الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى جَوَازُ التَّفَاضُل فِي الْجِنْسِ إِذَا كَانَ يدا بيد
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
حدیث نمبر: 5984
عَنْ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَازَنِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ الدِّينَارِ بِالدِّينَارِ وَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ وَالدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمِ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحِلُّهُ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الرِّبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ أَوِ النَّظِرَةِ
۔ یحییٰ بن قیس مازنی کہتے ہیں: میں نے امام عطاء سے سوال کیا کہ جب دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم کی تجارت کی جا رہی ہو تو ان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کو حلال قرار دیتے تھے، سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہمانے کہا: سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما وہ امور بیان کرتے ہیں،جو انھوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنے، پس جب یہ بات اُن تک پہنچی تو انھوں نے کہا: واقعی میں نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنی، البتہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5984]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22139»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22139
حدیث نمبر: 5985
عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ قَالَ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ مَا تَقُولُ أَشَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَوْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ بِشَيْءٍ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
۔ ابو صالح کہتے ہیں: جب میں نے ابو سعید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سونے کے بدلے میں سونا برابر برابر ہونا چاہیے تو میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ملا اور ان سے کہا: تم جو کچھ کہتے ہو، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، آیا تم نے یہ چیز قرآن مجید میں پائی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کو میں نے کتاب اللہ میں پایا ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہو، مجھے تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبرد ی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سود تو ادھار میں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5985]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22093»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22093
حدیث نمبر: 5986
عَنْ ذَكْوَانَ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قُلْ لَهُ فِي الصَّرْفِ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ نَسْمَعْ أَوْ قَرَأْتَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَمْ نَقْرَأْ قَالَ بِكُلٍّ لَا أَقُولُ وَلَكِنْ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا إِلَّا فِي الدَّيْنِ أَوْ قَالَ فِي النَّسِيئَةِ
۔ ذکوان کہتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا اور کہا:ان سے بیع صرف کے بارے میں پوچھنا کہ آیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی حدیث سنی ہے جو ہم نہیں سن پائے یا تم نے اللہ تعالی کی کتاب میں کوئی ایسی چیز پڑھی ہے، جو ہم نہیں پڑھ سکے؟ انہوں نے جواباً کہا: میں ایسی کوئی حدیث بیان نہیں کرتا، بات یہ ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5986]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22160»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22160
حدیث نمبر: 5987
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرَّبْعِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الصَّرْفِ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ قَالَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَرَّةً أُخْرَى وَالشَّيْخُ حَيٌّ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ وَزْنًا بِوَزْنٍ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّكَ قَدْ أَفْتَيْتَنِي اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِي بِهِ مُنْذُ أَفْتَيْتَنِي فَقَالَ إِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَنْ رَأْيِي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَرَكْتُ رَأْيِي إِلَى حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سلیمان بن علی ربعی کہتے ہیں: ابو جوز ا ء نے ہمیں کئی بار بیان کیاہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک کے بدلے دو ہوں یا زیادہ ہوں یا کم ہوں، جب میں اگلی بار حج کے لیے گیا تو یہ بزرگ ابھی تک زندہ تھے، میں ان کے پاس آیا اور بیع صرف کے بارے میں دوبارہ سوال کیا، انھوں نے کہا: وزن میں برابر ہونا چاہیے، میں نے کہا: آپ نے مجھے یہ فتوی دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی ہو سکتے ہیں، میں اس وقت سے یہی فتوی دیتا رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: یہ میری رائے تھی، اب سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیاہے (کہ یہ سود ہے)، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے اپنی رائے چھوڑ دی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5987]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 2258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11499»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 2258
5. باب حُكْمِ مَنْ بَاعَ ذَهَبًا وَغَيْرَهُ بِذَهَبٍ
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
حدیث نمبر: 5988
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ تُبَاعُ وَهِيَ مِنَ الْغَنَائِمِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ ثُمَّ قَالَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا، اس میں سونا اور موتی تھے اور وہ برائے فروخت تھا اور وہ مال غنیمت سے حاصل ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہار میں جو سونا ہے، اس کو الگ کر دیا جائے، پھر فرمایا: سونے کو سونے کے بدلے برابر برابر فروخت کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5988]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24436»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1591
حدیث نمبر: 5989
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ اشْتَرَيْتُ قِلَادَةً يَوْمَ خَيْبَرَ بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خیبر والے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا، اس میں سونا اور موتی تھے۔ جب میں نے اسے علیحدہ علیحدہ کیا تو اس کا سونا ہی بارہ دینار سے زیادہ نکلا، جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک اس کو علیحدہ علیحدہ نہ کیا گیا ہو، اس وقت تک اس کو فروخت نہ کیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5989]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24462»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1591
حدیث نمبر: 5990
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ خَيْبَرَ فَبَاعَ الْيَهُودُ الْأُوقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر کی فتح کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، یہودیوں نے ایک اوقیہ کے برابر سونا دو دو اور تین تین دیناروں کے عوض فروخت کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کے عوض سونا فروخت نہ کیا کرو، الا یہ کہ برابر برابر ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5990]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24468»
وضاحت: فوائد: … اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ سونے کے عوض ایسی چیز خریدنا ہو، جس میں سونا بھی ہو اور کوئی اور چیز بھی ہو، یا چاندی کے عوض ایسی چیز خریدنا ہو، جس میں چاندی بھی ہو اور کوئی اور چیز بھی، تو اس چیز کے دو سودے ہوں گے، اس میں لگے ہوئے سونے کا الگ سے سودا ہو گا اور اس کے عوض اس کی مقدار کے برابر سونا دینا ہو گا اور دوسری چیز کا الگ سے سودا ہو گا، علی ہذا القیاس۔ بطورِ مثال سونے اور چاندی کا ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ یہی مسئلہ ربا الفضل کی باقی اجناس میں بھی ہو سکتا ہے، مثلاً گندم کے عوض گندم اور جو خریدنا، اس موقع پر بھی گندم کا علیحدہ سودا ہو گا اور جَو کا علیحدہ، شریعت کا مدعا یہ ہے کہ کہیں بھی ربا الفضل نہ گھسنے پائے، اگر قارئین کو یہ اصطلاحات اور مسائل سمجھ نہ آئیں تو وہ اہل علم سے رابطہ کر کے دین کا فہم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1591
6. بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَسْرِ الدَّرَاهِم وَالدَّنَانِيرِ الَّتِي يُتَعَامَلُ بِهَا إِلَّا مِنْ بَأْسٍ
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
حدیث نمبر: 5991
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُكْسَرَ سِكَّةُ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةُ بَيْنَهُمْ إِلَّا مِنْ بَأْسٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کے درمیان رائج سکہ کو توڑنے سے منع فرمایا ہے، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5991]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن فضاء الازدي ضعفه ابن معين، والنسائي، وقال ابن حبان: كان قليل الحديث منكر الرواية، حدث بدون عشرة احاديث كلھا مناكير، لم يُتابع علي شيء منھا فبطل الاحتجاج به، وتفرد بالرواية عنه ابنه محمد وھو مجھول۔ أخرجه ابوداود: 3449، وابن ماجه: 2263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15536»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن جائز امور میں اسلامی حکومت کے احکامات کا پابند رہنا ضروری ہے اور سکہ کو توڑنے میں مال کا ضیاع بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
7. بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلَا بِمِثْلِ
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5992
عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامًا لَهُ بِصَاعٍ مِنْ قَمْحٍ فَقَالَ لَهُ بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا فَذَهَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ أَفَعَلْتَ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلَا تَأْخُذْ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ قِيلَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ قَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ
۔ سیدنا معمر بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک غلام کوبھیجا کہ وہ گندم کا ایک صاع لے جائے اور اسے پہلے فروخت کرے اور پھر اس کے عوض جَو خرید کر لائے، پس وہ غلام گیا اور ایک صاع سے زیادہ جو خرید کر آ گیا، جب وہ سیدنا معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اورسودے کے بارے میں ان کو بتایا تو انھوں نے پوچھا: کیا تو واقعی اس طرح کر کے آیا ہے؟ واپس چل اور یہ سودا واپس کر دے اور اس کے عوض برابر برابر ہی لینا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اناج کے بدلے اناج فروخت کرتے وقت برابر برابر ہو۔ اس وقت ہمارا کھانا جَو ہوتا تھا، کسی نے کہا: یہ تو ہم جنس ہی نہیں ہے، لیکن سیدنا معمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے مشابہت ہو جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5992]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27792»
وضاحت: فوائد: … یہ محض سیدنا معمر رضی اللہ عنہ کی احتیاط تھی،وگرنہ جب جنس مختلف ہو جائے تو اس میں کمی بیشی کی کھلی اجازت ہے، جیسا کہ ”ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے“ کے باب میں تفصیل گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1592
حدیث نمبر: 5993
عَنْ أَبِي ذُهْقَانَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَيْفٌ فَقَالَ لِبِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ائْتِنَا بِطَعَامٍ فَذَهَبَ بِلَالٌ فَأَبْدَلَ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ جَيِّدٍ وَكَانَ تَمْرُهُمْ دُونًا فَأَعْجَبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّمْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ هَذَا التَّمْرُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَبْدَلَ صَاعًا بِصَاعَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا
۔ ابودہقانہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ایک مہمان آیا، آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ سو وہ گئے اور کھجوروں کے دو صاع دے کر ان کے بدلے میں اچھی کھجوروں کا ایک صاع لیا، ان کی اپنی کھجوریں ناقص تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کھجوریں بہت پسند آئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجور کہاں سے آئی ہے؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے دوصاع کے عوض اِن کھجوروں کا ایک صاع لیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہماری کھجوریں واپس لے کر آؤ۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5993]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابويعلي: 5710، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 1028، والدارمي: 2/ 257، والبزار: 1416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4728 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4728»
وضاحت: فوائد: … کھجوروں کے ایک صاع کے عوض دو صاع کا لین دین سودی معاملہ ہے، اگلی احادیث میں بھی اسی چیز کو بیان کیا گیا ہے، اس کو ربا الفضل کہتے ہیں، جیسا کہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه ابويعلي: 5710