الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الذِّكْرِ مُطْلَقًا وَالاجْتِمَاعِ عَلَيْهِ
مطلق طور پر ذکر کی فضیلت اور اس کے لیے اجتماع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5407
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ طَاهِرًا فَيَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ فَيَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ فَقَدِمَ عَلَيْنَا هَاهُنَا فَحَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ أَظُنُّهُ أَعْنِي أَبَا ظَبْيَةَ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان باوضوء ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرکے رات کو سو جاتا ہے، وہ رات کے کسی حصے میں اٹھ کرجب بھی اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کاسوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دے دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5407]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 5042، وابن ماجه: 3881، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22398»
وضاحت: فوائد: … اس میں باوضو سونے کی فضلیت کا بیان ہے کہ ایسا آدمی رات کو بیدار ہوتے وقت دین و دنیا کی خیر و بھلائی کی جو دعا کرے گا وہ قبول ہو گی۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 5408
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا يَذْكُرُونَ اللَّهَ لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ قَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، آسمان سے ایک منادی دینے والا ان کو آواز دیتا ہے: چلے جاؤ، تم کو بخش دیا جا چکا ہے اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5408]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3061، وابويعلي: 4141، والطبراني في الاوسط: 1579، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12480»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5409
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْضُلُ الذِّكْرُ عَلَى النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِسَبْعِ مِائَةِ أَلْفِ ضِعْفٍ وَفِي لَفْظٍ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے سات لاکھ گناہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ ایک روایت میں سات سو گنا کے الفاظ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5409]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة، وان سمع منه اسحاق بن عيسي قبل احتراق كتبه، الا ان ھذا الحديث مما تفرد به سھل بن معاذ، وھو ممن لا يحتمل تفرده، وقد اختلف عنه فيه، أخرجه الطبراني في الكبير:20/ 404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15732»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5410
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا فَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً وَمَا مِنْ رَجُلٍ مَشَى طَرِيقًا فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً وَمَا مِنْ رَجُلٍ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً قَالَ أَبِي حَدَّثَنَاهُ رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ إِسْحَاقَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ وَلَمْ يَقُلْ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ایسی مجلس میں نہیں بیٹھتی جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کو یاد نہ کیا ہومگر وہ ان پر نقصان کا باعث ہو گا، جو آدمی جو کسی رستے میں چل رہا ہو اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو یہ اس کے لیے باعثِ تکلیف ہو گا اور جو آدمی اپنے بستر پر سونے لگے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو یہ اس کے لیے گھبراہٹ کا باعث ہو گا۔ ایک راوی نے بستر پر سونے کا ذکر نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5410]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4856، 5059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9580»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تہلیلات، تکبیرات اور تحمیدات بیان کر کے اس کا ذکر کرنا جہاں باعثِ اجرِ عظیم ہے، وہاں اس سے غفلت برتنا باعث ِ حسرت و ندامت ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اپنے جسم کی مختلف حالتوںیعنی چلنے،کھڑا ہونے، بیٹھنے اور لیٹنے کے دوران اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی انداز میں یاد کرتا رہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 5411
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيَّانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا مَنْ خَيْرُ الرِّجَالِ يَا مُحَمَّدُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ وَقَالَ الْآخَرُ إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيْنَا فَبَابٌ نَتَمَسَّكُ بِهِ جَامِعٌ قَالَ لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اے محمد! مردوں میں سے بہترین کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو۔ دوسرے بدّو نے کہا: اسلام کے تقاضے تو بہت زیادہ ہیں، اگر کوئی ایک جامع سا عمل ہو جائے اور ہم پابندی سے اس پر عمل کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5411]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2329، 3375، وابن ماجه: 3793، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17680 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17832»
وضاحت: فوائد: … اسلام کے تقاضے تو بہت زیادہ ہیں وہ آدمی یہ کہنا چاہتا ہے کہ مسلمان کے اسلام کی صداقت پر دلالت کرنے والے اسلام کے شعبہ جات بہت زیادہ ہے، ہم ان سب پر عمل نہیں کر سکتے اور علم نہ ہونے کی وجہ سے افضل شعبوں کا انتخاب کرنا بھی ہمارے لیے دشوار ہے، اس لیے کسی جامع عمل پر ہماری رہنمائی کر دی جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 5412
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ أَيُّ الْجِهَادِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ذِكْرًا قَالَ فَأَيُّ الصَّائِمِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ذِكْرًا ثُمَّ ذَكَرَ لَنَا الصَّلَاةَ وَالزَّكَاةَ وَالْحَجَّ وَالصَّدَقَةَ كُلُّ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ذِكْرًا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَا أَبَا حَفْصٍ ذَهَبَ الذَّاكِرُونَ بِكُلِّ خَيْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: کون سا جہاد زیادہ اجر والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ ذکر کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: کون سے روزے دار زیادہ اجر والے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہو۔ پھر اس نے نماز، زکاۃ، حج اور صدقہ کے بارے میں اسی طرح کے سوالات کیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی جواب دیا کہ جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہو۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو حفص! ذکر کرنے والے تو ہر قسم کی خیر لے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں بالکل۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5412]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 407، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15699»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد
حدیث نمبر: 5413
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ حَتَّى يَقُولُوا مَجْنُونٌ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنی کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کہ لوگ تم کو پاگل کہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5413]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، دراج يضعف في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه ابويعلي: 1376، وابن حبان: 817، والحاكم: 1/ 499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11674 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11697»
وضاحت: فوائد: … عبادت کی کیفیت و کمیّت کا تعین ہو چکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی عبادات کے نمونے اور ان میں ان کا رونا اور گڑگڑانا ہمارے سامنے ہے، ان ہی کی اقتداء کرنی چاہیے، عام دنیا دار لوگوںکو دیکھا گیا ہے کہ وہ عبادت گزار لوگوں کی عبادتوں سے مذاق کرتے رہتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5414
عَنِ ابْنِ يَعْقُوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنِ الْمُفَرِّدُونَ قَالَ الَّذِينَ يُهْتَرُونَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مفردون سبقت لے گئے ہیں۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ رسول! مفردون کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5414]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 3596، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8273»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
2. باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ حِلَقِ الذِّكْرِ وَمَجَالِسِهِ فِي الْمَسَاجِدِ
ذکر کے حلقوں کی اور مساجد میں لگائی گئی اس کی مجلسوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5415
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا قَالُوا وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ قَالَ حِلَقُ الذِّكْرِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ جنت کے باغیچوں کے پاس سے گزرو تو استفادہ کر لیا کرو۔ لوگوں نے پوچھا: جنت کے باغیچوں سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجالسِ ذکر۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5415]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12551»
وضاحت: فوائد: … جہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہو، وہاں بیٹھنا روح کے لیے مفید ہے۔ وعظ و نصیحت کی مجلسیں بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کی ایک صورت ہیں، اس لیے سنجیدگی کے ساتھ ان میں بیٹھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 5416
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ قَالُوا آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ قَالُوا آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَإِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد میں لگی ہوئی ایک مجلس کے پاس آئے اور کہا: کس چیز نے تم لوگوں کو بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم کو صرف اس چیز نے بٹھایا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں، انھوں نے کہا: میں نے کسی تہمت کی وجہ سے تم سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا اور کوئی نہیں ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب بھی ہو اور احادیث بھی کم بیان کرے، ما سوائے میرے، بہرحال ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کس چیز نے تمہیں بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس وجہ سے اس کی تعریف کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی ہے اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم کو صرف اس چیز نے بٹھایا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ کی قسم! ہم صرف اسی عمل کی وجہ سے بیٹھے ہوئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں نے کسی تہمت اور شک کی وجہ سے تم سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا، دراصل بات یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کر رہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5416]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2701، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16960»
وضاحت: فوائد: … سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے اور کاتب ِوحی بھی تھے، اس طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ان کا مقام و مرتبہ تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2701