🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. قبول رَسُولِ اللهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ الْهَدِيَّةَ وَإِنْ كَانَتْ حَقِيرَة لا الصَّدَقَةَ وَإِنْ كَانَتْ عَظِيمَةٌ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6270
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا فَلَمْ تَجِدْهُ فَقَالَتْ لَهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يُؤْكَلَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ قَالَتْ لَبَنًا أَهْدَيْتُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَقَالَ نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ فَفَعَلَتْ فَقَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ وَأَبْرَدَهَا عَلَى الْكَبِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا فَلَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دودھ کا تحفہ لے کر آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھر پر نہ پایا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں بدّو لوگوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! یہ تیرے پاس کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ ہے، آپ کے لیے بطورِ تحفہ لائی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اس کو پیالے میں ڈالو۔ انھوں نے اس کو پیالے میں ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو پکڑاؤ۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اور ڈالو۔ انھوں نے اور ڈالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دودھ پی رہے ہیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلیجے کو کتنا ہی ٹھنڈا کر رہا ہے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے تو یہ بات بیان کی گئی تھی کہ آپ نے بدوؤں کے کھانے سے منع فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! یہ لوگ بدّو نہیں ہیں،یہ ہمارے شہر کے متصل بیرونی علاقے سے ہیں اور ہم ان کے شہر سے ہیں، جب ان لوگوں کو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کے امور کے لیے) بلایا جاتا ہے تو یہ جواب دیتے ہیں، یہ بدّو نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6270]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابويعلي: 4773، والطحاوي: 4/ 167، والبزار في ’’مسنده‘‘: 1940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25524»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد حدیث نمبر (۶۲۷۴) ہو، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کی بدوؤں کے کھانے سے ممانعت والی بات پر برقرار رکھا، اس لیے اب اس کا مفہوم بیان کرنا ضروری ہے کہ ممانعت کی کیا وجہ ہے، زیادہ سے زیادہ دو وجوہات ہو سکتی ہیں:
(۱) بعض بدو اکھڑ مزاج، سخت دل اور غلیظ الطبع ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَیَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَائِرَ} … ”اور ان دیہاتیوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس کو جرمانہ سمجھتے ہیں اور تم مسلمانوں کے واسطے برے وقت کے منتظر رہتے ہیں۔“ (سورۂ توبہ: ۹۸) یہ بدوؤں کی مذموم قسم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے، جبکہ بعض بدّو قابل تعریف ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللّٰہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ} … ”اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں۔ “ (سورۂ توبہ: ۹۹)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا کو قابل تعریف بدوؤں میں سے قرار دیا، نہ کہ مذموم دیہاتیوں میں سے۔
(۲) یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ بدو لوگ نہ صرف حلال و حرام کے علم سے محروم ہوتے ہیں، بلکہ سمجھ ہونے کے باوجود غیر محتاط بھی ثابت ہوتے ہیں اور ذبح، شکار اور کھانے پینے کے دوسرے معاملات میں اسلامی آداب کو مد نظر نہیں رکھتے۔ ہم نے خود ایسے لوگوں کو کتوں کے ذریعے شکار کرتے دیکھا ہے، یہ شکار پر کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ بھی نہیں پڑھتے اور جب شکار کو کتوں سے چھین کر ذبح کرتے ہیں تو یہ جائزہ بھی نہیں لیتے کہ وہ ذبح سے پہلے مر چکا تھا یا ابھی تک زندگی کی رمق باقی تھی۔ ہاں جب کسی خاص شخص کے بارے میں ظن غالب یہ ہو کہ وہ ذی شعور ہے اور اسلامی احکام کا علم رکھتا ہے اور ان کا پابند بھی ہے، تو اس کے ساتھ یہ معاملات کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابويعلي: 4773
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6271
عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ هَلْ مِنْ طَعَامٍ قُلْتُ لَا إِلَّا عَظْمًا أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا
۔ سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اورفرمایا: کیا کوئی کھانا ہے؟ میں نے کہا: جی کچھ نہیں ہے، البتہ (گوشت والی) وہ ہڈی ہے، جو ہماری لونڈی پر صدقہ کی گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لاؤ، میرے قریب کرو، صدقہ اپنے محل تک پہنچ چکا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6271]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1073، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27965»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1073
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. الثَّوَابُ عَلَى الْهَدِيَّةِ وَ الْهِبَةِ
ہدیہ اور ہبہ کا بدلہ دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6272
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدیہ قبول کرتے اور پھر اس کا بدلہ بھی دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6272]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2585، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25098»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2585
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6273
عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِنَاعًا مِنْ رُطَبٍ وَأَجْرٍ زُغْبٍ قَالَتْ فَأَعْطَانِي مِلْءَ كَفَّيْهِ حُلِيًّا أَوْ قَالَ ذَهَبًا فَقَالَ تَحَلَّيْ بِهَذَا وَفِي رِوَايَةٍ وَاكْتَسِي بِهَذَا
۔ سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھجوروں اور چھوٹے کھیروں کی ایک طشتری دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیوریا سونے کے دو چلو بھر کر مجھے دیئے اور فرمایا: اس سے زینت حاصل کر۔ ایک روایت میں ہے: اس کو پہن۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6273]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي وابن عقيل۔ أخرجه الترمذي في ’’الشمائل‘‘: 204، 349، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 694، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27563»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي وابن عقيل۔ أخرجه الترمذي في ’’الشمائل‘‘: 204
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6274
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هِبَةً فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا قَالَ رَضِيتَ قَالَ لَا قَالَ فَزَادَهُ قَالَ رَضِيتَ قَالَ لَا قَالَ فَزَادَهُ قَالَ رَضِيتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی چیز ہبہ کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس کا بدلہ دیا اورفرمایا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو زیادہ دیا اور پھر پوچھا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو مزید کوئی چیز دی اور فرمایا: اب راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ہبہ قبول نہ کروں، مگر قریشی سے یا انصاری سے یا ثقفی سے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6274]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن حبان: 6384، والطبراني: 10897، والبزار: 1938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2687»
وضاحت: فوائد: … حسب ِ استطاعت ہدیہ اور ہبہ کا بدلہ دینا چاہیے، اس بارے میں درج ذیل حدیث میں پورا ضابطہ بیان کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن حبان: 6384
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6275
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً قَدْ أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ذو یزن بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفے میں ایک ایسی پوشاک پیش کی، جو اس نے تینتیس (۳۳) اونٹوں (یا اونٹنیوں) کے عوض لی تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6275]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عماره بن زاذان يروي عن ثابت عن انس احاديث منكرة۔ أخرجه ابوداود: 4034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13315 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13348»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. قُبُولُ هَدَايَا الْكُفَّارِ
کافروں کے ہدیے قبول کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6276
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقَةً مِنْ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهَا تَذَبْذَبَانِ مِنْ طُولِهِمَا فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ مِنَ السَّمَاءِ فَقَالَ وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَنْدِيلًا مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَلَبِسَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا قَالَ فَمَا أَصْنَعُ بِهَا قَالَ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ
۔ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ روم کے بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باریک ریشم کی بنی ہوئی دراز آستین کی پوستین تحفہ میں بھیجی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو زیبِ تن کیا،گویا کہ میں اب بھی اس کے بازوؤں کی طرف دیکھ رہا ہوں، جو طویل ہونے کی وجہ سے حرکت کر رہے تھے،لوگوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیا یہ لباس آپ پر آسمان سے اتارا گیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تم اتنے تعجب میں کیوں پڑ گئے ہو،پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سےبہتر ہیں۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کوبھیج دیا،جب انھوں نے اس کو پہنا،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے پہننے کے لیےتو نہیں دیاتھا، انھوں نے کہا: تو پھر میں اس کو کیا کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اس کو اپنے بھائی نجاشی کی طرف بھیج دو۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6276]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف ومتنه منكر تفرد بھذه السياقة علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13400 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13433»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف ومتنه منكر تفرد بھذه السياقة علي بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6277
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَى كِسْرَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ مِنْهُ وَأَهْدَى لَهُ قَيْصَرُ فَقَبِلَ مِنْهُ وَأَهْدَتْ لَهُ الْمُلُوكُ فَقَبِلَ مِنْهُمْ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ کسری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے قبول کیا، قیصر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے قبول کیا اور دوسرے بادشاہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفے دیئے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبول فرمائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6277]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ثوير بن ابي فاخته۔ أخرجه الترمذي: 1576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 747»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تالیف قلبی کے لیے مشرکوں سے تحفے قبول کیے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ثوير بن ابي فاخته۔ أخرجه الترمذي: 1576
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6278
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ ابْنَةُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ عَلَى ابْنَتِهَا أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ بِهَدَايَا ضِبَابٍ وَأَقِطٍ وَسَمْنٍ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فَأَبَتْ أَسْمَاءُ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَأَنْ تُدْخِلَهَا بَيْتَهَا
۔ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: قتیلہ بنت عبد العزی ضب، پنیر اور گھی کے ہدیے لے کر اپنی بیٹی سیدہ اسماء بنت ِ ابو بکر رضی اللہ عنہما کے پاس آئی، جبکہ وہ مشرک خاتون تھی، سو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اس کے تحائف قبول کرنے سے اور اس کو اپنے گھر داخل کرنے سے انکار کر دیا، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: {لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْآ اِلَیْھِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ۔} … جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ اچھا برتاؤ کرنے سے اللہ تعالی تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالی تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ ممتحنۃ: ۸) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ اسماء کو حکم دیا کہ وہ اپنی ماں کے تحفے قبول کرے اور اس کو اپنے گھر میں داخل کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6278]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت۔ أخرجه ابوداود الطيالسي: 1639، والحاكم: 2/ 485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16210»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی مذکورہ روایات تو ضعیف ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر غیر مسلموں سے تحفے قبول کیے ہیں، مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسری (ایران کے بادشاہ)، قیصر (روم کے بادشاہ) اور مختلف بادشاہوں کے تحائف قبول کئے۔ (ترمذی) دومۃ الجندل کے سردار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی جبہ بطور ہدیہ پیش کیا۔ (بخاری) یہودی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر آلود بکری کا ہدیہ دیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا تھا۔ (بخاری، مسلم) اگلے باب کے آخر میں اس مسئلے کا حل دیکھیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت۔ أخرجه ابوداود الطيالسي: 1639
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدْمٍ قُبُولِ هَدِيَّةِ الْمُشْرِكِينَ
مشرکوں کے تحائف قبول نہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6279
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ رَجُلٍ فِي النَّاسِ إِلَيَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا تَنَبَّأَ وَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ شَهِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ الْمَوْسِمَ وَهُوَ كَافِرٌ فَوَجَدَ حُلَّةً لِذِي يَزَنَ تُبَاعُ فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسِينَ دِينَارًا لِيُهْدِيَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ بِهَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَأَرَادَهُ عَلَى قَبْضِهَا هَدِيَّةً فَأَبَى قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّا لَا نَقْبَلُ شَيْئًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخَذْنَاهَا بِالثَّمَنِ فَأَعْطَيْتُهُ حِينَ أَبَى عَلَيَّ الْهَدِيَّةَ
۔ سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا: دورِ جاہلیت میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا اور مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ حج میں شریک ہوئے تھے، لیکن ابھی تک وہ کافر تھے، انھوں نے دیکھا کہ ذی یزن کا حلہ فروخت کیا جا رہا تھا، حکیم نے اس مقصد کے لیے وہ خرید لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا جائے، پس وہ یہ لے کر مدینہ منورہ آئے اور ان کا یہ ارادہ تھا کہ وہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کریں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ لینے سے انکار کر دیا۔ عبید اللہ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم مشرکوں کا تحفہ قبول نہیں کرتے، ہاں اگر تو چاہتا ہے تو ہم اس کو قیمت کے عوض خرید لیتے ہیں۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطورِ ہدیہ قبول کرنے سے انکار کیا تو میں نے قیمت کے عوض دے دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6279]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3125، والحاكم: 3/ 484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15397»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے تحفے قبول بھی کیے ہیں، ان میںجمع وتطبیق کی دو صورتیں ہیں: (۱) مشرکوں کا تحفہ قبول کر لینا،یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ہے، اس لیے اس کا ناسخ سمجھیں گے، اور (۲) کوئی مصلحت ہو تو ایسا تحفہ قبول کر لیا جائے، وگرنہ اصل مسئلہ یہی ہے کہ اس قسم کے تحائف کو ردّ کر دیا جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3125
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں