الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّرْفِ وَهُوَ بَيْعُ الْوَرَقِ بِالذَّهَبِ نَسِينَةٌ يَعْنِي دينا
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
حدیث نمبر: 5974
عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الصَّرْفِ فَهَذَا يَقُولُ سَلْ هَذَا فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ وَهَذَا يَقُولُ سَلْ هَذَا فَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ قَالَ فَسَأَلْتُهُمَا فَكِلَاهُمَا يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا
۔ ابو منہال کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا، لیکن ان میں سے ایک نے کہا: اس سے سوال کرو، کیونکہ وہ مجھ سے بہتر اور زیادہ علم والا ہے اور دوسرے نے کہا: اُس سے سوال کرو، کیونکہ وہ مجھ سے بہتر اور زیادہ علم والا ہے، پھر میں نے اُن دونوں سے سوال کیا اور دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ادھار پر سونے کی چاندی کے ساتھ بیع کی جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5974]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2180، ومسلم: 1589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19525»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2180
حدیث نمبر: 5975
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَا شَرِيكَيْنِ فَاشْتَرَيَا فِضَّةً بِنَقْدٍ وَنَسِيئَةٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمَا أَنْ مَا كَانَ بِنَقَدٍ فَأَجِيزُوهُ وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَرُدُّوهُ
۔ ابو منہال سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم اور سیدنا برا ء بن عازب رضی اللہ عنہما دونوں حصہ دار اور پارٹنر تھے، ایک دفعہ انھوں نے کچھ چاندی نقد اور کچھ ادھار پر خریدی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِن دونوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: جو سودا نقد ہوا ہے، اس کو بر قرار رکھو اور جو ادھا ہواہے ا س کو واپس کر دو۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5975]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2060، 2061، 3939، ومسلم: 1589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19522»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2060
حدیث نمبر: 5976
عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَوْ اثْنَيْنِ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّرْفِ
۔ سیدنا ابوہر یرہ، سیدنا ابوسعید اور سیدنا جابررضی اللہ عنہم تینوں سے یا ان میں سے دو سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع صرف سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5976]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9636»
وضاحت: فوائد: … ممنوع بیع صرف وہ ہے، جو ادھار پر مشتمل ہو، جب معاملہ دونوں طرف سے نقد ہو تو یہ بیع جائز ہو گی۔ البتہ اگر ایک جنس کا آپس میں تبادلہ ہو تو کمی بیشی ٹھیک نہیں، کما تقدم۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 5977
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَدِمَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الْبَصْرَةَ فَوَجَدَهُمْ يَتَبَايَعُونَ الذَّهَبَ فَقَامَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً وَأَخْبَرَ أَنَّ ذَلِكَ هُوَ الرِّبَا
۔ ابو قلابہ سے روایت ہے کہ سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بصرہ میں آئے اور وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ (ادھار پر چاندی کے بدلے) سونا خریدتے تھے، پس وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھار پر سونے کو چاندی کے عوض بیچنے سے منع کیا ہے، نیز فرمایا کہ یہ سود ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5977]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره،، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابو قلابة لم يسمع من ھشام بن عامر۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 457،و ابويعلي: 1554، وعبد الرزاق: 14545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16374»
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5978
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ صَرَفْتُ عِنْدَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرِقًا بِذَهَبٍ فَقَالَ أَنْظِرْنِي حَتَّى يَأْتِيَنَا خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ قَالَ فَسَمِعَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ عَنْهُ صَرْفَهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ
۔ سیدنا مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں: میں نے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چاندی کی سونے کے عوض بیع صرف کی، انہوں نے کہا: غابہ سے میرا منشی واپس آنے تک مجھے مہلت دو، لیکن ان کی یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سن لی اور کہا: نہیں، اللہ کی قسم! تم تبادلے میں سکّے لینے سے قبل اُن سے جدا نہیں ہو سکتے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: چاندی کے بدلے سونے کی تجارت سود ہے، الا یہ کہ وہ نقد و نقد ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5978]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2134، 2170، ومسلم: 1586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 238»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2134
حدیث نمبر: 5979
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِي الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ أَوِ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ قَالَ إِذَا أَخَذْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا بِالْآخَرِ فَلَا يُفَارِقُكَ صَاحِبُكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیاکہ میں چاندی کے عوض سونا یا سونے کے عوض چاندی خرید سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم ایک چیز دوسرے کے عوض خرید لو تو تیرا ساتھی تجھ سے اس حال میں جدا نہ ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان اس سودے سے متعلقہ کوئی چیز باقی ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5979]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتفرد سماك بن حرب برفعه وروي موقوفا وھو الصحيح۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 3355، والنسائي: 7/ 282، وابن ماجه: 2262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5773»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لتفرد سماك بن حرب برفعه وروي موقوفا وھو الصحيح۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 3355
حدیث نمبر: 5980
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ حُجْرَتَهُ وَفِي لَفْظٍ فَوَجَدْتُهُ خَارِجًا مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِذَا أَخَذْتَ وَاحِدًا مِنْهَا بِالْآخَرِ فَلَا يُفَارِقَنَّكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ بَيْعٌ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بقیع میں اونٹوں کی تجارت کرتاتھا اور دیناروں میں سودا کرتا تھا، لیکن ان کی بجائے درہم لے لیتا تھا، اسی طرح درہموں میں سودا کرتا تھا اور ان کی بجائے دینار لے لیتا تھا، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا،جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرہ میں داخل ہورہے تھے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھرسے باہر آرہے تھے، میں نے آپ کا کپڑا پکڑ ا اور اس تجارت کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے، لیکن) جب تو درہم و دینار میں ایک چیز دوسرے کے عوض لے تو دوسرا آدمی تجھ سے اس حال میں جدا نہ ہو کہ تمہارے ما بین اس سودے کی کوئی چیز باقی ہو۔ ایک روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اسی دن کے ریٹ سے لے لے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ تم اس حال میں جدا نہ ہو کہ تمہارے ما بین اس سودے سے متعلقہ کوئی چیز باقی ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5980]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتفرد سماك بن حرب برفعه، والصحيح وقفه علي ابن عمر، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5555»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لتفرد سماك بن حرب برفعه
4. بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى جَوَازُ التَّفَاضُل فِي الْجِنْسِ إِذَا كَانَ يدا بيد
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
حدیث نمبر: 5981
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ قَالَ يَعْنِي إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسَاءِ وَفِي لَفْظٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجارت دست بدست ہو،اس میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ یعنی سود صرف ادھار میں ہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5981]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2178، 2179، ومسلم: 1596، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22086 و22138»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ نہیں کہ ربا الفضل جائز ہے، اگلی حدیث کے فوائد پڑھیں، سیدنا ابن عباسdپہلے تو صرف ربا النسیئہ کو تسلیم کرتے تھے، لیکن بعد میں انھوں نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ اس باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2178
حدیث نمبر: 5982
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ قَالَ يَعْنِي إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسَاءِ وَفِي لَفْظٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجارت دست بدست ہو،اس میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ یعنی سود صرف ادھار میں ہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5982]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2178، 2179، ومسلم: 1596، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22086 و22138»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ نہیں کہ ربا الفضل جائز ہے، اگلی حدیث کے فوائد پڑھیں، سیدنا ابن عباسdپہلے تو صرف ربا النسیئہ کو تسلیم کرتے تھے، لیکن بعد میں انھوں نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ اس باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2178
حدیث نمبر: 5983
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا رِبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5983]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22105»
وضاحت: فوائد: … سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک جنس کے تبادلہ کے وقت ایک طرف سے زیادتییا کمی کی صورت میں کوئی سود نہیں ہوتا، لیکن اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہو چکا ہے کہ اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں کیا جائے گا، جیسا امام نووی نے شرح مسلم میں کہا اور امام خطابی نے (اعلام الحدیث: ۲/ ۱۰۶۷) میں کہا: اہل علم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی اس طرح توجیہ کی ہے کہ یہ صرف حدیث کا آخری حصہ سن سکے ہیں، پہلا حصہ اِن سے رہ گیا تھا، اس کی صورت یہ بنتی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور کے بدلے جو کییا گندم کے بدلے کھجور کییا سونے کے بدلے چاندی کی تفاضل کے ساتھ بیعکرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا الرِّبَا فِیْ النَّسِیْئَۃِ۔)) … ”سود تو صرف ادھار میں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اس قسم کے مسئلے میں ادھار میں سود پایا جائے گا، یعنی جب جنسیں مختلف ہو جائیں تو ان میں تفاضل تو جائز ہے، بشرطیکہ وہ نقد و نقد ہوں، ہاں جب ان میں ادھار گھس آیا تو سود لازم آئے گا۔ یہ توجیہ اور معنی اس بنا پر کیا گیا ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مفہوم کے بر خلاف امت کا اجماع ہو چکا ہے۔ اگر امام خطابی کی تاویل نہ کی جائے اور کہا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں صرف ربا النسیئہ کو حرام قرار دیا ہے تو دوسری خاص نصوص کی روشنی میں ربا الفضل کو بھی ممنوع قرار دیا جائے گا۔
یہ توجیہ کرنے کی اصل بنیاد تو یہ ہے کہ ربا الفضل کی صورت احادیث کے لحاظ سے ناجائز اور حرام ہے اس لیےیہ ممکن نہیں ہے کہ عام لحاظ سے کہا جائے کہ سود صرف ادھار میں ہے۔ اہل علم ”سود تو صرف ادھار میں ہے“ کی ایک توجیہیہ بھی کرتے ہیں کہ سود کا بڑا حصہ یہ زیادہ تر سود ادھار میں ہے، یہ مقصد نہیں کہ ادھار کے علاوہ سود کی کوئی صورت نہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ شاعر تو صرف فلان ہے، خطیب تو صرف فلان ہے۔ اس سے مقصد دوسرے لوگوں کی شاعری اور خطابت کی نفی نہیں بلکہ کمال درجہ کا شاعر اور خطیب مراد ہوتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
یہ توجیہ کرنے کی اصل بنیاد تو یہ ہے کہ ربا الفضل کی صورت احادیث کے لحاظ سے ناجائز اور حرام ہے اس لیےیہ ممکن نہیں ہے کہ عام لحاظ سے کہا جائے کہ سود صرف ادھار میں ہے۔ اہل علم ”سود تو صرف ادھار میں ہے“ کی ایک توجیہیہ بھی کرتے ہیں کہ سود کا بڑا حصہ یہ زیادہ تر سود ادھار میں ہے، یہ مقصد نہیں کہ ادھار کے علاوہ سود کی کوئی صورت نہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ شاعر تو صرف فلان ہے، خطیب تو صرف فلان ہے۔ اس سے مقصد دوسرے لوگوں کی شاعری اور خطابت کی نفی نہیں بلکہ کمال درجہ کا شاعر اور خطیب مراد ہوتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22105