الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْحَيَّ عَلَى الْهَدِيَّةِ وَاسْتِحْبَاب قبولها وفَضْل الْمُهْدِى
ہدیہ دینے پر آمادہ کرنے، اس کو قبول کرنے کے مستحب ہونے اور ہدیہ دینے والے¤کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6250
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَهَادَوْا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَغَرَ الصَّدْرِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے کو ہدیے دیا کرو، کیونکہ ہدیہ سینے کے کینے کو ختم کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6250]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الترمذي: 2130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9239»
وضاحت: فوائد: … ہدیہ، ہدیہ دینے والے آدمی کی محبت کی دلیل ہوتا ہے، اس لیے وہ ہدیہ لینے والے سے محبت وصول کرتا ہے اور اس طرح دونوں کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف ہو جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه الترمذي: 2130
حدیث نمبر: 6251
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: میرے دو پڑوسی ہیں، میں کس کو ہدیہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ قریب ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6251]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2595، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25423 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25937»
وضاحت: فوائد: … قریبی پڑوسی کو ترجیح دینی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2595
حدیث نمبر: 6252
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ فَلْيَقْبَلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی جس کو اس مال میں سے کچھ دے دے، جب کہ اس نے کسی سے سوال نہ کیا ہو تو وہ قبول کر لے، کیونکہ وہ ایسارزق ہے، جو اللہ تعالی نے اس کو عطا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6252]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7908»
وضاحت: فوائد: … ہدیہ بھی اسی قسم کی ایک صورت ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6253
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْيُوَسِّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ
۔ سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو سوال اور حرص کے بغیریہ رزق مل جائے تو وہ اس کے ذریعے اپنے رزق میں وسعت پیدا کرے، پھر اگر وہ غنی ہو تو یہ مال ایسے شخص کو دے دے، جو اس سے زیادہ محتاج ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6253]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20924»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6254
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِزْقًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَلْيَقْبَلْهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي مَا الْإِشْرَافُ قَالَ تَقُولُ فِي نَفْسِكَ سَيَبْعَثُ إِلَيَّ فُلَانٌ سَيَصِلُنِي فُلَانٌ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی جس کو بن مانگے رزق عطا کر دے، اس کو چاہیے کہ وہ اس کو قبول کر لے۔ عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ امام احمد سے سوال کیا: اشراف سے کیا مراد ہے؟ انھو ں نے کہا: تیرا اپنے دل میں یہ کہنا کہ فلاں آدمی میری طرف کوئی چیز بھیجے گا، فلاں آدمی (مجھے کوئی چیز دے کر) میرے ساتھ صلہ رحمی کا ثبوت دے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6254]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20925»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6255
عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ
۔ سیدنا خالد بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو سوال اور حرص کے بغیر اپنے بھائی کی طرف سے کوئی مال مل جائے، تو وہ اس کو قبول کر لے اور اس کو ردّ نہ کرے، کیونکہ وہ ایسا رزق ہے، جو اللہ تعالی نے اس کو عطا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6255]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 925، وابن حبان: 3404، والحاكم: 2/ 62، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18101»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث میں انتہائی اہم بات یہ بیان کی گئی ہے کہ بندے کو لوگوں کے مال و زر سے مستغنی ہونا چاہیے اور کسی سے کوئی حرص اور لالچ نہیں رکھنی چاہیے، اور یہ اس وقت ہو گا جب آدمی اپنی استطاعت کے مطابق محنت و مشقت سے کام کرے اور اپنی تھوڑی کمائی کے مطابق گزارہ کر کے غیرت مند زندگی گزارنے کی کوشش کرے، ایسے میں اگر اس کو کسی طرف سے کوئی چیز مل جائے تو وہ کھلے دل کے ساتھ اس کو قبول کرے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 925
حدیث نمبر: 6256
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً وَرِقًا أَوْ ذَهَبًا أَوْ سَقَى لَبَنًا أَوْ أَهْدَى زُقَاقًا فَهُوَ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چاندی یا سونے کا عطیہ دیا،یا دودھ پلایا،یا کسی (اندھے اور راہ بھولے ہوئے) کی رہنمائی کر دی تو وہ ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6256]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 948، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18593»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 948
حدیث نمبر: 6257
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ لَبَنٍ أَوْ مَنِيحَةَ وَرِقٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا فَهُوَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دودھ کا عطیہ دیا، چاندی کا عطیہ دیا،یا (نابینے اور راہ بھولے وغیرہ کو) راستہ کی رہنمانی کر دی تو وہ ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6257]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 948، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18868»
وضاحت: فوائد: … عطیہ مستقل طور پر بھی دیا جاتا ہے اور فائدہ اٹھانے کے لیے عارضی طور پر بھی، قرض بھی عارضی عطیہ کی ایک صورت ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 948
2. قبول رَسُولِ اللهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ الْهَدِيَّةَ وَإِنْ كَانَتْ حَقِيرَة لا الصَّدَقَةَ وَإِنْ كَانَتْ عَظِيمَةٌ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
حدیث نمبر: 6258
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أُهْدِيتْ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ لَوْ أُهْدِيتْ إِلَيَّ ذِرَاعٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے گوشت کی دستی (پنڈلی سے اوپر والا حصہ) تحفہ میں دیا جائے تو میں اس کو قبول کروں گا، اور اگر مجھے پنڈلی کے پتلے حصے کی طرف دعوت دی جائے تو میں اس کو قبول کروں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6258]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5178، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9481»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق، تواضع اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور ان پر مہربانی کرنے کا بیان ہے، معلوم ہوا کہ ہدیہ دینے والے کے ہدیے اور میزبان کی دعوت کی مقدار اور معیار کو سامنے نہ رکھا جائے، بلکہ ایسے آدمی کا خلوص قبول کر کے اس کے سامنے خوشی کا اظہار کیا جائے، اس کے لیے دعا کی جائے اور اگر ہو سکے تو اس کا بدلہ بھی دیا جائے۔ اس دور میں مال و زر اور ناز ونخرے والے لوگوں کے لیے اس قسم کی احادیث پر عمل کرنا خاصا دشوار کام ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کی دعوت کرنے والے اور ان کو تحفے تحائف دینے والے لوگ ان کے معیار کے ہوں، اگر ان کی دعوت کی جائے تو پرتکلف انداز ہونا چاہیے اور اگر ان کو تحفہ دیا جائے تو وہ بہت قیمتی چیز ہونی چاہیے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ نبیوں کے سردار کے طرزِ حیات سے غفلت نہ برتیں اور جو چیز ان کی طبع کے مطابق نہ ہو، شریعت کی روشنی میں اس کو اچھے انداز میں قبول کریں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5178
حدیث نمبر: 6259
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ثَارَتْ أَرْنَبٌ فَتَبِعَهَا النَّاسُ فَكُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ قَالَ فَأَمَرَ بِهَا فَذُبِحَتْ ثُمَّ شَوَيْتُ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ عَجُزَهَا فَقَالَ ائْتِ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِهِ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَرْسَلَ إِلَيْكَ بِعَجُزِ هَذِهِ الْأَرْنَبِ قَالَ فَقَبِلَهُ مِنِّي
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خرگوش بھاگا اور لوگ اس کے پیچھے دوڑے، میں اس کی طرف پہلا سبقت لے جانے والا آدمی تھا، پس میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو لے کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے حکم دیا، پس اس کو ذبح کیا گیا، پھر میں نے اس کو بھونا، پھر انھوں نے اس کا نصف پچھلا حصہ پکڑا اور کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جاؤ، پس میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آیا اور کہا: بیشک سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے خرگوش کا یہ پچھلا حصہ آپ کی طرف بھیجا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے قبول کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6259]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، وانظر الحديث الآتي من طريق ثان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13464»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح