🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5426
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب الموت لوگوںکو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5426]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 916، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11006»
وضاحت: فوائد:معلوم ہوا کہ قریب الموت لوگوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کرنی چاہئے۔عوام الناس میں مشہور کر دیا گیاہے کہ قریب المرگ آدمی کے پاس بیٹھ کر کلمہ پڑھنا چاہئے، اسے تلقین نہیں کرنی چاہئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تلقین قبول کرنے سے انکار کر دے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 916
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5427
عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
۔ ابو عمر زاذان ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو موت کے وقت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کر دی گئی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5427]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 3842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15989»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5428
عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ أُحَدِّثُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَكَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ بِهَذَا بَعْدُ وَيَقُولُ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے، میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گفتگو کرنے کے لیے گیا، لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے، جب میں تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں بھی جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے اور اسی پر فوت ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ تین بار ایسے ہی ہوا، چوتھی بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ازار کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے نکلے اور یہ کہہ رہے تھے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے، پھر وہ جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو اس کے آخر میں کہتے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5428]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5827، ومسلم: 94، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21798»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں خوارج اور معتزلہ جیسی بدعتی فرقوں کاردّ ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ توبہ کے بغیر مرنے والا کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5827
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5429
عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَتْ لَهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ حَسَنَةٍ
۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا دس بار پڑھی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا، لَمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَۃً وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔ (نہیں ہے، کوئی معبود برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ اکیلاہے، بے نیاز ہے، اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد اور اس کا کوئی ہمسر نہیں) اس کے لیے چالیس ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5429]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف خليل بن مرة البصري، ولانقطاعه، الازھر بن عبد الله لم يسمع من تميم الداري، أخرجه الترمذي: 3473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17076»
وضاحت: فوائد: … ہم نے صَمَد کے معانی بے نیاز کے کیے ہیں، اس لفظ کے مزید معانی یہ ہیں:

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف خليل بن مرة البصري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5430
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ مَكْفُوفَةٌ بِدِيبَاجٍ أَوْ مَزْرُورَةٌ بِدِيبَاجٍ فَقَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ وَيَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ فَاجْتَذَبَهُ وَقَالَ لَا أَرَى عَلَيْكَ ثِيَابَ مَنْ لَا يَعْقِلُ ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ فَقَالَ إِنَّ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ دَعَا ابْنَيْهِ فَقَالَ إِنِّي قَاصِرٌ عَلَيْكُمَا الْوَصِيَّةَ آمُرُكُمَا بِاثْنَيْنِ وَأَنْهَاكُمَا عَنْ اثْنَتَيْنِ أَنْهَاكُمَا عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ وَآمُرُكُمَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِيهِمَا لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةِ الْخَيْرَاتِ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى كَانَتْ أَرْجَحَ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا حَلْقَةً فَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَلَيْهِمَا لَفَصَمَتْهُمَا أَوْ لَقَصَمَتْهُمَا وَآمُرُكُمَا بِسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ وَبِهَا يُرْزَقُ كُلُّ شَيْءٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے سبز شال کا جبہ پہنا ہوا تھا، اس کو ریشم کے ساتھ بند کیا گیا تھا، اس نے کہا: تمہارا یہ ساتھی چاہتا ہے کہ چرواہوں کو بلند کر دیا جائے اور گھڑسواروں کو پست کر دیا جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے، اس کو سینے والے مقام سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: میں تجھ پر بیوقوفوں کا لباس نہ دیکھنے پاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: میں تم کو وصیت کرنے لگا ہوں، میں تم کو دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے ہی منع کرتا ہوں، میں تم کو شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کو نیکیوں والے پلڑے میں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر آسمان اور زمین ایک کڑا ہوتے اور پھر ان پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جاتا تو یہ کلمہ ان کو توڑ دیتا اور میں تم کو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ کہنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5430]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 3069، والبخاري في الادب المفرد: 548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7101»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! کیا شان ہے اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کی صفات پر دلالت کرنے والے کلمات کی۔ اسی لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَکْثِرُوْا مِنْ شَھَادَۃِ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ قَبْلَ أَن یُّحَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھَا وَلَقِّنُوْھَا مَوْتَاکُمْ۔)) … کثرت سے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکی شہادت دیتے رہا کرو، قبل اس کے کہ تمھارے اور اس کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ہو جائے اور قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کیا کرو۔ (ابو یعلی: ۱۱/۸، ۶۱۴۷، الصحیحۃ:۴۶۷) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5431
عَنْ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ وَكَانَ يَتْبَعُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَيَسْمَعُ قَالَ كُنْتُ مَعَهُ فَلَقِيَ نَوْفًا فَقَالَ نَوْفٌ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِمَلَائِكَتِهِ ادْعُوا لِي عِبَادِي قَالُوا يَا رَبِّ كَيْفَ وَالسَّمَاوَاتُ السَّبْعُ دُونَهُمْ وَالْعَرْشُ فَوْقَ ذَلِكَ قَالَ إِنَّهُمْ إِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اسْتَجَابُوا
۔ ثابت کہتے ہیں: شام کے ایک باشندے نے ہمیں بیان کیا، وہ آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتا اور ان کی باتیں سنتا تھا، وہ کہتا ہے: ایک میں ان کے ساتھ تھا کہ وہ نوف کو ملے، نوف نے کہا: ہمیں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: میرے لیے میرے بندوں کو بلاؤ، انھوں نے کہا: اے ربّ! ان کو کیسے بلایا جائے، جبکہ ان کے سامنے سات آسمان حائل ہیں اور ان کے اوپر عرش ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: جب وہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہیں گے تو وہ جواب دیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5431]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرج المرفوع منه ابن ماجه: 801، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6860»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5432
عَنْهُ أَيْضًا عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَوْفًا وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَعْنِي ابْنَ الْعَاصِ اجْتَمَعَا فَقَالَ نَوْفٌ لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِيهِمَا وُضِعَ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى لَرَجَحَتْ بِهِنَّ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِيهِنَّ كُنَّ طَبَقًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ رَجُلٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَخَرَقَتْهُنَّ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ دونوں جمع ہوئے، نوف نے کہا: اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی مخلوقات کو ایک ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں تو دوسرا پلڑا بھائی ہو جائے گا، اور اگر آسمان، زمین اور ان کے درمیان والی مخلوق کو لوہے کی تہہ بنادیا جائے اور اس پر لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جائے تو یہ کلمہ اس میں سوراخ کرکے اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5432]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6750»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6750
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5433
عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا مُعَاذٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَرَضِهِ قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا كُنْتُ أَكْتُمُكُمُوهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
۔ کثیر بن مرّہ کہتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مرض الموت کے دوران کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی، میں اس کو تم سے چھپاتا رہا، اب بیان کر دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا آخری کلام لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ہو گا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5433]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 2625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22384»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ الأصْلِ فِي الاجْتِمَاعِ عَلَى الدُّكْرِ بقول لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ذکر پر اجتماع کرنے کی دلیل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5434
عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَاضِرٌ يُصَدِّقُهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ غَرِيبٌ يَعْنِي أَهْلَ الْكِتَابِ فَقُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ وَقَالَ ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَرَفَعْنَا أَيْدِيَنَا سَاعَةً ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ اللَّهُمَّ بَعَثْتَنِي بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ وَأَمَرْتَنِي بِهَا وَوَعَدْتَنِي عَلَيْهَا الْجَنَّةَ وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ثُمَّ قَالَ أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ
۔ یعلی بن شداد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے سردار شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی، جبکہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے اور ان کی تصدیق کر رہے تھے، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی آدمی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اہل کتاب تھی، ہم نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دروازے کو بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: اپنے ہاتھوں کو بلند کر لو اور کہو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ پس ہم نے کچھ دیر تک اپنے ہاتھ بلند کیے رکھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ نیچے رکھ دیا اور فرمایا: اللہ کا شکر ہے، اے اللہ! تو نے مجھے اس کلمہ کے ساتھ بھیجا، تو نے مجھے اس کلمہ کا حکم دیا اور مجھ سے اس پر جنت کا وعدہ کیا اور بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو بخش دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5434]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف راشد بن داود الصنعاني، أخرجه الطبراني في الكبير: 7163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17251»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف راشد بن داود الصنعاني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5435
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَدِّدُوا إِيمَانَكُمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا قَالَ أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ایمان کی تجدید کیا کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے اپنے ایمان کی تجدید کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کثرت سے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5435]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،صدقة بن موسي ضعفه ابن معين وابوداود والنسائي وغيرھم، أخرجه البزار: 664، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8695»
وضاحت: فوائد: … یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی توحید و الوہیت پر مشتمل ہے، آدمی اسی کلمہ کے ذریعے مشرف باسلام ہوتا ہے، اس لیے یہ شہادت دینے سے اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور بندے کی عبدیت کا احساس تازہ ہو تا رہتا ہے اور بندے میں نور و یقین جیسی نعمت کی تجدید ہوتی رہے گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں