🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. أَبْوَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ وَالشُّهَدَاءِ¤ فَضْلُ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب¤اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4872
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا وَأَنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ غَيْرُ الشَّهِيدِ يُحِبُّ أَنْ يُخْرَجَ فَيُقْتَلَ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ أَوْ مَعْنَاهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جو جنت میں داخل ہو اور پھر وہ یہ پسند کرے کہ وہ وہاں سے نکل آئے اور زمین پر جو کچھ ہے، وہ سب کچھ اس کو مل جائے، ما سوائے شہید کے، وہ شہادت کی کرامت کا اندازہ کر کے یہ پسند کرے گا کہ اس کو جنت سے نکال لیا جائے، تاکہ اس کو دوبارہ شہید کر دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4872]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2817، ومسلم: 1877، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12003 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12026»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2817
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4873
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يَخْرُجُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرَسُولِي فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ كُلِمَ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا وَلَكِنِّي لَا أَجِدُ سَعَةً فَيَتْبَعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ فَيَتَخَلَّفُونَ بَعْدِي وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کی ضمانت اٹھائی ہے جو اس کے راستے میں نکلتا ہے اور (اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ) جب یہ آدمی صرف میرے راستے میں جہاد کرنے، مجھے پر ایمان لانے اور میرے رسول کی تصدیق کرنے کی وجہ سے نکلتا ہے تو میںبھی ضمانت دیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں گا یا اس کو اجر یا غنیمت، جو بھی اس نے حاصل کیا، سمیت اس کے گھر لوٹا دوں گا۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:)اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو زخم بھی اللہ کے راستے میں لگتاہے تو زخمی جس حالت میں زخمی ہوا تھا، اسی حالت میں روزِ قیامت آئے گا، زخم سے بہنے والے خون کا رنگ تو وہی ہو گا جو خون کا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو کستوری کی طرح کی ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر مسلمانوں پر گراں نہ گزرتا تو میں کبھی بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے لشکر سے پیچھے نہ رہتا، لیکن میرے پاس (اسباب کی) وسعت نہیں کہ وہ سب میرے ساتھ آ سکیں اور مجھ سے پیچھے رہنا وہ پسند نہیں کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں تو چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور قتل کر دیاجاؤں، پھر (زندہ ہو کر) جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں، پھر (زندہ ہو کر) جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4873]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 36، 5533، 2787، 2797، ومسلم: 1876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8980، 8981، 8982، 8983 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8968»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 36
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4874
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَوْمَ أُحُدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا قَالَ فِي الْجَنَّةِ فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو وَتَخَلَّى مِنْ طَعَامِ الدُّنْيَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے احد والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اگر میں شہید ہو جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں۔ پس اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں ڈال دیں اور قتال کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا اور دنیا کے کھانے سے الگ ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4874]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4046، ومسلم: 1899، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14365»
وضاحت: فوائد: … یہ صحابۂ کرام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات پر یقین تھا، اس یقین کی وجہ سے ان کے لیے موت کو قبول کرنا بہت آسان تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4046
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. فَضْلُ الشُّهَدَاءِ
شہداء کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4875
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہداء جنت کے دروازے پر سبز قبے میں نہر کی ایک طرف ہوتے ہیں، صبح و شام ان کا رزق جنت سے آتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4875]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 4658، وابن ابي شيبة: 5/ 290، والحاكم: 2/ 74، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2390»
وضاحت: فوائد: … اس نعمت کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں، بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا اکرام ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4876
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي أَنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ نَسَمَةٌ تَعْلُقُ فِي ثَمَرَةٍ أَوْ شَجَرِ الْجَنَّةِ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شہداء کی روحیں سبز پرندوں میں جنت کے پھلوں یا درختوں سے لٹکتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4876]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون لفظ الشھدائ والصحيح ان نسمة المؤمن، أخرجه الترمذي:1641، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27166 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27708»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون لفظ الشھدائ والصحيح ان نسمة المؤمن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4877
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْهِنْدِ فَإِنِ اسْتُشْهِدْتُ كُنْتُ مِنْ خَيْرِ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ کیا، اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو میں بہترین شہید ہوں گا اور اگر میں اس سے واپس آ گیا تو ابو ہریرہ (آگ سے) آزاد ہو کر واپس آئے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4877]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، جبر بن عيبدة لم يعرف من ذا، أخرجه النسائي: 6/ 42، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7128»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ ہند کے بارے میں درج ذیل حدیث صحیح ہے، جو مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ وَعَدَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی غَزْوَۃِ الْہِنْدِ کا شاہد بن سکتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4878
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مَسَّ الْقَرْصَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہید قتل کی ضرب سے کوئی تکلیف نہیں پاتا، مگر اتنی جنتی تم میں سے کوئی چٹکی یا ڈنک کی تکلیف محسوس کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4878]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه النسائي:6/ 36، والترمذي: 1668، وابن ماجه: 2802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7940»
وضاحت: فوائد: … شہادت کی خوشی اور جذبۂ ایمان کی شدت قتل کی تکلیف کا احساس ختم کر دیتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4879
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَنْفَجِرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ قَالَ أَبِي يَعْنِي الْعَرْفَ الرِّيحَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر زخم جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مسلمان کو لگتا ہے، یہ قیامت کے دن اسی ہیئت پر ہو گا، جب وہ زخم لگا گیا لیکن اس سے خون بہہ رہا ہو گا کہ اس کا رنگ تو خون والا ہو گا، لیکن خوشبو کستوری کی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4879]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 237، ومسلم: 1876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8190»
وضاحت: فوائد: … زخموں کا اس طرح تازہ ہونا اور خون بہانا، یہ دراصل شہید کی فضیلت ہو گی اور شہادت کی دلیل بھی ہو گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 237
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4880
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَقْتُلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْآخَرِ فَيَهْدِيهِ إِلَى الْإِسْلَامِ ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف ہنستے ہیں، حالانکہ ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، لیکن وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک شہید ہو کر جنت میں داخل ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ دوسرے یعنی قاتل پر رجوع کرتا ہے اور اس کو اسلام کی طرف ہدایت دے دیتا ہے، پھر وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4880]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2826، ومسلم: 1890، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8208»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2826
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4881
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ قَالَ فَدَنَوْنَا مِنْهَا فَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ قَالَ قُبُورُ أَصْحَابِنَا ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى إِذَا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا
۔ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ (مدینہ کے) واقم ٹیلے کے پاس موجود حرّہ ہمیں نظر آنے لگا، جب ہم اس کے قریب پہنچے تو نظر آیا کہ وہاں وادی کے پست مقام پر چند قبریں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے ساتھیوں کی قبریں ہیں۔ پھر ہم آگے بڑھے، یہاں تک کہ شہداء کی قبروں کے پاس پہنچ گئے، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4881]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 2043، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1387»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجاہدین کی فضیلت و کرامت کو ثابت کرنے کے لیے ان کو اخوت کے ساتھ خاص کیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں