🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. فَضْلُ إِعَانَةِ الْمُجَاهِدِ وَتَجْهِيزِهِ وَخَلْفِهِ فِي أهْلِهِ وَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلْ
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور¤اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4862
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُنْفِقَ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَبَاسِطِ يَدَيْهِ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا
۔ سیدنا ابن حظلیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے راستے میں موجود جماعت پر خرچ کرنے والا ایسے ہے، جیسے اس نے دونوں ہاتھ صدقہ کے ساتھ پھیلا رکھے ہوں اور وہ ان کو بند نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4862]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه أبوداود: 4089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17768»

الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4863
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَرَادَ الْغَزْوَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلَا عَشِيرَةٌ فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ أَوِ الثَّلَاثَةَ فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرِ جَمَلِهِ إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ قَالَ فَضَمَمْتُ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً إِلَيَّ وَمَا لِي إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غزوے کا ارادہ کیا اور فرمایا: اے مہاجروں اور انصاریوں کی جماعت! بیشک تمہارے بعض بھائی ایسے بھی ہیں، جن کے پاس نہ کوئی مال ہے، نہ ان کا کوئی رشتہ دار ہے، اس لیے ہر آدمی اپنے ساتھ دو یا تین افراد کو ملا لے۔ پس ہم میں سے ہر آدمی کی ان دو یا تین افراد کی وجہ سے اپنے اونٹ پر سواری کرنے کی باری ہوتی تھی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین افراد ملا لیے اور میری بھی ان کی طرح سواری کرنے کی ایک باری ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4863]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14924»
وضاحت: فوائد: … سواریوں کی قلت ہونے کی وجہ سے اونٹ کا مالک بھی دوسرے مجاہدین کی طرح صرف اپنی باری پر سواری کرتا تھا، یہ وہ پاکیزہ نفوس تھے، جو دوسروں کی ضروریات کو اپنی حاجات پر ترجیح دیتے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4864
عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكَانَ أَحَدُنَا يَأْخُذُ النَّاقَةَ عَلَى النِّصْفِ مِمَّا يُغْنَمُ حَتَّى إِنَّ لِأَحَدِنَا الْقَدَحَ وَلِلْآخَرِ النَّصْلَ وَالرِّيشَ
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کیا اور کہا: ہم میں سے ایک آدمی حاصل ہونے والی غنیمت کے نصف پر اونٹنی لیتا تھا، یہاں تک (بسااوقات ایسے ہوتا کہ) ہم میں سے ایک آدمی کو تیر کی لکڑی ملتی اور دوسرے کو پھلکا اور پر ملتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4864]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال شيبان بن امية،وقد اختلف فيه علي عياش بن عباس القتباني، أخرجه النسائي: 8/ 135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17119»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال شيبان بن امية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. حُرْمَةِ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ وَوَعِيدِ مَنْ خَانَ الْمُجَاهِدَ فِي أَهْلِهِ
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4865
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ فِي الْحُرْمَةِ كَفَضْلِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ قَاعِدٍ يَخْلُفُ مُجَاهِدًا فِي أَهْلِهِ فَيُخَبِّبُ فِي أَهْلِهِ إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قِيلَ لَهُ إِنَّ هَذَا خَانَكَ فِي أَهْلِكَ فَخُذْ مِنْ عَمَلِهِ مَا شِئْتَ قَالَ فَمَا ظَنُّكُمْ
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیچھے رہ جانے والوں پر حرمت کے لحاظ سے مجاہدین کی بیویوں کی فضیلت اس طرح ہے، جیسے ان کی ماؤں کی فضیلت ہے، پس جس پیچھے رہ جانے والے شخص نے خیانت کرتے ہوئے کسی مجاہد کی بیوی کو اس کے حق میں خراب کیا، اس کو قیامت کے دن کھڑا کر دیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا: اس آدمی نے تیری بیوی کے معاملے میں تجھ سے خیانت کی تھی، لہذا تو اس کے عمل میں سے جو چاہتا ہے، لے لے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس تمہارا کیا خیال ہے (وہ اس کا کوئی عمل چھوڑے گا، جبکہ وہاں ہر شخص کو نیکی کی اشد ضرورت ہو گی)؟ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4865]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23004 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23392»
وضاحت: فوائد: … مجاہدین کی بیویوں کی حرمت دوسری مسلم خواتین سے زیادہ ہے، دوسرے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان کی اس حرمت کی حفاظت رکھیں، ان کے بارے میں کوئی غلط نظریہ نہ رکھیں، ان کو غلط نگاہ سے نہ دیکھیں، بلکہ ان کی ضروریات پوری کر کے ان کے ساتھ احسان کریں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1897
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. وَعِيْدُ مَنْ تَرَكَ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
راہِ خدا میں جہاد کو ترک کر دینے والے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4866
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا ضَنَّ النَّاسُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ وَتَبَايَعُوا بِالْعِينَةِ وَاتَّبَعُوا أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَتَرَكُوا الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَنْزَلَ اللَّهُ بِهِمْ بَلَاءً فَلَمْ يَرْفَعْهُ عَنْهُمْ حَتَّى يُرَاجِعُوا دِينَهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ درہم و دینار کے سلسلے میں بخل کریں گے، بیع عِینہ میں پڑ جائیں گے، گائیوں کی دموں کی پیروی کریں گے اور جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر آزمائش نازل کر دے گا اور اس کو اس وقت تک نہیں ہٹائے گا، جب تک وہ اپنے دین کی طرف نہیں لوٹ آئیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4866]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن ابي رباح لم يسمع من ابن عمر، أخرجه أبوداود: 3462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4825»
وضاحت: فوائد: … سنن ابو داود کی سند صحیح ہے، اس کے الفاظ درج ذیل ہیں:

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4867
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ نہ اس نے جہاد کیا اور نہ اپنے نفس میں جہاد کرنے کا سوچا تو وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4867]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1910، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8852»
وضاحت: فوائد: … اس سے جہاد کی اہمیت واضح ہے، نیز اس سے یہ معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو کفر اور کفار کے خلاف دل میں بغض رکھنا اور یہ جذبہ رکھنا چاہیے کہ جب بھی جہاد کا مرحلہ پیش آیا تو میں جان و مال کی قربانی سے گریز نہیں کروں گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1910
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4868
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِثَوْبَانَ كَيْفَ أَنْتَ يَا ثَوْبَانُ إِذْ تَدَاعَتْ عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ كَتَدَاعِيكُمْ عَلَى قَصْعَةِ الطَّعَامِ يُصِيبُونَ مِنْهُ قَالَ ثَوْبَانُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا قَالَ لَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنْ يُلْقَى فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهَنُ قَالُوا وَمَا الْوَهَنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ حُبُّكُمُ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَتُكُمُ الْقِتَالَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ثوبان! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب دوسری امتیں تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گی، جیسے تم کھانے کے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہو؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا ہماری کم تعداد کی وجہ سے ایسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اس وقت بہت زیادہ ہو گے، لیکن تمہارے دلوں میں وَھَن ڈال دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وَھَن کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا دنیا سے محبت کرنا اور قتال کو ناپسند کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4868]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 4297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8698»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کی کمزوری کے جو دو اسباب بیان کیے، دورِ حاضر کا مسلم معاشرہ ان ہی دو چیزں کا اسیر بن کر رہ گیا ہے، دنیا سے اس قدر محبت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرائض اور واجبات تک کا خیال نہیں رکھا جاتا، رہا مسئلہ قتال کو ناپسند کرنے کا تو گزارش ہے کہ اکثر و بیشتر مسلمانوں کا رویہ یہی بن چکا ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. أَبْوَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ وَالشُّهَدَاءِ¤ فَضْلُ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب¤اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4869
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے لوٹے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مدینہ میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ جب بھی تم چلے اور تم نے جو وادی بھی عبور کی، وہ تمہارے ساتھ تھے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جبکہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں وہ مدینہ میں ہیں، دراصل ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4869]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2838، 2839، 4423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12905»
وضاحت: فوائد: … بعض صحابۂ کرام معذور ہونے کی وجہ سے جہاد نہ کرسکتے، لیکن ان کی شدید تمنا اور خواہش یہ ہوتی کہ کاش وہ معذور نہ ہوتے تاکہ جہاد میں شرکت کرتے، اس خواہش کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاد کا ثواب عطا کر دیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2838
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4870
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ سَلْ وَتَمَنَّهْ فَيَقُولُ مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: اے ابن آدم! تو نے اپنی منزل کو کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! بہترین منزل ہے، اللہ تعالیٰ کہے گا: تو مزید سوال کر اور تمنا کر، وہ کہے گا: میں کون سا سوال کروں اور کون سی تمنا کروں، ہاں تو مجھے دنیا میں لوٹا دے، تاکہ میں تیرے راستے میں دس بار شہید ہو سکوں، وہ یہ بات شہادت کی فضیلت کو دیکھ کر کہے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4870]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 6/ 36، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12367»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کے امورِ اطاعت کی کیا شان ہے، وہ موت جس سے ہر آدمی دور بھاگتا ہے، لیکن شہید اللہ تعالیٰ سے اس کا بار بار سوال کرتاہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4871
عَنِ ابْنِ أَبِي عَمِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنَ النَّاسِ نَفْسُ مُسْلِمٍ يَقْبِضُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تُحِبُّ أَنْ تَعُودَ إِلَيْكُمْ وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا غَيْرُ الشَّهِيدِ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَمِيرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِيَ الْمَدَرُ وَالْوَبَرُ
۔ سیدنا ابن ابو عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں کوئی ایسا مسلمان نہیں ہے جو یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو فوت کرے اور پھر وہ تمہاری طرف دوبارہ لوٹے اور اس کو دنیا اور اس کی تمام چیزیں ملیں، ما سوائے شہید کے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید کر دیا جائے تو یہ عمل مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمام شہر و دیہات مجھے مل جائیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4871]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي: 6/33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18054»
وضاحت: فوائد: … سنن نسائی کی روایت میں أَھْلُ الْوَبَرِ وَالْمَدَر کے الفاظ ہیں، اول الذکر سے مراد بدو اور مؤخر الذکر سے مراد بستیوں اور شہروں والے ہیں، اس سے مراد دنیا اور اس کے خزانے ہیں، یہ سب فانی ہے اور شہادتکا ثواب باقی اور دائم رہے گا۔ فنا اور بقا کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں