صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب فِي صِفَةِ الدَّجَّالِ وَتَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ عَلَيْهِ وَقَتْلِهِ الْمُؤْمِنَ وَإِحْيَائِهِ:
باب: دجال کے وصف اور اس پر مدینہ کی حرمت اور اس کا مومن کو قتل اور زندہ کرنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2938 ترقیم شاملہ: -- 7375
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، وَالسِّيَاقُ لِعَبْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا، قَالَ: " يَأْتِي وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ، فَيَنْتَهِي إِلَى بَعْضِ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ، أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ، فَيَقُولُ لَهُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ؟، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ؟، فَيَقُولُونَ: لَا، قَالَ: فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ، فَيَقُولُ: حِينَ يُحْيِيهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْآنَ، قَالَ: فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ، فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: يُقَالُ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَام "،
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ دجال کے بارے میں لمبی گفتگو فرمائی۔ اس میں آپ نے ہمارے سامنے جو بیان کیا اس میں (یہ بھی) تھا کہ آپ نے فرمایا: ”وہ آئے گا، اس پر مدینہ کے راستے حرام کر دیے گئے ہوں گے۔ وہ مدینہ سے متصل ایک نرم شوریلی زمین تک پہنچے گا، اس کے پاس ایک آدمی (مدینہ سے) نکل کر جائے گا جو لوگوں میں سے بہترین یا بہترین لوگوں میں سے ایک ہو گا اور اس سے کہے گا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو میں ہمیں بتایا تھا۔ تو دجال (اپنے ساتھ موجود لوگوں سے) کہے گا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اس شخص کو قتل کر دوں اور پھر اسے زندہ کر دوں تو کیا اس معاملے میں تمھیں کوئی شک (باقی) رہے گا؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ وہ اس شخص کو قتل کرے گا اور دوبارہ زندہ کر دے گا۔ جب وہ اس شخص کو زندہ کرے گا تو وہ اس سے کہے گا: اللہ کی قسم! تمھارے بارے میں مجھے اب سے پہلے اس سے زیادہ بصیرت کبھی حاصل نہیں تھی۔ فرمایا: دجال اسے قتل کرنا چاہے گا لیکن اسے اس شخص پر تسلط حاصل نہیں ہو سکے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7375]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں (سب کے الفاظ ملتے جلتے ہیں) کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں طویل حدیث بیان فرمائی، جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا، اس میں یہ بھی تھا: ”وہ آئے گا اور مدینہ کے اندرونی راستوں پر اس کا داخلہ ممنوع ہے۔ چنانچہ وہ مدینہ کے قریبی شوریلے بنجر علاقہ تک پہنچے گا، سو اس دن اس کے پاس سب لوگوں سے بہتر یا بہترین لوگوں میں سے ایک آدمی جائے گا اور اسے کہے گا: میں گواہی دیتا ہوں تو وہی دجال ہے، جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا، تو دجال کہے گا: اے لوگو! بتاؤ، اگر میں اسے قتل کر دوں، پھر اس کو زندہ کر دوں تو کیا تم میرے بارے میں شک میں رہو گے؟ وہ کہیں گے: نہیں، تو وہ اس کو قتل کر دے گا، پھر اس کو زندہ کرے گا، تو جب اس کو زندہ کر چکے گا وہ آدمی کہے گا: اللہ کی قسم! آج سے زیادہ میں کبھی بھی تیرے بارے میں بصیرت نہیں رکھتا تھا، تو وہ دجال اس کو قتل کرنا چاہے گا، تو اسے اس پر قابو نہیں دیا جائے گا۔“ امام مسلم کے شاگرد ابو اسحاق (ابراہیم بن سفیان) رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ آدمی خضر علیہ السلام ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7375]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2938 ترقیم شاملہ: -- 7376
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7376]
امام رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7376]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2938 ترقیم شاملہ: -- 7377
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ، فَيَتَوَجَّهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، فَتَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ، فَيَقُولُونَ لَهُ: أَيْنَ تَعْمِدُ، فَيَقُولُ: أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ، قَالَ: فَيَقُولُونَ لَهُ: أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِرَبِّنَا؟، فَيَقُولُ: مَا بِرَبِّنَا خَفَاءٌ، فَيَقُولُونَ: اقْتُلُوهُ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ؟، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ، فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَيَأْمُرُ الدَّجَّالُ بِهِ فَيُشَبَّحُ، فَيَقُولُ: خُذُوهُ وَشُجُّوهُ فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِي، قَالَ: فَيَقُولُ: أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ، قَالَ: فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُؤْشَرُ بِالْمِئْشَارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: قُمْ فَيَسْتَوِي قَائِمًا، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ لَهُ أَتُؤْمِنُ بِي؟، فَيَقُولُ: مَا ازْدَدْتُ فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ، فَيُجْعَلَ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا، فَلَا يَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ: فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، فَيَقْذِفُ بِهِ فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ، وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ ".
ابووذاک نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال نکلے گا تو مومنوں میں سے ایک شخص اس کا رخ کرے گا، اسے اسلحہ بردار محافظ یعنی دجال کے اسلحہ بردار محافظ ملیں گے اور اس سے پوچھیں گے، کہا: جانا چاہتے ہو؟ وہ کہے گا: میں اس شخص کی طرف جانا چاہتا ہوں جو (اب) نمودار ہوا ہے، وہ اس سے کہیں گے: کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے؟ وہ کہے گا: ہمارے رب (کی ربوبیت اور صفات) میں کوئی پوشیدگی نہیں، وہ (اس کی بات پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے) کہیں گے: اس کو قتل کر دو۔ پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا ہمارے رب نے ہمیں منع نہیں کیا تھا کہ اس (کے سامنے پیش کرنے) سے پہلے کسی کو قتل نہ کرو۔ وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے۔ وہ مومن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا: لوگو! یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ فرمایا: تو دجال اس کے بارے میں حکم دے گا تو اس (کے اعضاء) کو کھینچ کر باندھ دیا جائے گا، پھر وہ کہے گا: اسے پکڑو اور اس کا سر اور منہ توڑ دو، تو (مار مار کر) اس کا پیٹ اور اس کی کمر چوڑی کر دی جائے گی۔ فرمایا: پھر وہ (دجال) کہے گا: کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاؤ گے؟ فرمایا: تو وہ کہے گا: تم جھوٹے (بناوٹی) مسیح ہو۔ فرمایا: پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اس کی پیشانی سے اسے آری کے ساتھ چیرا جائے گا، یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں الگ الگ کر دیے جائیں گے۔ فرمایا: پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا۔ پھر اس سے کہے گا: کھڑے ہو جاؤ، چنانچہ وہ سیدھا کھڑا ہو جائے گا۔ فرمایا: وہ پھر اس سے کہے گا: کیا مجھ پر ایمان لاتے ہو؟ وہ کہے گا: (اس سب کچھ سے) تمھارے بارے میں میری بصیرت میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوا۔ فرمایا: پھر وہ شخص کہے گا: لوگو! یہ (دجال) اب میرے بعد لوگوں میں کسی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے گا۔ فرمایا: دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے اس کی ہنسلی کی ہڈیوں تک (کا حصہ) تانبے کا بنایا جائے گا، وہ کسی طریقے سے (اسے ذبح) نہ کر سکے گا۔ فرمایا: تو وہ اس کے دونوں پاؤں اور دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اسے پھینکے گا۔ لوگ سمجھیں گے اس (دجال) نے اسے آگ میں پھینک دیا ہے جبکہ (اصل میں وہ) جنت میں ڈال دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہادت میں رب العالمین کے سامنے یہ شخص سب لوگوں سے بڑا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7377]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال نکلے گا تو مومنوں میں سے ایک شخص اس کا رخ کرے گا، اسے اسلحہ بردار محافظ یعنی دجال کے اسلحہ بردار محافظ ملیں گے اور اس سے پوچھیں گے: کہاں جانا چاہتے ہو؟ وہ کہے گا: میں اس شخص کی طرف جانا چاہتا ہوں جو (اب) نمودار ہوا ہے۔ وہ اس سے کہیں گے: کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے؟ وہ کہے گا: ہمارے رب (کی ربوبیت اور صفات) میں کوئی پوشیدگی نہیں ہے۔ وہ (اس کی بات پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے) کہیں گے: اس کو قتل کر دو۔ پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا ہمارے رب نے ہمیں منع نہیں کیا تھا کہ اس (کے سامنے پیش کرنے) سے پہلے کسی کو قتل نہ کریں؟ وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے۔ وہ مومن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا: لوگو! یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ فرمایا: تو دجال اس کے بارے میں حکم دے گا تو اس (کے اعضا) کو کھینچ کر باندھ دیا جائے گا، پھر وہ کہے گا: اسے پکڑو اور اس کا سر اور منہ توڑ دو، تو (مار مار کر) اس کا پیٹ اور اس کی کمر چوڑی کر دی جائے گی۔ فرمایا: پھر وہ (دجال) کہے گا: کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاؤ گے؟ فرمایا: تو وہ کہے گا: تم جھوٹے (بناوٹی) مسیح ہو۔ فرمایا: پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اس کی پیشانی سے اسے آری کے ساتھ چیرا جائے گا یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں الگ الگ کر دیے جائیں گے۔ فرمایا: پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا، پھر اس سے کہے گا: کھڑے ہو جاؤ، چنانچہ وہ سیدھا کھڑا ہو جائے گا۔ فرمایا: وہ پھر اس سے کہے گا: کیا مجھ پر ایمان لاتے ہو؟ وہ کہے گا: (اس سب کچھ سے) تمہارے بارے میں میری بصیرت میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوا۔ فرمایا: پھر وہ شخص کہے گا: لوگو! یہ (دجال) اب میرے بعد لوگوں میں کسی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے گا۔ فرمایا: دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے اس کی ہنسلی کی ہڈیوں تک (کا حصہ) تانبے کا بنایا جائے گا، وہ کسی طریقے سے (اسے ذبح) نہ کر سکے گا۔ فرمایا: تو وہ اس کے دونوں پاؤں اور دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اسے پھینکے گا۔ لوگ سمجھیں گے اس (دجال) نے اسے آگ میں پھینک دیا ہے جبکہ (اصل میں وہ) جنت میں ڈال دیا جائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رب العالمین کے ہاں سب سے بڑا (عظیم درجے والا) شہید ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7377]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
22. باب فِي الدَّجَّالِ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:
باب: دجال کا اللہ کے نزدیک حقیر ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2939 ترقیم شاملہ: -- 7378
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ، قَالَ: " وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالْأَنْهَارَ، قَالَ: " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ".
ابراہیم بن حمید رؤاسی نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”اس (کے حوالے) سے تمھیں کیا بات اتنا تھکا رہی ہے؟ وہ تمھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! لوگ کہتے ہیں اس کے ہمراہ کھانے (کے ڈھیر) اور (پانی کے) دریا ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک وہ اس سے حقیر تر ہے (کہ ایسی چیزوں کے ذریعے سے مسلمانوں کو گمراہ کر سکے۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7378]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے بارے میں کیوں تھکتے ہو؟ (کیوں فکر مند ہو) وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ساتھی کہتے ہیں اس کے ساتھ کھانا اور دریا ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے ہلکا اور حقیر ہے کہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کو گمراہ کر سکے یا ان پر ان چیزوں کی حقیقت چھپ سکے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7378]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2939 ترقیم شاملہ: -- 7379
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، قَالَ: " وَمَا سُؤَالُكَ؟، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ وَنَهَرٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ: " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ "،
ہشیم نے اسماعیل سے، انہوں نے قیس سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”تمھارے سوال کا (سبب) کیا ہے؟“ کہا: میں نے عرض کی: وہ (لوگ) کہتے ہیں اس کے ہمراہ روٹی اور گوشت کے پہاڑ اور پانی کا دریا ہو گا، فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ حقیر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7379]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی بھی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ دریافت نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ساتھی کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی اور گوشت کا پہاڑ ہوگا اور پانی کا دریا ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ حقیر ہے کہ اس کے ذریعے وہ (کسی کو) گمراہ کر سکے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7379]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2939 ترقیم شاملہ: -- 7380
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ، فَقَالَ لِي: أَيْ بُنَيَّ.
وکیع، جریر، سفیان، یزید بن ہارون اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ ابراہیم بن حمید کی طرح روایت کی اور یزید کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میرے بیٹے!“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7380]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے اسماعیل ہی کی مذکورہ بالا سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ یزید کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے میرے پیارے بچے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7380]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
23. باب فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الأَرْضِ وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالإِيمَانِ وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الأَوْثَانَ وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ:
باب: خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور اسے قتل کرنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2940 ترقیم شاملہ: -- 7381
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَدِيثُ تُحَدِّثُ بِهِ؟، تَقُولُ: إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهُمَا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَ أَحَدًا شَيْئًا أَبَدًا إِنَّمَا، قُلْتُ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا يُحَرَّقُ الْبَيْتُ وَيَكُونُ وَيَكُونُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي، فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّأْمِ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ، إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ "، قَالَ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ، لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ، فَيَقُولُ: أَلَا تَسْتَجِيبُونَ، فَيَقُولُونَ: فَمَا تَأْمُرُنَا فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ، فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا، قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ: رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ، قَالَ: فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ، أَوَ قَالَ يُنْزِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوِ الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاكُّ، فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ، وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ، فَيُقَالُ: مِنْ كَمْ، فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، قَالَ: فَذَاكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ "،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: یہ کیا حدیث ہے جو آپ بیان کرتے ہیں کہ فلاں فلاں بات ہونے تک قیامت قائم ہو جائے گی، انہوں نے سبحان اللہ! یا لا إلہ إلا اللہ یا اس جیسا کوئی کلمہ کہا: (اور کہنے لگے) میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ میں کسی کو کبھی کوئی بات بیان نہیں کروں گا۔ میں نے یہ کہا تھا تم لوگ تھوڑے عرصے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے۔ بیت اللہ کو جلا دیا جائے گا اور یہ ہو گا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دجال نمودار ہو گا اور چالیس، مجھے یاد نہیں کہ چالیس دن (فرمائے) یا چالیس مہینے یا چالیس سال رہے گا تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیج دیں گے۔ وہ اس طرح ہیں جیسے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، آپ اسے ڈھونڈیں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے، پھر لوگ سات سال تک اس حالت میں رہیں گے کہ کسی دو آدمیوں کے درمیان دشمنی تک نہ ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا چلائے گا تو روئے زمین پر ایک بھی ایسا آدمی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو گا مگر وہ ہوا اس کی روح قبض کرے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی شخص پہاڑ کے جگر میں گھس جائے گا تو وہاں بھی وہ (ہوا) داخل ہو جائے گی، یہاں تک کہ اس کی روح قبض کر لے گی۔“ انہوں نے کہا: یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ آپ نے فرمایا: ”پرندوں جیسا ہلکا پن اور درندوں جیسی عقلیں رکھنے والے بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے۔ نہ اچھائی کو اچھا سمجھیں گے نہ برائی کو برا جانیں گے۔ شیطان کوئی شکل اختیار کر کے ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: کیا تم میری بات پر عمل نہیں کرو گے؟ وہ کہیں گے: تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے؟ وہ انھیں بت پوجنے کا حکم دے گا، وہ اسی حالت میں رہیں گے، ان کا رزق اترتا ہو گا، ان کی معیشت بہت اچھی ہو گی، پھر صور پھونکا جائے گا۔ جو بھی اسے سنے گا وہ گردن کی ایک جانب کو جھکائے گا اور دوسری جانب کو اونچا کرے گا (گردنیں ٹیڑھی ہو جائیں گی)، سب سے پہلا شخص جو اسے سنے گا وہ اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہو گا۔ وہ پچھاڑ کھا کر گر جائے گا اور دوسرے لوگ بھی گر (کر مر) جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک بارش نازل فرمائے گا جو ایک پھوار کے مانند ہو گی یا سائے کی طرح ہو گی۔ شک کرنے والے نعمان (بن سالم) ہیں، اس سے انسانوں کے جسم اگ آئیں گے۔ پھر صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو وہ سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے (زندہ ہو جائیں گے)، پھر کہا جائے گا: لوگو! اپنے پروردگار کی طرف آؤ! اور (فرشتوں سے کہا جائے گا: ان کو لاکھڑا کرو، ان سے سوال پوچھے جائیں گے۔ حکم دیا جائے گا: آگ میں بھیجے جانے والوں کو (اپنی صفوں سے) باہر نکالو، پوچھا جائے گا: کتنوں میں سے (کتنے؟) کہا جائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ انہوں نے کہا: تو یہ وہ دن ہو گا جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور وہی دن ہو گا جب پنڈلی سے پردہ ہٹا (کر دیدار جمال کرایا) جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7381]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور پوچھا: یہ کیسی حدیث ہے جو آپ بیان کرتے ہیں؟ آپ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں بات ہونے تک قیامت قائم ہو جائے گی۔ انہوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ!“ یا «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“ یا اس جیسا کوئی کلمہ کہا اور کہنے لگے: میں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ میں کسی کو کبھی کوئی بات بیان نہیں کروں گا۔ میں نے یہ کہا تھا کہ تم لوگ تھوڑے عرصے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے کہ بیت اللہ کو جلا دیا جائے گا اور یہ ہو گا۔ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دجال نمودار ہو گا اور وہ چالیس (مجھے یاد نہیں کہ چالیس دن فرمائے یا چالیس مہینے یا چالیس سال) رہے گا، تو اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو بھیج دیں گے، وہ اس طرح ہیں جیسے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، وہ اسے ڈھونڈیں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے، پھر لوگ سات سال تک اس حالت میں رہیں گے کہ کوئی سے دو آدمیوں کے درمیان دشمنی تک نہ ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا چلائے گا تو روئے زمین پر ایک بھی ایسا آدمی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو گا مگر وہ ہوا اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی شخص پہاڑ کے جگر میں گھس جائے گا تو وہاں بھی وہ داخل ہو جائے گی یہاں تک کہ اس کی روح قبض کر لے۔“ انہوں نے کہا: یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پرندوں جیسا ہلکا پن اور درندوں جیسی عقلیں رکھنے والے بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، نہ اچھائی کو اچھا سمجھیں گے نہ برائی کو برا جانیں گے۔ شیطان کوئی شکل اختیار کر کے ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: کیا تم میری بات پر عمل نہیں کرو گے؟ وہ کہیں گے: تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے؟ وہ انہیں بت پوجنے کا حکم دے گا، وہ اسی حالت میں رہیں گے، ان کا رزق اترتا ہو گا، ان کی معیشت بہت اچھی ہو گی، پھر صور پھونکا جائے گا، جو بھی اسے سنے گا وہ گردن کی ایک جانب کو جھکائے گا اور دوسری جانب کو اونچا کرے گا (گردنیں ٹیڑھی ہو جائیں گی)، سب سے پہلا شخص جو اسے سنے گا وہ اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہو گا۔ وہ پچھاڑ کھا کر گر جائے گا اور دوسرے لوگ بھی گر (کر مر) جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک بارش نازل فرمائے گا جو ایک پھوار کے مانند ہو گی یا سائے کی طرح ہو گی (شک کرنے والے نعمان بن سالم ہیں) اس سے انسانوں کے جسم اگ آئیں گے۔ پھر صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو وہ سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے (زندہ ہو جائیں گے)۔ پھر کہا جائے گا: لوگو! اپنے پروردگار کی طرف آؤ! اور ﴿وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُم مَّسْئُولُونَ﴾ [سورة الصافات: 24] ”ان کو لا کھڑا کرو، ان سے سوال پوچھے جائیں گے۔“ حکم دیا جائے گا: آگ میں بھیجے جانے والوں کو (اپنی صفوں سے) باہر نکالو۔ پوچھا جائے گا: کتنوں میں سے (کتنے؟) کہا جائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔“ انہوں نے کہا: ”تو یہ وہ دن ہو گا ﴿يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا﴾ [سورة المزمل: 17] ”جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا“ اور وہی دن ہو گا ﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ﴾ [سورة القلم: 42] ”جب پنڈلی سے پردہ ہٹا (کر دیدارِ جمال کرایا) جائے گا۔““ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7381]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2940
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2940 ترقیم شاملہ: -- 7382
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : إِنَّكَ تَقُولُ: إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ بِشَيْءٍ إِنَّمَا، قُلْتُ: إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا، فَكَانَ حَرِيقَ الْبَيْتِ، قَالَ شُعْبَةُ هَذَا: أَوْ نَحْوَهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍوَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّاتٍ وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو سنا، اس نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے کہا: آپ یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں (بات پوری ہو جائے) پر قیامت قائم ہو جائے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ میں تم لوگوں کو کوئی حدیث نہ سناؤں، میں تو یہ کہا تھا کہ تم تھوڑی مدت کے بعد ایک بڑا معاملہ دیکھو گے تو بیت اللہ کے جلنے کا واقعہ ہو گیا۔ شعبہ نے یہ الفاظ کہے یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دجال نمودار ہو گا۔“ اور (اس کے بعد محمد بن جعفر نے) معاذ کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور اپنی حدیث میں کہا: ”کوئی ایک شخص بھی جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو، نہیں بچے گا مگر وہ (ہوا) اس کی روح قبض کر لے گی۔“ محمد بن جعفر نے کہا: شعبہ نے مجھے یہ حدیث کئی بار سنائی اور میں نے (کئی بار) اسے ان کے سامنے دہرایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7382]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے پوچھا کہ آپ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں واقعات تک قیامت قائم ہو جائے گی؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہیں کوئی چیز نہ بتاؤں (کیونکہ بات کو صحیح طور پر سمجھتے نہیں ہو)، میں نے تو محض یہ کہا تھا کہ تم تھوڑی مدت کے بعد ایک بڑا حادثہ دیکھ لوگے، پھر بیت اللہ کو جلا دیا گیا (شعبہ نے یہ یا اس قسم کا لفظ کہا)۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دجال نکلے گا۔“ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے اور اس حدیث میں «مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ» ”ذرہ برابر ایمان“ کے الفاظ ہیں، «خَيْرٍ» ”بھلائی“ کا لفظ نہیں ہے۔ شعبہ نے یہ حدیث محمد بن جعفر کو کئی دفعہ سنائی اور انہوں نے بھی ان پر اسے پیش کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7382]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2940
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2941 ترقیم شاملہ: -- 7383
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى، وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا، فَالْأُخْرَى عَلَى إِثْرِهَا قَرِيبًا "،
محمد بن بشیر نے ابوحیان سے، انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث سنی ہے جس کو سننے کے بعد میں اسے بھولا نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”نمودار ہونے والی سب سے پہلی نشانی مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور دن چڑھے لوگوں کے سامنے زمین کے چوپائے کا نکلنا ہے۔ ان میں سے جو بھی نشانی دوسری سے پہلے ظاہر ہو گی، دوسری اس کے بعد جلد نمودار ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7383]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث سنی ہے جس کو میں ابھی تک بھولا نہیں ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”وقوعِ قیامت کی سب سے پہلی جو نشانی ظاہر ہو گی، وہ سورج کا مغرب سے نکلنا ہے اور دابۃ لوگوں کے سامنے چاشت کے وقت نکل چکا ہو گا، ان دونوں میں سے جو بھی نشانی اپنے ساتھ والی سے پہلے ہو، دوسری جلد ہی اس کے پیچھے نکل آئے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7383]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2941
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2941 ترقیم شاملہ: -- 7384
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ: جَلَسَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِالْمَدِينَةِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنِ الْآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجًا الدَّجَّالُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ،
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ابوحیان نے ابوزرعہ سے بیان کیا، کہا: مسلمانوں میں سے تین شخص مدینہ میں مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے اور اسے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے سن رہے تھے کہ ان میں سے پہلی دجال کا ظہور ہو گا، اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: (تم لوگ یوں سمجھو کہ) مروان نے کچھ بھی نہیں کہا (کیونکہ اس کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق نہیں)، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جسے میں بھولا نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ پھر اسی (سابقہ حدیث) کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7384]
ابوزرعہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں مروان بن حکم کے پاس تین مسلمان افراد بیٹھے، انہوں نے اس سے سنا کہ وہ نشانیوں کے بارے میں بیان کر رہا ہے، اس نے کہا: سب سے پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے، تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: مروان نے کوئی وزنی بات نہیں کہی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث یاد کی ہے جسے میں ابھی تک بھولا نہیں ہوں، آگے مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7384]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2941
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة