صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:
باب: دنیا کے فنا اور حشر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2860 ترقیم شاملہ: -- 7200
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا "، وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ يَخْطُبُ.
ابو بکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے روایت کی، اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی اور باقیوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے: «إنكم ملاقو الله مشاة حفاة عراة غرلا» ”بے شک تم اللہ سے اس حال میں ملو گے کہ تم چل رہے ہو، ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ۔“ زہیر نے اپنی حدیث میں ”خطبہ دیتے“ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7200]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً تم اللہ کو ملو گے، ننگے جسم، غیر مختون، پیدل چل کر۔“ زہیر کی حدیث میں خطبہ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2860
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2860 ترقیم شاملہ: -- 7201
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بِمَوْعِظَةٍ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104، أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، أَلَا وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ، إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118، قَالَ: فَيُقَالُ لِي: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ "، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَمُعَاذ، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ.
وکیع اور معاذ دونوں نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، نیز محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں۔ کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مغیرہ بن نعمان سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نصیحت آموز خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تم کو اللہ کے سامنے ننگے پاؤں بے لباس بے ختنہ اکٹھا کیا جائے گا۔ (قرآن مجید میں ہے): ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ (الأنبياء: 104) ’جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی کو دوبارہ لوٹائیں گے۔ یہ ہم پر (پختہ) وعدہ ہے ہم یہی کرنے والے ہیں۔‘ یاد رکھو! مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنھیں لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور یاد رکھو! میری امت میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر انھیں پکڑ کر بائیں (جہنم کی) طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا: میرے رب! میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ تو وہی کچھ کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ (المائدة: 117-118) ’میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان رہا جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان پر تو نگہبان تھا۔ اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے تو یقیناً تو ہی بڑا غالب اور بڑا دانا ہے۔‘“ فرمایا: ”تو مجھ سے کہا جائے گا جب سے آپ ان سے جدا ہوئے تھے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے چلے گئے۔“ اور وکیع اور معاذ کی حدیث میں ہے: ”تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7201]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نصیحت آموز خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تم کو اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، بے لباس، بے ختنہ اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ ﴿جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی کو دوبارہ لوٹائیں گے۔ یہ ہم پر (پختہ) وعدہ ہے ہم یہی کرنے والے ہیں﴾ [سورة الأنبياء: 104] ۔ یاد رکھو! مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنہیں لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور یاد رکھو! میری امت میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر انہیں پکڑ کر بائیں (جہنم کی) طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ تو وہی کچھ کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ * إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ ﴿میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان رہا جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان پر تو نگہبان تھا۔ اگر تو انہیں عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو یقیناً تو ہی بڑا غالب اور بڑا دانا ہے﴾ [سورة المائدة: 117-118] ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جواب دیا جائے گا: جب سے آپ ان سے جدا ہوئے تھے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے چلے گئے۔“ اور وکیع اور معاذ کی حدیث میں ہے: ”تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2860
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2861 ترقیم شاملہ: -- 7202
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ، رَاغِبِينَ رَاهِبِينً وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ، قَالُوا: وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) لوگوں کو تین طریقوں سے (اللہ کے سامنے) اکٹھا کیا جائے گا۔ (کچھ لوگ) خوف و رجا کے عالم میں ہوں گے اور (وہ لوگ جنھیں حاضری کے وقت بھی عزت نصیب ہو گی۔ حسب مراتب) وہ (افراد) ایک اونٹ پر (سوار) ہوں گے اور تین ایک اونٹ پر اور چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر (سوار ہو کر میدان حشر میں آئیں گے) اور باقی سب لوگوں کو آگ (اپنے گھیرے میں) اکٹھا کر کے لائے گی۔ جہاں ان پر رات آئے گی، وہ (آگ) رات کو بھی ان کے ساتھ ہو گی، جہاں انھیں دوپہر ہو گی وہ دوپہر کو بھی ان کے ساتھ رہے گی، وہ جہاں صبح کریں گے وہ صبح کے وقت بھی ان کے ساتھ ہو گی، اور جہاں وہ لوگ شام کریں گے وہ شام کو بھی ان کے ساتھ ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7202]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کا حشر تین گروہوں یا تین جماعتوں کی شکل میں ہو گا، ایک قسم، رغبت رکھنے والے (اللہ کی رحمت کی) ڈرنے والے (اپنے گناہوں کے مواخذہ سے)، دوسری قسم، دو ایک اونٹ پر، تین ایک اونٹ پر، چار ایک اونٹ پر حتی کہ دس ایک اونٹ پر، تیسری قسم، باقی لوگ جن کو آگ جمع کرے گی، جہاں وہ رات بسر کریں گے، وہ بھی ان کے ساتھ رات گزارے گی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے، وہیں وہ آرام کرے گی، جہاں وہ صبح کریں گے، ان کے ساتھ ہی وہ صبح کرے گی اور جہاں وہ شام کریں گے، ان کے ساتھ وہیں آگ شام کرے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7202]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2861
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
15. باب فِي صِفَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَعَانَنَا اللَّهُ عَلَى أَهْوَالِهَا:
باب: قیامت کے دن کا بیان اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی سختیوں سے ہماری مدد فرمائے (آمین)۔
ترقیم عبدالباقی: 2862 ترقیم شاملہ: -- 7203
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنُونَ ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6، قَالَ: " يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: يَقُومُ النَّاسُ لَمْ يَذْكُرْ يَوْمَ "،
زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس آیت کی تفسیر) روایت کی: ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (المطففين: 6) ”اس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اس طرح کھڑا ہو گا کہ اس کا پسینہ اس کے کانوں کے درمیان تک ہو گا۔“ اور ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (”ان میں سے کوئی“ کے بجائے) فرمایا: ”لوگ کھڑے ہوں گے۔“ انہوں نے (ابن مثنیٰ) نے (آیت میں) یوم (اس دن) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7203]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة المطففين: 6] (جس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے بعض نصف کانوں تک پسینہ میں کھڑے ہوں گے۔“ ابن المثنیٰ کی روایت میں «يَقُومُ النَّاسُ» سے پہلے «يَوْمَ» کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7203]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2862
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2862 ترقیم شاملہ: -- 7204
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ , وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَصَالِحٍ، حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ.
موسیٰ بن عقبہ، ابن عون، امام مالک، ایوب اور صالح سب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، جو عبید اللہ نے نافع سے بیان کی ہے، البتہ موسیٰ بن عقبہ اور صالح کی روایت ہے: ”یہاں تک کہ ان میں سے کوئی شخص آدھے کانوں تک اپنے پسینے میں ڈوبا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7204]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت، اپنے بہت سے اساتذہ کی سندوں سے نافع رحمہ اللہ کے واسطہ ہی سے بیان کرتے ہیں، موسیٰ بن عقبہ اور صالح کے الفاظ یہ ہیں: ”ان میں بعض اپنے نصف کانوں تک پسینہ میں غائب ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7204]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2862
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2863 ترقیم شاملہ: -- 7205
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْعَرَقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيَذْهَبُ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ بَاعًا، وَإِنَّهُ لَيَبْلُغُ إِلَى أَفْوَاهِ النَّاسِ أَوْ إِلَى آذَانِهِمْ " يَشُكُّ ثَوْرٌ أَيَّهُمَا قَالَ.
عبدالعزیز بن محمد نے ثور سے، انہوں نے ابوالغیث سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً پسینہ، قیامت کے دن زمین میں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے ستر گنا فاصلے تک چلا جائے گا اور لوگوں کے منہ یا ان کے کانوں تک پہنچا ہو گا۔“ ثور کو شک ہے کہ انہوں (ابوالغیث) نے دونوں میں سے کون سے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7205]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن پسینہ (70) باع تک زمین میں چلا جائے گا اور وہ لوگوں کے منہ یا ان کے کانوں تک پہنچے گا۔“ ثور کو شک ہے کہ استاد نے کون سا لفظ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7205]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2864 ترقیم شاملہ: -- 7206
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ "، قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ: فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ أَمْ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ، قَالَ: " فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا "، قَالَ: وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ.
عبدالرحمٰن بن جابر سے روایت ہے، کہا: مجھے نیلم بن عامر نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سورج مخلوقات کے بہت نزدیک آ جائے گا حتی کہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہو گا۔“ نیلم بن عامر نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ میل سے ان (مقداد رضی اللہ عنہ) کی مراد مسافت ہے یا وہ سلائی جس سے آنکھ میں سرمہ ڈالا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں (ڈوبے) ہوں گے، ان میں سے کوئی اپنے دونوں ٹخنوں تک، کوئی اپنے دونوں گھٹنوں تک، کوئی اپنے دونوں کولہوں تک اور کوئی ایسا ہو گا جسے پسینے نے لگام ڈال رکھی ہو گی۔“ (مقداد رضی اللہ عنہ) کہا: اور (ایسا فرماتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7206]
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”قیامت کے دن سورج مخلوق سے قریب کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک «مِيل» کے بقدر رہ جائے گا۔“ سلیم بن عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا «مِيل» سے ان کی مراد کیا تھی، کیا زمین کی مسافت یا وہ «مِيل» (سلائی) جس سے آنکھوں میں سرمہ ڈالا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اپنے اعمال کے بقدر پسینہ میں شرابور ہوں گے (یعنی جس قدر اعمال زیادہ برے ہوں گے، اس قدر پسینہ زیادہ چھوٹے گا) ان میں بعض ٹخنوں تک پسینہ میں ہوں گے اور ان میں سے بعض کا پسینہ ان کے گھٹنوں تک ہو گا اور بعض کا ان کے کولہوں کے اوپر تک (یعنی کمر تک) اور بعض وہ ہوں گے جن کا پسینہ ان کے منہ کا اچھی طرح لگام بن رہا ہو گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کر کے دکھایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7206]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2864
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
16. باب الصِّفَاتِ الَّتِي يُعْرَفُ بِهَا فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ:
باب: دنیا میں جنتی اور دوزخی لوگوں کی پہچان۔
ترقیم عبدالباقی: 2865 ترقیم شاملہ: -- 7207
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، وَابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ: " أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ، فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ، إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا، فَقُلْتُ: رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً، قَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ، قَالَ: وَأَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ ذُو سُلْطَانٍ: مُقْسِطٌ، مُتَصَدِّقٌ، مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ، قَالَ: وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ، تَبَعًا لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ، وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَذَكَرَ الْبُخْلَ أَوِ الْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ "، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو غَسَّانَ فِي حَدِيثِهِ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ،
ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار بن عثمان نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ ابوغسان اور ابن مثنیٰ کے ہیں، دونوں نے کہا: معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے اور انہوں نے حضرت عیاض بن حماد مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: ”سنو! میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھیں ان باتوں کی تعلیم دوں جو تمھیں معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ان کا علم عطا کیا ہے (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے) ہر مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا (اس کی قسمت میں لکھا) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا کیا پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انھیں ان کے دین سے دور کھینچ لیا اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا انہوں نے اسے ان کے لیے حرام کر دیا اور ان (بندوں) کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ شرک کریں جس کے لیے میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تھی۔ اور اللہ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہل کتاب کے (کچھ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا اور (مجھ سے) فرمایا: میں نے آپ کو اس لیے مبعوث کیا کہ میں آپ کی اور آپ کے ذریعے سے دوسروں کی آزمائش کروں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی دھو (کر مٹا) نہیں سکتا، آپ سوتے ہوئے بھی اس کی تلاوت کریں گے اور جاگتے ہوئے بھی اور اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش کو (ان کے معبودوں اور ان آباء و اجداد کے شرک اور گناہوں پر عار دلاتے ہوئے انھیں) جلاؤں، میں نے کہا: میرے رب وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کر دیں گے۔ تو (اللہ نے) فرمایا: آپ انھیں باہر نکالیں جس طرح انہوں نے آپ کو باہر نکالا اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے اور جو لوگ آپ کے فرمان بردار ہیں ان کے ذریعے سے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: اہل جنت تین (طرح کے لوگ) ہیں، ایسا سلطنت والا جو عادل ہے، صدقہ کرنے والا ہے، اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے۔ اور ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے اور وہ عفت شعار (برائیوں سے بچ کر چلنے والا) جو عیال دار ہے، (پھر بھی) سوال سے بچتا ہے۔“ فرمایا: ”اور اہل جہنم پانچ (طرح کے لوگ) ہیں، وہ کمزور جس کے پاس (برائی سے) روکنے والی (عقل، عفت، حیا، غیرت) کوئی چیز نہیں جو تم میں سے (برے کاموں میں دوسروں کے) پیچھے لگنے والے لوگ ہیں (حتی کہ) گھر والوں اور مال کے پیچھے بھی نہیں جاتے (ان کی بھی پروا نہیں کرتے) اور ایسا خائن جس کا کوئی بھی مفاد چاہے بہت معمولی ہو، (دوسروں کی نظروں سے) اوجھل ہوتا ہے تو وہ اس میں (ضرور) خیانت کرتا ہے۔ اور ایسا شخص جو صبح شام تمھارے اہل و عیال اور مال کے بارے میں تمھیں دھوکا دیتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل یا جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا۔ ”اور بدطینت بد خلق۔“ اور ابوغسان نے اپنی حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا: ”آپ خرچ کریں تو عنقریب آپ پر خرچ کیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7207]
حضرت عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: ”سنو! میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان باتوں کی تعلیم دوں جو تمہیں معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ان کا علم عطا کیا ہے، (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:) ”ہر مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا (اس کی قسمت میں لکھا) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا کیا، پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انہیں ان کے دین سے دور کھینچ لیا اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا انہوں نے اسے ان کے لیے حرام کر دیا اور ان (بندوں) کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ شرک کریں جس کے لیے میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تھی۔“ اور اللہ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہل کتاب کے (کچھ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا اور (مجھ سے) فرمایا: ”میں نے آپ کو اس لیے مبعوث کیا کہ میں آپ کی اور آپ کے ذریعے سے دوسروں کی آزمائش کروں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی دھو (کر مٹا) نہیں سکتا، آپ سوتے ہوئے بھی اس کی تلاوت کریں گے اور جاگتے ہوئے بھی۔“ اور اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش کو (ان کے معبودوں اور ان آباء و اجداد کے شرک اور گناہوں پر عار دلاتے ہوئے انہیں) جلاؤں، میں نے کہا: اے میرے رب! وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کر دیں گے۔ تو (اللہ نے) فرمایا: ”آپ انہیں باہر نکالیں جس طرح انہوں نے آپ کو باہر نکالا اور ان سے لڑائی کریں، ہم آپ کو لڑوائیں گے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کریں، آپ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے اور جو لوگ آپ کے فرماں بردار ہیں ان کے ذریعے سے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اہل جنت تین (طرح کے لوگ) ہیں: ایسا سلطنت والا جو عادل ہے، صدقہ کرنے والا ہے، اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے۔ اور ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے اور وہ عفت شعار (برائیوں سے بچ کر چلنے والا) جو عیال دار ہے، (پھر بھی) سوال سے بچتا ہے۔“ فرمایا: ”اور اہل جہنم پانچ (طرح کے لوگ) ہیں: وہ کمزور جس کے پاس (برائی سے) روکنے والی (عقل، عفت، حیا، غیرت) کوئی چیز نہیں، جو تم میں سے (برے کاموں میں دوسروں کے) پیچھے لگنے والے لوگ ہیں (حتیٰ کہ) گھر والوں اور مال کے پیچھے بھی نہیں جاتے (ان کی بھی پروا نہیں کرتے) اور ایسا خائن جس کا کوئی بھی مفاد چاہے بہت معمولی ہو (دوسروں کی نظروں سے) اوجھل ہوتا ہے تو وہ اس میں (ضرور) خیانت کرتا ہے۔ اور ایسا شخص جو صبح شام تمہارے اہل و عیال اور مال کے بارے میں تمہیں دھوکا دیتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل یا جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا: ”اور بدطینت، بد خلق۔“ اور ابو غسان نے اپنی حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا: ”آپ خرچ کریں تو عنقریب آپ پر خرچ کیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7207]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2865
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2865 ترقیم شاملہ: -- 7208
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ، كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ،
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اپنی حدیث میں یہ بیان نہیں کیا: ”ہر مال جو میں نے بندے کو دیا، حلال ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7208]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں ”جو مال میں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے حلال ہے“ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7208]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2865
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2865 ترقیم شاملہ: -- 7209
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ يَحْيَى: قَالَ شُعْبَةُ: عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ،
ہمیں یحییٰ بن سعید نے دستوائی (کپڑے بیچنے) والے ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے مطرف سے اور انہوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں کہا: یحییٰ نے کہا: شعبہ نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے کہا: انہوں (قتادہ) نے کہا: میں نے اس حدیث میں (جو بیان ہوا وہ خود) مطرف سے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7209]
حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطاب فرمایا، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے اور قتادہ کے اس حدیث کی طرف سے سماع کی تصریح ہے (قتادہ مدلس راوی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7209]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2865
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة