🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ عِقَابِ مَنْ مَثَلَ بِعَبْدِهِ أَوْ رَمَاءَ بِالزَّنَا وهو برىء
جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا، یا اس پر زنا کی تہمت لگائی، جبکہ وہ بری ہو، اس کی سزا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5247
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمْ يُعْفَى عَنِ الْمَمْلُوكِ قَالَ فَصَمَتَ عَنْهُ ثُمَّ أَعَادَ فَصَمَتَ عَنْهُ ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ يُعْفَى عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً
۔ (دوسری سند) ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلام کو کتنی بار معاف کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، اس نے پھر یہی سوال دوہرایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، جب اس نے سہ بار یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر روز ستر دفعہ معاف کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5247]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5899»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ إِذَا أَطَاعَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَطَاعَ سَيدَهُ وَوَعِيدِهِ إِذَا خَالَفَ
اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور¤اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5248
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْعَبْدُ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ قَالَ فَحَدَّثْتُهُمَا كَعْبًا قَالَ كَعْبٌ لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالک کا حق ادا کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو بیان کی تو انھوں نے کہا: نہ ایسے غلام پر حساب ہے اور نہ قلیل المال مومن پر۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5248]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2549، ومسلم: 1666، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7422»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5249
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبْدِ الْمُصْلِحِ الْمَمْلُوكِ أَجْرَانِ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْحَجُّ وَبِرُّ أُمِّي لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مُصْلِح غلام کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج اور ماں کے ساتھ حسن سلوک جیسی نیکیاں نہ ہوتیں تو میں پسند کرتا کہ جب مجھے موت آئے تو میری حالت یہ ہو کہ میں غلام ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5249]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2548، ومسلم: 1665، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8354»
وضاحت: فوائد: … مُصلِح غلام سے مراد وہ ہے جو اپنے آقا کا خیرخواہ ہو اور اپنے ربّ کی عبادت کا اہتمام کرنے والا ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5250
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ قَالَ فَلَمَّا أُعْتِقَ أَبُو رَافِعٍ بَكَى فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ قَالَ كَانَ لِي أَجْرَانِ فَذَهَبَ أَحَدُهُمَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے ربّ اور اپنے مالک دونوں کی اطاعت کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کو آزاد کیا گیا تو وہ رونے لگ گئے، جب ان سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز ان کو رُلا رہی ہے تو انھوں نے کہا: میرے لیے دو اجر تھے، ان میں سے ایک ختم ہو گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5250]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابويعلي: 6427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8518»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمانِ عالیشان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غلام کا مرتبہ آزاد سے زیادہ ہے، کیونکہ آزادی بہت سی خصوصیات اور امتیازات پر مشتمل ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5251
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَبْدُ إِذَا أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے ربّ کی عبادت بھی اچھے انداز میں کرتا ہے اور اپنے مالک کی خیرخواہی بھی کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5251]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2550، ومسلم: 1664، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4673»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5252
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَأَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِمَا جَاءَ بِهِ عِيسَى وَمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَهُ أَجْرَانِ
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس لونڈی ہو اور وہ اس کو اچھی تعلیم دے اور اچھے آداب سکھائے اور پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لے، اس کے لیے دو اجر ہو ں گے، وہ غلام جو اللہ تعالیٰ اور اپنے مالکوں کے حقوق ادا کرے، اس کے لیے دو اجر ہیں اور وہ اہل کتاب آدمی جو پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا اور پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5252]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2547، ومسلم: 154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19761»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5253
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِعِمَّا لِلْعَبْدِ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ بِحُسْنِ عِبَادَةِ رَبِّهِ وَبِطَاعَةِ سَيِّدِهِ نِعِمَّا لَهُ وَنِعِمَّا لَهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتنی بہترین چیز ہے اس غلام کے لیے، جس کو اللہ تعالیٰ اس حال میں فوت کرتا ہے کہ وہ اپنے ربّ کی عبادت اور اپنے مالک کی اطاعت اچھے انداز میں کرتا ہے، یہ اس کے لیے بہترین چیز ہے، بلکہ بہت ہی بہترین ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5253]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1667، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7642»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5254
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نِعْمَ مَا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يُتَوَفَّى يَحْسُنُ عِبَادَةَ اللَّهِ وَصَحَابَةَ سَيِّدِهِ نِعْمًا لَهُ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلام کے لیے یہ بہترین چیز ہے کہ اس کو اس حال میں موت آئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی اچھے انداز میں کر رہا ہو اور اپنے مالک کا ساتھ بھی اچھے انداز میں نبھا رہا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5254]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8216»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر میں غلاموں اور لونڈیوں کا وجود ختم ہو چکا ہے، شریعت میں ان کے لیے ہدایات اور حقوق باقی ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ وَعِيدِ الْعَبْدِ إِذَا نَقَصَ مِن صديهِ أو توَلَّى غَيْرَ مَوَالِيْهِ أَوْ سَرِقَ أَوْ أَبَقَ
اس غلام کی وعید کا بیان جو اپنی نماز میں کمی کرتا ہے، یا غیر مالک کو مالک ظاہر کرتا ہے، یا چوری کرتا ہے، یا بھاگ جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5255
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ ذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ لَيُحَاسَبُ بِصَلَاتِهِ فَإِنْ نَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قِيلَ لَهُ نَقَصْتَ مِنْهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلَّطْتَ عَلَيَّ مَلِيكًا شَغَلَنِي عَنْ صَلَاتِي فَيَقُولُ قَدْ رَأَيْتُكَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِهِ لِنَفْسِكَ فَهَلَّا سَرَقْتَ لِنَفْسِكَ مِنْ عَمَلِكَ أَوْ عَمَلِهِ قَالَ فَيَتَّخِذُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحُجَّةَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک غلام کی نماز کا محاسبہ ہو گا، اگر اس نے کمی کی ہو گی تو اس سے کہا جائے گا: تو نے تو کمی کی ہے، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! تو نے مجھ پر ایسا مالک مسلط کر دیا تھا، جو مجھے نماز سے مصروف رکھتا تھا، اللہ تعالیٰ کہے گا: میں نے تجھے دیکھا تھا کہ تو اپنی ذات کے لیے اس کا مال چوری کر لیتا تھا، پس ایسے کیوں نہ ہوا کہ تو نے اپنے عمل کے لیے یا اس کے کام میں سے چوری کر کے (نماز ادا کی ہوتی)، پس اللہ تعالیٰ اس پر دلیل قائم کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5255]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، المبارك بن فضالة مشھور بالتدليس، ولم يصرح ھنا بسماعه من حسن، والحسن لم يسمع ابا ھريرة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8335»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ غلام کو کھانے پینے اور سونے کے لیے جو وقت دیا جاتا تھا، وہ اس میں نماز ادا کر لیتا، یا جب وہ اپنے آقا کی خدمت سے متعلقہ ڈیوٹی دے رہا ہوتا تو بیچ میں نماز کے لیے اس طرح وقت نکال لیتا کہ آقا کو پتہ نہ چلتا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5256
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِيمَانِ مِنْ عُنُقِهِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے غیر مالک کو اپنا مالک ظاہر کیا، اس نے اپنی گردن سے اسلام کا کڑا اتار پھینکا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5256]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14616»
وضاحت: فوائد: … یعنی اللہ تعالیٰ کی حددو اور اس کے اوامر و نواہی کو ترک کر دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں