🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ:
باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2854 ترقیم شاملہ: -- 7190
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بسا اوقات پراگندہ بالوں والا جسے دروازے پر سے لوٹا دیا جاتا ہے، (ایسا ہوتا ہے کہ) اللہ پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تو وہ (اللہ) اسے پوری کر دیتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7190]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض دفعہ پراگندہ بال جس کو در، در سے ٹھکرا دیا جاتا ہے، اگر وہ اللہ کے اعتماد پر قسم کھا لے تو اللہ اس کو پورا کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7190]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2854
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2855 ترقیم شاملہ: -- 7191
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ النَّاقَةَ وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَهَا، فَقَالَ: " إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ بِهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ "، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ، ثُمَّ قَالَ: " إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ ". فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ جَلْدَ الْأَمَةِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ جَلْدَ الْعَبْدِ، وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، فَقَالَ: " إِلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن نمیر نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، تو (حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے شخص کا ذکر فرمایا، پھر آپ نے پڑھا: ﴿إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾ (الشمس: 12) ”جب اس (قبیلے) کا بدبخت ترین شخص اٹھا“ (آپ نے فرمایا: قبیلہ ثمود کا) سب سے طاقتور، شر پھیلانے والا، جس کو اپنی قوم کا پورا تحفظ حاصل تھا، جس طرح ابوزمعہ (اسود بن مطلب) ہے، (کونچیں کاٹنے کے لیے) اٹھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں عورتوں کا بھی ذکر کیا، (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو) ان کے بارے میں وعظ و نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو (اس طرح) کوڑے سے مارتا ہے“۔ ابوبکر کی روایت میں ہے: ”جس طرح لونڈی کو مارتا ہے“ اور ابوکریب کی روایت میں ہے: ”جس طرح غلام کو مارتا ہے۔ پھر شاید دن کے آخر میں اسی کے ساتھ ہم بستری کرے گا“۔ پھر ان (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) کو گوز پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت فرمائی: ”تم میں سے کوئی کب تک اس کام پر ہنستا رہے گا جسے وہ خود کرتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7191]
حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا اور اس میں (حضرت صالح علیہ السلام کی) اونٹنی کا ذکر کیا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا تذکرہ کیا، چنانچہ ﴿إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾ [سورة الشمس: 12] کے متعلق فرمایا: ”جب قوم کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا، یعنی اس کے لیے وہ شخص اٹھا جو غالب، سرکش و مفسد اور اپنے خاندان کی پناہ و حفاظت رکھنے والا تھا جیسے ابوزمعہ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کا ذکر کیا اور ان کو نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو کیوں مارتا ہے؟“ ابوبکر کی روایت میں ہے: ”لونڈی کی مار کی طرح۔“ اور ابوکریب کی روایت میں ہے: ”غلام کو مارنے کی طرح، شاید اس دن کے آخر میں، وہ اسے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت محسوس کرے۔“ پھر انہیں آواز سے ہوا خارج کرنے پر ہنسنے کے سلسلے میں نصیحت فرمائی، سو فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص، اپنے فعل پر کیوں ہنستا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7191]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2855
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2856 ترقیم شاملہ: -- 7192
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمْعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبَا بَنِي كَعْبٍ هَؤُلَاءِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ ".
سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عروہ بن لحی بن قمعہ بن خندف، ان بنو کعب والوں کے جذع اعلیٰ کو دیکھا، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7192]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان بنو کعب کے باپ عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7192]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2856 ترقیم شاملہ: -- 7193
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبد بن حميد: أَخْبَرَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: إِنَّ الْبَحِيرَةَ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ، فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَأَمَّا السَّائِبَةُ الَّتِي كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ، فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ، وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السُّيُوبَ ".
ابن شہاب نے کہا: میں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ کہتے ہیں: بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ جھوٹے خداؤں (بتوں) کے چڑھاوے کے لیے دوہنا بند کر دیا جاتا ہے، اس لیے کوئی شخص ان کو نہیں دوہتا تھا، اور سائبہ وہ جانور ہے جسے جھوٹے خداؤں (کی سواری کے لیے) کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس پر کوئی چیز تک نہیں لادی جاتی۔ اور ابن مسیب نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا، وہ پہلا شخص تھا جس نے سب سے پہلے (بتوں کے نام پر) کھلا چھوڑا جانے والا جانور چھوڑا تھا“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7193]
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، «بَحِيْرَة» ”بحیرہ“ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک لیا جاتا ہے، چنانچہ ان کو کوئی شخص اپنے لیے نہیں دوہتا تھا اور «سَآئِبَة» ”سائبہ“ وہ جانور ہے جسے لوگ اپنے معبودان باطلہ کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور ان پر کوئی چیز نہیں لادی جاتی تھی۔ ابن المسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے دیکھا اور وہ پہلا شخص ہے، جس نے حیوانوں کو بتوں کے لیے چھوڑا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7193]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2128 ترقیم شاملہ: -- 7194
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا ".
سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جہنم کی دو قسمیں ایسی ہیں جن کو (دنیوی زندگی میں) میں نے (خود) نہیں دیکھا۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پاس گایوں کی دموں کی طرح سے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور (دوسرے گروہ میں) وہ عورتیں ہیں جو لباس پہنے ہوئے (بھی) ننگی ہوں گی، دوسروں کو (گناہ پر) مائل کرنے والی، خود مائل ہونے والی ہوں گی، ان کے سر علاوہ بخت کی اونٹنیوں کے ایک طرف جھکے ہوئے کوہانوں جیسے ہوں گے۔ یہ عورتیں جنت میں داخل ہوں گی نہ اس کی خوشبو سونگھیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنے اتنے (لمبے) فاصلے سے محسوس ہوتی ہو گی“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7194]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ نار کے دو گروہ میں نے نہیں دیکھے، ایک ایسے لوگ جن کے پاس گائیوں کی دموں جیسے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے، دوسرا گروہ ایسی عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود عریاں ہوں گی، وہ دوسروں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود ان کی طرف مائل ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوں گے، وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے پائی جاتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7194]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2128
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2857 ترقیم شاملہ: -- 7195
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ حُبَابٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوشِكُ إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَنْ تَرَى قَوْمًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ، يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ ".
زید بن حباب نے کہا: ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ اگر تمھیں لمبی مدت مل گئی تو تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے، جن کے ہاتھ میں گایوں کی دموں جیسے (کوڑے) ہوں گے، وہ اللہ کے غضب میں صبح گزاریں گے اور اللہ کی سخت ناراضگی میں شام بسر کریں گے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7195]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے طویل عمر پائی تو جلدی ایسے لوگ دیکھو گے۔ یعنی پولیس، جن کے پاس گائیوں کی دموں جیسے کوڑے یا ڈنڈے ہوں گے، وہ صبح اللہ کے غضب میں کریں گے اور شام اللہ کی ناراضی میں کریں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7195]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2857
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2857 ترقیم شاملہ: -- 7196
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَوْشَكْتَ أَنْ تَرَى قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ، وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَتِهِ فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ ".
ابوعامر عقدی نے کہا: ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تمھیں طویل مدت مل گئی تو قریب ہے کہ تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے، جن کی صبح اللہ کی سخت ناراضی میں اور جن کی شام اللہ کی لعنت کے سائے میں ہو گی۔ ان کے ہاتھوں میں گایوں کی دموں کی مانند (کوڑے) ہوں گے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7196]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تم نے طویل زندگی پائی تو عنقریب تم ایسے لوگ دیکھو گے جو صبح اللہ کی ناراضی میں کریں گے اور شام اس کی لعنت میں، ان کے ہاتھوں میں گائیوں کی دموں جیسی چیز ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7196]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2857
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:
باب: دنیا کے فنا اور حشر کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2858 ترقیم شاملہ: -- 7197
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِي فِهْرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ، إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ "، وَأَشَارَ يَحْيَى بِالسَّبَّابَةِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا، غَيْرَ يَحْيَى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ أَخِي بَنِي فِهْرٍ، وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا، قَالَ وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِالْإِبْهَامِ.
عبداللہ بن ادریس، محمد بن نمیر، محمد بن بشیر، موسیٰ بن اعین اور ابواسامہ اور یحییٰ بن سعید سب نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں قیس نے حدیث سنائی: انہوں نے کہا: میں نے حضرت مستورد بن شداد قرشی فہری رضی اللہ عنہ سے سنا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! آخرت (کے مقابلے) میں دنیا کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی ایک انگلی سمندر میں ڈالے۔ یحییٰ نے اپنی انگشت شہادت کی طرف اشارہ کیا۔ پھر دیکھے وہ (انگلی) اس میں سے کیا (نکال کر) لاتی ہے“۔ یحییٰ (بن سعید قطان کی روایت) کے علاوہ باقی سب کی حدیث میں (صراحت سے) یہ الفاظ ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ اور حضرت مستورد بن شداد فہری رضی اللہ عنہ سے ابواسامہ کی حدیث میں بھی (یہی الفاظ ہیں) اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ (ابواسامہ نے) اور اسماعیل (بن ابی خالد) نے انگوٹھے کے ساتھ اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7197]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بنو فہر کے فرد حضرت مستور رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! دنیا کی آخرت کے مقابلے میں مثال بس ایسی ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی اپنی ایک انگلی دریا میں ڈال کر نکال لے — یحییٰ نے شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ کیا — پھر دیکھ لے، پانی کی کتنی مقدار اس کے ساتھ لگ کر آئی ہے۔“ اسامہ کی حدیث میں ہے اسماعیل نے انگوٹھے سے اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7197]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2858
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2859 ترقیم شاملہ: -- 7198
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ "،
زہیر بن حرب نے روایت کیا کہ یحییٰ بن سعید نے ہمیں حاتم بن ابی صغیرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «يحشر الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا» ”لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ اٹھائے جائیں گے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! عورتیں اور مرد سب ایک ساتھ ہوں گے، ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا کہ کوئی ایک دوسرے کو دیکھے۔“ اور ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں ابو خالد احمر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنی روایت میں «غرلا» کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7198]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے جمع کیا جائے گا۔“ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! عورتوں اور مردوں کو، جبکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ رضی اللہ عنہا معاملہ اس سے سنگین ہو گا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7198]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2859
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2859 ترقیم شاملہ: -- 7199
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ غُرْلًا.
ابو خالد احمر نے ہمیں حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنی روایت میں ”بے ختنہ“ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7199]
امام صاحب یہی حدیث دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں غیر مختون ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2859
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں