الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ حِلَقِ الذِّكْرِ وَمَجَالِسِهِ فِي الْمَسَاجِدِ
ذکر کے حلقوں کی اور مساجد میں لگائی گئی اس کی مجلسوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5417
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ فَقِيلَ وَمَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَجَالِسُ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ربّ تعالیٰ روزِ قیامت فرمائیں گے: ساری مخلوقات میں سے اہل کرامت کو پہنچان لیا جائے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کرامت سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجدوںمیں منعقد ہونے والی مجالسِ ذکر والے لوگ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5417]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف دراج في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه ابويعلي: 1046، وابن حبان: 816، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11675»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف دراج في روايته عن ابي الھيثم
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الذِّكْرِ الْخَفِيُّ
ذکر ِ خفی کا بیان
حدیث نمبر: 5418
عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ وَخَيْرُ الرِّزْقِ مَا يَكْفِي
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین ذکر مخفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے، جس سے گزارا ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5418]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن عبد الرحمن بن ابي لبيبة ضعيف، ثم ھو لم يدرك سعدا، أخرجه ابويعلي: 731، وابن ابي شيبة: 10/375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1477»
وضاحت: فوائد: … مختلف اشخاص اور احوال کے اعتبار سے مخفی یا جہری ذکر فضیلت والا قرار دیا جا سکتاہے، اگر ریاکاری کاخطرہ نہ ہو اور غافل لوگوں کو سبق حاصل ہو رہاہو تو جہری ذکر افضل ہو گا اور اگر ریاکاری کا شبہ ہو یا نمازیوںپر تشویش ہو رہی ہو تو سرّی ذکر افضل ہوگا، بہرحال سرّی عمل کی فضیلت اور حکمت مسلم ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5419
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَجَعَلْنَا لَا نَصْعَدُ شَرَفًا وَلَا نَعْلُو شَرَفًا وَلَا نَهْبِطُ فِي وَادٍ إِلَّا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّكْبِيرِ قَالَ فَدَنَا مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھا، جب ہم کسی بلند جگہ پر چڑھتے اور بلند ہوتے اور کسی وادی میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیرات پڑھتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے قریب ہوئے اور فرمایا: لوگو! اپنے نفسوں پر نرمی کرو، بیشک تم لوگ ایسی ذات کو نہیںپکار رہے جو بہری یا غائب ہو، بلکہ تم سننے والی اور دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو، بیشک تم جس ذات کا ذکر کر رہے ہو، وہ تمہاری سواری کی گردن سے زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبد اللہ! کیا میں تجھے ایسے کلمے کی تعلیم نہ دوں، جو جنت کے خزانوں میں سے ہے؟ وہ کلمہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ ِلَّا بِاللّٰہ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5419]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6610، ومسلم: 2704، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19828»
وضاحت: فوائد: … انسان اس ذکر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی وانکساری کا اظہار کرتا ہے کہ جب وہ نیکیوں والے کام کرتا ہے اور برائیوں سے بچتا ہے، تو اس میں اس کا کوئی ذاتی کمال نہیں، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق سے ہو رہا ہوتا ہے۔ خزانے سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح مال کا خزانہ عمدہ اور نفیس چیز ہوتی ہے، اسی طرح یہ ذکر بھی عمدہ ہے اور اس کا اجر و ثواب جنت میں داخل کرنے والا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6610
4. بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ أَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5420
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، یعنی ایک کم سو، جس نے ان کو یاد کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو گا، بیشک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5420]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6410، ومسلم: 2677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7493»
وضاحت: فوائد: … امام قرطبی نے اپنی تفسیر میںکہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے مبارکہ کو حُسْنٰی (بہت اچھے) قرار دیا ہے، کیونکہ یہ سننے میں بھی حسین لگتے ہیں، دلوں میں بھی ان کا حسن پایا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، کرم، سخاوت، رحمت اور فضل جیسی صفات پر دلالت کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6410
حدیث نمبر: 5421
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا كُلَّهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، جس نے وہ سارے یاد کر لیے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5421]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر الحديث السابق، أخرجه ابن ماجه: 3860، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10539»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَحْفَظُھَا اَحَدٌ عَنْ ظَہْرِ قَلْبِہِ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) … جو آدمی ان ناموں کو زبانی یاد کر لے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معانی و مفاہیم کو سمجھنا بھی ضروری ہو گا۔ مختلف دلائلِ شرعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی ننانوے سے کہیں زیادہ ہیں، اس حدیث کا مقصود یہ ہے کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ کے کم از کم ننانوے نام یاد کر لے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
5. باب
ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: Q5422]
6. بَابُ فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5422
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِيمَانُ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ بَابًا أَرْفَعُهَا وَأَعْلَاهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے چونسٹھ شعبے ہیں، ان میں بلند ترین اور سب سے اعلی شعبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور سب سے ادنی شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5422]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 9، ومسلم: 35، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8913»
وضاحت: فوائد: … لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ جو کہ ایمان کی سب سے افضل شاخ ہے، سے توحیدِ الوہیت ثابت ہوتی ہے، یعنی کائنات میں بسیرا کرنے والوں کا ایک ہی سچا اور برحق معبود ہے، جس کا نام اَللّٰہ ہے، اس کے علاوہ جن معبودوں کا تصور دنیا میں پایا جاتا ہے وہ بے بنیاد، بے تأثیر، بے اختیار، بے حقیقت اور باطل ہیں۔ اس کلمہ کی فضیلت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۵۴۳۰)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 9
حدیث نمبر: 5423
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأَتْبِعْهَا حَسَنَةً تَمْحُهَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْحَسَنَاتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ هِيَ أَفْضَلُ الْحَسَنَاتِ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وصیت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب برائی ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کر، تاکہ وہ برائی کے اثر کو مٹا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ بھی نیکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو سب سے زیادہ فضیلت والی نیکی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5423]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرج الشطر الاول منه الترمذي: 1987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21819»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 5424
عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَاذَا يُنْجِينَا مِمَّا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ يُنْجِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تَقُولُوا مَا أَمَرْتُ عَمِّي أَنْ يَقُولَهُ فَلَمْ يَقُلْهُ
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خواہش تھی کہ کاش میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عمل کے بارے میں دریافت کر لیا ہوتا جو ہمیں ان (وسوسوں اور مذموم امور) سے نجات دلاتا، جو شیطان ہمارے نفسوں میں ڈال دیتا ہے۔ سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا تھا: تم کو ان امور سے اس کلمے کا ذکر نجات دلائے گا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا، لیکن اس نے وہ کلمہ نہیں پڑھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5424]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 37 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 37»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کلمہ اپنے چچا ابو طالب پر پیش کیا تھا، وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تھا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5425
عَنْهُ أَيْضًا فَقَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَفَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا عَلَيَّ فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دے دی، جبکہ ابھی تک ہم نے یہ سوال ہی نہیں کیا تھا کہ اس امر کی نجات کیا ہے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا، میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم ہی اس چیز کے زیادہ مستحق تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس امر کی نجات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لیا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا، لیکن اس نے اس کو قبول نہیں کیا تھا، تو یہ کلمہ اس کے لیے نجات ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5425]
تخریج الحدیث: «صحيح بشواھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20»
وضاحت: فوائد: … امر سے مراد وہ وسوسے اور شرّ کی انواع ہیں، جو شیطان بندوں کے نفسوں میں ڈالتا ہے، چونکہ سب سے زیادہ فضیلت والا، بخشش کا ذریعہ بننے والا، توحید کو ثابت کرنے والا اور شرک کی نفی کرنے والا ذکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے، اس لیے ایسے عظیم ذکر سے ہی شیطان اور اس کے وسوسوں سے بچا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح بشواھده