صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب قُرْبِ السَّاعَةِ:
باب: قیامت کا قریب ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 2951 ترقیم شاملہ: -- 7405
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ وَأَبَا التَّيَّاحِ يُحَدِّثَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسًا يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ هَكَذَا "، وَقَرَنَ شُعْبَةُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْمُسَبِّحَةِ وَالْوُسْطَى يَحْكِيهِ،
خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ اور ابوتیاح کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، ان دونوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے۔“ اور شعبہ نے اسے بیان کرتے ہوئے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7405]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور قیامت اس طرح متصل بھیجے گئے ہیں،“ شعبہ نے (اسے) نقل کرتے ہوئے اپنی دونوں انگلیوں، شہادت کی اور درمیانی (انگلی) کو ملایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7405]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2951 ترقیم شاملہ: -- 7406
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا،
معاذ اور محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوتیاح سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7406]
امام صاحب رحمہ اللہ دو اور اساتذہ کی سندوں سے، ابو تیاح رحمہ اللہ سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7406]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2951 ترقیم شاملہ: -- 7407
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَمْزَةَ يَعْنِي الضَّبِّيَّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
ابن ابی عدی نے شعبہ سے، انہوں نے حمزہ ضبی اور ابوتیاح سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7407]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے، حمزہ ضبی اور ابو تیاح سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7407]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2951 ترقیم شاملہ: -- 7408
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ، قَالَ: وَضَمَّ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى ".
معبدنے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے۔“ کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7408]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح متصل بھیجے گئے ہیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی کو درمیان والی انگلی سے ملایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7408]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2952 ترقیم شاملہ: -- 7409
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ الْأَعْرَابُ إِذَا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ مَتَى السَّاعَةُ؟ فَنَظَرَ إِلَى أَحْدَثِ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ، فَقَالَ: " إِنْ يَعِشْ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ قَامَتْ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: اعراب (بدو لوگ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ ان میں سب سے کم عمر انسان کی طرف دیکھ کر فرماتے: ”اگر یہ زندہ رہا تو یہ بوڑھا نہیں ہوا ہو گا کہ تم پر تمہاری (قیامت کی) گھڑی آ جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7409]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بدو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے کہ قیامت کب ہوگی؟ تو آپ ان میں سے سب سے نوخیز (عمر) انسان کو دیکھ کر فرماتے: ”اگر یہ زندہ رہا تو اس کو بوڑھا ہونے سے پہلے تمہاری قیامت یعنی موت واقع ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7409]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2952
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2953 ترقیم شاملہ: -- 7410
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: قیامت کب قائم ہو گی؟ اور اس کے پاس انصار میں سے ایک لڑکا بیٹھا تھا جسے محمد کہا جاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو شاید اسے بڑھاپا نہ پہنچے گا کہ (تمہاری) قیامت آ جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7410]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قیامت کب قائم ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس محمد نامی ایک انصاری لڑکا تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ نوعمر زندہ رہا، تو ممکن ہے، یا بوڑھا نہ ہو سکے، حتیٰ کہ (اس نسل کی) قیامت قائم ہو جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7410]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2953
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2953 ترقیم شاملہ: -- 7411
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَل النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُنَيْهَةً ثُمَّ نَظَرَ إِلَى غُلَامٍ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، فَقَالَ: " إِنْ عُمِّرَ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ "، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: ذَاكَ الْغُلَامُ مِنْ أَتْرَابِي يَوْمَئِذٍ.
معبدبن ہلال عنزی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: قیامت کب قائم ہو گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر آپ نے اپنے سامنے بیٹھے اذد شنو کے ایک لڑکے کی طرف نظر کی، پھر فرمایا: ”اگر یہ لڑکا لمبی عمر پا گیا تو اسے بڑھاپا نہیں آیا ہو گا کہ (تمہاری) قیامت قائم ہو جائے گی۔“ (معبدنے) کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لڑکا اس دن میرا ہم عمر تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7411]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: قیامت کب قائم ہو گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے بیٹھے ازد شنوءہ کے ایک لڑکے کی طرف نظر کی، پھر فرمایا: ”اگر یہ لڑکا لمبی عمر پا گیا تو اسے بڑھاپا نہیں آیا ہو گا کہ (تمہاری) قیامت قائم ہو جائے گی۔“ (معبد نے) کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لڑکا اس دن میرا ہم عمر (17 سال کا) تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7411]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2953
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2953 ترقیم شاملہ: -- 7412
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يُؤَخَّرْ هَذَا، فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ".
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: (اس وقت) حضرت مغیرہ بن شعبہ کا ایک لڑکا گزرا جو میرے ہم عمروں میں سے تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کو مہلت ملی تو اسے بڑھاپا نہیں آیا ہو گا کہ (تم پر) قیامت آ جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7412]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام جو میرا ہم عمر تھا، گزرا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کی موت مؤخر ہوئی، تو اسے بڑھاپا نہیں پا سکے گا، حتیٰ کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7412]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2953
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2954 ترقیم شاملہ: -- 7413
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَحْلُبُ اللِّقْحَةَ، فَمَا يَصِلُ الْإِنَاءُ إِلَى فِيهِ حَتَّى تَقُومَ وَالرَّجُلَانِ يَتَبَايَعَانِ الثَّوْبَ، فَمَا يَتَبَايَعَانِهِ حَتَّى تَقُومَ وَالرَّجُلُ يَلِطُ فِي حَوْضِهِ، فَمَا يَصْدُرُ حَتَّى تَقُومَ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور انہوں نے اس کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت آئے گی تو ایک آدمی اونٹنی کا دودھ نکال رہا ہو گا، وہ برتن اس کے منہ تک نہ پہنچا ہو گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی، اور دو آدمی کپڑے کا سودا کر رہے ہوں گے، انہوں نے خرید و فروخت (مکمل) نہیں کی ہو گی کہ قیامت قائم ہو جائے گی، ایک شخص اپنے حوض میں لپائی کر رہا ہو گا، وہ باہر نہیں نکل پایا ہو گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7413]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت آئے گی تو ایک آدمی اونٹنی کا دودھ نکال رہا ہوگا وہ برتن اس کے منہ تک نہ پہنچا ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور دو آدمی کپڑے کا سودا کررہے ہوں گے انھوں نے خریدوفروخت(مکمل) نہیں کی ہوگی کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنے حوض میں لپائی کررہا ہوگا وہ باہر نہیں نکل پایا ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7413]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
28. باب مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ:
باب: صور کے دونوں پھونک میں کتنا فاصلہ ہو گا۔
ترقیم عبدالباقی: 2955 ترقیم شاملہ: -- 7414
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ "، قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالُوا: أَرْبَعُونَ شَهْرًا، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالُوا: أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالَ: أَبَيْتُ، ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ، قَالَ: وَلَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا، وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہو گا۔“ انہوں (لوگوں) نے کہا: ابوہریرہ! چالیس دن؟ انہوں نے کہا: میں انکار کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: چالیس مہینے؟ انہوں نے کہا: منع کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: چالیس سال؟ انہوں نے کہا: میں انکار کرتا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا تو لوگ اسی طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے۔ انہوں نے کہا: ”اور انسان کا کوئی حصہ نہیں، مگر وہ بوسیدہ ہو جائے گا، سوائے ایک ہڈی کے، وہ دمچی کی ہڈی کا آخری حصہ ہے، قیامت کے دن اسی سے خلقت کی ترکیب مکمل ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7414]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہو گا۔“ انہوں نے (لوگوں نے) کہا: اے ابوہریرہ! کیا چالیس دن؟ انہوں نے کہا: میں نے (تعین سے) انکار کیا ہے۔ لوگوں نے کہا: کیا چالیس مہینے؟ انہوں نے کہا: میں نے (تعین سے) انکار کیا ہے۔ لوگوں نے کہا: کیا چالیس سال؟ انہوں نے کہا: میں نے (تعین سے) انکار کیا ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا تو لوگ اسی طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے۔“ انہوں نے (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اور انسان کا کوئی حصہ نہیں مگر وہ بوحضرت ہو جائے گا، سوائے ایک ہڈی کے، وہ دمچی کی ہڈی کا آخری حصہ ہے، قیامت کے دن اسی سے خلقت کی ترکیب مکمل ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7414]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2955
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة