الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بابُ فِيمَا جَاءَ فِي إِكْرَامِهَا وَعَلَفِهَا وَتَضْمِيرِهَا وَكَرَاهَةِ جَزْ مَا طَالَ مِنْ شَعْرِهَا
گھوڑوں کی عزت کرنے، ان کو چارہ کھلانے اور ان کی تضمیر کا بیان، نیز لمبے ہو جانے والے بالوں کو کاٹنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 5197
عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ رَوْحَ بْنَ زِنْبَاعٍ زَارَ تَمِيمًا الدَّارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَجَدَهُ يُنَقِّي شَعِيرًا لِفَرَسِهِ قَالَ وَحَوْلَهُ أَهْلُهُ فَقَالَ لَهُ رَوْحٌ أَمَا كَانَ فِي هَؤُلَاءِ مَنْ يَكْفِيكَ قَالَ تَمِيمٌ بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا ثُمَّ يَعْلِفُهُ عَلَيْهِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ
۔ شرحبیل بن مسلم خولانی کہتے ہیں: روح بن زنباع، سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کو ملنے کے لیے آئے اور ان کو اس حال میں پایا کہ وہ اپنے گھوڑے کے لیے جَو صاف کر رہے تھے اور ان کے بیوی بچے ان کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے، روح نے کہا: کیا ان افراد میں کوئی ایسا بندہ نہیں ہے، جو تمہیں اس کام سے کفایت کرے، سیدنا تمیم رضی اللہ عنہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اصل بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان آدمی نے اپنے گھوڑے کے لیے جو صاف کر کے اس کو کھلاتا ہے تو اس کے لیے ہر ہر دانے کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جائے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5197]
تخریج الحدیث: «اسناد حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 1254، والبيھقي في الشعب: 4273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17080»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5198
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُنْفِقُ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَبَاسِطِ يَدَيْهِ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا
۔ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ، سیدنا سہیل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اللہ کی راہ والے گھوڑے پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے، جس نے صدقہ کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو پھیلا رکھا ہو اور وہ ان کو بند کرنے والا نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5198]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابوداود: 4089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17768»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5199
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضْمِرُ الْخَيْلَ
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑوں کی تضمیر کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5199]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه بنحوه ابوداود: 2576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5588»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5200
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَزِّ أَعْرَافِ الْخَيْلِ وَنَتْفِ أَذْنَابِهَا وَجَزِّ نَوَاصِيهَا وَقَالَ أَمَّا أَذْنَابُهَا فَإِنَّهَا مَذَابُّهَا وَأَمَّا أَعْرَافُهَا فَإِنَّهَا إِدْفَاؤُهَا وَأَمَّا نَوَاصِيهَا فَإِنَّ الْخَيْرَ مَعْقُودٌ فِيهَا زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَنَوَاصِيهَا مَعْقُودٌ بِهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے کی گردن کے بال، دم کے بال اور پیشانی کے بال کاٹنے سے منع کیا اور فرمایا: گھوڑوں کی دُمیں (مکھیوں وغیرہ کو) ہٹاتی ہیں، گردن کے بال ان کو سردی سے بچاتے ہیں اور پیشانیاں، کیا بات ہے ان کی کہ اللہ تعالیٰ نے روزِ قیامت تک خیر کو ان کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5200]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطرابه، أخرجه أبوداود: 2542، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17790»
الحكم على الحديث: ضعیف
9. بابُ قَوْلِهِ ﷺ: الْخَيْلُ ثَلاثَةٌ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں کا بیان
حدیث نمبر: 5201
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَفَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ فَالَّذِي يُرْبَطُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَفُهُ وَرَوْثُهُ وَبَوْلُهُ وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ فَالَّذِي يُقَامَرُ أَوْ يُرَاهَنُ عَلَيْهِ وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ فَالْفَرَسُ يَرْتَبِطُهَا الْإِنْسَانُ يَلْتَمِسُ بَطْنَهَا فَهِيَ تَسْتُرُ مِنْ فَقْرٍ
۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک گھوڑا رحمن کیلئے ہوتا ہے، ایک انسان کیلئے اور ایک شیطان کیلئے ہوتا ہے، رحمن والا گھوڑا وہ ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے کیلئے باندھا جاتا ہے، پس اس کا چارہ بلکہ لید اور پیشاب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بہت سی چیزیں ذکر کیں، سب چیزوں میں اجر ہے۔ شیطانی گھوڑا وہ ہے، جس پر جوا کھیلا جاتا ہے اور (جاہلیت کے طریقوں کے مطابق) بازیاں لگائی جاتی ہیں اور انسانی گھوڑا وہ ہے، جس کو انسان اس مقصد کیلئے باندھتا ہے کہ اس کے بچے پیدا ہوں اور حاجت پر پردہ پڑا رہے (یعنی اس کے ذریعے گھر کی ضرورتیں پوری ہوتی رہتی ہیں)۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5201]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البيھقي: 10/ 21، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3756 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3756»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5202
عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَرَسٌ يَرْبِطُهُ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَثَمَنُهُ أَجْرٌ وَرُكُوبُهُ أَجْرٌ وَعَارِيَتُهُ أَجْرٌ وَعَلَفُهُ أَجْرٌ وَفَرَسٌ يُغَالِقُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ وَيُرَاهِنُ فَثَمَنُهُ وِزْرٌ وَعَلَفُهُ وِزْرٌ وَفَرَسٌ لِلْبِطْنَةِ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ سَدَادًا مِنَ الْفَقْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
۔ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک وہ گھوڑا ہے کہ جس کو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے باندھ کر رکھتا ہے، اس کی قیمت بھی اجر ہے، اس کی سواری بھی اجر ہے، اس کا عاریۃً دینا بھی اجر ہے اور اس کا چارہ بھی اجر ہے، دوسرا وہ گھوڑا ہے، جس پر جوا اور (جاہلیت کی) بازیاں لگائی جاتی ہیں، ایسے گھوڑے کی قیمت بھی گناہ ہے اور اس کا چارہ بھی مالک کے لیے بوجھ ہے، تیسرا وہ گھوڑا ہے، جس کو اس لیے پالا جاتا ہے کہ وہ بچے جنم دے گا، ممکن ہے کہ اس قسم کی وجہ سے مالک کی فقیری دور ہو جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5202]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23618»
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ الْخَيْل
گھوڑے کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 5203
عَنْ أَبِي شِمَاسَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ حُدَيْجٍ مَرَّ عَلَى أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ قَائِمٌ عِنْدَ فَرَسٍ لَهُ فَسَأَلَهُ مَا تُعَالِجُ مِنْ فَرَسِكَ هَذَا فَقَالَ إِنِّي أَظُنُّ أَنَّ هَذَا الْفَرَسَ قَدْ اسْتُجِيبَ لَهُ دَعْوَتُهُ قَالَ وَمَا دُعَاءُ الْبَهِيمَةِ مِنَ الْبَهَائِمِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ فَرَسٍ إِلَّا وَهُوَ يَدْعُو كُلَّ سَحَرٍ فَيَقُولُ اللَّهُمَّ أَنْتَ خَوَّلْتَنِي عَبْدًا مِنْ عِبَادِكَ وَجَعَلْتَ رِزْقِي بِيَدِهِ فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ قَالَ أَبِي وَوَافَقَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ
۔ ابو شماسہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: معاویہ بن حُدَیج، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ اپنے گھوڑے کے پاس کھڑے تھے انھوں نے ان سے سوال کیا کہ وہ تو بس اپنے گھوڑے کے ساتھ ہی لگے رہتے ہیں، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ اس گھوڑے کی دعا قبول ہوتی ہے، انھوں نے کہا: چوپائیوں میں سے ایک چوپائے کی دعا کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نہیں ہے کوئی گھوڑا، مگر وہ سحری کے وقت یہ دعا کرتا ہے: اے اللہ! تو نے مجھے اپنے بندوں میں ایک بندے کے سپرد کر دیا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھ دیا ہے، اب مجھے اس کے اہل، مال اور اولاد سے بڑھ کراس کا محبوب بنا دے۔امام احمد نے کہا: عمرو بن حارث نے ابن شماسہ سے روایت لینے میں اس کی موافقت کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5203]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21773»
وضاحت: فوائد: … قرآن و حدیث سے صراحتاً ثابت ہوتا ہے کہ جانور بھی اپنی زبان میں کلام کرتے ہیں، چونکہ ہم ان کی زبان نہیں سمجھ سکتے، اس لیے ہم انھیں بے زبان سمجھ لیتے ہیں، خصوصاً اللہ تعالیٰ سے تو ہر چیز کلام کرتی ہے، لہذا اس حدیث میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5204
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيٍّ إِلَّا يُؤْذَنُ لَهُ مَعَ كُلِّ فَجْرٍ يَدْعُو بِدَعْوَتَيْنِ يَقُولُ اللَّهُمَّ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ فَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ أَوْ أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي خَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ وَقَالَ لَيْثٌ عَنْ أَبِي شِمَاسَةَ أَيْضًا
۔ معاویہ بن حُدَیج سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر عربی گھوڑے کو ہر فجر کے وقت دو دعائیں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، پس وہ کہتا ہے: اے اللہ! تو مجھے بنو آدم میں سے جس کے سپرد کرے، مجھے اس کے اہل اور مال سے بڑھ کر اس کا محبوب بنا دے۔ امام احمد نے کہا: عمر و بن حارث نے اس کی مخالفت کی اور کہا: یزید عن عبد الرحمن بن شماسۃ، لیث نے بھی عن ابی شماسۃ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5204]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفا، رواه ليث بن سعد وعمرو بن الحارث موقوفا عن ابي ذر، وھما اوثق واتقن من عبد الحميد بن جعفر، الذي جعله مرفوعا، أخرجه النسائي: 6/ 223، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21829»
وضاحت: فوائد: … یہ سب جہاد کی برکات کا نتیجہ ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِبِل
اونٹوں کا بیان
حدیث نمبر: 5205
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْإِبِلُ الثَّلَاثُونَ يُحْمَلُ عَلَى نَجِيبِهَا وَتُعِيرُ أَدَاتَهَا وَتُمْنَحُ غَزِيرَتُهَا وَيُجْبِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا فِي أَعْطَانِهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کی بہترین تعداد تیس ہے، ان میں سے عمدہ اونٹ کی سواری کی جاتی ہے، اس کا ڈول عاریۃً دیا جاتا ہے، دودھ والی اونٹنی بطور عطیہ دی جاتی ہے اور پانی پینے کے دن جب وہ اپنے باڑوں میں جمع ہوتے ہیں تو ان کو دوہ کر (محتاجوں کو) دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5205]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 32، وعبد الرزاق: 6860، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9765»
وضاحت: فوائد: … اونٹوںکی یہ معتدل تعداد ہے، اگر کسی کے پاس اس سے زیادہ اونٹ ہوں اور وہ ان کے یہی حقوق ادا کرتا ہو تو وہ اس کیلئے بہتر ہوں گے، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ زیادہ مال کی وجہ سے لوگ اسلامی فرائض و واجبات وحدود سے غافل ہو جاتے ہیں، ان کے مزاج تبدیل ہو جاتے ہیں اور ان میں بڑائی اور بخل جیسی مذموم صفات پیدا ہو جاتی ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5206
عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ وَلَا قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ قَالَ إِسْمَاعِيلُ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَالنَّاسُ فِي مِيَاهِهِمْ
۔ سیدنا ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قاصد بھیجا، وہ یہ اعلان کر رہا تھا کہ اونٹ کی گردن میں کوئی قلادہ ہر گز باقی نہ چھوڑا جائے، وہ تانت کا ہو یا کسی اور چیز کا۔ اسماعیل راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ اس وقت لوگ پانیوں پر تھے۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۳۲) [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5206]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3005، ومسلم: 2115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21887 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … یہ قلادے اونٹوں کو نظرِ بد سے بچانے کے لیے لٹکائے جاتے تھے یا ان کے ساتھ گھنٹیاں باندھی جاتی تھیں، جبکہ یہ دونوں کام غلط ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قلادے لٹکانے سے منع کر دیا، نیز یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ چرتے چرتے اونٹ کا قلادہ کسی درخت کے ساتھ پھنس جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح