الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب فضل سُبْحَانَ الله والحمد لله..الخ، إِنَّهَا الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ … کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5446
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ الْكَلِمَاتِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهَا تَصْعَدُ حَتَّى فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَوْنٌ مَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی نے یہ ذکر کیا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلًا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کس نے کہے؟ اس آدمی نے کہا: جی میں نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان کلمات کی طرف دیکھ رہا تھا، یہ چڑھے جا رہے تھے، یہاں تک کہ اس کے آسمان کے لیے دروازے کھول دیئے گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث سنی، اس وقت سے میں نے یہ کلمات ترک نہیں کیے۔ عون راوی نے کہا: جب سے میں نے یہ حدیث سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنی، میں نے بھی ان کلمات کی ادائیگی کو ترک نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5446]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 601، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5722»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 601
حدیث نمبر: 5447
عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَخْذَ شَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِئنِي قَالَ قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي ثُمَّ أَدْبَرَ وَهُوَ مُمْسِكُ كَفَّيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ مَلَأَ يَدَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ
۔ سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، اس لیے آپ مجھے ایسے کلمات سکھلا دیں، جو اس سے مجھے کفایت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کہا کرو: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کلمات تو سارے اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کر لیا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَعَافِنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا کر)۔ پھر وہ چلا گیا اور اس نے دونوں ہتھیلیوں کو بند کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو خیر و بھلائی سے بھر لیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5447]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه، أخرجه ابوداود: 832، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19320»
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه
حدیث نمبر: 5448
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَكْثِرُوا مِنَ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمِلَّةُ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمِلَّةُ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمِلَّةُ قِيلَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ التَّكْبِيرُ وَالتَّهْلِيلُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باقیات صالحات کا بہت زیادہ ذکر کیا کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تکبیر، تہلیل، تسبیح، تحمید اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5448]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 1384، والطبراني في الدعائ: 1696، وابن حبان: 840، والحاكم: 1/ 512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11736»
وضاحت: فوائد: … باقیات سے مراد یہ ہے کہ یہ کلمات کہنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس یہ محفوظ اور ذخیرہ کر لیے جاتے ہیں، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۵۴۴۳)کے فوائد۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 5449
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَدِيثٍ لَهُ أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ یہ اذکار باقیات صالحات ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5449]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18543»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5450
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ كُتِبَ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً وَحُطَّتْ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً وَمَنْ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ كُتِبَتْ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً وَحُطَّتْ عَنْهُ ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے چار کلمات پسند کیے ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ جس نے سُبْحَانَ اللّٰہِ کہا، اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور بیس برائیاں معاف کر دی جائیں گی، جس نے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا، اس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا، جس نے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکہا، اس کے لیے بھی اتنا ہی اجرو ثواب ہو گا اور جس نے اپنے دل سے اَلْحَمْد لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کہا، اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور تیس برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5450]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 3074، والنسائي في اليوم والليلة: 840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11324»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 5451
عَنْ أَبِي الصَّالِحِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الْكَلَامِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
۔ ابو صالح سے مروی ہے کہ ایک صحابی کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: افضل کلام یہ ہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5451]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 836، والنسائي في الكبري: 10677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16526»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 5452
حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ غُصْنًا فَنَفَضَهُ فَلَمْ يَنْتَفِضْ ثُمَّ نَفَضَهُ فَلَمْ يَنْتَفِضْ ثُمَّ نَفَضَهُ فَانْتَفَضَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَنْفُضُ الْخَطَايَا كَمَا تَنْفُضُ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شاخ پکڑی، اس کو ہلایا، لیکن اس سے پتے نہ جھڑے، پھر ہلایا، لیکن پھر بھی پتے نہیں جھڑے، پھر اس کو ہلایا تو اس کے پتے جھڑ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، یہ کلمات غلطیوں کو ایسے زائل کرتے ہیں، جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5452]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 3533، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12562»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 5453
عَنْ أُمِّ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ عَنْ جَدَّتِهَا يُسَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ قَالَتْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ عَلَيْكُنَّ بِالتَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ وَلَا تَغْفُلْنَ فَتَنْسَيْنَ الرَّحْمَةَ وَاعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ
۔ سیدہ یسیرہ رضی اللہ عنہا، جو کہ مہاجر خواتین میں سے تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم خواتین سے فرمایا: اے مؤمن خواتین! تم تہلیل، تسبیح اور تقدیس کا لازمی اہتمام کیا کرو، اور ان سے غفلت نہ برتو، وگرنہ رحمت کو بھول جاؤ گی اور انگلیوں کی مدد سے ان کلمات کو شمار کیا کرو، کیونکہ انگلیوں سے سوال کیا جائے گا کیونکہ ان سے پوچھا جائے اور ان کو بلوایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5453]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابوداود: 1501، والترمذي 3583، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27629»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: وَرَاَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَعْقِدُ التَّسْبِیْحَ، قَالَ ابْنُ قُدَامَہ: بِیَمِیْنِہِ۔ … میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ سے تسبیحات کو شمار کرتے تھے۔ (ابوداود: ۱۵۰۲، ترمذی: ۳۴۱۱)
الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 5454
عَنْ أَيُّوبَ بْنِ سَلْمَانَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ قَالَ كُنَّا بِمَكَّةَ فَجَلَسْنَا إِلَى عَطَاءِ الْخُرَاسَانِيِّ إِلَى جَنْبِ جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِثْلُ مَجْلِسِكُمْ هَذَا فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ فَقَالَ مَا لَكُمْ لَا تَتَكَلَّمُونَ وَلَا تَذْكُرُونَ اللَّهَ قُولُوا اللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ بِوَاحِدَةٍ عَشْرًا وَبِعَشْرَةٍ مِائَةً مَنْ زَادَ زَادَ اللَّهُ وَمَنْ سَكَتَ غَفَرَ لَهُ الْحَدِيثَ
۔ صنعاء کے ایک آدمی ایوب بن سلمان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مکہ مکرمہ میں عطاء خراسانی کے پاس مسجد کی دیوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، نہ ہم نے ان سے سوال کیا اور نہ انھوں نے ہمیں کچھ بیان کیا، پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس اس طرح بیٹھ گئے، جیسے تمہارے پاس بیٹھے ہیں، ان سے بھی نہ ہم نے کوئی سوال کیا اور نہ انھوں نے ہمیں کچھ بیان کیا، بالآخر انھوں نے کہا: تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، نہ تم بات کرتے ہو، نہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہو، یہ ذکر کرو: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، اللہ تعالیٰ ایک کلمے کے بدلے دس لکھے گا اور دس کے بدلے سو لکھے گا، جس نے زیادہ ذکر کیا، اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ ثواب دے گا اور جو خاموش ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا، …۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5454]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه مختصرا ابوداود: 3598، وابن ماجه: 2320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5544»
وضاحت: فوائد: … آخری جملہ وضاحت طلب ہے، جو خاموش ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اس مقام پر ان الفاظ کا معنی و مفہوم سمجھ نہیں آ رہا، ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ خاموشی کی فضیلت بیان کر رہے ہوں، جامع ترمذی کی مرفوع روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَمَنِ اسْتَغْفَرَ غَفَرَ اللّٰہُ لَہ (جس نے بخشش طلب کی، اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا)۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 5455
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الْكَلَامِ بَعْدَ الْقُرْآنِ أَرْبَعٌ وَهِيَ مِنَ الْقُرْآنِ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کے بعد چار کلمات افضل کلام ہیں اور یہ بھی قرآن کریم سے ہی ہیں، تو جس کلمہ سے مرضی شروع کردے، اس سے کوئی فرق نہیںپڑے گا، وہ چار کلمات یہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5455]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 3811، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20486»
الحكم على الحديث:
صحيح