🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلَا بِمِثْلِ
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5994
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ وَكَانَ تَمْرُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا بَعْلًا فِيهِ يَبْسٌ فَقَالَ أَنَّى لَكُمْ هَذَا التَّمْرُ فَقَالُوا هَذَا تَمْرٌ ابْتَعْنَا صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ ذَلِكَ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ ثُمَّ ابْتَعْ حَاجَتَكَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ترو تازہ اور سیرابی کھجوریں لائی گئیں جبکہ آپ کی کھجوروں بارانی تھیں اور ان میں خشکی آ گئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کھجوریں کہاں سے آئی ہیں۔ لوگوں نے کہا: جی ہم نے دو صاع دے کر ان کھجوروں کا ایک صاع لیا ہے، آپ نے فرمایا: یہ سودا درست نہیں ہے، پہلے تم اپنی کھجوریں علیحدہ بیچو، پھر اس کی قیمت سے اس قسم کی اپنی ضرورت پوری کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5994]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 2201، 2202، 2302، 2303، 4244، 7350، ومسلم: 1593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11432»

الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 2201
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5995
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ قَالَ يَزِيدُ تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ قَالَ يَزِيدُ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں عہد ِ نبوی میں ملی جلی کھجوریں دی جاتی تھیں، اس لیے ہم ان میں سے دو صاع دے کر (اچھی کھجوروں) کا ایک صاع خریدتے تھے، لیکن جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھجوروں کے دو صاع ایک صاع کے بدلے میں نہیں، گندم کے دو صاع ایک صاع کے عوض نہیں، چاندی کے دو درہم ایک درہم کے بدلے میں نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5995]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2080، ومسلم: 1595، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11477»
وضاحت: فوائد: … یزید کی روایت میں ”صَاعَا“ کو مرفوع پڑھا گیا ہے، اس کی تین وجوہات ہو سکتی ہے: ”لَا“ کا عمل باطل ہو گیا،یایہ ”لَا“ مشابہ بلیس ہے یا ”لَا“ کے بعد ”یَصِحُّ“ محذوف ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2080
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5996
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ طَعَامًا مُخْتَلِفًا بَعْضُهُ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ قَالَ فَذَهَبْنَا نَتَزَايَدُ بَيْنَنَا فَمَنَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَبَايَعَهُ إِلَّا كَيْلًا بِكَيْلٍ لَا زِيَادَةَ فِيهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان ایسا اناج تقسیم کیا کہ جس کی کچھ مقدار دوسری سے بہتر تھی، اس وجہ سے ہم نے آپس میں کمی بیشی کے ساتھ اس کی بیع شروع کر دی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس طرح کی بیع کرنے سے منع کر دیا، الا یہ کہ وہ ماپ میں برابر ہوں اور کسی طرف سے کوئی مقدار میں زیادتی نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5996]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11793»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں سود کی جس قسم سے منع کیا گیا ہے، اس کو ربا الفضل کہتے ہیں، پہلے اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 101
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب مَا جَاءَ فِي التَفَاضُلِ وَالنَّسِيئَةِ فِي غَيْرِ الْمَكِيْلِ والمَوزُون وبيع اللحم بالحيوان
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5997
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھار پر حیوان کے عوض حیوان یعنی دو کے بدلے ایک جانور کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے، اگر نقد و نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5997]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1238، وابن ماجه: 2271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14382»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1238
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5998
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھار پر حیوان کے عوض حیوان کی تجارت کرنے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5998]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني: 2057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21249»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني: 2057
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5999
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5999]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2270، والنسائي: 7/ 292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20405»
وضاحت: فوائد: … ان تینوں احادیث کا معنییہ ہے کہ جب حیوان کے بدلے حیوان کی بیع دونوں طرف سے ادھار ہو تو تب منع ہے۔ جب ایک طرف سے ادھار ہو یا ایک جانور کے عوض زیادہ جانور دے جا رہے ہوں تویہ دونوں صورتیں جائز ہوں گی، جیسا کہ اگلی دونوں احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2270
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6000
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آ گئی تھیں، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک خوبصورت لونڈی سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آ گئی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سات افرادکے عوض خرید لیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 6000]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: ص 1045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12265»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: ص 1045
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6001
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَرِيشِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ إِنَّا بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ وَإِنَّمَا نُبَايِعُ بِالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ إِلَى أَجَلٍ فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ قَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ حَتَّى نَفِدَتْ وَبَقِيَ نَاسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِ لَنَا إِبِلًا بِقَلَائِصَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِذَا جَاءَتْ حَتَّى نُؤَدِّيهَا إِلَيْهِمْ فَاشْتَرَيْتُ الْبَعِيرَ بِالِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثِ قَلَائِصَ حَتَّى فَرَغْتُ فَأَدَّى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ
۔ عمر بن حریش کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ہم ایک ایسے علاقے میں ہیں کہ جہاں دینارہے نہ درہم، اس لیے ہم ادھار کی ایک مدت تک کے لئے اونٹ اور بکریوں کا لین دین کرتے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے اس مسئلہ کے بارے میں باخبر آدمی سے سوال کیا ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں سے ایک لشکر تیار کیا، مگر ابھی تک تیاری مکمل نہ ہوئی تھی کہ اونٹ ختم ہوگئے، جبکہ لوگوں کی ضرورت ابھی تک باقی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ہمارے لئے صدقہ کی اونٹنیوں کے عوض اونٹ خرید لو،جب میسر آئیں گی تو ہم مالکان کو ادا کردیں گے۔ پھر میں نے دو دو تین تین اونٹنیوں کے عوض ایک ایک اونٹ خریدا،یہاں تک کہ تعداد مکمل ہو گئی، پھر جب صدقہ کے اونٹ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ادا کر دیئے۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 6001]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6593»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں دو امور کا بیان ہے، اونٹوں کی اس بیع میں اونٹ ایک طرف سے ادھار تھے اور ایک اونٹ کے عوض دو تین تین اونٹ دیئے گئے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3357
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں