🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُسَابَقَةِ عَلَى الْأَقْدَامِ
آدمی کی دوڑ کے مقابلے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5168
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُفُّ عَبْدَ اللَّهِ وَعُبَيْدَ اللَّهِ وَكَثِيرًا مِنْ بَنِي الْعَبَّاسِ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ فَيُقَبِّلُهُمْ وَيَلْزَمُهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ، سیدنا عبیداللہ اور بنو عباس کے کئی بچوں کو ایک لائن میں کھڑا کرتے اور پھر ان سے فرماتے: جو میری طرف سب سے پہلے پہنچے گا، اس کو اتنا اتنا انعام ملے گا۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دوڑتے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر اور سینۂ مبارک پر چڑھ جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا بوسہ لیتے اور ان کو گلے لگا لیتے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5168]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، يزيد بن ابي زياد الھاشمي ضعيف، وعبد الله بن الحارث تابعي ولد في حياة النبي صلي الله عليه وآله وسلم وروايته عنه مرسلة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1836»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5169
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ فَلَبِثْنَا حَتَّى إِذَا رَهِقَنِي اللَّحْمُ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي فَقَالَ هَذِهِ بِتِلْكَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، سو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نکل گئی، پھر ہم ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ جب مجھ پر گوشت آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھ سے مقابلہ کیا اور اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے سبقت لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جیت اُس سابق مقابلے کا بدلہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5169]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 1979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24619»
وضاحت: فوائد: … یہ ورزش نہیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے زوجۂ محترمہ کے ساتھ حسن معاشرت کا ایک انداز ہے، اس سے بیوی کے دل میں خاوند کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ خوش بھی ہو جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5170
عَنْ سَلْمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ رُجُوعِهِمْ مِنْ غَزْوَةِ ذِي قَرَدٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهَا قَرِيبًا مِنْ ضَحْوَةٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَا يُسْبَقُ جَعَلَ يُنَادِي هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ أَلَا رَجُلٌ يُسَابِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَعَادَ ذَلِكَ مِرَارًا وَأَنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُرْدِفِي قُلْتُ لَهُ أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا قَالَ لَا إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي خَلِّنِي فَلْأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ إِنْ شِئْتَ قُلْتُ أَذْهَبُ إِلَيْكَ فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِهِ وَثَنَيْتُ رِجْلَيَّ فَطَفَرْتُ عَنْ النَّاقَةِ ثُمَّ إِنِّي رَبَطْتُ عَلَيْهَا شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ يَعْنِي اسْتَبْقَيْتُ نَفْسِي ثُمَّ إِنِّي عَدَوْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ فَأَصُكَّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِيَدَيَّ قُلْتُ سَبَقْتُكَ وَاللَّهِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ فَضَحِكَ وَقَالَ إِنْ أَظُنُّ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جبکہ وہ غزوۂ ذی قرد سے مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا قصہ بیان کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہمارے اور مدینہ کے درمیان نصف النہار کے قریب تک فاصلہ تھا، اس لشکر میں ایک انصاری آدمی تھا، دوڑ میں کوئی اس کا مقابلہ کرنے والا نہیں تھا، وہ اس سفر میں یہ آواز دینے لگ گیا: ہے کوئی مقابلہ کرنے والا، کوئی آدمی ہے جو مدینہ تک دوڑ میں مقابلہ کرے، اس نے کئی بار یہ بات دوہرائی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنا ردیف بنایا ہوا تھا، میں نے اس آدمی سے کہا: کیا تو کسی کریم کی عزت نہیں کرتا، کیاتجھ پر کسی شرف والے کی کوئی ہیبت نہیں؟ اس نے کہا: نہیں، ما سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے جانے دیں، میں اس کا مقابلہ کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتا ہے تو کر لے۔ پھر میں نے اس سے کہا: میں آ رہا ہوں، اب نیچے اتر اپنی سواری سے، وہ کود کر اپنی سواری سے نیچے آ گیا، میں نے بھی پاؤں موڑا اور اونٹ سے نیچے کود آیا، دوڑ شروع ہو گئی، میں نے ایک دو ٹیلوں تک تو تیز دوڑنے سے گریز کیا، تاکہ سانس کا سلسلہ منقطع نہ ہو جائے، پھر میں تیز دوڑا، یہاں تک اس کو جا ملا اور اس کے کندھوں کے درمیان ہاتھ مارا اور کہا: اللہ کی قسم میں تجھ سے آگے نکل گیا ہوں، وہ جواباً ہنسا اور اس نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے حتیٰ کہ ہم مدینہ آگئے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5170]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16654»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: وفی ہذا دلیل لجواز المسابقۃ علی الأقدام وہو جائز بلا خلاف إذا تسابقا بلا عوض فإن تسابقا علی عوض ففی صحتہا خلاف الأصح عند أصحابنا لا تصح۔ … اس حدیث میں دوڑ کے مقابلے کا جواز ہے اور یہ اس وقت تو بلااختلاف جائز ہے، جب بغیر کے عوض کے ہو، اگر بیچ میں کوئی عوض رکھا جائے تو اس کی صحت میں اختلاف ہے، ہمارے اصحاب کے نزدیک راجح

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الرَّمْي بِالسَّهَامِ وَفَضْلِهِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ وَاللَّعْبِ بِالْحِرَابِ وَنَحْوِ ذَلِكَ
تیز اندازی، اس کی فضیلت، اس پر ابھارنے اور لڑائی کے آلات سے کھیلنے وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5171
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ وَهُمْ يَتَنَاضَلُونَ فِي السُّوقِ فَقَالَ ارْمُوا يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا أَيْدِيَهُمْ فَقَالَ ارْمُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو اسلم کے لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بازار میں تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا، کرو تیر اندازی اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فریق کا نام لیا تو وہ رک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: پھینکو تیر (کیوں رک گئے ہو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے پھینکیں، جبکہ آپ تو بنو فلاں کے ساتھ ہو گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کرو تیز اندازی، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5171]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2899، 3507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16643»
وضاحت: فوائد: … حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام مراد ہیں، ان کی اولاد عرب تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5172
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ قَالَ رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیر اندازی کرنے والے ایک گروہ کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5172]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ماجه: 2815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3444»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5173
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ أَرْضُونَ وَيَكْفِيكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا يَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِسَهْمِهِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب کئی علاقے فتح ہوں گے اور اللہ تعالیٰ تم سے کفایت کرے گا، لیکن کوئی آدمی اتنا عاجز نہ آ جائے کہ وہ تیر اندازی سے غفلت برتنا شروع کر دے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5173]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1918، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17569»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5174
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر یہ آیت پڑھی: اپنی استطاعت کے مطابق دشمنوں کے لیے اپنی قوت تیار رکھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے، خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے، خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5174]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1918، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17568»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر میں جدید جنگی صلاحیتوں کی مہارت حاصل کرنا، جدید اسلحہ تیار کرنا اور ہر میدان میں لڑنے والی فوجیں تیار کر کے رکھنا اس حدیث ِ مبارکہ کا اولین تقاضا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5175
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ الثَّلَاثَةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ وَالْمُمِدَّ بِهِ وَالرَّامِيَ بِهِ وَقَالَ ارْمُوا وَارْكَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَةَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ فَتُوُفِّيَ عُقْبَةُ وَلَهُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ أَوْ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ قَوْسًا مَعَ كُلِّ قَوْسٍ قَرْنٌ وَنَبْلٌ وَأَوْصَى بِهِنَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا: (۱) اس کو بنانے والا، جو خیر کے ارادے سے اس کو بناتا ہے، (۲) اس کوآگے مجاہد کو پکڑانے والا اور (۳) اس کو پھینکنے والا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی بھی کرو اور گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی مشق بھی کرو، لیکن مجھے سواری کی بہ نسبت تیر اندازی زیادہ پسند ہے اور جس جس چیز کے ساتھ بندہ کھیلتا ہے، وہ سب باطل اور بے مقصد ہیں، ما سوائے ان امور کے: آدمی کا اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا، اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ امور حق ہیں اور جس نے تیراندازی کا فن حاصل کرنے کے بعد اس کو بھلا دیا، اس نے اس چیز کا کفر کیا، جس کی اس کو تعلیم دی گئی تھی۔ ایک روایت میں ہے: جب سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کے پاس چونسٹھ پینسٹھ یا چوہتر پچھتّر کمانیں تھیں، ہر کمان کے ساتھ تھیلا اور عربی تیرے تھے، اور انھوں نے ان کے بارے میں وصیت کی تھی کہ یہ اللہ کے راستہ میں وقف ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5175]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بمجموع طرقه وشواھده، أخرجه أبوداود: 2513، والترمذي باثر الحديث: 1637، وابن ماجه: 2814، والنسائي: 6/28، وأخرج القطعة الاخيرة بنحوه مسلم: 1919، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17433»
وضاحت: فوائد: … حدیث میں مذکور اعمال کی اباحت اور فضیلت ثابت ہو رہی ہے، لہٰذا اگر کسی تفریح کا پروگرام ہو تو ان ہی تفریحات میں سے کسی کو ترجیح دی جائے تاکہ جسمانی قوت اور تفریح کے ساتھ ساتھ عند اللہ اجرو ثواب کا بھی مستحق ٹھہرے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5176
عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كَانَ عُقْبَةُ يَأْتِينِي فَيَقُولُ اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ تَثَاقَلْتُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِي آخِرِهِ وَمَنْ عَلَّمَهُ اللَّهُ الرَّمْيَ فَتَرَكَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَنِعْمَةٌ كَفَّرَهَا
۔ سیدنا خالد بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آتے اور کہتے: باہر آؤ، تیر اندازی کریں، ایک دن میں نے باہر آنے میں تاخیر کی یا سستی کا مظاہرہ کیا، تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا، پھر انھوں نے سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس کے آخری الفاظ اس طرح ہیں: اور اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو تیراندازی کی تعلیم دی، لیکن اس نے بے رغبتی کی وجہ سے اس کو ترک کر دیاتو دراصل اس نے ایک نعمت کا کفر کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5176]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17454»
وضاحت: فوائد: … حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے، دراصل یہ محض کوئی کھیل نہیں تھا، بلکہ اس میں دین کی منفعت مضمر تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس حکمت کا علم نہ ہو سکا، اس لیے انھوں نے اُن کو منع کرنا چاہا، لیکن جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت فرما دی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5177
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمْ يَا عُمَرُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حبشی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں (مسجد نبوی میں) لڑائی کے آلات کے ساتھ کھیل رہے تھے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو وہ ان کو مارنے کے لیے کنکریاں اٹھانے کے جھکے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! ان کو کھیلنے دو۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5177]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2901، ومسلم: 893، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8066»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں