبَالِ الْبَیْتِ۔)) … ”بیت اللہ کے سامنے آتے وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے۔“ (سنن سعید بن منصور، سنن بیہقی، اس میں عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابو لیلی ضعیف ہے)
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا کیا آدمی بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھائے گا، انھوں نے کہا: جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو ہم اس طرح کرتے تھے۔ (جامع ترمذی: ۸۵۵، لیکنیہ حدیث بھی ضعیف ہے)
لوگوں کو چاہیے کہ وہ مکہ مکرمہ یا کسی دوسرے شہر اور بستی میں داخل ہونے سے پہلے درج ذیل عام حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس میں مذکورہ دعا پڑھ لیں۔
سیدنا صہیب سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی ایسی بستی دیکھتے، جس میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے تو اس کو دیکھ کر یہ دعا پڑھتے:
((اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا اَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْاَرْضِیْنَ السَّبْعِ وَمَا اَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّیَاطِیْنِ وَمَا اَضْلَلْنَ وَرَبَّ الرِّیَاحِ وَمَا ذَرَیْنَ، اَسْأَلُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَخَیْرَ اَھْلِھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا، وَشَرِّ اَھْلِھَا وَ شَرِّ مَا فِیْھَا)) …
(مستدرک حاکم: ۱/ ۶۱۴)
”اے اللہ! اے ساتوں آسمانوں کے ربّ اور ان چیزوں کے ربّ جن پر انھوں نے سایہ کیا ہوا ہے! اے ساتوں زمینوں کے رب اور ان چیزوں کے ربّ جن کو انھوں نے اٹھایا ہوا ہے! اے شیطانوں کے ربّ اور ان چیزوں کے ربّ جن کو انھوں نے گمراہ کیا! اے ہواؤں کے ربّ اور ان چیزوں کے ربّ جن کو انھوں نے اڑایا! میں تجھ سے اس بستی کی خیر اور اس میں رہنے والوں کی خیر اور اس چیز کی خیر کا سوال کرتا ہوں جو اس بستی میں ہے اور تجھ سے اس بستی کے شرّ اور اس کے رہنے والوں کے شرّ اور اس چیز کے شرّ سے جو اس میں ہے، کی پناہ طلب کرتا ہوں۔“

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه البيھقي: 9/ 19
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. باب
باب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: Q4323]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ الطَّهَارَةِ وَالسُّتْرَةِ لِلطَّوَافِ
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4323
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ النُّفَسَاءَ وَالْحَائِضَ تَغْتَسِلُ وَتُحْرِمُ وَتَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفاس اور حیض والی خواتین غسل کرکے احرام باندھ لیں اور تمام مناسک ادا کریں، البتہ جب تک پاک نہ ہو جائیں، بیت اللہ کا طواف نہ کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4323]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1744، والترمذي: 945، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3435»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1744
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4324
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْحَائِضُ تَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حائضہ عورت بیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی تمام حج کے افعال ادا کرے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4324]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه الترمذي: 945، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25569»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4325
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا، وَحَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ: ( (اقْضِ مَا يَقْضِي الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ …) ) الْحَدِيثِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے سرف مقام پر حائضہ ہو گئیں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: تم وہ سارے امور ادا کرو،جو دوسرے حاجی لوگ ادا کریں گے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4325]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 294، 5548، 5559، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24610»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حیض اور نفاس والی خواتین طواف نہیں کر سکتیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 294
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4326
عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةٍ لِأَهْلِ مَكَّةَ: ( (لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ) ) الْحَدِيثَ
۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سورۂ براء ۃ والی آیات دے کر اہلِ مکہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ وہاں یہ اعلان کردیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک نہ حج کر سکے گا، نہ کوئی آدمی برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کرے گا اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4326]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، زيد بن يثيع في عداد المجھولين، ثم ھو منقطع بين زيد وابي بكر، لكن ثبت ھذا اللفظ المذكور من حديث علي رضي الله عنه عند الامام احمد والامام الترمذي۔ أخرجه ابو يعلي: 104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4»
وضاحت: فوائد: … سورۂ توبہ کی تفسیر میں آخری حدیث پر بحث کی جائے گی۔ طواف سے متعلقہ مزید دو احادیث اور ان کی فقہ:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلطَّوَافُ حَوْلَ الْبَیْتِ مِثْلُ الصَّلَاۃِ، اِلَّا اَنَّکُمْ تَتَکَلَّمُوْنَ فِیْہِ، فَمَنْ تَکَلَّمَ فَـلَا یَتَکَلَّمَنَّ اِلَّا بِخَیْرٍ۔)) … ”بیت اللہ کے ارد گرد طواف نماز کی طرح ہے، البتہ تم اس میں باتیں کرسکتے ہو، لیکن جو آدمی بات کرے، وہ خیر والی بات کرے۔“ (ترمذی: ۹۶۰)
ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلطَّوَافُ بِالْبَیْتِ صَلَاۃٌ فَاَقِلُّوْا مِنَ الْکَلَامِ۔)) … ”بیت اللہ کا طواف نماز ہے، پس اس میں کم کلام کیا کرو۔“ (سنن نسائی: ۲۹۲۲)
امام مالک، امام شافعی اور امام احمد سمیت جمہور اہل علم نے ان احادیث کی روشنی میں کہا ہے کہ چونکہ طواف نماز ہے، اس لیےیہ وضو کے بغیر درست نہیں ہو گا، امام ابوحنیفہ کی رائے یہ ہے کہ وضو، طواف کے لیے شرط نہیں ہے۔ اگر احتیاطاً وضو کر لیا جائے تو مناسب ہو گا، وگرنہ مذکورہ بالا احادیث وضو کے شرط ہونے کے بارے میں واضح نہیں ہیں، کیونکہ کسی چیز کو نماز کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ نماز کے تمام احکام و مسائل اور شروط و قیود کا مصداق بن جائے گی، مثلا طواف کے دوران یہ امور جائز ہیں: نقل و حرکت کرنا، اِدھر اُدھر دیکھنا، باتیں کرنا، قبلہ رخ نہ ہونا، طواف میں انقطاع پیدا کر دینا، بلکہ کچھ چکروں کے بعد کہیں چلے جانا اور واپس آ کر مکمل کرنا، طواف قدوم میں کندھا ننگے رکھنا۔ جبکہ اِن امور میں سے کوئی چیز بھی نماز میں جائز نہیں ہے، اور نماز کے تکبیرِ تحریمہ سے لے کر سلام تک کے تمام ارکان، فرائض اور مستحبّات میں سے کوئی چیز طواف کے اندر نہیں ہے، مثلارفع الیدین، قراء ت، رکوع، سجدہ، تشہد، درود وغیرہ۔ اگر ان تمام امور میں طواف اور نماز میںکوئی مماثلت اور مشابہت نہیں ہے تو مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں وضو کی شرط کیسے لگائی جا سکتی ہے، اس بات کو تسلیم کرنا تو ضروری ہے کہ طواف بھی ایک قسم کی نماز ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نماز والی شرطیں طواف کرنے والے پر بھی عائد کر دی جائیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں