🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمِّ الْوَلَدِ
ام ولد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5285
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِدُفٍّ وَيُقَالَ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس لونڈی نے اپنے مالک سے بچہ جنم دیا تو وہ اس مالک کی وفات کے بعد آزاد ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5285]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك سييء الحفظ، وسماك في روايته عن عكرمة اضطراب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16832»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5286
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ إِنَّا كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا وَأُمَّهَاتِ أَوْلَادِنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِينَا حَيٌّ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنے قیدیوں کو اور امہات الاولاد کو بیچ دیا کرتے تھے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں بقید ِ حیات تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں کوئی حرج خیال نہیں کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5286]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ماجه: 2517، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14446 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14500»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بِعْنَا أُمَّہَاتِ الْأَوْلَادِ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَأَبِی بَکْرٍ فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ نَہَانَا فَانْتَہَیْنَا۔ … ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں اور سیدنا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں امہات الاولاد کو بیچ دیتے تھے، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو انھوں نے منع کر دیا اور ہم ایسا کرنے سے رک گئے۔ (ابوداود: ۳۹۵۴)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5287
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَبِيعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں امہات الاولاد کو بیچ دیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5287]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطيالسي: 2200، والبيھقي: 10/ 348، والنسائي في الكبري: 5041، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11181»
وضاحت: فوائد: … سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مَاتَ رَجُلٌ، وَأَوْصٰی إِلٰیَّ، فَکَانَ فِیْمَا أَوْصٰی بِہٖ أُمُّ وَلَدِہِ، وَامْرَأَۃٌ حُرَّۃٌ، فَوَقَعَ بَیْنَ أُمِّ الْوَلَدِ وَالْمَرْأَۃِ کَلَامٌ، فَقَالَتْ لَہُ الْمَرْأَۃُ: یَا لُکَعاً! غَداً یُؤْخَذُ بِأُذُنِکِ فَتُبَاعِیْنَ فِی السُّوْقِ! فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((لَاتُبَاعُ أُمُّ الْوَلَدِ۔)) … ایک آدمی فوت ہوگیا، اس نے مجھے جس مال کے بارے میں وصیت کی تھی، اس میں اس کی ام ولد اور آزاد بیوی بھی تھی۔ ام ولد اور بیوی کے مابین جھگڑ اہونے لگا۔ بیوی نے کہا: او کمینی عورت! کل کلاں تیرا کان پکڑ کر تجھے بازار میں فروخت کر دیا جائے گا۔ اس نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام ولد کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔ (معجم کبیر للطبرانی: ۱/ ۲۰۸/ ۱،۲، صحیحہ: ۲۴۱۷)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5288
عَنِ الْخَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي سَلَامَةُ بِنْتُ مَعْقِلٍ قَالَتْ كُنْتُ لِلْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو وَلِي مِنْهُ غُلَامٌ فَقَالَتْ لِيَ امْرَأَتُهُ الْآنَ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَاحِبُ تَرِكَةِ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالُوا أَخُوهُ أَبُو الْيُسْرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَبِيعُوهَا وَأَعْتِقُوهَا فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدْ جَاءَنِي فَأْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ فَفَعَلُوا فَاخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَوْمٌ أُمُّ الْوَلَدِ مَمْلُوكَةٌ لَوْلَا ذَلِكَ لَمْ يُعَوِّضْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا وَقَالَ بَعْضُهُمْ هِيَ حُرَّةٌ قَدْ أَعْتَقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفِيهَا كَانَ الِاخْتِلَافُ
۔ سیدہ سلامہ بنت معقل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیدنا حباب بن عمرو رضی اللہ عنہ کی لونڈی تھی، مجھ سے ان کا بچہ بھی پیدا ہوا تھا، (لیکن جب وہ فوت ہو گئے تو) ان کی بیوی نے مجھے کہا: اب تجھے اس کے قرضے میں بیچا جائے گا، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حباب بن عمرو کے ترکہ کا سرپرست کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ان کا بھائی سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: تم نے اس کو بیچنا نہیں ہے، بلکہ اس کو آزاد کر دینا ہے، جب تم سنو کہ میرے پاس غلام آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تم کو اس کا عوض دوں گا۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد اس مسئلے میں اختلاف ہو گیا، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ ام الولد اپنے مالک کی وفات کے بعد لونڈی ہی رہے گی، اگر اس کا حکم لونڈی کا نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے عوض ان لوگوں کو غلام نہ دیتے، جبکہ بعض نے کہا کہ ایسی خاتون آزاد ہو جائے گی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو آزاد کیا تھا۔ سیدہ سلامہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے بارے میں صحابہ کا اختلاف تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5288]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن، ووالدة الخطاب في عداد المجھولين، أخرجه أبوداود: 3953، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 37029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27569»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَلَاءِ الْمُعْتَقِ وَلِمَنْ يَكُونُ
آزاد شدہ کی ولاء کا بیان، نیز وہ کس شخص کے لیے ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5289
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَلْيَكُنْ لَنَا وَلَاؤُكِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ قَالَتْ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا میرے پاس آئی، وہ اپنی مکاتبت کے سلسلے میں مجھ سے مدد چاہ رہی تھیں اور ابھی تک انھوں نے کوئی ادائیگی نہیں کی تھی، میں نے ان سے کہا: تم اپنے مالکوں کی طرف لوٹ جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تیری مکاتبت کی رقم ادا کردوں اور تیری ولاء میرے لیے ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں، وہ اپنے مالکوں کے پاس گئی اور ساری تفصیل بتائی، لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور کہا: اگر وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) ثواب کی نیت سے تیری رقم ادا کر سکتی ہے تو ٹھیک ہے، ولاء بہرحال ہمارے لیے ہی ہو گی، جب میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تم اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء صرف آزاد کرنے والا کا حق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرطیں لگانے لگ گئے ہیں، جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں، جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہ ہو، تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہو گا، اگرچہ وہ سو شرطیں لگا لے، اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ حقدار اور مضبوط ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5289]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2561، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25027»
وضاحت: فوائد: … اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ان کی کتابت کا سارا مال وہ ادا کر دیتی ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ ولاء ان کی ہو گی، لیکن اس مفہوم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیدہ کا ولاء کا شرط لگانا درست نہیں ہے، کیونکہ مکاتَب کی ولاء اس کے پہلے والے مالکوں کی ہی ہوتی ہے، نہ کہ مکاتبت میں اس کا تعاون کرنے والوں کی۔ لیکن اس روایت کے درج ذیل الفاظ سے یہ اشکال ختم ہو جاتا ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اِنْ اَحَبَّ اَہْلُکِ اِنْ اَعُدَّھَا لَھُمْ عَدَّۃً وَاحِدَۃً وَاُعْتِقَکِ وَیَکُوْنُ وَلَاؤُکِ لِیْ، فَعَلْتُ۔ (بخاری: ۲۵۶۳) اگر تیرے مالک پسند کرتے ہیں کہ میں ان کے لیے ساری قیمت اکٹھی تیار کر لوں اور پھر تجھے آزاد کر دوں اور تیری ولاء میرے لیے ہو تو میں ایسا کر دیتی ہوں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5290
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا تَسْتَعِينُهَا وَكَانَتْ مُكَاتَبَةً فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيَبِيعُكِ أَهْلُكِ فَأَتَتْ أَهْلَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا وَلَاءَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں، جبکہ وہ مکاتَب تھیں، سیدہ نے ان سے کہا: کیا تیرے مالک تجھے فروخت کر دیں گے؟ وہ اپنے مالکوںکے پاس گئی اور ان کو یہ بات بتلائی، انھوں نے کہا: نہیں، ہم ایسا نہیں کریں گے، ہاں اگر وہ ہمارے لیے ولاء کی شرط لگا لیں تو ٹھیک ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تم اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو صرف آزاد کنندہ کی ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5290]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 2565، 2726، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24554»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5291
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأَبَى أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ وَلَاؤُهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے اس کو بیچنے سے انکار کر دیا، الا یہ کہ ولاء کا حق ان کو دیا جائے، جب سیدہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو صرف اس کا حق ہے، جو قیمت ادا کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5291]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2156، 6759، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4855»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں