الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. فَضْلُ الْمُجَاهِدِيْنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
حدیث نمبر: 4822
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فُوَاقَ نَاقَةٍ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ النَّارَ
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اونٹنی کے فَواق کی مقدار کے برابر اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ تعالیٰ آگ کو اس کے چہرے کے لیے حرام کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4822]
تخریج الحدیث: «حديث قوي لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19674»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۴۸۱۵) میں فَوَاق کا معنی واضح کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: حديث قوي لغيره
حدیث نمبر: 4823
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدِّهِ يَعْنِي سَوْطَهُ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوِ اطَّلَعَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى الْأَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا وَلَطَابَ مَا بَيْنَهُمَا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبح کے وقت یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، کسی کی کمان یا کوڑے کی مقدار کے برابر کی جنت میں جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے ایک بیوی زمین کی طرف جھانکے تو زمین و آسمان کے درمیان کے خلا کو خوشبو سے بھر دے گی اور اس میں موجود سب چیزوں کو طیّب بنا دے گی، جنتی خاتون کا دوپٹہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4823]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 2792، 2796، 6568، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12463»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! اللہ پاک ہمیں توفیق دے کہ ہم ایسے نعمت کدے کے لیے اسباب پیدا کر سکیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 2792
حدیث نمبر: 4824
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4824]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2794، ومسلم: 1881، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15645»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کے متن کے الفاظ یہ ہیں:
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2794
حدیث نمبر: 4825
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عَيْنٌ عَذْبَةٌ قَالَ فَأَعْجَبَتْهُ يَعْنِي طِيبَ الشِّعْبِ فَقَالَ لَوْ أَقَمْتُ هَاهُنَا وَخَلَوْتُ ثُمَّ قَالَ لَا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَقَامُ أَحَدِكُمْ يَعْنِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَحَدِكُمْ فِي أَهْلِهِ سِتِّينَ سَنَةً أَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَتَدْخُلُوا الْجَنَّةَ جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصحابِ رسول میں سے ایک آدمی ایک گھاٹی،جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا، کے پاس سے گزرا، اس کی خوشبو اسے بڑی اچھی لگی۔ وہ (دل میں) کہنے لگا: اگر میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اسی گھاٹی میں فروکش ہو جاؤں تو … لیکن میں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشورہ کروں گا۔ جب اس نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایسے نہیں کرنا، کیونکہ) اللہ کے راستے میں تمھارا ٹھہرنا اپنے اہل میں ساٹھ سالوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں بخش دیں اور تمھیں جنت میں داخل کر دیں! اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4825]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 1650، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:9762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9761»
وضاحت: فوائد: … حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے، یہ تو آخرت کی کامیابی کا ایک ذریعہ ہے، دیکھو صحابۂ کرام کے پاکیزہ گروہ کو، انھوں نے فقرو فاقہ کو ترجیح دی، اپنوں پرائیوں کا غضب مول لیا، لیکن اپنی مختصر زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سچی وفا کی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بہشتوں کے وارث بن گئے۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 4826
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخِرَيْ امْرِئٍ أَبَدًا وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئِ فِي مَنْخِرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے رو پڑا، یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس آ جائے، کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے راستے کاغبار اور جہنم کا دھواں ایک آدمی کے دو نتھنوں میں جمع نہیں ہو سکے گا۔ ابو عبد الرحمن راوی نے کہا: مسلمان کے دو نتھنوں میں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4826]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 1633، 2311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10567»
وضاحت: فوائد: … دودھ کا تھن میں واپس آنا ممکن نہیں ہے، عقلاً بھی اور عادتاً بھی، مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے والے کا جہنم میں جانا ناممکن ہے، اسی طرح خلوص کے ساتھ جہاد کرنے والا بھی ہر گز جہنم میں نہیں جا سکتا۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 4827
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ بَعْدَهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کافر کو قتل کیا اور پھر راہِ صواب پر چلتارہا، وہ آگ میں نہیں جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4827]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 6/ 12، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7565»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 4828
عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجْتَمِعُ الْكَافِرُ وَقَاتِلُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي النَّارِ أَبَدًا
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی بھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4828]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8802»
وضاحت: فوائد: … قاتل سے مراد مجاہد ہے۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8802
حدیث نمبر: 4829
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ
۔ ابو بکر بن عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے دشمنوں کی موجودگی میں اپنے باپ کو یوں کہتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جنت کے دروازے تلواروں کے سائیوں تلے ہیں۔ پراگندہ حالت والا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے ابو موسی! کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور کہا: میں تم لوگوں کو سلام کہتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کا میان توڑ کر پھینک دیا اور اپنی تلوار لے کر چل پڑا اور اس کے ذریعے دشمنوں کو مارنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ خود شہید ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4829]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1902، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19767»
وضاحت: فوائد: … اَللّٰہُ اَکْبَرُ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث ِ مبارکہ پر کیسا ایمان تھا کہ جان کی بھی پروا نہیں کی۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1902
حدیث نمبر: 4830
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ فِي جَوْفِ رَجُلٍ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانَ جَهَنَّمَ وَمَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ سَائِرَ جَسَدِهِ عَلَى النَّارِ وَمَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ عَنْهُ النَّارَ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْتَعْجِلِ وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَتَمَ لَهُ بِخَاتَمِ الشُّهَدَاءِ لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهَا مِثْلُ لَوْنِ الزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ يَعْرِفُهُ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ يَقُولُونَ فُلَانٌ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ وَمَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے پیٹ میں راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں کرے گا، جس کے پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کے باقی جسم پر بھی آگ کو حرام کر دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک ہزار سال کی مسافت آگ سے دور کر دے گا، جبکہ اس عرصے میں مسافت طے کرنے والا جلدی چلنے والا سوار ہو، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخم لگا، اس پر شہداء کی مہر لگا دی جائے گی، وہ زخم اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا، اس کا رنگ زعفران کی طرح کا اور خوشبو کستوری کی طرح کی ہو گی، اگلے پچھلے اس کو پہچان لیں گے، لوگ کہیں گے: فلاں آدمی پر شہداء کی مہر ہے اور جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4830]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشواھده دون قوله: الف سنة للراكب المستعجل۔ وقوله: يعرفه بھا الاولون والآخرون يقولون: فلان عليه طابع الشھدائ وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، خالد بن دريك لم يدرك ابا الدردائ، أخرجه الطبراني في الاوسط: 5529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28052»
الحكم على الحديث: حديث صحيح بشواھده دون قوله: الف سنة للراكب المستعجل ۔ وقوله: يعرفه بھا الاولون والآخرون يقولون: فلان عليه طابع الشھدائ وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 4831
عَنْ أَبِي الْمُصَبِّحِ الْأَوْزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ بَيْنَا نَسِيرُ فِي دَرْبِ قَلَمْيَةَ إِذْ نَادَى الْأَمِيرُ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيُّ رَجُلًا يَقُودُ فَرَسَهُ فِي عِرَاضِ الْجَبَلِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَلَا تَرْكَبُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ
۔ ابو مصبّح اوزاعی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ملک ِ روم کے قلمیہ علاقے میں داخل ہونے والے کھلے راستے پر چل رہے تھے کہ مالک بن عبد اللہ خثعمی، جو کہ امیر تھے، نے ایک آدمی کو آواز دی، وہ پہاڑ کے دامن میں چل رہا تھا، اس امیر نے کہا: اے ابو عبداللہ! کیا تو سوار نہیں ہوتا؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی کے دو پاؤں اللہ کے راستے میں دن کے کچھ وقت میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4831]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 661، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22308»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح