🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِيهِ
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5954
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ لِلْحُسْنِ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس پر گواہی دینے والوں پر، اس کے بارے میں لکھنے والے پر، حسن کے لئے گوند نے والی پر اور گوندوانے والی پر، صدقہ ادا نہ کرنے والے پر، حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیاجائے،ان سب افراد پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ سے منع کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5954]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1935، والترمذي: 1119، والنسائي: 8/ 147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 844»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ باقی امور کی وضاحت ان کے مقام پر آئے گی۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1935
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5955
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے پر، سود کھلانے والے پر، اس کے دونوں گواہوں پر اور اس کا معاملہ لکھنے والے پر لعنت کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5955]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14313»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں بینکوں میں نوکری کرنے والوں کو متنبہ رہنا چاہیے۔
گویا سودی معاملے میں کسی قسم کا تعاون بھی لعنت اور غضب ِ الہی کا باعث ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ دور میں دنیا کے بہاؤ کو پشت پر وصول کر کے اس کے سیلاب کا تنکہ نہ بنا جائے، بلکہ اس لعنت کی صورتوں کو سمجھا جائے، بالخصوص بینکوں کی پالیسیوں اور معاملات کا بار بار جائزہ لیا جائے۔ موجودہ دور میں مالداروں اور سرکاری ملازمین کی اکثر و بیشتر تعداد سود خوری میں مبتلا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1598
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5956
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ بِلَفْظِهِ وَحُرُوفِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بالکل اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5956]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3725»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2277
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5957
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ فِيهِ الرِّبَا قَالَ قِيلَ لَهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ قَالَ مَنْ لَمْ يَأْكُلْهُ مِنْهُمْ نَالَهُ مِنْ غُبَارِهِ
۔ سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو ں پر ایک ایسا وقت آئے گاکہ یہ سود کھائیں گے۔ کسی نے کہا: کیا سب لوگو سود خور بن جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: اگر کوئی نہیں کھائے گا تو اس کا غبار اس تک ضرور پہنچے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5957]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سعيد بن ابي خيرة، روي عنه ثلاثة، ولم يوثقه غير ابن حبان، والحسن البصري لم يسمع من ابي ھريرة۔ أخرجه ابوداود: 3331، وابن ماجه: 2278، والنسائي: 7/ 243، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10415»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5958
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ تَصِيرُ إِلَى قُلٍّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سود اگرچہ زیادہ ہو، بہرحال اس کا انجام قلت ہی ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبَا وَیُرْبِیْ الصَّدَقَاتِ۔} … اللہ تعالی سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۷۶) (یہ سرخ الفاظ شرح کے ہیں) [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5958]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2279، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3754»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2279
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5959
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دِرْهَمُ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً
۔ سیدنا عبد اللہ حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ و نے فرمایا: سود کاایک درہم کہ آدمی جاننے بوجھنے کے باوجود جس کو کھاتا ہے، وہ چھتیس دفعہ زنا کرنے سے بھی سخت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5959]
تخریج الحدیث: «ضعيف مرفوعا، انما ھو من قول كعب الاحبار، كما سيأتي في الرواية التالية۔ أخرجه البزار: 3381، والدارقطني: 3/ 16، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22303»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو غسیل الملائکہ کہتے ہیں،یہ غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے، ان کی شہادت کے بعد فرشتوں نے ان کو غسل دیا تھا۔

الحكم على الحديث:
ضعيف مرفوعا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5960
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ عَنْ كَعْبٍ قَالَ لَأَنْ أَزْنِيَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ آكُلَ دِرْهَمَ رِبًا يَعْلَمُ اللَّهُ أَنِّي أَكَلْتُهُ حِينَ أَكَلْتُهُ رِبًا
۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر میں تینتیس مرتبہ زناکروں تو مجھے یہ برائی سود کا ایک درہم کھانے سے ہلکی محسوس ہو گی، جبکہ اللہ تعالی جانتا ہو کہ میں اس کو سود سمجھ کر ہی کھا رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5960]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح الي كعب الاحبار۔ أخرجه الدارقطني: 3/ 16، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22304»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو یہیقین ہو کہ وہ واقعی سود کا درہم کھا رہے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح الي كعب الاحبار۔ أخرجه الدارقطني: 3/ 16
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5961
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرِّبَا إِلَّا أُخِذُوا بِالسَّنَةِ وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرُّشَا إِلَّا أُخِذُوا بِالرُّعْبِ
۔ سیدنا عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس قو م میں سود عام ہو جائے، اس کو قحط سالی میں مبتلا کر دیا جاتا ہے اور جس قوم میں رشوت عام ہو جائے، اس پر دوسروں کا رعب مسلط کر دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5961]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبد الله بن لھيعة سييء الحفظ، ومحمد بن راشد المرادي مجھول غير معروف، ويبدو انه سقط رجل بين محمد بن راشد وعمرو، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17976»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5962
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رَجُلًا يَسْبَحُ فِي نَهْرٍ وَيُلْقَمُ الْحِجَارَةَ فَسَأَلْتُ مَا هَذَا فَقِيلَ لِي آكِلُ الرِّبَا
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں نے ایک آدمی دیکھا، وہ ایک نہر میں تیررہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر پھینکے جارہے تھے، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے، مجھے کہا گیا کہ یہ سود خور ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5962]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي في ’’الشعب‘‘: 5509، وھو حديث طويل، فيه قصة المعراج أخرجه البخاري: 1143، 3354، 4674، 7047، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 30361»
وضاحت: فوائد: … سود حرام ہے، اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں اس کی بہت زیادہ مذمت کی ہے، سود کی سنگینی پر دلالت کرنے والے مزید تین دلائل ملاحظہ کریں:
ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ۔} (سورۂبقرہ: ۲۷۹) … ”اگر تم (سود والے معاملے پر عمل کرنے سے) باز نہ آئے تو پھر اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کا اعلان سن لو۔“
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ راہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((دِرْھَمُ رِبًایَأْکُلُہُ الرَّجُلُ وَھُوَ یَعْلَمُ أَشَدُّ عِنْدَاللّٰہِ مِنْ سِتَّۃٍ وَثَلَاثِیْنَ زَنْیَۃً۔)) … ”جو آدمی دانستہ طور پر ایک درہم سود کھاتا ہے، اللہ تعالی کے ہاں(اس کا یہ جرم) چھتیس دفعہ زنا کرنے سے سنگین ہے۔“ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۱۴۲، دارقطنی: ۲۹۵، صحیحہ:۱۰۳۳)
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلرِّبَا اثْنَانِ وَسَبْعُوْنَ بَاباً، أَدْنَاھٰا مِثْلُ إِتْیَانِ الرَّجُلِ أُمَّہُ، وَإِنَّ أَرْبَا الرِّبَا اسْتِطَالَۃُ الرَّجُلِ فِی عِرْضِ أَخِیْہِ۔)) … ”سود کے ستر درجے ہیں، سب سے کم درجے (کا گناہ) اپنی ماں سے منہ کالا کرنے کے برابر ہے اور سب سے بڑا سود یعنی زیادتییہ ہے کہ بندہ اپنے بھائی کی عزت پر دست درازی کرے۔“ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۱۴۳/ ۱، صحیحہ: ۱۸۷۱)
اگر عوام اور ان کی صورتحال اور بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے معاملات کو دیکھا جائے تو بہت مشکل ہو چکا ہے کہ سود کو سمجھا جائے اور اس سے بچا جائے، جبکہ سب سے زیادہ حرص اور لالچ ان بینکوں اور کمپنیوں کے مالکوں میں پائی جاتی ہے اور وہ لوگوں کا روپیہ پیسہ بٹورنے کے لیے چہار اطراف سے ان پر حملہ آور ہو چکے ہیں اور آئے دن ایسے ایسے پرکشش نام پیش کر رہے ہیں کہ لوگ جن کی آڑ میں آ کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نیک کام کر رہے ہیں، جبکہ وہ حقیقت سود یا جوے کی کوئی نہ کوئی صورت ہوتی ہے، ایک انشورنس کمپنی سے جب ہماری بات ہوئی تو وہ واضح طور پر جوے والے معاملات کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک فیصلے کی روشنی میں درست ثابت کرنا چاہتے تھے، جبکہ اس معاملے اور فاروقی عدالت
Qمعاملات کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک فیصلے کی روشنی میں درست ثابت کرنا چاہتے تھے، جبکہ اس معاملے اور فاروقی عدالت کے ما بین کوئی ایک شق بھی مشترک نہیں تھی۔
سود کی تعریف:
لغوی تعریف: سود کو عربی زبان میں ”رِبًا“ کہتے ہیں،یہ لفظ باب رَبٰییَرْبُوْ کا مصدر ہے، جس کے معانی زیادتی اور سود کے ہیں۔
اصطلاحاً اس کی دو اقسام ہیں:
(۱) رِبَاالْفَضْل: خرید و فروخت میں ایک جنس کے تبادلہ کے وقت ایک طرف سے زیادہ مقدار حاصل کرنا یا مقدار برابر ہونے کی صورت میں ایک طرف سے ادھار ہونا، اگلے باب میں سود کی اسی قسم کابیان ہے۔
آجکل صرافہ بازاروں میں سونے کی خرید و فروخت کے وقت سود کی اسی قسم کو اپنایا جاتا ہے اور یوں نظر آتا ہے کہ تقریباً تمام سنار سود خور ہیں الا ماشاء اللہ، اکثر یہ دیکھا کہ ایک طرف سے سونا نقد ہوتا ہے اور دوسری طرف سے ادھار اور اس کی مقدار میں بھی فرق ہوتا ہے،یہ سود کی واضح ترین قسم ہے، جو لوگ نقدی کے عوض سونا خریدتے ہیں، ان کو بھی اس معاملے میں ادھار پر خریدنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ ہمارا روپیہ پیسہ بھی سونے اور چاندی کا عوض ہے، جبکہ سونے کے تاجر اپنے گاہکوں کو ادھار کی سہولت بھی دیتے ہوئے پائے گئے ہیں۔
اسی طرح پاکستان میں شادی کے موقع پر دولہا کے لیے نوٹوں کے جو ہار استعمال کیے جاتے ہیں، ان کی خریداری بھی غور طلب معاملہ ہے، کیونکہ جس ہار میں (۵۰۰) روپے ہوتے ہیں، وہ تقریباً (۶۵۰، ۷۰۰) روپے میں فروخت ہوتا ہے، جبکہ اس پر نوٹوں کے علاوہ جوکچھ لگا ہوتا ہے، وہ قطعی طور پر اتنی زائد قیمت کا نہیں ہوتا، لہذا کہناپڑے گا کہ کم روپیوں کے بدلے زیادہ روپے وصول کیے جاتے ہیں اور یہ بھی سودی معاملہ ہے۔
(۲) رِبَا النَّسِیْئَۃ: ایک جیسی دو متبادل چیزوں میں سے کسی ایک کا زیادہ معاوضہ لینا، مگر ایک مقررہ مدت کے بعد۔ جیسے میمون نے قاسم کو بیس دنوں کے لیے ایک ہزار روپے ادھار دیے، شرعی قانون کے مطابق اتنی رقم ہی واپس لینی چاہیے، لیکن اس نے بیس دنوں کے عوض ایک ہزار سے زیادہ رقم وصول کی۔ بینک سے قرضہ لینے والے اور بینک میں رقم جمع کروانے والوں کا سود اسی قسم کا ہوتا ہے۔
جو لوگ اس قسم کے لین دین کو جائز سمجھتے ہیں، ان سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ شریعت میں جس سود کو حرام کو قرار دیا گیا ہے، اس کی تعریف کیا ہے اور آیا موجودہ دور میں اس کی کوئی شکل پائی جاتی ہے؟ یہ سود کا اجمالی تعارف ہے، اگلے ابواب میں مزید وضاحت کی جائے گی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي في ’’الشعب‘‘: 5509
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بابُ الأَصنافِ الَّتِي يُوجَدُ فِيهَا الرِّبَا
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5963
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالْوَرَقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا چاندی کے عوض فروخت کرناسود ہے، الا یہ کہ وہ نقد و نقد ہوں، اسی طرح گندم، گندم کے عوض بیچنا سو د ہے، الا یہ کہ وہ نقد ونقد ہو، اور جو، جو کے عوض فروخت کرناسود ہے، الا یہ کہ وہ نقد و نقد ہو، اسی طرح کھجور، کھجور کے عوض فروخت کرنا سود ہے، الا یہ کہ وہ نقد و نقد ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5963]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2134، 2170، ومسلم: 1586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 162»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2134
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں