صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
ب25. باب فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ:
باب: دجال کے باب میں باقی حدیثوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2946 ترقیم شاملہ: -- 7395
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ رَهْطٍ مِنْهُمْ أَبُو الدَّهْمَاءِ ، وَأَبُو قَتَادَةَ ، قَالُوا: كُنَّا نَمُرُّ عَلَى هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ نَأْتِي عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، فَقَالَ: ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ لَتُجَاوِزُونِي إِلَى رِجَالٍ مَا كَانُوا بِأَحْضَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَا أَعْلَمَ بِحَدِيثِهِ مِنِّي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ خَلْقٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ "،
عبدالعزیز بن مختار نے کہا: ہمیں ایوب نے حمید بن ہلال سے حدیث بیان کی، انہوں نے ایک گروہ سے روایت کی جن میں ابودہماء اور ابوقتادہ شامل ہیں، انہوں نے کہا: ہم حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر کر حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس جایا کرتے تھے، ایک دن انہوں نے کہا: تم مجھے چھوڑ کر ایسے لوگوں کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے نہیں تھے اور نہ ان کو مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا علم ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کوئی مخلوق (فتنہ و فساد میں) ایسی نہیں جو دجال سے بڑی ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7395]
ابو دہماء اور ابو قتادہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر کر حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس جایا کرتے تھے، ایک دن انہوں نے کہا: تم مجھے چھوڑ کر ایسے لوگوں کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے نہیں تھے اور نہ ان کو مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا علم ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت کے وقوع تک کوئی مخلوق دجال سے بڑی نہیں ہے۔“ فتنہ اور ابتلاء میں بڑھ کر بھی مراد ہو سکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7395]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2946
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2946 ترقیم شاملہ: -- 7396
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ ثَلَاثَةِ رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ ، قَالُوا: كُنَّا نَمُرُّ عَلَى هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُخْتَارٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَمْرٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ.
عبیداللہ بن عمرو نے ایوب سے، انہوں نے حمید بن ہلال سے اور انہوں نے اپنی قوم کے تین لوگوں سے روایت کی جن میں ابوقتادہ بھی شامل ہیں کہ ہم ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر کر حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے تھے۔ جس طرح عبدالعزیز بن مختار کی روایت ہے مگر انہوں نے کہا: ”دجال (کے فتنے) سے بڑا کوئی معاملہ (پیش نہیں آیا۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7396]
حمید بن ہلال نے اپنی قوم کے تین لوگوں سے روایت کی جن میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں کہ ہم ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر کر عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے تھے، آگے اوپر والی روایت اس فرق کے ساتھ ہے کہ اس میں «خَلْقٍ» (مخلوق) کی جگہ «أَمْرٌ» (معاملہ) ہے، یعنی ”دجال کے فتنے سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7396]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2946
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2947 ترقیم شاملہ: -- 7397
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، أَوِ الدُّخَانَ، أَوِ الدَّجَّالَ، أَوِ الدَّابَّةَ، أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ، أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ ".
علاء کے والد (عبدالرحمٰن) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے نیک عمل کرنے میں سبقت کرو: سورج کے مغرب سے طلوع ہونے، دھوئیں، دجال، زمین کے چوپائے، خاص طور پر تم میں سے کسی ایک کو پیش آنے والے معاملے (بیماری، عاجز کر دینے والا بڑھاپا یا کوئی رکاوٹ) اور ہر کسی کو پیش آنے والا معاملہ (مثلاً: اجتماعی گمراہی، فتنے کے زمانے میں قتل عام، قیامت سے پہلے۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7397]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ چیزوں کے وقوع سے پہلے پہلے نیک اعمال کر لو: مغرب سے سورج کا نکلنا، یا دھواں، یا دجال، یا دابہ (جانور)، اپنی خصوصی مدت یا خصوصی مصروفیات و مشاغل، یا عمومی فتنہ و آزمائش، یا سب کی موت (قیامت)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7397]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2947
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2947 ترقیم شاملہ: -- 7398
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا الدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ "،
شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے زیاد بن ریاح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے نیک اعمال میں سبقت کرو: دجال، دھواں، زمین کا چوپایہ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عام لوگوں کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ یا خصوصی طور پر تم سے کسی ایک کو پیش آنے والا معاملہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7398]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے نیک عمل کر لو: دجال، دھواں، زمین سے نکلنے والا جانور، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، سب کا فتنہ یا موت اور اپنی خصوصی مشغولیت۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7398]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2947
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2947 ترقیم شاملہ: -- 7399
وحَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ہمام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7399]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7399]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2947
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
26. باب فَضْلِ الْعِبَادَةِ فِي الْهَرْجِ:
باب: فساد کے وقت عبادت کرنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2948 ترقیم شاملہ: -- 7400
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، رَدَّهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، رَدَّهُ إِلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، رَدَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ "،
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حماد بن زید نے خبر دی، انہوں نے معلیٰ بن زیاد سے، انہوں نے معاویہ بن قرہ سے، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسی طرح ہمیں قتیبہ بن سعید نے یہی حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد نے معلیٰ بن زیاد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اس روایت کو معاویہ بن قرہ کی طرف لوٹایا، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی طرف اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا: ”کو طرف پھیلی ہوئی قتل و غارت گری کے دوران میں عبادت (پر توجہ مرکوز) کرنا، میری طرف ہجرت کرنے کی طرح ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7400]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2948
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2948 ترقیم شاملہ: -- 7401
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
یہی حدیث مجھے ابوکامل نے بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7401]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، جو معناً اس جیسی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7401]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2948
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
27. باب قُرْبِ السَّاعَةِ:
باب: قیامت کا قریب ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 2949 ترقیم شاملہ: -- 7402
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ ".
حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”قیامت صرف بدترین لوگوں پر ہی قائم ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7402]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت صرف شریر لوگوں پر قائم ہوگی،“ (کیونکہ اہل ایمان فوت ہوجائیں گے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7402]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2949
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2950 ترقیم شاملہ: -- 7403
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَهُوَ يَقُولُ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ هَكَذَا ".
یعقوب نے ابوحازم سے روایت کی، انہوں نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ انگوٹھے کے ساتھ والی (شہادت کی انگلی) اور بڑی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ”میں اور قیامت اس طرح (ساتھ ساتھ) بھیجے گئے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7403]
حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھے سے متصل اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرما رہے تھے: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7403]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2950
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2951 ترقیم شاملہ: -- 7404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ "، قَالَ شُعْبَةُ: وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ، يَقُولُ: فِي قَصَصِهِ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَوْ قَالَهُ قَتَادَةُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ کو سنا، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو ان (شہادت اور بڑی انگلیوں) کی طرح (ساتھ ساتھ) مبعوث کیا گیا ہے۔“ شعبہ نے کہا: اور میں نے قتادہ سے ان کے حدیث بیان کرنے کے دوران میں سنا: جتنی ان میں سے ایک انگلی دوسری سے بڑی ہے (اتنے سے زمانے کا فرق ہے)، مجھے معلوم نہیں یہ (معنی) انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا یا خود قتادہ نے بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7404]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور قیامت ان انگلیوں کی طرح متصل بھیجے گئے ہیں۔“ شعبہ کہتے ہیں: قتادہ اپنے بیان میں کہتے تھے، جس طرح ایک دوسری سے (معمولی) زائد ہے، تو مجھے معلوم نہیں کہ قتادہ یہ تفسیر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے یا اپنی طرف سے بیان کرتے تھے، یعنی ہمارے درمیان کی مدت، انسانوں کی پوری مدت کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7404]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة