🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. فَضْلُ الْمُجَاهِدِيْنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4832
عَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ
۔ سیدنا مالک بن عبد اللہ خثعمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے دو پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4832]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22309»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4833
حَدَّثَنَا سَهْلٌ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْغَزْوِ وَأَنَّ رَجُلًا تَخَلَّفَ وَقَالَ لِأَهْلِهِ أَتَخَلَّفُ حَتَّى أُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ أُسَلِّمَ عَلَيْهِ وَأُوَدِّعَهُ فَيَدْعُوَ لِي بِدَعْوَةٍ تَكُونُ شَافِعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ الرَّجُلُ مُسَلِّمًا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرِي بِكَمْ سَبَقَكَ أَصْحَابُكَ قَالَ نَعَمْ سَبَقُونِي بِغَدْوَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ سَبَقُوكَ بِأَبْعَدِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقَيْنِ وَالْمَغْرِبَيْنِ فِي الْفَضِيلَةِ
۔ سہل اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ایک غزوے کا حکم دیا، ان میں سے ایک آدمی پیچھے رہ گیا اور اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: میرا پیچھے رہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر لوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہہ کر الوداع کر دوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے حق میں ایسی دعا کر دیں گے، جو قیامت کے دن میرے لیے باعث ِ سفارش ہو گی، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا کی اور وہ آدمی سلام کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ لوگ تجھ سے کتنی سبقت لے جا چکے ہیں۔ اس نے کہا: جی ہاں، وہ صبح کے وقت نکلے ہیں (اور میں اب ظہر کے بعدنکل جاؤں گا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ فضیلت و عظمت میں تجھ سے اتنی سبقت لے جا چکے ہیں، جو دونوں مشرقوں اوردونوں مغربوں کی مسافت سے بھی زیادہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4833]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد،وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15707»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر اطاعت ِ رسول کی اہمیت بیان کرنے کے لیے یہ حدیث بیان کی جاتی ہے، لیکن یہ ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4834
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقَ زَوْجِي غَازِيًا وَكُنْتُ أَقْتَدِي بِصَلَاتِهِ إِذَا صَلَّى وَبِفِعْلِهِ كُلِّهِ فَأَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُبْلِغُنِي عَمَلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ فَقَالَ لَهَا أَتَسْتَطِيعِينَ أَنْ تَقُومِي وَلَا تَقْعُدِي وَتَصُومِي وَلَا تُفْطِرِي وَتَذْكُرِي اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا تَفْتُرِي حَتَّى يَرْجِعَ قَالَتْ مَا أُطِيقُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ طُوِّقْتِيهِ مَا بَلَغْتِ الْعُشْرَ مِنْ عَمَلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ
۔ سہل اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے خاوند جہاد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ میں ان کی نماز کی اقتدا کرتے ہوئے نماز پڑھتی تھی اور وہ جو نیک عمل کرتے تھے، میں بھی اس کو سرانجام دیتی تھی، اب آپ مجھے ایسا عمل بتائیں، جو مجھے ان کے عمل کے درجے تک پہنچا دے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ طاقت رکھتی ہے کہ قیام کرتی رہے اور وقفہ نہ کرے، روزے رکھتی رہے اور افطار نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتی رہے اور اس میں سستی کا مظاہرہ نہ کرے، یہاں تک کہ تیرا خاوند لوٹ آئے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو اس عمل کی طاقت نہیں رکھتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تجھے اس کی طاقت ہوتی بھی تو تب بھی تو اپنے خاوند کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہ پہنچ پاتی، یہاں تک وہ لوٹ آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4834]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 441، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15718»
وضاحت: فوائد: … میاں بیوی کے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی اچھی خوبیوں کو اپنائیں۔

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4835
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ فَقَدَّمَ أَصْحَابَهُ وَقَالَ أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ قَالَ فَقَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَتَهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناعبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر میں بھیجا، یہ جمعہ کا دن تھا، انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بھیج دیا اور اپنے بارے میں کہا: میں پیچھے رہ جاتا ہوں، تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر لوں، پھر ان کو جا ملوں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: کس چیز نے تجھے صبح کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جانے سے روک لیا؟ انھوں نے کہا: جی میرا ارادہ یہ تھا کہ آپ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر کے ان کو جا ملوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین میں جو کچھ ہے، اگر تو وہ سارا کچھ خرچ کر دے تو ان کے صبح کو روانہ ہو جانے والے اجر کو نہیں پا سکتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4835]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه عنعنة الحجاج بن ارطاة، والحكمُ بن عتيبة لم يسمع من مقسم، أخرجه الترمذي: 527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1966»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4836
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ نُفَيْلٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَئِمْتُ الْخَيْلَ وَأَلْقَيْتُ السِّلَاحَ وَوَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا قُلْتُ لَا قِتَالَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْآنَ جَاءَ الْقِتَالُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ يَرْفَعُ اللَّهُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ فَيُقَاتِلُونَهُمْ وَيَرْزُقُهُمُ اللَّهُ مِنْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ أَلَا إِنَّ عُقْرَ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: میں گھوڑے سے اکتا گیا ہوں، اسلحہ پھینک دیا ہے اور جنگ نے اپنے بوجھ رکھ دیئے ہیں اور جہاد ختم ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تو قتال شروع ہوا ہے، میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دل ٹیڑھے کرتا رہے گا، پس یہ ان سے جہاد کرتے رہیں گے، اس طرح اللہ تعالیٰ اُن سے اِن کو رزق دیتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور وہ گروہ اسی حالت میں ہو گا، خبردار! ایمان والوں کا اصل مرکز شام ہو گا اور قیامت کے دن تک گھوڑے کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4836]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 6/ 214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16965 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17090»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ سب سے زیادہ خیر و برکت والا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس جہاد کی بنیاد رکھی اس کی فتوحات اور فوائد کی بڑی مثالیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیش آئیں۔ اصل مرکز شام دیگر روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرب ِ قیامت شام کا علاقہ مومنین کے لیے فتح کا مقام ہو گا، ایک حدیث درج ذیل ہے، اس حدیث میں گویا اشارہ ہے کہ اہل اسلام کے لیے فتنوں کے دور میں شام امن اور سلامتی کی جگہ ہو گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. فَضْلُ الْمُجَاهِدِينَ فِي الْبَحْرِ
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4837
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُمِّ حَرَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِلًا فِي بَيْتِي إِذِ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ مَا يُضْحِكُكَ فَقَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ أَيْضًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي مَا يُضْحِكُكَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَغَزَتْ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ زَوْجَهَا فَوَقَصَتْهَا بَغْلَةٌ لَهَا شَهْبَاءُ فَوَقَعَتْ فَمَاتَتْ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں قیلولہ کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے، وہ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں اور ایسے لگ رہا ہے کہ وہ تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اوّلین لوگوں میں سے ہو۔ پھر سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا اپنے خاوند سیدنا عبادہ بن صامت کے ساتھ اس غزوے کے لیے نکلیں، سیاہی ملی ہوئی سفید رنگ کی خچر نے ان کو اس طرح گرایا کہ ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4837]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2799، 2800، ومسلم: 1912، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27572»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2799
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4838
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَضَحِكَ فَقَالَتْ مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قَالَتْ ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ فَرَكِبَتْ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنِهَا قَرَظَةَ حَتَّى إِذَا هِيَ قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّةً لَهَا بِالسَّاحِلِ فَوَقَصَتْ بِهَا فَسَقَطَتْ فَمَاتَتْ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنت ِ ملحان کے پاس ٹیک لگائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا، سیدہ بنت ِ ملحان رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: میری امت کے کچھ لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اس سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، ان کی مثال تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ پھر اس خاتون نے سیدہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی اور اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر شروع کیا، واپسی پر جب وہ ساحل کے پاس اپنی ایک سواری پر سوار ہوئی تو اس نے اس کو یوں گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی، سو وہ گری اور فوت ہو گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4838]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13826»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13826
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4839
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً حَدَّثَتْهُ قَالَتْ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ تَضْحَكُ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَكِنْ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَخْرُجُونَ غُزَاةً فِي الْبَحْرِ مَثَلُهُمْ مَثَلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قَالَتْ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ أَيْضًا يَضْحَكُ فَقُلْتُ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنِّي قَالَ لَا وَلَكِنْ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَخْرُجُونَ غُزَاةً فِي الْبَحْرِ فَيَرْجِعُونَ قَلِيلَةً غَنَائِمُهُمْ مَغْفُورًا لَهُمْ قَالَتْ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا قَالَ فَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ فَرَأَيْتُهَا فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى أَرْضِ الرُّومِ هِيَ مَعَنَا فَمَاتَتْ بِأَرْضِ الرُّومِ
۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک خاتون نے اس کو بیان کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے، پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ پر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میری مسکراہٹ کی وجہ یہ ہے کہ میری امت میں سے ایک قوم بحری جہاد کر رہی ہے، اس کی مثال تختوں پر بیٹھے بادشاہوں کی سی ہے۔ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر سو گئے اور پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری وجہ سے مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میری امت کی ایک قوم جہاد کرنے کے لیے سمندری سفر پر روانہ ہو رہی ہے، پھر جب وہ لوٹے گی تو اس کی غنیمت تو تھوڑی ہو گی، لیکن اس کو بخشا جا چکا ہو گا۔ میں نے کہا: تو پھر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی، راوی کہتے ہیں: عطاء بن یسار نے مجھے بتلایا کہ اس نے اس خاتون کو اس غزوے میں دیکھا، سیدنا منذر بن زبیر نے روم کی سرزمین کی طرف یہ غزوہ کیا تھا، یہ خاتون ہمارے ساتھ تھی اور وہ روم کے علاقے میں فوت ہو گئی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4839]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه أبوداود: 2492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28001»
وضاحت: فوائد: … پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا شام کے ساحل پر فوت ہوئی تھیں اور ان کو وہیں دفن کر دیا گیا تھا اور یہ خاتون روم کی سرزمین میں فوت ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ یہ مختلف قصے ہیں، سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کا قصہ اور ہے اور ان کی بہن سیدہ ام عبد اللہ کا اور، ممکن ہے کہ ایک کو قبرص کے ساحل میں دفن کیا گیا ہو اور دوسری کو حمص کے ساحل میں۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4840
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ إِذْ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ فَضَحِكَ فِي مَنَامِهِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ قَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ لَقَدْ ضَحِكْتَ فِي مَنَامِكَ فَمَا أَضْحَكَكَ قَالَ أَعْجَبُ مِنْ نَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ هَوْلَ الْعَدُوِّ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَذَكَرَ لَهُمْ خَيْرًا كَثِيرًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیوی کے گھر موجود تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر رکھا اور سو گئے اور نیند میں مسکرائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو اس ام المؤمنین نے کہا: آپ اپنی نیند میں مسکرائے ہیں، کس چیز نے آپ کو ہنسایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے ان لوگوں پر تعجب ہو رہا ہے، جو دشمن کو دہشت زدہ کرنے کے لیے اس سمندر کا سفر کریں گے، وہ راہِ خدا میں جہاد کر رہے ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں بڑی بھلائی کا ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4840]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن ثابت العبدي ليس بالقوي عندھم، أخرجه ابويعلي: 2461، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2722»
وضاحت: فوائد: … قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) پر حملہ بھی بحری جہاد سے متعلقہ ہے، اس لیے ہم اس سے متعلقہ حدیث ِ مبارکہ بیان کر کے اس کی وضاحت کر دیتے ہیں:

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. إخلاص النيَّةِ فِي الْجِهَادِ وَمَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْأَجْرَةِ عَلَيْهِ
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4841
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ أَحَدِ بَنِي سَلِمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَالَ بِأَصَابِعِهِ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ وَالْإِبْهَامِ فَجَمَعَهُنَّ وَقَالَ وَأَيْنَ الْمُجَاهِدُونَ فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِهِ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَوْ لَدَغَتْهُ دَابَّةٌ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ أَوْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى وَمَنْ مَاتَ قَعْصًا فَقَدِ اسْتَوْجَبَ الْمَآبَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے گھر سے راہِ خدا میں جہاد کرنے کے لیے نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں یعنی درمیانی انگلی، شہادت والی انگلی اور انگوٹھے سے (اس کی جان، اسلحہ اور گھوڑے کی طرف) اشارہ کیا، اس آدمی نے کہا: اور مجاہدین کہاں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن وہ آدمی اپنی سواری سے گرا اور فوت ہو گیا، اللہ تعالیٰ پر اس کا اجر ثابت ہو گیا، یا کسی جانور نے اس کو ڈس لیا، پھر بھی اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ثابت ہو گیا، یا وہ طبعی موت فوت ہو گیا، پھر بھی اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر واقع ہو گیا۔ راوی کہتاہے: اللہ کی قسم! یہ ایسا کلمہ ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے میں نے کسی عرب سے نہیں سنا، اور جو مجاہد کسی ضرب کی وجہ سے فوت ہو گیا، اس نے اپنے لیے اچھی پناہ گاہ (یعنی جنت) واجب کر لی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4841]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن، ومحمد بن عبد الله لم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 293، والطبراني في الكبير: 1778، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16527»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں