🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ فِي الصَّفَاتِ الْمَمْدُوحَةِ وَالْمَدْمُوْمَةِ مِنْهَا
گھوڑوں کی قابل تعریف اور قابل مذمت صفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5187
عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ يُمْنَ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا
۔ عیسیٰ بن علی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک گھوڑے کی برکت سرخ گھوڑوں میں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5187]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2545، والترمذي: 1695، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2454»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5188
عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ وَأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا أَوْ قَالَ وَأَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ وَعَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ
۔ سیدنا ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں، سچے نام حارث اور ہمام ہیں اور قبیح نام حرب اور مرہ ہیں، گھوڑوں کو سرحدی حفاظت کے لیے تیار رکھو، ان کی پیشانی اور سرین کو چھوا کرو اور ان کو قلادے ڈالا کرو، لیکن وہ تانت کے نہ ہوں، گھوڑوں کی ان قسموں کا اہتمام کرو: سیاہی سرخی مائل یعنی قرمزی رنگ کے گھوڑے جن کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو، سفید و سرخ گھوڑا جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو اور وہ سخت سیاہ گھوڑا جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5188]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عقيل بن شبيب، أخرجه ابوداود: 2543، 2553، 4950، والنسائي: 6/ 218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19241»
وضاحت: فوائد: … اس قسم کے گھوڑوں کا بہتر ہونا تجربے کی بنیاد پر تھا نہ کہ وحی سے، کسی اور علاقے اور زمانے میں اس کے خلاف بھی ممکن ہے، ویسے ان رنگوں کے گھوڑے خوبصورت معلوم ہوتے ہیں، ماتھے پر پھول کی طرح کی سفیدی اور چاروں پاؤں گھٹنوں سے نیچے سفید، کیا ہی بھلے لگتے ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5189
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَلَا أَدْرِي بِالْكُمَيْتِ بَدَأَ أَوْ بِالْأَدْهَمِ قَالَ وَسَأَلُوهُ لِمَ فَضَّلَ الْأَشْقَرَ قَالَ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ جَاءَ بِالْفَتْحِ صَاحِبُ الْأَشْقَرِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، محمد راوی کہتے ہیں: مجھے اس چیز کا علم نہ ہو سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے سیاہی سرخی مائل گھوڑے کا ذکر کیا یا سیاہ گھوڑے کا۔ جب لوگوں نے اس سے سوال کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفید و سرخ گھوڑے کو کیوں فضیلت دی تو اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا تھا، جو آدمی سب سے پہلے فتح کی خوشخبری لایا تھا، وہ اس قسم کے گھوڑے پر سوار تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5189]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19242»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5190
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الْخَيْلِ الْأَدْهَمُ الْأَقْرَحُ الْأَرْثَمُ مُحَجَّلُ الثَّلَاثِ مُطْلَقُ الْيَمِينِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَدْهَمَ فَكُمَيْتٌ عَلَى هَذِهِ الشِّيَةِ
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین گھوڑا وہ ہے، جو سخت سیاہ ہو، اس کی پیشانی پر ہلکی سفیدی اور اوپر والے ہونٹ پر سفیدی ہو اور اس کی تین ٹانگیں سفید ہوں اور دائیں ٹانگ سیاہ ہو، اگر سخت سیاہ گھوڑا نہ ہو، تو سیاہی سرخی مائل گھوڑا ہو جائے، لیکن اس کی باقی صفات یہی ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5190]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 2789، والترمذي: 1697، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22929»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5191
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شِکَال گھوڑے کو ناپسند کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5191]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1875، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7402»
وضاحت: فوائد: … یہ وہ گھوڑا ہوتا ہے جس کی دائیں ٹانگ میں یا دائیں ہاتھ اور بائیں ٹانگ میں سفیدی ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بابُ فِي اسْتِحْبَابِ تَكْثِيرِ نَسْلِهَا وَفَضْلٍ ذلِكَ وَالنَّهْي عَنْ اخْتِصَائِهَا وَكَرَاهَةِ انْزَاءِ الْحُمُرِ عَلَيْها
گھوڑوں کی نسل کو زیادہ کرنے اور اس کی فضیلت کا اورگھوڑوں کو خصی کرنے کی¤ممانعت اور گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کروانے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5192
عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ أَتَاهُ فَقَالَ أَطْرِقْنِي مِنْ فَرَسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَطْرَقَ فَعَقَّتْ لَهُ الْفَرَسُ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ سَبْعِينَ فَرَسًا حُمِلَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
۔ ابو عامر ہوزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: مجھے جفتی کے لیے اپنا گھوڑا دو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے جفتی کے لیے کسی کو گھوڑا دیا اور اس کے نتیجے میں گھوڑا پیدا ہوا تو اس کے لیے ایسے ستر گھوڑوں کا ثواب ہو گا، جو اللہ کے راستے میں سواری کے لیے دیئے جائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5192]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18195»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5193
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَغْلٌ أَوْ بَغْلَةٌ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَ بَغْلٌ أَوْ بَغْلَةٌ قُلْتُ وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ قَالَ يُحْمَلُ الْحِمَارُ عَلَى الْفَرَسِ فَيَخْرُجُ بَيْنَهُمَا هَذَا قُلْتُ أَفَلَا نَحْمِلُ فُلَانًا عَلَى فُلَانَةَ قَالَ لَا إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خچر کا نر یا مادہ بطور تحفہ دیا گیا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خچر نسل کا نر یا مادہ ہے۔ میں نے کہا: یہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب گدھے سے گھوڑی کی جفتی کرائی جاتی ہے تو ان سے یہ پیدا ہوتا ہے، میں نے کہا: تو پھر کیا ہم فلاں گدھے سے فلاں گھوڑی کی جفتی نہ کروائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف وہ لوگ ایسا کام کرتے ہیں، جو علم نہیں رکھتے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5193]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2565، والنسائي: 6/ 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 766»
وضاحت: فوائد: … یعنی جن کو یہ علم نہیں ہوتا ہے کہ حکمت و دانائی کے مطابق زیادہ بہتر اور زیادہ مناسب چیز کون سی ہے، گھوڑا بہرحال خچر سے اعلی جانور ہے، اس کے ذریعے جہاد کیا جاتا ہے، غنیمتیں حاصل ہوتی ہیں اور یہ حلال جانور ہے، جب ان میں سے کوئی صفت بھی خچر میں نہیں پائی جاتی، نیز اگر خچر پیدا کرنے کی عام اجازت دے دی جائے تو گھوڑوں کی قلت ہو جائے گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5194
عَنْ دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَحْمِلُ لَكَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ فَيُنْتِجَ لَكَ بَغْلًا فَتَرْكَبُهَا قَالَ إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
۔ سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے گدھے سے گھوڑی کی جفتی نہ کرواؤں، تاکہ خچر پیدا ہو اور آپ اس پر سواری کریں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ یہ کام کرتے ہیں، جو علم نہیں رکھتے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5194]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 541، والطبراني في الاوسط: 4993، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19000»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5195
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم گھوڑی کی جفتی گدھے سے کروائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5195]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 738 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 738»
وضاحت: فوائد: … گھوڑی اور گدھے کے ملاپ سے خچر پیدا ہوتا ہے، ان احادیث میں اس ملاپ کو ناپسند کیا گیا ہے، حالانکہ قرآن مجید میں گھوڑے اور گدھے کے ساتھ خچر کا ذکر بھی بطورِ احسان کیا گیا ہے، جس سے خچر کے وجود اور اس کے بطور نسل باقی رہنے کا جواز معلوم ہوتا ہے، اس لیے علماء نے ان احادیث میں ممانعت یا ناپسندیدگی کے حکم کو تنزیہی قرار دیا ہے، یا اسے اس صورت پر محمول قرار دیاجائے گا، جب اس کی وجہ سے گھوڑوں کی نسل اور اس کی افزائش متأثر ہو، کیونکہ گھوڑا خچر سے زیادہ مفید اور ضروری ہے، اس کی نسل میں کمی نہیں آنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5196
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِخْصَاءِ الْخَيْلِ وَالْبَهَائِمِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِيهَا نِمَاءُ الْخَلْقِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑوں اور دوسرے چوپائیوں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: خصی نہ کرنے سے نسل بڑھتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5196]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن نافع، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4769 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4769»
وضاحت: فوائد: … اگر جانوروں کو ان کی فطرت پر باقی رکھا جائے اور ان کو خصی نہ کیا جائے تو اس سے ان کی نسل بھی بڑھتی ہے اور جفتی کے لیے دینے کا اجر و ثواب بھی ملتاہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں